سیکولر اور لبرل دوستوں کو نومشورے


moazآج کل مشورہ بازی کا موسم ہے ایک دوسرے کو مشورے دئیے اور وصول کئے جا رہے ہیں۔۔۔ اور وہ بھی بالکل مفت۔۔۔ تو ہم نے سوچا کہ ہم بھی کیوں پیچھے رہیں اور مشورے ہوں بھی بالکل مفت تو کیا حرج ہے۔ لہذا بیٹھے بیٹھے چند سطریں لکھ ڈالیں دیکھا تو وہ ایک کالم بن چکا تھا لہذا آپ کی نذر ہے۔

اس کالم میں ان لبرل دوستوں کو مد نظر رکھا گیا ہے جو سچے مسلمان ہیں اور کم از کم ابھی تک اس پر شرمندگی کا شکار ہونے سطح تک نہیں پہنچے۔

1۔ ہم سب چونکہ مسلمان ہیں اور مسلمانوں والا کلمہ بھی پڑھ رکھا ہے اس لئے اس کلمے کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ اسلام اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑانا کسی کلمہ گو کو زیب نہیں دیتا۔ اس بات کا خیال اپنی تقریر و تحریر میں رکھنا اشد ضروری ہے۔ ہم سب اللہ پر یقین رکھتے ہیں اور اس یقین کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ مانتے اور جانتے ہیں کہ اللہ تعالی دلوں میں چھپے بھید تک جانتا ہے لہذا مولوی کا نام لے کر یا ملا کہہ کر درپردہ اسلامی شعائر پر پھبتیاں کسنا کوئی قابل تعریف عمل نہیں۔ اللہ تعالی کے ہاں ہر بات کی طرح اس بات کی بھی باز پرس ہو گی۔

2۔ (یہ بات پوائنٹ نمبر1 کا ہی ضمیمہ ہے لیکن اس کی اہمیت کے باعث اسے علیحدہ نکتہ بنایا ہے) راقم سمیت ہر کسی کو یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح اجاگر کرنی چاہئے کہ ہمیں اپنی ہر بات کا ایک دن اپنے پیدا کرنے والے کو جواب دینا پڑے گا۔ بولے اور لکھے گئے ایک ایک لفظ کا حساب دینا ہو گا لہذا کوئی ناجائز بات ہمیں اپنے منہ یا قلم سے نکالنے سے احتیاط کرنی چاہئے۔

3۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور سب کا اس ملک پر ایک جتنا حق ہے۔ ہم سب کو مل کر ملک کے مسائل کو حل کرنے میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اپنے نظریاتی اختلافات کے ساتھ بھی ہم ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے مل جل کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ قرآن تو یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی مشترکہ معاملات پر اکٹھا ہونے کی بات کرتا ہے۔ ہم تو ایک کلمہ، ایک کتاب اور ایک رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں ہم کیوں مشترکہ معاملات پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔

4۔ مغرب کا تہذیبی ماڈل مغرب کے لئے تو قابل عمل ہو سکتا ہے مشرقی تہذیب و تمدن میں اس کی گنجائش نہیں نکالی جا سکتی ایسی سعی لاحاصل رہی ہے اور رہے گی۔ عورت کی آزادی کی دعویدار مغربی تہذیب نے عورت کو جس مقام تک پہنچا دیا ہے وہ انٹرنیٹ کی معمولی باریکیوں سے واقف شخص سے مخفی نہیں۔ کیا ہمیں ایسی آزادی قبول ہے؟

5۔ مغربی تہذیب و افکار کو اپنانا اصل جدیدیت نہیں بلکہ اصل جدیدیت علم و آگہی، سائنس و ٹیکنالوجی میں مہارت اور انسانی اقدار میں ترقی و نشونما ہے۔ اس ضمن میں ہمیں مغرب سے صرف سائنس و ٹیکنالوجی لینی ہو گی تہذیب و افکار نہیں۔ بلکہ بہت ساری چیزیں مغرب کو ہم سے سیکھنی چاہئیں۔ اس بارے میں خوامخواہ معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس موجود طویل علمی و فکری ذخیرے سے موجودہ دنیا کے مسائل کا حل بخوبی نکالا جا سکتا ہے بس اس کے لئے گہرے علمی کام، منظم جدوجہد اور یکسوئی کی ضرورت ہے۔

6۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ یہ جو مسلمانوں میں فقہی اختلافات پائے جاتے ہیں یہ کوئی غیر متوقع یا غیر فطری چیز نہیں بلکہ بالکل فطری امر ہے کیونکہ انسانوں کے ذہن، علم اور رجحان ایک سے نہیں ہوتے ان میں تنوع پایا جاتا ہے اسی تنوع کا قدرت نے خیال رکھا ہے اس وجہ سے شریعت کے احکامات میں حد درجہ گنجائش پائی جاتی ہے۔ بلکہ اگر فقہی اختلاف نہ پایا جاتا تو یہ حیرت انگیز چیز ہوتی۔ جو چیز افسوسناک ہے وہ اس اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تکفیر اور دشمنیاں ہیں جو کہ ہمارا ایک مشترکہ المیہ ہے اس سے مشترکہ طور پر نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے۔ بد قسمتی سے یہ چیز ہماری سیاست اور معاشرت میں بھی پائی جاتی ہے اور تباہ کن ہے۔

7۔ اگر آج مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے ہیں تو اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں صرف ملا یا مسجد میں بیٹھا مولوی نہیں آخر کس مولوی نے یونیورسٹی کے سائنسدانوں اور انجینئرز کو تحقیق و جستجو سے روکا ہے۔ یہ بات معقول نہیں کہ میں تو چاند پر پہنچنے ہی والا تھا کہ مولوی راستے میں آگیا۔

8۔ “تمہارے بڑوں نے پاکستان کی مخالفت کی تھی۔” “قائد اعظم نے تمھارے بڑوں کے لئے یہ لفظ بولا تھا۔” “تمھارے بڑوں نے قائد اعظم کو یہ کہا تھا۔” بھیڑیے اور بھیڑ کے بچے کی یہ لڑائی اب بند ہونی چاہئے۔ یہ ایشوز اب گھس گھس کر پرانے ہو چکے ہیں ان کی تکرار کے باعث نئی نسل اب ان سے بور ہو رہی ہے۔ کیوں نہ ان چیزوں سے آگے بڑھ کر کوئی تعمیری کام کیا جائے۔ ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ کب تک ہم ماضی کے اختلافات سے چمٹے رہیں گے۔ اب سب پاکستانی ہیں اور ملک کے وفادار ہیں۔ سب نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

9۔ آخری نکتہ ہمیشہ کی طرح last but not least کے مصداق نہایت اہم ہے۔ اور یہ وہی بات ہے جس پر علامہ اقبال نے اپنے جواب شکوہ کا اختتام کیا تھا۔ اگر ہم اس ایک بات کو ہی اپنا لیں تو ہمیں ساری بات سمجھ آ سکتی ہے اور وہ یہ کہ

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کا جائزہ لینا چاہئے۔ اگر ہم مسلمان ہیں تو اس تعلق کے بغیر ہمارا وجود نامکمل ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ ہم سے کوئی ایسی بات یا عمل سرزرد نہ ہو جس کی وجہ سے کل کو جب آپﷺ سے ہمارا سامنا ہو تو ہمیں شرمندگی اٹھانی پڑے۔

آخر میں اکبر الہ آبادی کا ایک شعر سن لیجئے

تم شوق سے کالج میں پڑھو پارک میں جھولو

جائز ہے غباروں میں اڑو چرخ پہ جھولو

بس ایک سخن بندہ عاجز کا رہے یاد

اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو


Comments

FB Login Required - comments

معظم معین

لاہور سے تعلق رکھنے والے معظم معین پیشے کے اعتبار سے کیمیکل انجینئر ہیں اور سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ ہلکے پھلکے موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں

moazzam-moin has 3 posts and counting.See all posts by moazzam-moin

22 thoughts on “سیکولر اور لبرل دوستوں کو نومشورے

  • 05-05-2016 at 3:24 pm
    Permalink

    Nice article but now you better be prepared for the “Liberal & Secular” Bombing in response to this attempt (:

