اجے چھہتر کلومیٹر ہور۔۔ اور تتو کا تارڑ !


waqar ahmad malikبرسین سے چلاس تک کا سفر مریخ کا سفر ہے۔ سبزہ ختم ہو جاتا ہے۔ آدم زاد کم نظر آتا ہے، نظر آتا ہے تو ٹرک چلاتا ہی نظر آتا ہے۔

پہاڑ ایک دوسرے کی ضد میں بلند سے بلند تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ سڑک کے دونوں اطراف تنگ اور تاریک گھاٹیوں میں صاف شفاف نالے نمودار ہوتے ہیں۔ یہ گھاٹیاں کسی بھی مہم جو سیاح کو پاگل کرنے کے لیے کافی ہیں کہ کیوں نہ ان گھاٹیوں میں سفر کر کے دیکھا جائے اور یقینا ان گھاٹیوں اور تنگ و تاریک دروں میں ایسے مقام ہوں گے کہ جہاں کسی بھی انسان کا پہلا قدم پڑے گا۔ ان گھاٹیوں اور دروں میں سفر کرنے والوں کو لاکھوں سال قبل کا ماحول مل سکتا ہے۔

 فطرت اپنے جوبن پر نظر آ سکتی ہے۔ کوہستان بہت کمال سر زمین ہے۔

برسین سے چلاس تک بھلے سفر مریخ کا ہو، لیکن ایک فرق ہے اور حسین فرق ہے کہ سمر نالہ صرف زمین پر ہی ہے۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر اللہ میاں سمر نالہ نہ بناتے تو کیا ہوتا؟

13128648_10154265408218578_1001443917_oبہت سے لوگ سفر کی تاب نہ لا پاتے۔

صحراﺅں میں دور نخلستان کی پہلی جھلک کیا خوشی دیتی ہو گی جو قراقرم ہائی وے کا ایک موڑ مڑنے پر اچانک کچھ تعمیرات اور سمر نالہ کے پانی خوشی دیتے ہیں۔

سمر نالہ میں ایسا کیا ہے؟ سمر نالہ کس جہاں کا نام ہے؟

تپتے پہاڑوں میں گھنٹوں سفر کے بعد جھاگ اڑاتے شفاف ٹھنڈے پانیوں کی چہروں پر پڑتی پھوار کا نام سمر نالہ ہے۔

چارپائیوں پر دراز چاروں جانب بلند پہاڑوں میں اپنے آپ کو ایک پیالے میں محسوس کرنے کا نام سمر نالہ ہے۔

اپنے گھر اور گلی کا نمبر بھولنے کا نام سمر نالہ ہے۔

13181033_10154265407973578_228774149_nآپ لوبیہ اور چکن کا آرڈر دیتے ہیں اور ساتھ ازراہ محبت بھنڈی، گوشت، چنے اور تازہ سلاد کے مفت آجانے کا نام سمر نالہ ہے۔

دن کے وقت بھی سیکڑوں برقی قمقموں کے جلتے رہنے کا نام سمر نالہ ہے کہ اپنی ٹربائن ہے بجلی مفت ہے۔

ٹھنڈے پانی کے حوض میں تیرتے تربوزوں کا نام سمر نالہ ہے۔

ہر حوض کے اطراف چھ لگاتار بہنے والے نلوں کا نام سمر نالہ ہے۔

خدمت کرتے ہوٹلوں کے ملازمین، آپ کو دیکھ کر مسکراتے ہیں، ایسی مسکراہٹ کا نام سمر نالہ ہے۔

سمر نالہ سے جیسے ہی آپ چلاس کے لیے نکلتے ہیں تو سڑک کنارے سنگ میل پر نظر پڑتی ہے جس پر چلاس 76 کلومیٹر لکھا ہوتا ہے۔ یہ اطلاع گولی کی طرح لگتی 13152761_10154265407343578_1544972939_nہے اور فی البدیہہ روہانسے لہجے میں چار لفظ زبان سے نکلتے ہیں اور آواز کی لہریں آپ کے اپنے کانوں تک ہی بمشکل پہنچتی ہیں۔ یہ چار لفظ ہوتے ہیں۔

”اجے چھہتر کلومیٹر ہور“

سمر نالہ کے بعد پہاڑوں اور دریا کے ساتھ واحد انسانی تعمیر سڑک آپ کو احساس دلاتی ہے کہ آپ کا تعلق کس نوع سے ہے۔

