عشق: چاند کے ٹکڑے کا افسانہ


Usman Shahidامتحان میں نقل کا تو سُنا تھا مگر یہ علم نہیں تھا کہ ہماری تو محبت بھی نقل، چوری اور جعلسازی پر مبنی ہے۔ تصورِ صنم سے وصال و فراق تک انسانی جذبات ان معاشرتی رویوں سے ادھار لئے گئے ہیں جو زیادہ تر افسانوں یا فلموں میں پائے جاتے ہیں۔ تبھی شیریں فرہاد، لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، سسی پنوں اور رومیو جیولٹ جیسے کردار آج بھی زندہ ہیں۔ ہم جب بھی محبت کے آنگن میں ٹہلنے جاتے ہیں تو یہ کہانیاں ہمیں تتلیوں کی طرح بہلاتے ہوئے دنیا کے اس پار لے جاتی ہیں جہاں انسانی ضروریات اور فطری رکاوٹیں پنپ نہیں سکتیں۔ ان احساسات نے جذبہ محبت کی آبیاری کی ہے یا اسے ایک افسانوی شکل دے کر کوئی غیر فطری و غیر انسانی جنس بنا دیا ہے؟

برطانوی روزنامہ ‘فنانشل ٹائمز’ میں 22 اپریل کو ‘How fiction ruined love‘  کے عنوان سے ایک آرٹیکل شائع ہوا ہے جس نے عشق سے وابستہ بنیادی جذبات پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہاں تک لکھا گیا ہے کہ اگر کچھ لوگوں کو معلوم ہی نہ ہوتا کہ محبت بھی کوئی جذبہ ہے تو شائد وہ کبھی محبوب نہ بناتے۔ آرٹیکل کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جسے ہم عشق کہتے ہیں وہ ہمارے سماج میں موجود ان روایات سے مستعار جذبات ہیں جو ہمیں اس دور کے افسانوں اور فلموں میں نظر آتے ہیں۔

یعنی کسی شخص سے محبت کرتے ہوئے ہم جو توقع رکھتے ہیں وہ ہماری اپنی آواز نہیں بلکہ وہ الفاظ ہیں جو ہم نے افسانوں میں پڑھے اور فلموں میں سنے ہیں۔ ہماری محبت ان افسانوی و فلمی کرداروں کی لازوال محبت کے گرد گھومتی ہے جو غالباََ حقیقی دنیا میں ممکن نہیں۔ ہم نے افسانوں یا فلموں میں عاشق و معشوق کو اپنی محبت پانے کے لئے تو لڑتے دیکھا ہے مگر ان فطری و سماجی تقاضوں کا سامنا کرتے نہیں دیکھا جو ہمیں روزمرہ درپیش ہیں۔ مثلاََ محبت میں مبتلا ایک مرد ذریعہ معاش کی فکر، ٹریفک جام، موسمی پریشانی سے بالاتر رہتا ہے جب کہ ایک خاتون بھی کپڑے دھونے، پڑھائی لکھائی اور دیگر امور خانہ داری سے بیگانہ اپنے شب و روز صرف محبوب کے انتظار اور دیدار میں گزار دیتی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

romanceجو قارئین انگریزی زبان سے واقف ہیں میں انہیں مذکور ہ بالا آرٹیکل پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔ البتہ اس آرٹیکل نے ذاتی حد تک چند الجھنوں میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم میرے لئے پاکستانی معاشرے کے زوال اور اس کے اسباب سمجھنے میں کچھ مدد ضرور ملی ہے۔ پاکستان کی قریباََ 65 فیصد آبادی 26سال یا اس سے کم عمر ہے۔ اگر موجودہ آبادی 20کروڑ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ 13کروڑ پاکستانی 26سال سے کم عمر ہیں۔ اس طرح پاکستان نوجوان ترین اقوام میں سے ایک ہے۔ نوجوانوں کو ملکی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو جسمانی قوت، ذہنی افزودگی اور نت نئے خیالات کے ذریعے ملکی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔ بد قسمتی سے مملکتِ خداداد میں ایسا کچھ نہیں۔

پاکستانی نوجوان ہرعام شہری کی طرح بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے۔ مہنگی تعلیم اور اس کے باوجود بیروزگاری، کھیل اور دیگر صحت مند سرگرمیوں کی کمی،بہتر مستقبل کے لئے والدین اور سوسائٹی کا دباؤ، اپنے خوابوں کے برعکس بزرگوں کی توقعات کا بوجھ، بچپن سے ذہن میں نقش کئے گئے افکار اور فطرت سے متصادم خیالات تلے دبے ان نوجوانوں کو اول تو محبوب بنانے کی اجازت ہی نہیں اور اگر بن جائے تو کیا، کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس کا تذکرہ کرنے کی تو ضرورت ہی نہیں ہے۔ ایک لمحہ رکئے اور سوچئے کہ یہ نوجوان جب محبت کریں گے تو جذبات کہاں سے اور کتنی ماشہ میں لیں گے؟ ان کے لئے محبت کسی افسانے سے کم ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ خوابوں کے قالین پر بیٹھے کئی ان دیکھی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے جب پیار کی نگری میں پہنچتے ہیں تو تمنائیں اور توقعات انہیں اس حد تک گھیر چکے ہوتے ہیں کہ وہ حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