  • 05-05-2016 at 8:19 pm
    Permalink

    مشورے دینے میں کیا برائی ہے! وہ بھی مفت کے

  • 06-05-2016 at 10:53 am
    Permalink

    بہت خوب لکھا۔ آپ جیسے لکھی گئی تحریروں کی اشد ضرورت ہے۔ جزاک اللہ

  • 06-05-2016 at 2:38 pm
    Permalink

    معظم معین صاحب‘ آپ نے فرمایا ہے کہ ’’ہمیں مغرب سے صرف سائنس و ٹیکنالوجی لینی ہو گی تہذیب وافکار نہیں۔ بلکہ بہت ساری چیزیں مغرب کو ہم سے سیکھنی چاہئیں۔‘‘ کیا سائنس و ٹیکنالوجی کا تہذیب وافکارسے کوئی تعلق نہیں ہوتا؟ کیا تہذیب ایک جامدوساکت چپیز ہے؟ کیا دوسو سال پہلے مسلمانوں کی تہذیب وہی تھی جو آج ہے؟ کیا مختلف ملکوں اورعلاقوں میں رہنے والے مسلمان ایک ہی تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں؟ پتلون پہننے‘ ٹائی لگانے‘ میزپر کھانا کھانے اور فوٹوگرافی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

    وہ کون کون سے مغربی افکارہیں جن سے ہمیں ہرقیمت پر بچنا چاہیئے؟ کیا جمہوریت‘ انسانی برابری‘ مذہبی آزادی اوراظہاررائے کی آزادی ناپسندیدہ افکار کی فہرست میں شامل ہیں؟ وہ بہت ساری چیزوں کونسی ہیں جو مغرب کو ہم سے سیکھنی چاہئیں؟

  • 06-05-2016 at 7:49 pm
    Permalink

    محترم، آپ نے یہ وضاحت تو کی ہی نہیں کہ مغرب میں کون ممالک شامل ہیں اور مشرق میں کون۔ مشرق میں تو چین اور جاپان بھی شامل ہیں اور ویتنام اور تھائی لیند بھی۔ یہ بھی نہیں پتہ چلتا کہ افریقی ممالک بھی درخور اعتنا ہیں کہ نہیں۔ منطق کے اعتبار سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر سائنس اور تکنالوجی میں مسلمانوں کی کسی زمانے میں نمایاں ترقی کا سبب انکا مذہب تھا تو آج جو لوگ ان شعبوں میں ترقی کی معراج پر ہیں کیا اسک سبب بھی انکا مذہب ہے۔

  • 07-05-2016 at 10:03 pm
    Permalink

    محترم بھائی، میرے خیال میں تہذیب پینٹ کوٹ ٹائی اور فوٹو گرافی سے بڑھ کر کوئی چیز ہے. یہ کسی قوم کے افکار و نظریات کے مجموعے کا نام ہوتا ہے. یعنی کوئی قوم زندگی کو کس نظر سے دیکھتی ہے. اب اگر آپ مسلمان قوم کو دیکھیں تو کسی بھی زمانے میں ان کا زندگی کو دیکھنے کا رخ ایک سا ہی ہو گا کیونکہ ان کے افکار میں خدا رسول آخرت اور قرآن وغیرہ اٹل ہیں. یہ ان کو اس نظر سے دیکھتی ہے جو انہیں رسول نے سمجھایا ہے. ان کو نظر میں رکھ کر کوئی بھی قوم جب سوچے گی تو اس کی تہذیب مسلمانوں والی ہو گی. اس تصور کو بدل دیں، خدا رسول اور آخرت کے کسی اور تصور کو پروان چڑھا دیں تہذیب بدل جائے گی. خدا سے آزاد کر دیں رسول کو پس پشت ڈال دیں معاشرے کی تصویر کوئی اور رخ اختیار کر لے گی.
    رہ گئیں پینٹ کوٹ اور میز پر کھانا کھانے والی باتیں یا سائنس تو یہ معاشرتی اور زمانی سہولتیں ہیں ان سے افکار اور تہذیب نہیں بدلتی. سائنس تو علم حاصل کرنے کے منظم طریقے کا نام ہے. اس میں ترقی سے بنیادی تصورات میں تو تبدیلی نہیں آنی چاہئے ہاں انسانوں کے لئے سہولت ہے جتنی مہیا ہو سکے.

