کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟


aasimسوشل میڈیا کی ایک محفل میں دوست اس لطیفے سے لطف اٹھا رہے تھے کہ کسی مغربی یونیورسٹی میں اقبال کی شاعری سے شناسا فلسفے کے ایک پروفیسر صاحب کو خطباتِ اقبال پیش کئے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے۔ اقبال چونکہ ہمارے ہاں ایک مفکر نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی و سماجی مسئلہ ہے جس پر دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں، لہٰذا فریقین بھی دو فکری حلقوں میں تقسیم ہو گئے۔ ہمیشہ کی طرح طرفداران کا حلقہ پوری جذباتیت سے اقبال کے دفاع میں مصروف تھا اور نقاد حضرات یہ ثابت کرنے کے لئےایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے کہ اقبال فلسفی تو کیا کوئی خاص مفکر بھی نہیں۔ ایسے میں راقم کو سید علی عباس جلال پوری کی شدت سے یاد آئی جنہوں نے کئی سال قبل اس درسی بحث کو کسی حد تک ایک حتمی نتیجے پر پہنچا کر کافی کوشش سے یہ ثابت کر دیا تھا کہ اقبال بنیادی طور پر ایک متکلم ہیں نہ کہ سکہ بند فلسفی۔ جلال پوری صاحب ٹھہرے فلسفے کے استاد اور ان کی نثر نگاری کے کرشمے ان کے علم و فضل کا منہ بولتا ثبوت، لیکن ہم طالب علموں کو متکلمین اور اہل فلسفہ کے درمیان ان کی کھینچی گئی حدِ فاصل کافی مبہم نظر آئی۔ سادہ سی وجہ یہ کہ فلاطینوس، سینٹ آنسلم، سینٹ آگسٹائن اور پھر ابن رشد، ابن عربی اور موسی ابن میمون وغیرہ بھی ہم طالبعلموں کے نزدیک تو اہل فلسفہ میں سے ہی ہیں۔ خاکسار کی رائے میں اس قضئیے کو نمٹانے کا یہی ایک طریقہ ہے جتنا جلد ہو سکے ان بے فائدہ اور غیر دلچسپ درسی بحثوں سے اپنا دامن چھڑا لیا جائے۔ ایک سرسری سی نگاہ ڈالی جائے تو اقبال کے وفادار ترین مداح ان کی شاعری ہی کے مداح ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی شدید ترین نقاد بھی اصل میں ان کی شاعری ہی سے خائف ہیں سوائے ایسے حضرات کے جو خود شاعر ہیں اور ان کی تنقید و تعریف مثبت تکنیکی بنیادوں پر استوار ہے۔

ایسے میں ہمیں اقبال کے حوالے سے بطور فلسفی، بطور متکلم یا بطور نظریہ ساز شاعر، اس کا درسی مقام متعین کرنے کی بجائے کچھ اہم نکات پر بحث کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے بنیادی نکتہ شاید یہی ہے کہ کیا ہمیں اقبال کےمطالعۂ نو کی ضرورت ہے اور اس مطالعے سے کون سے فائدے متوقع ہیں؟ ستر سال کی بحثوں، مقالات کی جلدوں، دروس کے سلسلوں اور تنقید و تعریف کے انباروں کے بعد کم از کم اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ اقبال ہمارے لئے مذہب، ملک و ملت اور معاشرے کے ایسے رومانوی تصور کا مسئلہ بن کے رہ گیا ہے جہاں سماج دو خانوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ رومانویت کیا فی نفسہٖ کوئی ایسی ناپسندیدہ تہذیبی و ثقافتی جہت ہے جس کو بیماری سمجھ کر اس سے جان چھڑائی جائے؟یا رومانویت پسندی اور عقلیت پسندی میں ایک توازن کی تلاش کسی بھی مثبت تہذیبی سفر سے عبارت ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ عقلیت پسندی بھی اپنی شدت میں محض ایک رومانوی نرگسیت سے زیادہ کچھ نہیں؟ پھر شاید ہمیں فلسفیانہ رومانویت اور سماجی نرگسیت میں بھی فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ خیر یہ تو کچھ ویسے ہی اٹکل پچو ضمنی سوالات ہیں، اہم بات تو یہ ہے کہ اگر اقبال ہی اس بٹے ہوئے سماج کی استعاراتی سرحد ہے تو کیا اس سرحد کے آر پار ان دو انتہاؤں کو ایک دوسرے میں ضم کردینا یا کم از کم ایک دوسرے کے قریب لے آنا سماجی لحاظ سے کوئی مفید طرزِ فکر نہیں؟