 شتیال کا گاﺅں بہت ہی حیرت انگیز بستی ہے۔ آس پاس کے علاقوں کے ٹانواں ٹانواں مکینوں کے لیے شتیال بازار، فورٹریس سٹیڈیم یا لبرٹی مارکیٹ سے کم نہیں لیکن حقیقت میں سڑک کے دونوں جانب بیس لکڑی سے بنی ڈبہ نما دکانوں کا نام شتیال ہے۔ ان دکانوں میں ایک دکان گوشت کی ہے، تین چار دکانیں کپڑوں کی ہیں، ایک یا دو نسوار کی دکانیں ہیں اور بازار عبور کرتے ہی ایک نالہ بہہ رہا ہے جہاں ایک چھوٹا سا ہوٹل بھی ہے جس کے اثاثہ جات میں فرنیچر بھی شامل ہے جو پانچ چارپائیوں پر مشتمل ہے۔ رہے نام اللہ کا

شمال کے دورافتادہ علاقوں میں دکان کیا ہوتی ہے یہ شہری دماغ کے تخیل میں آنا ذرا مشکل ہے لیکن ایک واقعہ یاد آ رہا ہے شاید اس سے دکان کی شکل واضح ہو۔

13115330_10154265406668578_2003349828_nایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رائے کوٹ پل سے تتو گاﺅں تک کوہ پیمائی کرنی تھی۔ اب یہ ایک جیپ ٹریک ہے جو ڈیڑھ گھنٹہ میں آپ کو تتو پہنچا دیتا ہے لیکن پیدل یہ سفر پورے دن کا تھا۔ اس سفر میں پانی اور سایہ نام کی کوئی چیز نہیں۔ پانی کا ذخیرہ ختم ہونے کی صورت میں موت واقع ہو سکتی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب نے یہ سفر پیدل ہی کیا ہوا ہے۔ تارڑ صاحب نے ساتھ ایک گدھا لے لیا تھا۔ اور اس گدھے کے سائے میں سفر کرتے رہے تھے۔

 تتو وہی گاﺅں ہے جہاں کی عورتیں رنگین کپڑے پہننے سے احتراز کرتی تھیں کہ کہیں حسد میں آکر نانگا پربت کی پریا ں ان کو نقصان نہ پہنچا دیں۔

جب میں نے یہ سفر کیا تھا تو پانی کے ذخیرہ کا صحیح اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے آدھے راستے میں ہی دوست بے ہوش ہونا شروع ہوئے خیر بہت ہی تلخ یاد ہے، تفصیل سے پھر کبھی سہی، یہاں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں میں سب کو چھوڑ کر بھاگا تاکہ پانی کا بندوبست کروں اور مقامی گاﺅں والوں کو بھیجوں تاکہ یہ قیمتی زندگیاں بچائی جا سکیں۔ پانی وغیرہ جب پیچھے آتے دوستوں تک پہنچ گیا تو سوچا کہ کھانے پینے کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ خریداری کر لی جائے۔ دکان کا پوچھا تو معلوم ہوا تتو میں ایک ہی دکان ہے۔ فورا دکان ڈھونڈی۔ دکان میں داخل ہوا اور تقریبا مبلغ چار سو روپوں میں ساری دکان خرید لی۔

 13162118_10154265407643578_1374995162_nپہلی دفعہ اپنی بھیانک امارت کا احساس ہوا۔ یہ بیان کرنے سے قاصر ہوں کہ دکاندار کے کیا تاثرات تھے کہ جب ایک ہی گاہک نے چند ثانیوں میں اس کی ساری دکان خرید لی تھی، تین روپے والے لیمن بسکٹ کے سارے ڈبے، تمام ٹافیاں حتیٰ کہ ٹینڈر اور کے ٹو سگریٹ کی دس کی دس ڈبیاں۔۔۔

تو شتیال کی دکانیں بھی کچھ ایسی ہی ہیں۔

پھر آپ سر زمین گلگت بلتستان میں داخل ہوتے ہیں۔ ایک ایسی سرزمین کہ جس کے دیدار کے لیے زمین کے سب کونوں، نکڑوں سے سیاح سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔

 موسم صاف ہو تو نانگا پربت دکھائی دیتا ہے اور بالکل صاف اور واضح دکھائی دیتا ہے۔

13162564_10154265406678578_1468517986_n آپ کہساروں سے بلند پہاڑوں کی جانب جاتے ہیں تو بلند پہاڑوں کی سرزمین گلگت بلتستان میں نانگا پربت وہ پہلا دیو ہے جو نظر آتا ہے۔