romanبات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ابھی تو عید، شب رات بھی آنی ہے، فرینڈ شپ اور ویلنٹائن ڈے کا بھی چرچہ ہے۔ افسانوی محبت سرمایہ داری نظام کی بھینٹ چڑھ چکی ہے یا یوں کہیے سرمایہ داری نظام کی کٹھ پتلی ہے۔ اب نوجوان کو وہ فلمی تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی سچی اور ہمالیہ سے اونچی محبت کا ثبوت دینے کے لئے نت نئی شعبدہ بازیاں کرناہیں۔انہیں مہنگے تحائف خریدنا ہیں۔ محبوب سے اظہار الفت کے لئے ایسے ڈائیلاگ لکھنے یا کہنے ہیں جو غالباََ ان کے اپنے جذبات کی ترجمانی بھی نہیں کرتے تاہم افسانہ طرازی کی تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں۔ ابھی اس چنگل سے نکلے نہیں کہ پیار کی کسوٹی پر برا جمان ان متعدد مراحل کا بھی سامنا ہے کہ جن سے نجات پانا ممکن نہیں۔ اگر آپ نے محبوب کے ہوتے ہوئے کسی اور کو ایک نگاہ بھر کر دیکھ لیا یا اسے وقت دینے کے بجائے پڑھائی یا نوکری پر زیادہ دھیان دیا، والدین کے دباؤ میں آ کر کچھ ایسا کہا یا کر دیا جس کی توقع نہیں کی جا سکتی تو سمجھ جائیں کہ آپ عشق کے امتحان میں ناکام ہو گئے۔

عشق تو آپ کو نہریں کھودنے، تیراکی نہ آنے کے باوجود پانی میں کودنے اور محبوب کی بھوک مٹانے کی خاطر اپنے ہی جسم سے گوشت اتار کر کباب بنانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ تو پھر آپ کو یہ جرات کیسے ہوئی کہ آپ کا نمبر رات کو ‘ویٹنگ’ پر یا بند کیوں تھا؟ آپ نے آج ملنے کا وعدہ کیا تھا مگر بل کی قطار میں کھڑے دیر کیوں ہوئی؟ بارش نے آسمان پر جو رومان پرور قوس قزح بکھیری تھی تو آپ محبوب سے ملنے کے بجائے چھت اور گلی میں کھڑا پانی صاف کیوں کرتے رہے؟ ایک ہی پلیٹ میں کھانا کیوں نہیں کھایا؟ فلاں موقع پر تعریف کیوں نہیں کی؟ اور تو اور امتحانات میں آپ کے نمبر بھی ہم جماعت محبوب سے زیادہ کیسے آ گئے؟ کیا امتحان دیتے ہوئے جوابی پرچے پر محبوب کا چہرہ نہیں ابھرا؟ اگر نہیں تو آپ کی محبت میں کمی ہے اور اگر ہاں، تو پھر عشق کے امتحان میں سرخرو ہونے کے لئے بی اے کے امتحان میں کامیاب ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ کا تعلق کسی ایسے علاقہ سے ہے جہاں ہمسائے کے گھر دیکھنے پر بھی قتل ہو جاتے ہیں تو ان حالات میں جان ہتھیلی پر رکھ کر محبت کرنے کے بعد توقعات کا درجہ حرارت کس حد کو چھوئے گا، اس کا اندازہ بھی کر لیں۔

تمام تر معاشرتی دباؤ کے باوجود جب محبت اپنی معراج پر پہنچتی ہے تو پھر افسانوی توقعات اور سماجی حقائق کا خوفناک تصادم ہوتا ہے۔ اگر یہ شادی میں بدل جائے تو کچھ ہی عرصہ میں بنیادی جسمانی ضرورت پوری ہوتے ہی توقعات کے غبارے سے ہوا نکلنا شروع ہو جاتی ہے۔ یکدم اندازہ ہوتا ہے کہ جھیل سی گہری آنکھوں والی اور شہد سی میٹھی باتوں والی نے آپ پر پہلے سے موجود سماجی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اسی طرح تارے توڑنے کی قسم کھانے والے اور آواز سنے بغیر نیند نہ آنے کی شکایت کرنے والے نے کتنی بیزاری اور اکتاہٹ سے اپنا باس دار منہ پرے کرتے ہوئے ماحول کی پرواہ کئے بغیر خراٹے لینا شروع کر دئیے ہیں۔ ایک کو شکایت ہے کہ وہ سارا دن گھر میں کام کرتے تھک گئی اور منتظر تھی کہ ‘تم آ کر پیار سے ماتھا چومو گے اور پوچھو گے کہ کھانے میں کیا بنا ہے؟’ تو میری دن بھر کی تکان اتر جائے گی۔ دوسرے کو شکایت ہے کہ وہ دن بھر کی ذلالت اور افسر کی جھاڑ سننے کے بعد مزید میٹھے لفظ بولنے کا متحمل نہیں۔ اب اس ماحول میں والدین، سسرال اور بچوں کو بھی شامل کر لیں۔ یاد رہے کہ یہ فلمی بچے نہیں جو لوری سن کر سو جاتے ہیں۔ یہ رات کو اتنا روتے ہیں کہ آپ کی نیند کیا زندگی بھی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اب اس ماحول میں اس محبت کو یاد کریں جو آپ نے کسی افسانے یا فلمی کہانی کی بنیاد پر کی تھی۔ ممکن ہے کہ آپ بھی بول اٹھیں:

یونہی سا تھا کوئی جس نے مجھے مٹا ڈالا

نہ کوئی چاند کا ٹکڑا ، نہ کوئی زہرہ جبیں


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “عشق: چاند کے ٹکڑے کا افسانہ

  • 05-05-2016 at 11:10 pm
    Permalink

    یونہی سا تھا کوئی جس نے مجھے مٹا ڈالا

    نہ کوئی چاند چہرہ نہ کوئی زہرہ جبیں

    کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ محبت کے تصور کے بارے میں‌ اس قدر کنفیوژن کیوں‌ہے؟ محبت ایک فطری جذبہ ہے جس کو نہ پنپنے کی اجازت ہے اور نہ ہی اسپیس۔ کیا والدین اپنے بچوں‌ کے سامنے ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے ہیں؟ وہ اپنے بچوں‌ کے سامنے ایک دوسرے سے لڑائی ضرور کرتے ہیں‌لیکن “مجھے آپ سے محبت ہے ” کہنا بے حیائی سمجھتے ہیں۔

    محبت ایک خوبصورت جزبہ ہے۔ محبت کے بغیر انسان زندہ نہیں‌ رہ سکتے ہیں۔ ایک پرانی ریسرچ میں‌ یہ دیکھا گیا کہ پیدا ہوئے بچوں‌ کو صرف صاف ستھرا کرنے اور دودھ پلانے کو ہی انہیں‌ اٹھایا جاتا اور باقی وقت ان کو نہ کوئی گود میں‌ لیتا اور نہ ہی چھوتا تو وہ ننھے منھے بچے خود بخود مر گئے۔ انہوں‌ نے اپنی موت سے یہ ثابت کیا ہم سب انسانوں‌ کے لئیے کہ انسانوں‌ کو زندہ رہنے کے لئیے صرف کھانے پینے کی نہیں‌ بلکہ محبت کی بھی ضرورت ہے۔

    محبت کو ایک مصنوعی اور غیر فطری پدرانہ معاشرے نے زنجیر پہنا رکھی ہے۔ اس جیل میں‌ سے لوگ اس وقت نکل پائیں‌ گے جب وہ دوسروں‌ کو آزاد کردیں۔ جہاں‌ خواتین اپنے خاندانوں‌ کی ملکیت تصور کی جائیں‌ وہاں‌ ان کو تو ایک مکمل بالغ انسان کی حیثیت سے اپنی زندگی کے بارے میں‌ کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہیں‌ ہے اور دوسری جانب بندے بھی جانتے ہیں‌ کہ سامنے سے دروازہ بجائیں‌ گے تو مار کھائیں گے اس لئیے وہ ایک دوسرے کے گھروں‌ میں‌ پیچھے سے دیوار پھاند کر جاتے ہیں۔ پھر یہی لوگ صبح میں‌ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں‌ ہمارا معاشرہ مغربی بے راہ روی سے کتنا بہتر ہے۔

  • 06-05-2016 at 12:04 am
    Permalink

    Very relevant article

  • 06-05-2016 at 4:06 am
    Permalink

    لبنی جی، کیا کہیے، لڑائی تو ہم بچوں کے سامنے کر لیتے ہیں، پر پچوں کے سامنے پیار کی بات کروں، تو بے غم سے طعنہ سننے کو ملتا ہے، ‘کچھ تو حیا کریں، بچے کیا کہیں گے’ اور بچے کھلکھلا کر ہنستے ہیں. آہ ہم مرد بے چارے.

    ?

  • 10-05-2016 at 9:14 am
    Permalink

    Usman, very well written. Aap ne goya dil ki baat keh di. Filmi muhabbaton ke tajziye ka to jawab hi nahi. Likhtey Rahiye.
    ” افسانوی محبت سرمایہ داری نظام کی بھینٹ چڑھ چکی ہے”

Comments are closed.