545e07d543ff9ہماری طالب علمانہ رائے یہی ہے کہ اقبال کی فکر پر تنقید اس طرح ہونی چاہئے کہ اسے جذبات کا مسئلہ نہ بنایا جائے اور اس کے مقاصد واضح ہوں۔ اگر تو اقبال کا بُت پاش پاش کرنا مقصود ہے تو وہ شاید فی زمانہ کوئی مفید تنقیدی کام نہیں کیوں کہ اس بُت کی کہاں اس کی اصلی شکل میں پوجا کی جا رہی ہے! یہ اور بات ہے کہ بُتوں کا پاش پاش ہونا یقیناً کچھ مزاجوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہے اور یہ بھی مزاجوں ہی کا تفاوت ہے کہ کونسا تہذیبی حوالہ کس کے لئے معتبر ٹھہرتا ہے۔ جلال پوری صاحب کی روح سے معذرت کے ساتھ، اگر ایک ساعت کے لئے ڈرتے ڈرتے اپنی طالبع لمانہ حد پار کی جائے تو اساتذہ شاید اتفاق کریں گے کہ فلسفیوں کے معاملے میں بھی کچھ مزاجوں ہی کی ہیرپھیر نظر آتی ہے۔ ہمیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی بنیادی طور پر ماورائے عقل کچھ وجدانی مفروضے ہیں جو اپنے سامنے موجود بہت سی راہوں میں سے انتخاب یا کم از کم ترجیح میں مدد دیتے ہیں۔ وہاں تو عقل کی تعریف اور ماہیت کے مسئلے پر ہی ساڑھے تین ہزار سال سے بحث جاری ہے۔ عام دیکھا گیا ہے اہل فلسفہ ان میں سے کئی راہوں پر سفر کرتے ہیں اور کچھ دور چل کر واپس نئی راہ بھی منتخب کرتے ہیں۔ ہر ایک کے ہاں ان گنت نفسیاتی و عقلی وجوہات ہیں اور دلائل کے مختلف درجات پر بات جاری رہتی ہے۔ ایسے میں ہم کم علموں کو تو اقبال کے بحیثیت فلسفی یا بطور متکلم چناؤ کی درسی بحث میں کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا۔ ہاں یہ بات اہم ضرور ہے کہ اس طرح تاریخِ فکر میں اقبال کا مقام جانچنے میں ضرور آسانی ہوتی ہےجو ایک ضمنی سا سوانحی مسئلہ ہے۔