  • 08-05-2016 at 1:40 pm
    Permalink

    معظم معین صاحب‘ میرے بہت سے سوالوں کا جواب دینے کی آپ نے زحمت نہیں فرمائی البتہ یہ لکھ دیا ہے کہ ’’تہذیب پینٹ کوٹ ٹائی اور فوٹو گرافی سے بڑھ کر کوئی چیز ہے. یہ کسی قوم کے افکارونظریات کے مجموعے کا نام ہوتا ہے۔ یعنی کوئی قوم زندگی کو کس نظر سے دیکھتی ہے. اب اگر آپ مسلمان قوم کو دیکھیں تو کسی بھی زمانے میں ان کا زندگی کو دیکھنے کا رخ ایک سا ہی ہو گا کیونکہ ان کے افکار میں خدا رسول آخرت اور قرآن وغیرہ اٹل ہیں۔‘‘

    کیا لباس کا تہذیب یا کلچر سے کوئی تعلق نہیں؟ کیا فوٹوگرافی کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟ یہ تو بتا دیجئے کہ فوٹوگرافی اب بھی حرام ہے یایہ اب حلال ہوچکی ہے؟ کیا پوری دنیا کے مسلمان ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں؟ کیا پاکستانی‘ ایرانی اورمصری الگ الگ قومیں نہیں ہیں؟ کیا انڈونیشیا‘ تیونس اور سعودی عرب کا کلچر ایک جیسا ہے؟ کیا ہندوستان‘ امریکہ اورآسٹریلیا میں رہنے والے مسلمانوں کی تہذیب ایک جیسی ہے؟

    آپ کوایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں جو طہٰ جابر العلوانی نے بیان کیا ہے اور جسے خورشید ندیم نے اردوکا جامہ پہنایاہے۔ پہلے عباسی خلیفہ ابوالعباس ا لسفاح نے ربیعہ بن عبدالرحمان مدنی کو اپنا مشیر بنایا۔ وہ ایک جید عالم اور امام مالک کے استاد تھے۔ انہوں نے کچھ عرصہ عراق میں گزارا اور پھر واپس مدینہ لوٹ آئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اہل عراق کو کیسا پایا تو ان کا جواب تھا‘ جو ہمارے ہاں حلال ہے وہ ان کے نزدیک حرام ہے اور جسے ہم حرام کہتے ہیں وہ اسے حلال سمجھتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اور ان کے ہاں مختلف نبی مبعوث ہوئے۔‘

  • 09-05-2016 at 7:50 am
    Permalink

    میرا خیال ہے پہلے تہذیب اور ثقافت کے فرق کو سمجھنا بہتر ہو گا. جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ تہذیب نام ہو تا ہے کسی قوم کے بنیادی افکار و عقائد کا. زندگی کے متعلق اس کے نظریات کا. یہ چیز اور کہیں نہیں تو کم از کم مسلمانوں میں تبدیل ہونے والی نہیں کیونکہ مسلمانوں کے بنیادی عقائد ہمیشہ سے ایک ہی رہے ہیں. زمان و مکان اس پر اثر انداز نہیں ہوتے. یہی وجہ ہے کہ مسلمان خواہ پاکستان ہندوستان کا ہو یا عرب ممالک یا یورپ کا زندگی سے متعلق اس کے رجحانات ایک جیسے ہی ملیں گے اگر وہ فکری طور پر کسی اور تہذیب سے متاثر یا مغلوب نہیں ہوا تو… وہ آخرت کو کسی نہ کسی درجے میں مد نظر رکھے گا. خدا کے ساتھ اس کا کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہو گا. رسول کو وہ سچا اور آئیڈیل ضرور مانے گا. مرنے کے بعد جی اٹھنے پر یقین رکھے گا. پھر ان سب تصورات کی وجہ سے اس کی زندگی ایک خاص شکل اختیار کر لے گی جسے انگریزی کا لفظ paradigm اچھے مفہوم کے ساتھ ادا کرتا ہے.

