پاناما لیکس اور اٹھارہ کروڑ گامے


تصوّر حسین خیال

tasawar hussainقلفیوں کی ریڑھی کھینچتا کھینچتا چاچا گاما (غلام) نہ چاہتے ہوئے بھی اس گلی کی نکڑ پہ رک گیا تھا۔ وہ روز یہاں سستانے کے لئے ٹھہر جاتا تھا۔ لیکن آج سستانے کو بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔ صبح سے ابھی تک گلیوں کے چکر کاٹ کاٹ کے بڑی مشکل سے 120 روپے ہو پائے تھے۔ ابھی تو کل کا خسارہ تک پورا نہیں ہوا تھا۔ رات کو حساب کرتے ہوئے چاچے کا دماغ اس وقت جھلّا اٹھا تھا جب اس دن کی کمائی بار بار گننے کے باوجود 250 سے آگے بڑھ ہی نہیں رہی تھی حالانکہ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس کی کتنی قلفیاں بکی تھیں۔ اپنے کپڑوں کی دو جیبیں وہ بیس بار دیکھ چکا تھا لیکن اوپر والے سو روپے اس میں ہوتے تو ملتے۔ نہ جانے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ اس ہفتے شنّو کے سکول کی فیس جانی تھی لیکن بدن جھلساتی گرمی میں بنا کچھ کھائے پئے ہر گلی کے باسیوں کو وہ گلا پھاڑ پھاڑ کے بتا آیا تھا کہ گاما قلفیوں والا آگیا، قلفیاں لے لو مگر پاس سے گزرتے ہوئے لوگ خریدنا تو دور کی بات نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کر رہے تھے۔ ہو سکتا ہے ایسا اکثر ہی ہوتا ہو لیکن ضرورت جب وقت کی پھسلتی ریت میں دفن ہوتی دکھائی دینے لگے تو ایک ایک لمحہ موت لگنے لگتی ہے۔ اب لوگوں کو کون بتائے کہ یہ محض قلفی نہیں ہے، یہ شنّو کی 10ویں جماعت ہے، اس کی نوکری ہے اور پھر اس کی شادی، یہ صرف قلفی نہیں ہے۔ اسی سوچ میں مگن چاچے کا ہاتھ بے اختیار اپنی پیسوں والی جیب پہ پڑا ۔ وہاں پہلے ہی کوئی ہاتھ تھا۔ جیب کترا! چاچے نے ہاتھ پکڑ کے مڑ کے دیکھا تو 17 سال کا لڑکا تھا جو اس کی جیب سے پیسے نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ چاچے کو فوراً کل والا حساب یاد آیا۔ چاچا ابھی اسی شش و پنج میں تھا کہ کیا کرے کہ کہیں سے ایک اور لڑکا نمودار ہوا اور اس نے اس جیب کترے کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔ تمہیں شرم نہیں آئی ایک غریب کی جیب کاٹتے ہوئے۔ جیب کترا بجائے شرمندہ ہونے کے اسی پہ چڑھ دوڑا اور ساتھ ساتھ اس نے بھی اسے لعن طعن کرنا شروع کر دی اور جواباً اسے بھی یہ کہتے ہوئے آڑھے ہاتھوں لیا کہ شرم تم کر لیتے جب تم نے کل اسی غریب کی جیب سے سو روپے نکالے تھے۔ میں نے خود تمہیں کل اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اب چاچا جو تھوڑی دیر پہلے بعد میں آنے والے لڑکے کا اپنا احساس کئے جانے پہ احسان مند ہونے لگا تھا اس کے کل والے سو روپے کے چور نکل آنے پہ حیران پریشان اس کی شکل دیکھنے لگا۔ وہ دونوں ابھی تک لڑ رہے تھے اور ایک دوسرے کی چوریاں گنوا رہے تھے۔ چاچا عجیب سی صورت حال سے دوچار تھا۔ دونوں ہی چاچے کو اپنے ہمدرد لگ رہے تھے مگر کوئی بھی چاچے کا مجرم ہونا قبول نہیں کر رہا تھا۔ کوئی بھی اس سے پوچھنا گوارا نہیں کر رہا تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ یہ جھگڑا بظاہر اسی کا تھا مگر وہی تماشائی لگ رہا تھا۔ چاچے کی سادگی جو اپنے دونوں چوروں کو سامنے کھڑے دیکھ کے بھی جوش میں نہ بدل سکی۔ آخر وہ دونوں ایک دوسرے پہ کالک ملتے ملتے اپنے گھروں کو سدھار گئے اور چاچا گم صم، کسی پتھر کے بت کی طرح چلچلاتی دھوپ میں اپنے بغیر بٹن کی میلی قمیض کے ساتھ اپنے ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے اپنی ریڑھی کی طرف بڑھا اور شنّو کی فیس کے لئے آوازیں لگانے لگا، قلفیاں لے لو، ٹھنڈی ملائی والی قلفی۔۔