دوسری طرف ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے رومانوی تصور کےساتھ کھڑے اقبال کے ان جذباتی طرفداران پر بھی حیرت ہوتی ہے جو اس بات پر نالاں نظر آتے ہیں کہ انہیں فلسفی نہ مان کر ان کے فکری مقام کی تخفیف کی جا رہی ہے۔ فی نفسہِ فلسفے کی حد تک سچ بات تو یہی ہے کہ مسلم تہذیب میں تفلسف کو کچھ خاص قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔ ازمنۂ وسطی میں غزالی کی فکر ہو یا دورِ حاضر میں شبلی نعمانی کا علم الکلام، اسے فلسفے کی اصل کلاسیکی روایتوں اور جدید مناہج سے تو کچھ خاص علاقہ نہیں۔ الفارابی، ابن سینا، ابن رشد اور پھر ابن عربی تک تقریباً دو سو سال کا کام تو مغربی فکرین کی شروح اور حواشی ہی سے ایک بار پھر جدید قاری کی دسترس میں آیا ہے۔ دوسری طرف غزالی کی اہم کتب کے اردو ترجمے تیسرے درجے کے کتب بازاروں میں بھی دستیاب ہیں۔ مسلم ذہن تاحال مشرق و مغرب کی اس دوئی ہی سے باہر نکلنے کے قابل نہیں ہو سکا جو کچھ مغربی مفکرین کی مشرق سے رومانویت اور استعماری مغرب کے فکری و سماجی جبر کے ردعمل میں وجود میں آئی اور کچھ مشرقی اذہان نے اسے معقول مانتے ہوئے مزید نظریہ بندی کے لئے منتخب کر لیا۔ یہاں بھی اقبال ہمیں اس دوئی سے کافی فاصلے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ جہاں وہ ایک مشرقی روح ہونے سے انکار نہیں کرتا وہیں اس کی یہ بھی کوشش ہے کہ مغرب و مشرق کی اٹل دوئی کے درمیان کچھ مغربی اہلِ فلسفہ وکلام، اہلِ سائنس اور مشرقی حکماء کے کام کو قرآنی وحی سے اخذ کئے گئے مفروضوں کے اثبات میں پیش کر سکے۔ ہماری رائے میں یہ کام ہم جیسے ان اذہان کے لئے بہت ندرت رکھتا ہے جو خدا پر ایمان کو ایک وجدانی مفروضہ مانتے ہوئے اسے اس طرح عقلی بنیادیں فراہم کرنے میں دلچپسی رکھتےہیں کہ نہ صرف مشرق و مغرب کی فلسفیانہ روایات بلکہ تمام ابراہیمی، ہند آریائی اور چینی مذہبی روایات سے استفادہ بھی جاری رہے۔ یہ ایک باخدا آفاقی تہذیب کا رومانوی خواب ہے جہاں اقبال ہمیں جدید زبان میں کچھ نئے اشارے کرتا نظر آتا ہے۔ یقیناً یہ اشارے مبہم ہیں لیکن ان کی معنی خیزی میں کوئی شک نہیں۔ اقبال ہر اس شخص کے دل کے قریب ہے جسے اپنے کشفِ ذات سے باہر جوابات پر کچھ خاص اصرار نہیں اور صرف سوالات میں دلچسپی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رومانوی خواب مشرق و مغرب کے پردۂ چشم میں تمیز نہیں کرتا۔

545e07e0828d3زمانے کا چلن یہ ہے کہ خود کو خالص تعقل پسند ماننے والے ذہن کے آگے مذہبی سماجیات سے جڑے سوالات تو بہت معقول سمجھے جاتے ہیں لیکن مذہبی مفروضوں کا عیاں کرنا ذرا بچگانہ محسوس ہوتا ہے۔ انہی مفروضوں میں ایک اہم مفروضہ یہ ہے کہ یہ تمام کائنات، اس کے اندر انسان کی ہستی اور خارج میں حقیقت مطلق کی تفہیم ایک بامعنی کُل کے طور پر ممکن ہے اور انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اس کے بارے میں کوئی واضح تصور قائم کرے۔ یہاں اقبال کے ساتھ سوالوں کی تپتی زمین پر قدم ملا کر چلنے میں ایک قربانی ناگزیر ہے۔ وہ روایتی تصورِ خدا ہو یا روایتی تصورِ عبدیت، اقبال کے سوالات اس کے مفروضوں سے متفق ہونے والے قاری کو ضرور اپنی جگہ بدلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ مفروضے صریحاً غلط ہوں لیکن ان کو غلط ثابت کرنے کے سفر میں ایک قاری کو نفسیاتی طور پر بھی اپنی راہ سے اس طرح ہٹنا پڑتا ہے کہ اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا۔ ہمارے غیرمذہبی دوستوں کے لئےتو شاید وہ مفروضے ناقابلِ اعتبار ہوں لیکن دوسری طرف روایتی مسلمان کا ایمان بھی ضرور متزلزل ہوتا ہے اور وہ کسی گڑبڑ کے ڈر سے اقبال کے تمام علمی و ادبی کام کو ایک رنگ برنگ پھل دار درخت سمجھ کر اس سے ذائقے اور موقع کی مناسبت سے پھل توڑتا ہے۔ اسی لئے ’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘ اور ’خطاب بہ نوجوانانِ اسلام‘ جیسے میٹھے اشجار سے تو تقریباً سبھی پھل توڑتے پائے جاتے ہیں لیکن ’تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ‘کے تُرش پھل تمام حلق نہیں نگل سکتے۔ سید سلیمان ندوی سے’تشکیل جدید‘ کی بابت منقول ہے کہ