    اب آتے ہیں ثقافت کی طرف… ثقافت اس تہذیب و تمدن کے اظہار کا نام ہے. اس پر دیگر عوامل اثر انداز ہوتے ہیں یہ ضرور ارتقائی مراحل طے کرتی ہے. جغرافیائی حالات موسم طبعی رجحانات معیشت معاشرت وسائل وغیرہ یہ سب چیزیں اس پر اثر انداز ہوتی ہیں. آپ جن چیزوں کا بار بار تذکرہ کر رہے ہیں وہ تہذیب نہیں ثقافت کے زمرے میں آتی ہیں. اس میں ترقی اور نشونما ضرور ہوتی ہے اور ہونی چاہئے.
    ایک مثال عرض  ہے. مثال کے طور پر لباس کو لے لیں. اسلامی تہذیب لباس کی کوئی خاص وضع قطع متعین نہیں کرتی بلکہ چند بنیادی اصول بیان کر دیتی ہے. وہ اصول اٹل ہیں کسی زمانے میں بھی اسلامی تہذیب ستر اور پردے کے اصولوں میں کمی بیشی نہیں کرے گی. اب ثقافتی طور پر مختلف علاقوں کے لوگ مختلف وضع قطع کا لباس ڈیزائن کریں گے اور پہنیں گے ان سب میں ایک قدر مشترک ہو گی اور وہ ستر کا خیال ہو گا. اسلامی تہذیب کے زیر اثر جو تقافت ترتیب دی گئی ہو گی اس میں اس چیز کا خیال رکھا جائے گا خواہ وہ زمین پر ہو یا چاند یا مریخ پر. اس کے برعکس جو تہذیب اسلامی اصولوں سے آزاد ہو گی وہ ان اصولوں کا خیال نہی رکھے گی. اس کے نزدیک بے لباسی یا نا لباسی کوئی عار کی بات نہیں ہو گی. اگر مسلم معاشرے میں کچھ رسوم و رواج یا ثقافتی علامات اسلامی تہذیب سے متصادم نظر آتی ہیں  تو اس مطلب یہ نہیں کہ اسلامی تہذیب بدل گئی بلکہ اس کی ایک وجہ تو وہ ہے جو علامہ اقبال نے بیان کی کہ
    تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
    کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

    اور دوسری وجہ علمی بدحالی اور مرعوبیت ہے.

  • 09-05-2016 at 9:38 am
    Permalink

    معظم معین صاحب‘ معظم معین صاحب‘ میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے تہذیب اور ثقافت کا فرق واضح کردیا ہے۔ اب میرے باقی سوالوں کو بھی شرف قبولیت بخش دیں۔ مثلاًوہ کون کون سے مغربی افکارہیں جن سے ہمیں ہرقیمت پر بچنا چاہیئے؟ کیا جمہوریت‘ انسانی برابری‘ مذہبی آزادی اوراظہاررائے کی آزادی ناپسندیدہ افکار کی فہرست میں شامل ہیں؟ وہ بہت ساری چیزوں کونسی ہیں جو مغرب کو ہم سے سیکھنی چاہئیں؟

    آپ نے فرمایا ہے کہ ’’مسلمانوں کے بنیادی عقائد ہمیشہ سے ایک ہی رہے ہیں۔‘‘ کیا شیعوں‘ دیوبندیوں‘ بریلویوں اور اہل حدیثوں کے بنیادی عقائد واقعی ایک ہیں؟ براہ مہربانی اس واقعہ کی وضاحت فرما کر ہیمیں شکریہ کا موقع دیں۔ پہلے عباسی خلیفہ ابوالعباس ا لسفاح نے ربیعہ بن عبدالرحمان مدنی کو اپنا مشیر بنایا۔ وہ ایک جید عالم اور امام مالک کے استاد تھے۔ انہوں نے کچھ عرصہ عراق میں گزارا اور پھر واپس مدینہ لوٹ آئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اہل عراق کو کیسا پایا تو ان کا جواب تھا‘ جو ہمارے ہاں حلال ہے وہ ان کے نزدیک حرام ہے اور جسے ہم حرام کہتے ہیں وہ اسے حلال سمجھتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اور ان کے ہاں مختلف نبی مبعوث ہوئے۔‘

    آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’اسلامی تہذیب لباس کی کوئی خاص وضع قطع متعین نہیں کرتی بلکہ چند بنیادی اصول بیان کر دیتی ہے. وہ اصول اٹل ہیں کسی زمانے میں بھی اسلامی تہذیب ستر اور پردے کے اصولوں میں کمی بیشی نہیں کرے گی. اب ثقافتی طور پر مختلف علاقوں کے لوگ مختلف وضع قطع کا لباس ڈیزائن کریں گے اور پہنیں گے ان سب میں ایک قدر مشترک ہو گی اور وہ ستر کا خیال ہو گا۔‘‘

    کیا بنگلہ دیش خیبر پختون خواہ اورامریکہ میں رہنتے والی مسلم خواتین جو لباس پہنتی ہیں وہ اسلامی تہذیب کے اصولوں پر کس درجہ میں پورا اترتا ہے؟ کیا اسلامی تہذہب میں خواتین کے لئے چہرے کا پردہ لازمی ہے کہ نہیں؟ ہمارے مدارس اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کی وضع قطع میں اتنا فرق کیوں ہوتا ہے؟ کس کا لباس اور وضع قطع اسلامی تہذیب کے تقاضوں کے زیادہ قریب ہے؟

