سنجے دت، نرگس، مادھوری اور ایک پرانا خط


بچپن میں سب لوگ ہیرو بننا چاہتے ہیں مجھے ولن بننا پسند تھا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو اتنا کمپرومائز کیا کہ چلو موقع ملا تو کیریکٹر ایکٹر بن جاؤں گا، ہیرو ۔۔۔ بات نہیں بنتی۔ کلین شیو پپو بچہ جو دنیا کے سارے اچھے کام کرتا پھرے، ویسا کیسے بنا جا سکتا ہے؟ انہی دنوں سنجے دت کی خبریں اخباروں اور فلمی رسالوں میں بہت زیادہ آیا کرتی تھیں۔ وہ ڈرگز لیتا تھا، ممنوع اسلحہ رکھتا تھا، ہر دوسری ہیروئین کے ساتھ اس کا نام جڑتا تھا تو یہ واحد ولن نما ہیرو سنجے دت تھا جو اپنا فیورٹ ہو گیا۔ اس نے مایوس بھی نہیں کیا۔ انہی دنوں سکول میں ایک لڑکا گانا گا رہا تھا، چولی کے پیچھے کیا ہے، تجسس بھرے لہجے میں اس سے پوچھا کہ استاد یہ کس فلم کا گانا ہے تو اس نے بتایا کہ سنجے دت کی فلم ہے کھل نائیک، کل آئی ہے۔ کھل نائیک کے بعد تو جیسے ٹھپہ لگ گیا کہ ہیرو ہو تو ایسا ہو۔ پھر پانچ چھ سال بعد واستو آگئی ۔۔۔ دیکھ مائی، پچاس تولہ ۔۔۔ جان نکال گیا سنجے دت، پھر اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی گرفتاریوں میں پھنس گیا۔ خبریں ملتی رہتی تھیں، افسوس ہوتا رہتا تھا لیکن فلم کے ایک ہیرو کے لیے کتنا افسوس کیا جا سکتا ہے؟ کیا آپ روٹی کھانا چھوڑ کے رونا دھونا شروع کر دیں گے؟ ظاہری بات ہے نہیں، تو زندگی بہترین چلتی رہی۔ پھر منا بھائی ایم بی بی ایس آئی۔ واٹ اے پلیزنٹ سرپرائز اٹ واز! مطلب حد ہو گئی کسی فلم کے اچھا ہونے کی، بہت بار دیکھی۔

سنجے دت کی ماں اداکارہ نرگس ایک مسلمان خاندان سے تھیں۔ فاطمہ رشید ان کا اصل نام تھا۔ وہ جب فوت ہوئیں تو انہیں باقاعدہ دفن کیا گیا۔ ان کا سنیل دت، ایک ہندو اداکار سے شادی کرنا اور اس شادی کا بہت کامیابی سے چل جانا ان کے بیٹے سنجے دت کا سب سے بڑا قصور تھا۔ یہ سب فلم سنجو میں کہا نہیں جا سکتا تھا، کہا بھی نہیں گیا۔ ایک سین میں تھوڑا سا بتایا گیا کہ سنجے دت پہ دھماکہ خیز مواد کا ٹرک اپنے گھر رکھنے کا جو الزام تھا وہ صرف اخباروں کی ایک چٹپٹی سرخی بنانے کا معاملہ تھا۔ بات اتنی سادی نہیں ہے۔ فلم کے مطابق چھ برس قید کی سزا کیا سنجے دت کو صرف ایک بندوق گھر میں رکھنے پہ ہو جائے گی؟ سنجے کے باپ سنیل دت ساری زندگی اس بات کا طعنہ سہتے رہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ سیاسی میدان میں آئے تو وہاں بھی ان کے خلاف یہ کارڈ کافی زیادہ استعمال ہوا۔ حالانکہ نرگس اور سنیل دت دونوں بے چارے ہر اہم موقعے (عموما پاک بھارت جنگوں) پر اپنی فوج کا مورال بڑھانے بارڈر تک پہ جا کے پروگرام کیا کرتے تھے لیکن یہ نیکی بھی کسی کھاتے میں نہیں گنی گئی۔ انڈیا میں سنجے دت آج تک سلمان یا شاہ رخ خان سے زیادہ پرو مسلم سمجھا جاتا ہے۔ سنجے نے اپنی بیٹی کا نام آخر اقرا کیوں رکھا، اس پہ بھی اب تک بحث ہوتی ہے۔ تو سنجے دت بہرحال اپنے شجرہ نسب کی سولی پہ لٹکتے رہنے والا ایک بدنصیب اداکار ہے۔

سنجے دت کی زندگی میں کچھ اہم ترین فیکٹر تھے۔ ماں کا مرنا، نشہ چھوڑنا اور جیل کے پھیرے لگانا۔ سنجو فلم میں یہ سب چیزیں بہترین کور ہوئی ہیں لیکن فلم کے اصل ہیرو تین ہیں اور سنجے دت کہیں ان سے بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ سنیل دت، سنجے کا دوست کملی اور سنجے کا کردار ادا کرنے والا رنبیر کپور۔ سنیل دت ایک ایسا باپ جو ساری زندگی بیٹے کو سدھارنے کی کوشش کرتا رہا، کملیشور جو ہر پریشانی میں سنجے دت کے ساتھ کھڑا رہا اور رنبیر کپور جس نے اپنا کردار ایسی خوبی سے نبھایا کہ بندہ بس حیران ہوتا رہے۔ کسی میڈیا سلیبرٹی کا رول اس لیے بھی مشکل ہوتا ہے کیوں کہ لوگ اس کی ایک ایک حرکت دل پہ لکھے ہوتے ہیں، چال ڈھال، بال، چہرے کے تاثرات، گفتگو میں باڈی مومنٹ، ہر چیز میں رنبیر کپور نے سو بٹا سو کمائے اور یہ واقعی کمال ہے۔ بندہ فلم دیکھنے جاتا ہے تو سنجے دت کا فین ہوتا ہے، باہر نکلتا ہے تو سنیل دت، کملیشور اور رنبیر کپور بھی اس لسٹ میں اپنی جگہ بنا چکے ہوتے ہیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 468 posts and counting.See all posts by husnain