’’مسلمانوں کا اصل انحطاط اور ذلت کی آخری حد یہی ہے کہ انھیں اپنے عروج کے لیے، اپنے آپ کو سنبھالا دینے کے لیے سہارا کہاں سے ملے گا؟ اﷲ سے، اس کے رسول سے، اپنے نظریۂ حیات سے نہیں، بلکہ یورپ کے اصولوں سے، تجربیت سے، سائنس سے، عقلیت سے، معتزلہ سے، نطشے، برگساں کے سپرمین اور وجدان سے۔ یہ پستی کی انتہا ہے۔ اسی لیے علما نے خطبات اقبال مرحوم کی شدید مخالفت کی، کفر کے فتوے بھی دیے گئے۔ یہ اقبال مرحوم کی سب سے بڑی غلطی ہے اور ناقابل معافی غلطی کہ مغرب کی سائنس اور فلسفے کو منہاج حقیقی بنا کر دین کی تعلیمات کو اس پیمانے پر جانچا جائے نہ کہ دین کو اصل، حقیقی اور درست منہاج سمجھ کر مغرب کے فکروسائنس کو اس پیمانے سے جانچا جائے۔ ‘ (بحوالہ: خالد جامعی، ’’جریدہ‘‘، شمارہ ۳۳ /حوالہ بشکریہ اجمل کمال)

یہ سید سلیمان ندوی کی ایک ہم عصر کے طور پر اقبال کی تفہیم ہے اور اس میں آج تک ایک بہت بڑا مذہب پسند طبقہ ان سے متفق ہے۔ ایسے میں کون اتنا دلیر ہے کہ واقعی اقبال سے کم از کم اس کے بنیادی سوالوں اور فلسفیانہ مسائل کے خدوخال تک متفق ہو؟ غیر مذہبی دوست تو خیر ابتداء ہی سے ایک الگ راہ کے مسافر ہیں لیکن ناممکن معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مذہب پسند دوست بھی مستقبل قریب میں اس فکری جست بلکہ روایت سے بغاوت پر خود کو آمادہ کر سکیں۔ یوں اقبال کو کسی خطِ مستقیم پر رکھا جائے تو ایک جانب وہ متنوع غیر مذہبی مفکرین ہیں جو اقبال کے تناقضات کو سرقہ زدہ فلسفیانہ ملغوبہ اور فکری ابہام سمجھتے ہیں اور دوسری جانب سید سلیمان ندوی جیسے علماء و صالحین جو مسلمانوں کے ریوڑ کو فکری صحرا میں بھٹکنے نہیں دینا چاہتے۔ تیسری جانب پھل توڑنے والے بچے ہیں سو بچوں کا کام تو کھانا پینا اور مزے اڑانا ہے۔ وہ بچے طالبان کے بھی ہو سکتے ہیں اور سرکاری اسکولوں میں مطالعہ پاکستان پر پلنے والے بھی۔