    آپ نے اقبال کا ایک شعر بھی لکھا ہے کہ جس میں کہا گیا ہےکہ غلامی میں قوموں کا ضمیربدل جاتا ہے۔ غلامی کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں کے ضمیر میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں اور مسلم رہنما ان تبدیلیوں سے کیسے نمٹے؟اب کیا صورت حال ہے؟ اقبال نے سر کا جوخطاب قبول کیا تھا کیا وہ ضمیر بدل جانے کی طرف اشارہ کرتا تھا؟

    آپ نے علمی بدحالی اور مرعوبیت کا ذکر بھی کیا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب علمی بدحالی کے کن درجوں پر فائز ہیں؟ یہ بھی فرما دیجئے کہ کون کس سے مرعوب ہے اور کسے کس سے مرعوب چاہیئے؟

  • 09-05-2016 at 9:24 pm
    Permalink

    پہلے یہ بتائیں کہ واقعی آپ کو ان سوالات کے جوابات نہیں معلوم یا محض چیزا لے رہے ہیں

  • 09-05-2016 at 9:28 pm
    Permalink

    بہر حال ‘ انسانی برابری‘ مذہبی آزادی اوراظہاررائے وغیرہ کی آزادی مغرب نے نہیں اسلام نے دنیا کو دی ہیں. خلفا راشدین اور اسلامی تاریخ کے لاتعداد واقعات اس کے گواہ ہیں. تفصیلات کے لئے تاریخی کتب سے رجوع کریں

  • 09-05-2016 at 9:31 pm
    Permalink

    اہل عراق کا جو تاریخی واقعی آپ نقل کر رہے ہیں اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں فقہی اختلافات کی بنیاد پر کوئی نیا اسلام نہیں بن جاتا اسلام وہی ہے اس کے مختلف مکاتب فکر برحق ہیں. متعصب اور کم علم مولویوں کے پیچھے لگ کر اپنا دین خراب کرنے کی ضرورت نہیں

  • 09-05-2016 at 9:35 pm
    Permalink

    مختلف مکاتب فکر کے جن اختلافات کا آپ نے ذکر کیا کے اس سلسلے میں عرض ہے کہ کوئی اچھی دینی کتاب لے کر مطالعہ فرمائیں کہ اسلام کے “بنیادی عقائد” یا “ضروریات دین” کسے کہتے ہیں. اس سے بات واضح ہو جائے گی کہ میں نے یہ کیوں لکھا کہ بنیادی عقائد میں کوئی فرق نہیں ہے.

  • 09-05-2016 at 9:41 pm
    Permalink

    مسلم خواتین کے لباس کے سلسلے میں تو بات سب سے ذیادہ واضح ہے کہ کسی زمانے یا کسی خطے میں مسلمان خواتین وہ لباس نہیں پہنتیں جو مغربی خواتین ساحل سمندر وغیرہ پر زیب تن کرتی ہیں. ستر اور پردے ک سب سے زیادہ خیال مسلمان خواتین رکھتی ہیں. اگر کوئی مسلمان خاتون ستر اور پردے کا خیال نہیں رکھتی تو کم از کم میں نہیں جانتا. چہرے کے پردے کا معاملہ بھی سادہ سا یہی ہے کہ جو نہیں کرنا چاہتی نہ کرے جو کرنا چاہتی ہے ضرور کرے اور دونوں ایک دوسرے کو اچھا مسلمان سمجھیں پر خیال رہے کہ بات پھر چہرے کو کھولنے سے آگے نہ بڑھے.

  • 09-05-2016 at 9:45 pm
    Permalink

    مغرب کو ہم سے انسان دوستی والدین کا احترام خوشگوار خاندانی زندگی روحانیت خدا اور رسول کا تصور اچھی ہمسائیگی کا تصور جنگی آداب اور روپیہ خرچ کرنے کا طریقہ وغیرہ وغیرہ سیکھنا چاھئے.

  • 09-05-2016 at 9:53 pm
    Permalink

    بدقسمتی سے ہم بحثیت قوم مغرب سے مرعوبیت کے اعلی درجے پر فائز ہیں اور وہاں سے آنے والی ہر چیز بغیر کسی چوں چرا کے اپنا لینے کے لئے تیار ہیں. دینی حوالے سے آنے والی ہر بات پر سو سو سوال کرتے ہیں. حالانکہ مغرب اتنا غریب ہے کہ بچارے کے پاس ٹیکنالوجی اور روپے کے سوا کچھ بھی نہیں… نہ خدا نہ رسول نہ کتاب… نہ ماں نہ باپ نہ بہن بھائی نہ بیوی… نہ روحانیت… آپ اور ہم سب ذرا ہمت کریں تو یقین کریں ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں.