شتیال سے چلاس تک ویرانی سی ویرانی ہے۔ پتھروں کا رنگ کالا سیاہ ہے جیسے دھوپ میں جھلس گئے ہوں۔

 یہاں آپ کی ملاقات آپ کے اپنے ساتھ ہونے کے امکانات وسیع ہیں۔

 شتیال سے چلاس کے درمیان علاقے میں انسان اگر خیمہ زن ہو اور پندرہ دن تک اکیلا خیمہ زن رہے اور کہے کہ خدا نہیں ملا تو ہو سکتا ہے پھر نہ ہی ہو۔

یہاں کے بارے میں ہی تارڑ صاحب نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ایک ایسی ویرانی ہے جہاں محاورتاً نہیں بلکہ حقیقت میں آپ خاموشی سن سکتے ہیں۔

انسانوں کی بنائی تعمیرات جن میں بلند مینار اور دور سے نظر آنے والی عمارتیں شامل ہیں کا کردار بہت کمال رہا ہے۔

 مہینوں مسافت کرنے والے مسافروں کے دلوں کو ان تعمیرات کی جھلک نے کمال خوشیوں سے نوازا۔

13161108_10154265408183578_1957966992_oجب بھی ایسی تعمیرات وغیرہ کی فہرست بنائی جائے گی تو چلاس کا نیلا بورڈ اس میں ضرور شامل ہو گا۔

چلاس کا نیلا بورڈ جو ایک سنگ میل ہے اور چلاس آنے کی پہلی اطلاع ہے۔ جب گرمی سے آنکھیں ابل رہی ہوتی ہیں اور چٹانوں کے گہرے خاکی اور کالے رنگ کے علاوہ گھنٹوں کوئی اور رنگ دکھائی نہیں دیتا تو ایسے وقت میں نیلا بورڈ کیا خوشی دیتا ہے واقفان شمال جانتے ہیں۔

یہ نیلا بورڈ اطلاع ہے کچھ دکانوں کی جہاں ٹھنڈی ٹھار بوتلیں ہیں۔ بسکٹ ہیں، خشک میوا جات ہیں، بریانی کی ایک دکان ہے، ہوٹلز ہیں جن کے خوبصورت لان ہیں، کمروں میں کولر ہیں جن کی ہواﺅں میں ننھے پانی کے قطرے ہیں۔

یہ نیلا بورڈ واش رومز کے آنے کی اطلاع ہے۔ تہذیبی جمالیات کو چاہے ناگوار گزرے لیکن ہائے واش روم کتنی بڑی نعمت ہے ان سے پوچھیے جو اس نیلے بورڈ کے آنے سے آٹھ گھنٹے پہلے داسو کے واش روم میں گئے تھے۔ اور اب کہیں واش روم جانے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

یہ سب بھی جمالیات ہے۔

سلام ہو چلاس پر اور اس کے نیلے بورڈ پر۔

(دیکھئے مستنصر حسین تارڑ کو، سمر نالہ میں گھو متے پھرتے اس ویڈیو میں)

 


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 64 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

2 thoughts on “اجے چھہتر کلومیٹر ہور۔۔ اور تتو کا تارڑ !

  • 05-05-2016 at 11:02 pm
    Permalink

    Kitan intezar tha ‘Waqar’ key post ka. Kamal kur dia.

  • 06-05-2016 at 6:45 pm
    Permalink

    جب میں نے یہ سفر کیا تھا تو پانی کے ذخیرہ کا صحیح اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے آدھے راستے میں ہی دوست بے ہوش ہونا شروع ہوئے خیر بہت ہی تلخ یاد ہے، تفصیل سے پھر کبھی سہی، یہاں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں میں سب کو چھوڑ کر بھاگا تاکہ پانی کا بندوبست کروں اور مقامی گاﺅں والوں کو بھیجوں تاکہ یہ قیمتی زندگیاں بچائی جا سکیں۔ پانی وغیرہ جب پیچھے آتے دوستوں تک پہنچ گیا تو سوچا کہ کھانے پینے کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ خریداری کر لی جائے۔ دکان کا پوچھا تو معلوم ہوا تتو میں ایک ہی دکان ہے۔ فورا دکان ڈھونڈی۔ دکان میں داخل ہوا اور تقریبا مبلغ چار سو روپوں میں ساری دکان خرید لی۔
    واہ کیا کمال کا احساس ہوتا ہوگا۔۔

Comments are closed.