545e07e540182ہمارے نزدیک یہاں مسئلہ اقبال سےروایتی الفت یا روایتی بغض کا نہیں بلکہ اس کی مجموعی فکرسےاتفاق یا اختلاف کا ہے۔ تاریخ فکر میں کچھ مخصوص ذاتی رجحانات تاریخی سیاق و سباق سے باہر اپنی خالص فکری اہمیت کھو دیتے ہیں اور یا تو درسی تناظر میں زیرِ بحث آتے ہیں یا پھر منچلے اور غیرسنجیدہ فکری طبائع کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ دونوں جہتوں کی ثقافتی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں اور ہر ایک کو اپنی دلچسپیاں منتخب کرنے کا حق ہے لیکن انہیں کسی علمی تناظر میں قابلِ وقعت سمجھنا ذرا بحث طلب ہے۔ مثال کے طور پر عصرِ حاضر میں سنجیدہ قارئین کے لئے ہائیڈیگر کا وجودی فلسفہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے ہے یا اس کی نازی سیاست؟ آج روسو کا مجموعی فکرو فلسفہ اہم ہے یا اس کے خواتین کی تعلیم کے بارے میں نظریات؟ مخصوص مزاج اور نفسیاتی میلانات ضرور فکر پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن تاریخ کا پہیہ گھوم جانے کے بعد ان کی حیثیت بس سوانحی دلچسپیوں اور شخصیتی خاکوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ وہی خالص فکری مواد بچ رہتا ہے جو اپنے اندر مستقبل کی جانب سفر کے اشارے رکھتا ہو۔ ہماری رائے میں شاید اقبال کی مجموعی فکرمیں بھی بنیادی اہمیت کی حامل وہی جہت ہے جو تصورِ انسان، تصورِ کائنات اورتصورِ خدا کے تین ستونوں پر توازن کی مسلسل تلاش سے عبارت ہے۔ آج ہمیں مطالعۂ اقبال کے حوالے سے صرف یہ سوال اٹھانے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنے اپنے مفروضوں سے کچھ دیر کے لئے دستبردار ہو کر اقبال کی شاعری اور نثر کو ایک مربوط اکائی کے طور پر دیکھتے ہوئے اس کے سوالوں کو اہم مان سکتے ہیں؟ لیکن سوالوں کو مرکزی اہمیت دینے کے لئے جوابات پر اصرار کو پسِ پشت ڈالنا پڑتا ہے، مشرق و مغرب کی دوئی سے نکل کر انفس و آفاق میں جستجو کی کچھ نئی منازل طے کرنے کے لئے کمر کسنا پڑتی ہے، اور انسان کو اس طرح کائنات کا مرکز و محور ماننا پڑتا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ اپنی تقدیر میں شراکت داری کے لئے تصور سازی کے قابل ہو۔ گمان نہیں ہوتا کہ عمومی طور پر برصغیر پاک وہند کی مسلم فکر فی الحال اس دلیرانہ فکری جست کے ساتھ اقبال کے ساتھ کھڑے ہونے کے قابل ہے۔

 مثال کے طور پر انسان کا کائنات پر نظریں جمائے، فولادی ہاتھوں سے فطرت کو قابو میں کرتے ہوئے زمین کو تہہ تیغ کرنا کوئی عام رویہ نہیں جو کسی فطری ارتقاء کا نتیجہ ہو۔ اس کا تعلق سراسر ایک کونیاتی خلطِ مبحث کا نتیجہ ہے۔ تو پھر کیا اس الٰہیاتی مفروضے کو خالص تعقلی بنیادیں فراہم کرنا ممکن ہے کہ انسان کو دوسرے انسان اور کائنات سے غیرمشروط محبت کےلئے ایک خالق کا تصور قائم کرنا ضروری ہے؟ اور اگر ایک یہ فرض کر لیا جائےتو پھر حقیقتِ مطلق کی خلاقیت کے اس تصور کا تجربہ کیوں کر ممکن ہے؟ کیا یہ تجربہ حسی ہو گا یا تعقلی یا پھر ازمنۂ قدیم کے انسان کی طرح سرّی؟ یہ اور اس قسم کے کئی اور سوالات ہیں جن کی بامعنی اور مکمل تشکیل فلسفے، سائنس، مذہب کے سہ جہتی موڑ پر کھڑی ہے اور تینوں چشموں سے ایک ساتھ فیض یاب ہوئے بغیر آگے بڑھنے کے ذرائع معدوم ہیں۔ ان سوالات کو مرتب کرنے میں ہمارے ہاں صرف اقبال ہی ہے جو ہماری مدد کرتا ہے۔ ہاں جوابات کے بارے میں بس یقین سے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ منزل پر ہمارے منتظر ہیں۔

بات ایک مغربی سند سے شروع ہوئی تھی سو مناسب ہے کہ اختتام پر بھی اقبال کے مطالعۂ نو کی ضرورت کے لئے سند مغرب ہی سے لائی جائے۔ یہ مشہور مغربی مفکر چارلس ٹیلر کا ایک مختصر اقتباس ہے جو کولمبیا یونیورسٹی میں افریقہ سے تعلق رکھنے والے فلسفی سلیمان بشیر ڈائگنی کے مطالعہ اقبال Islam and Open Society: The Fidelity and Movement in Iqbal’s Thought کے دیباچے کے طور پر شامل ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے کا ایک چوٹی کا سماجی مفکر اور فلسفی اقبال کو ہمارے ہاں کے عمومی فکری رجحانات کے برعکس کس حد تک وسیع تناظر میں دیکھتا ہے۔