یہ کہانی کسی ایک گھر ، گلی یا محلّے کی نہیں ہے بلکہ کرداروں کی تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ ایسی کئی کہانیاں ہمارے ملک کے ہر گلی اور محلّے سے جڑی ہیں۔ یہ پوری قوم ہی چاچا گاما ہے جو یا تو بہت سادہ یا انتہائی بے حس یا پھر پرلے درجے کے بزدل جو اپنے چوروں کو اپنے سامنے کھڑے دیکھ کے بھی بولنے کی جرأت نہیں کرتے۔ وہی چور جو طویل عرصے سے اس ملک کے ہر چاچے گامے کی جیب پہ ہاتھ صاف کر کے اسی کے نام پہ لڑ رہے ہیں اور سبھی گامے صرف اس بات پہ خوش ہیں کہ کم سے کم ان مبارک زبانوں سے ان کا ذکر تو ہو رہا ہے۔ ملک کی خوشحالی، عوام کی بھلائی، قوم کے وسیع تر مفاد جیسے کئی نام ہم صدیوں سے بھٹوؤں، زرداریوں اور شریفوں کے منہ سے سنتے آ رہے ہیں لیکن ہمیشہ ان کی لڑائی میں عوام ہی تہی دامن رہی، عوام کو آج بھی اپنی اپنی شنّو کی فیس کی فکر دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور ہم گھن لگی لکڑی کی طرح کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں اور ایک یہ چور ہیں کہ ان کو اپنی نسلوں کے لئے پاکستان کے بینکس بھی چھوٹے پڑ رہے ہیں۔ ہمیں یہ سامنے کی سچائی دکھائی کیوں نہیں دیتی۔ نواز شریف زرداری کے پیٹ سے عوام کا پیسا چیر کے نکالنے والے تھے، وہ اسی زرداری کے پیٹ کے لئے ان گنت ڈشز کے دستر خوان سجانے لگ گئے اور سڑکوں پہ گھسیٹنے کے بلند بانگ دعوے کرنے والے شہباز شریف اسی زرداری کے سامنے ہاتھ باندھے نظر آئے۔ زرداری کے پاس شریفوں کی کرپشن کے ثبوت ہونے کے باوجود 5 سال تک اپنی ہی حکومت میں وہ انہیں پکڑنے میں بے بس کیوں رہے؟ نواز شریف اب اپنی بھاری مینڈیٹ والی حکومت میں ہی اتنے کمزور کیوں ہیں کہ ان کا ہاتھ زرداری کے پیٹ تک پہنچنے سے قاصر ہے؟ اسمبلی کے فلور پہ دو چوہدریوں کی لڑائی سے کون واقف نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ثبوتوں کے باوجود خاموش کیوں ہو گئے؟ چوہدری نثار کی اصول پسندیاں وہاں مجبور کیوں ہو گئیں اور چوہدری اعتزاز کا عدالتوں کا عادی کالا کوٹ اس معاملے میں کورٹ کا راستہ کیوں بھٹک گیا؟

یہ سبھی ایک دوسرے کو چور تو مانتے ہیں لیکن اسی چوری کے حساب کے وقت جمہوریت اتنی نازک کیوں ہو جاتی ہے۔ اور ابھی حال ہی میں پانامہ لیکس کے ہوشربا اور شرمناک انکشافات کیا انہیں جھوٹا اور چور ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں تھے۔ کیا مریم،حسن اور حسین کے اپنے ہی متضاد اور ایک دوسرے کی نفی کرتے بیانات ان کو گنہگار ثابت نہیں کرتے۔ بلوغت سے پہلے ہی آف شورز کمپنیاں قائم کر کے دنیا کے کامیاب کاروباری افراد کو شرمندہ کرنےوالے ان معجزاتی بچوں کی وضاحتیں حقائق کی پردہ پوشی نہیں لگتی؟ آپ افریقہ کے قبائل سے بھی کوئی فرد پکڑ کے لائیں اور اسے ان کے بیانات دکھا دیں، دیکھتے ہی سمجھ جائے گا کہ دال ساری ہی کالی ہے شرط یہ ہے کہ اس شخص کو لفظ عوام سے واقفیت نہ ہو، نہ ہی اسے ہماری جمہوریت کی نزاکت کی خبر ہو اور یہ تو بالکل بھی علم نہ ہو کہ سیاسی انتقام یا ملک کے وسیع تر مفاد کو کس پرویز رشیدی مصالحے کے ساتھ پکا کے کھایا جاتا ہے۔ جب ان کے اپنے بیانات ان کو جھوٹا ثابت کر رہے ہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جھوٹ کب اور کیوں بولا جاتا ہے تو اس جواب کے لئے کیا کسی عدالتی کمیشن کی ضرورت باقی بچتی ہے۔ یہ سامنے کا سچ ہے، چور جانے کب سے ہمارے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو چور چور کہتے چلے آ رہے ہیں اور ڈوب مرنے کا مقام یہ ہے کہ اب پوری دنیا میں انہیں اخباروں کی زینت بنایا جا رہا ہے چور کے ٹائٹل کے ساتھ، نہیں سمجھے تو ہم، ہم اٹھارہ کروڑ گامے۔ چور تو سامنے ہیں، بس ہمیں اس گامے پن سے نکلنا ہے اور ان کا گریبان پکڑنا ہے ورنہ شنّو اسی ریڑھی میں جمی قلفیوں کی طرح ہمیشہ کے لئے سرد ہو جائے گی، موت کی طرح۔


Comments

FB Login Required - comments