  • 10-05-2016 at 4:20 am
    Permalink

    ماشاءاللہ
    معظم معین صاحب
    لکھا بھی خوب ھے اور وضاحت بھی خوب کی ھے۔
    یہاں شکیل چودھری صاحب کا شکریہ جن کے متواتر سوالات نے ھمارے ذھنوں کو معطر اور منور ھونے کا موقع دیا۔

  • 10-05-2016 at 2:33 pm
    Permalink

    معظم معین صاحب‘ میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کومیرےایک کمنٹ کے جواب میں سات کمنٹس لکھنے کی زحمت اٹھانا پڑی۔ میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے کسی اچھی دینی کتاب کے مطالعہ کا مشورہ دیا ہے۔ اگرکسی کتاب کا نام بھی لکھ دیتے تو بہتوں کا بھلا ہوجاتا۔

    آپ نے فرمایا ہے کہ’’انسانی برابری‘ مذہبی آزادی اوراظہاررائے وغیرہ کی آزادی مغرب نے نہیں اسلام نے دنیا کو دی ہیں۔‘‘ کن مسلمان ملکوں میں ان چیزوں پر عمل ہورہا ہے؟ کیا اسلام میں ارتداد کی کوئی سزا ہے؟ انسانی حقوق کے عالمی منشورکے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اس پر سب سے زیادہ کن ملکوں میں عمل ہورہا ہے؟

    آپ کے بقول مغرب کو ہم سے انسان دوستی‘ والدین کا احترام‘ خوشگوار خاندانی زندگی‘ روحانیت‘ خدااوررسول کا تصور‘ اچھی ہمسائیگی کا تصور جنگی آداب اورروپیہ خرچ کرنے کا طریقہ وغیرہ وغیرہ سیکھنا چاھئے۔‘ یہ سب صفات سیکھنے کے لئے اہل مغرب کو کس مسلمان ملک کا رخ کرنا چاہیئے؟ پاکستان‘ ایران‘ عراق‘ سعودی عرب یا سوڈان؟

    آپ نے یہ بھی فرمادیا ہے کہ ’’مغرب اتنا غریب ہے کہ بچارے کے پاس ٹیکنالوجی اور روپے کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘ کیا یہی وجہ ہے کہ اہل مغرب جوق درجوق مسلمان ملکوں کا رخ کررہے ہیں اورمسلمان ملکوں سے ایک فرد بھی مغرب کا رخ نہیں کررہا؟

    آپ نے چہرے کے پردے کا معاملہ بڑے سادہ انداز میں حل کردیا ہے’’جو نہیں کرنا چاہتی نہ کرے جو کرنا چاہتی ہے ضرور کرے۔‘‘ گویا اسلام نے اس بارے میں کوئی واضح حکم نہیں دیا ہے۔ اس کے علاوہ کون کون سے معاملات اسی سادہ انداز میں حل کئے جاسکتے ہیں؟

  • 10-05-2016 at 5:17 pm
    Permalink

    میرے بھائی آپ سوالات کے خاصے ماہر معلوم ہوتے ہیں. اگر صرف سوال برائے سوال مقصد ہے تو بہتر یے کہ میرا اور اپنا وقت ضائع کرنے سے بچائیں. اور اگر واقعی کچھ جاننا یا سمجھنا مقصود ہے تو اس کا انداز مختلف ہوتا ہے. ہمدرد لوگ طنزیہ انداز نہیں اپناتے. طنز افہام و تفہیم کے لئے زہر قاتل ہے. اسلام بہت سادہ اور آسان ہے اسے پیچیدہ اور مشکل ثابت کرنا اور مسلمانوں کی کمزوریوں کا مذاق اڑانا کوئی قابل ستائش عمل نہیں. میری گذارش ہو گی کہ دین کو مذاق اور تفریح بنانے کے بجائے عمل کے جذبے سے اسے جاننے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے. اسی میں ہم سب کا بھلا ہے. اللہ آپ کو خوش رکھے.