’’ہمیں اقبال کے مطالعۂ نو کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تک تو ہم اسے اس صدی کے آغاز سے اسلامی ’جدیدیت پسندی‘ کی دوسری شخصیتوں کے ساتھ کال کوٹھریوں میں فراموش پڑا تصور کر سکتے تھے۔ لیکن اسے واپس آ نا ہی تھا۔ یقیناً کچھ ایسے جزوقتی ’جدیدیت پسند‘ رجحانات ضرور ہوتے ہیں جو ایک سیکولر روایت کو عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اپنی تخلیق لمحۂ موجود میں کرتے ہیں جہاں زیادہ دیر سانس لینا ان کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ کچھ contentدوسرے فکری رجحانات ایک اہم موڑ سے آغاز کرتے ہیں یعنی واپس مآخذ کی جانب رجوع کرتے ہیں تاکہ یہ دریافت کر سکیں کہ کیسے ایک نادر تاریخی سیاق و سباق میں ان کے ساتھ وفاداری برتی جا سکے۔ اقبال کی فکر اس دوسری جہت سے تعلق رکھتی ہے بلکہ یوں کہیئے کہ اس مخصوص صنف کا ایک طاقتور واقعاتی اظہار ہے۔ اپنے ہزار سالہ سفر میں وہ ان مفکرین اور متون کے مابین ایک مفید مکالمے کی بنیاد رکھتا ہے جو ایک دوسرے سے بہت فاصلے پر کھڑے ہیں: نطشے اور برگساں، حلاج اور رومی، یہ اور کئی دوسرے جنہیں وہ قرآنی مطالعہ ٔ نو کے تناظر میں تجزئیے کے عمل سے گزارتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اب بھی اپنے اپنے مخصوص طریقوں سے مطالعۂ اقبال کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ہم میں سے وہ جو کل برگساں کےقاری تھے اور آج ہائیڈیگر کے مطالعے میں مصروف ہیں، ہم جو کونیاتی زماں کے مکانیات میں ڈھلے معروضی تصور سے ماورا زمانِ دوراں یا تاریخی تناظر کے فہم میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس سارے منظر نامے کو ایک بار پھر اقبال کی پیش کردہ قرآنی ’’تصور تقدیر‘‘ کی نئی تعبیر کی روشنی میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم نطشے کے قارئین اقبال کے ’’فوق البشر‘‘ کے اس نئے فہم سے استفادہ کر سکتے ہیں جب وہ صوفیانہ روایت کے ’انسانِ کامل‘ کے نقشِ قدم پر چلتا ہے۔ یہ تصورات آج کے مغرب میں عصری دلچسپی کے موضوعات ہیں۔

لیکن ہمارے کچھ مشترکہ استدلال بھی ہیں جہاں مغرب، مسلمان اور مشرق اس عظیم مفکر کے مطالعے میں شریک ہو سکتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارا مکالمہ ایک گہرے اور باہمی عدم بھروسے کا شکار ہے۔ اس عدم بھروسے کی جزوی وجہ اپنی شناخت کے بارے میں ہماری اپنی بے یقینی ہے، جو بعض اوقات دوسروں کی نظروں کے زیرِ اثر ایک عدم تحفظ میں بدل جاتی ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو ایک مخصوص حد سے بڑھی ہوئی خوداعتمادی کی جانب لے جاتا ہے، ہمیں ایک اٹل اور ساکت (جامد) شناخت کے کھونٹے سے باندھ دیتا ہے اور ’غیر‘ کو بدی کی تجسیم تصور کرتے ہوئے اس کے شدید رد پر آمادہ کرتا ہے۔ دوسرے کی روایت میں موجود حوالوں کی مدد سے اپنی دریافت اور تعریف ناممکن ٹھہرتی ہے اور غداری بن جاتی ہے۔ لیکن ہم سب کو اپنی تعریفِ نو کی ضرورت ہے اور اس نئی ذات کی دریافت کے سفر میں ایک دوسرے سے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے منجمد اور عدم تحفظ سے بھرپور تعلقات ہر ایک کے لئے تباہ کن ہیں۔

شک اور غصے کے اس ماحول میں اقبال کی آواز نہ صرف جذبات سے بھرپور بلکہ فرحت بخش ہے۔ یہ ایک ایسی روح کا نغمہ ہے جو قرآنی وحی کی گہرائی میں لنگر انداز ہے اور ٹھیک اسی وجہ سے دوسری تمام آوازوں کے لئے اپنا روزنِ سماعت کھلا رکھتے ہوئے ان میں اپنی صدا کی بازگشت دریافت کرنے میں مشغول ہے۔ یہ ایک ایسے انسان کی صدا ہے جو شناخت کی تمام ٹھوس دیواریں اپنے پیچھے چھوڑ آیا ہے اور قبیلے اور ذات پات کے تمام بتوں کو پاش پاش کر کے تمام دوسرے انسانوں سے محوِ گفتگو ہے۔ لیکن یہ ایک ناخوشگوار واقعہ ہے کہ یہ آواز ایک طرف تو اسلامی جدیدیت کی عمومی فراموشی اور دوسری طرف خود اسی ملک میں دفن کر دی گئی جس کا تصور قبل از قیام اُسی کا مرہونِ منت ہے، جس کی سیاسی، مذہبی اور فوجی اٹل پسندی اس مفکر کی فکر کا مستقل رد ہے۔ لیکن بہرحال ہم سب کو ایک بار پھر اقبال کی سننے کی ضرورت ہے، ہم سب یعنی مغرب کے شہری، مسلمان اور اُس کے آبائی ملک ہندوستان کے باسی جہاں ہندو عصبیت کا ایک ایسا قہر منڈلا رہا ہے جو اُس کے بدترین خدشات سے بھی زیادہ ہے۔

سلیمان بشیر نے اس آواز کو ایک بار پھر واضح اور مدلل انداز میں ہم تک پہنچا کر ایک عظیم احسان کیا ہے۔ اس مختصر سی کتاب نے فکرِ اقبال کو اپنی اصل میں ایک کلیت کے ساتھ پیش کرنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا ہے، تاکہ ہم ایک بار پھر وہ تجزیاتی کشمکش ملاحظہ کر سکیں جو اس کی فکر سلجھانے کی کوشش کرتی ہے: انسان سے خدا، بندھن سے حرکت، فلسفے سے حقیقت کے احساس اورآفاقیت سے ارضیت تک کی کشمکش۔ ‘‘ (ترجمہ : عاصم بخشی)


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 48 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

4 thoughts on “کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

  • 05-05-2016 at 6:54 pm
    Permalink

    Aasem Bakhshi Sahib, Zindabad……

    • 06-05-2016 at 8:16 am
      Permalink

      بہت نوازش اختر صاحب۔

  • 06-05-2016 at 11:04 pm
    Permalink

    عاصم بخشی صاحب آپ نے دلچسپ موضوع چھیڑا ہے.
    میری ادنی راۓ میں بحث اس چیز پر نہیں ہونی چاہیے کہ اقبال فلسفی ہیں یا متکلم.
    فلسفی، مذھب کو استعمال میں لاۓ یا نہ لاۓ بغیر اپنے افکار کی تشریح کر تا ہے.
    متکلم، فلسفے کو استعمال میں لاۓ یا نہ لاۓ بغیر مذہبی افکار کی تشریح کرتا ہے.
    ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اقبال مذھب کو استعمال کرتے رہے یا فلسفے کو؟ یا دونوں کو؟
    کون سی چیز اقبال کی شاعری سے قدرے سہل جدا ہو سکتی ہے؟ مذھب یا فلسفہ؟
    یا ایسا ہے کہ اقبال کی فکر فلسفے اور مذھب کے درمیان ایک کمپرومائز ہے: یعنی اقبال فلسفی بھی ہیں اور متکلم بھی.
    سو بحث اس چیز پر ہو سکتی ہے کہ اقبال زیادہ کیا ہیں: فلسفی یا متکلم؟

  • 07-05-2016 at 8:36 pm
    Permalink

    Aasim Sahab bahut shandar mazmoon hay lakin jo kuch Khalid Jami waghaira nay Sulaiman Nadvi say mansoib kia hay wo bhe mashkook hay agar chay Nadvi Sahab k khayalat isi tarah k hain.Aap ka mazmoon sochnay ke taraf hasb e sabiq mail bhe karta hay aur kuch nunyadi sawal bhe uthata hay.Zor e qala aur ziada

Comments are closed.