    • 11-05-2016 at 2:19 am
      Permalink

      سوال و جواب کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ سوال چاہے کتنا ہی ہلکا کیوں نہ ہو، جواب ضرور وزنی ہونا چاہئے، آپ کو سوالوں سے پریشان نہیں ہونا چاہئے، یہ مکالمے کا ہی پلیٹ فارم ہے، اپنے موقف کے بیان اور اس کے دفاع کا میدان ہے۔ یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے تو نتائج کا حصول ہوتا ہے، سوال سے ہی آپ کو اپنے موقف کی مضبوطی کا علم ہوتا ہے، سوال کی چوٹ سے پندار کی دیوار گرتی ہے۔ اگر آپ کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے میں دشواری ہو رہی ہے تو آپ اقدامی پوزیشن سنبھال کر اگلے کو دفاع پر مجبور کر دیں۔ لیکن سوال کی حوصلہ تو نا کیجئے۔

  • 11-05-2016 at 6:37 am
    Permalink

    میں سوال کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہا تھا بلکہ وہ انداز سوال کی بات تھی. مکالمے کا فائدہ مثبت انداز سوال و جواب میں ہے. اور مکالمہ ختم نہیں ہوا جاری ہے اس پر گفتگو چلتی رہے گی. اور جہاں تک بات دفاع کی ہے دفاع غلط اور کمزور بات کا کرنا پڑتا ہے. حقیقت اور سچ کو دفاع کی نہیں بس وقت کی ضرورت ہوتی ہے ثابت ہونے کے لئے.

  • 11-05-2016 at 9:34 am
    Permalink

    معظم معین صاحب‘ معافی چاہتاہوں کہ میرا بحث کرنے کا انداز اورمیرے سوالات آپ کوپسند نہیں آئے۔ کبھی آپ کہتے ہیں کہ میں چزا لے رہاہوں اور کبھی کہتے ہیں میں سوال برائے سوال کرکے آپ کا وقت ضائع کررہا ہوں۔ کبھی آپ میرے سوالوں کو طنزقراردے دیتے ہیں۔ وحید ایاز صاحب نے صحیح کہا ہے کہ آپ کو سوالوں سے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ لگتا ہے کہ آپ اس اصول پر عمل کرتے ہیں کہ اگرآپ کو کسی کا سوال مشکل لگے تو آپ اسے سوال برائے سوال قرار دے کراس سے پیچھا چھڑا سکتے ہیں۔

    آپ نے فرمایا ہے کہ ’مسلمانوں کی کمزوریوں کا مذاق اڑانا کوئی قابل ستائش عمل نہیں۔‘ کیا غیرمسلموں کی کمزوریوں کا مذاق اڑانا قابل ستائش عمل ہے؟ کیا یہ بہتر نہ ہو کہ ہم دوسروں کی کمزوریوں کا مذاق اڑانے کے بجائے اپنی کمزوریوں پر نظر رکھیں اور self-righteousness سے بچتے ہوئے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کوشش کریں۔

    آپ کا ارشاد ہے کہ دفاع غلط اور کمزور بات کا کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت اورسچ کو ثابت ہونے کے لئے دفاع کی نہیں بس وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے مجھے ابن انشا۴ کی وہ بات یاد آگئی کہ جتنی کتابیں اورنگ زیب عالمگیر کے دفاع میں لکھی گئی ہیں کسی بادشاہ کے دفاع میں نہیں لکھی گئیں۔

    ہمارے ہاں جتنی لفاظی اورجذباتیت پائی جاتی ہے اس کے آگے بند باندھنے کابہترین طریقہ سوال ہی تو ہے۔ ہم اہل مغرب کی جتنی بھی مذمت کریں لیکن وہاں اس طرح کی لفاظی اورجذباتیت نہیں پائی جاتی۔ اور اگر کوئی ان چیزوں کا مظاہرہ کرے تو بڑی مشکل میں پھنس جاتا ہے۔ براہ مہربانی مجھے اپنا دشمن مت سمجھیں۔ اگرمیں نے آپ کی دل آزاری کی ہوتو معذرت خواہ ہوں۔ لیکن مجھے امید ہے کہ میرے سوالات کے نتیجے میں آپ کی تنقیدی انداز میں سوچنے کی صلاحیت میں کچھ نہ کچھ بہتری آئی ہوگی اورآئندہ آپ جب بھی کچھ لکھیں گے زیادہ احتیاط سے لکھیں گے۔ اگرآپ کے پاس کچھ وقت ہوتو یہ مضمون ملاحظہ کیجئے گا۔

    http://www.umich.edu/~elements/5e/probsolv/strategy/ctskills.htm

Comments are closed.