سر رچرڈ ایچرلے – پاکستان فضائیہ کے دوسرے سربراہ


اپنی شاندار حسِ مزاح اور مرچ مسالے سے بھرپور زبان (فلاوری لینگوئج) کی وجہ سے پاک فضائیہ کے ا ولین افسروں اور جوانوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والےزندہ دل افسر، سر رچرڈ ایچرلے کی شخصیت کا ہر پہلو یادگار رہا جس پر پاک فضائیہ اُنہیں ہمیشہ یاد رکھے گی!

قیامِ پاکستان کے بعد تینوں مسلح افواج کی کمان انگریز کمانڈروں کو دینا پڑی کہ ہمارے پاس اعلیٰ کمان کا تجربہ رکھنے والے مسلمان، مقامی افسران نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک آرمی پر دو، پاک بحریہ پر ایک اور پاک فضائیہ پر چار انگریز کمانڈروں نے کمان کی۔ فضائیہ اسی انفرادیت کی وجہ سے زیادہ عرصے تک اُس مخلوط کلچر کی علمبردار رہی جس میں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سامنے مذہب اور نسل کی وابستگیاں کوئی اہمیت نہ رکھتی تھیں۔اگرچہ پاک فضائیہ میں انگریز اور پولش افسران کی تعداد باقی دونوں افواج سے ذیادہ رہی اور ان میں ہر افسر اپنی ذات میں ایک انجمن تھا لیکن پاک فضائیہ کے دوسرے سربراہ، ائر وائس مارشل سر رچرڈ ایچرلے ایک انتہائی دلچسپ اور یادگار شخصیت کے طور پر پاکستانی تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔

رچرڈ لیولین روجر ایچرلے 12 جنوری 1904 کو انگلستان کے شہر یارک  میں ایک فوجی افسر، میجر جنرل سر لیولین ایچرلے کے ہاں جڑواں پیدا ہونے والے دو بیٹوں میں سے ایک تھے۔اُن کی والدہ کا نام ایلینور فرانسس تھا جنہیں ’نَیلی‘ کے عرفی نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ ایچرلے کا گھرانا قدیم فوجی روایات کا حامل تھا جس وجہ سے یہ دونوں جڑواں بھائی بھی فوجی ہی بنے۔ رچرڈ ایچرلے کے جڑواں بھائی ڈیوڈ  بعد میں ائروائس مارشل سر ڈیوڈ ایچرلے کے نام سے معروف ہوئے اور ۱۹۵۱ میں بحیرۂ روم پر فلائینگ کے دوران مارے گئے۔

رچرڈ ایچرلے نے 1922 میں رائل ائرفورس کالج کرونویل میں شمولیت اختیار کی اور 1924 میں وہاں سے بطور پائلٹ فارغ التحصیل ہوئے۔ اُن کی پہلی تعیناتی 29 اسکواڈرن میں ہوئی جہاں اُنہوں نے ہوابازی کا مشہور انعام ’شنائیڈر ٹرافی‘ بھی جیتا اور انسٹرکٹر پائلٹ بھی رہے۔

دوسری جنگِ عظیم میں وہ ناروے، اسکاٹ لینڈ، لیبیا (صحرائے افریقہ) اور فرانس میں مختلف عہدوں پر فائز رہے اور فضائیہ کا تمغہ ’ائر فورس کراس‘ دو دفعہ حاصل کیا۔ جنگ کے بعد رائل ائر فورس کالج کرونویل کے کمانڈنٹ بنے اور 1949 میں انہیں رائل پاکستان ائر فورس (پاک فضائیہ) کا کمانڈر ان چیف منتخب کیا گیا۔ یہ عہدہ اب ’چیف آف ائر اسٹاف‘ کہلاتا ہے۔

پاک فضائیہ کے ابتدائی ایام میں اس کمزور سی فضائیہ کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں سر رچرڈ ایچرلے کی خدمات نہ صرف قیمتی ہیں بلکہ مثالی بھی ہیں۔ پھر ان کی حسِ مزاح، گفتگو میں ’پُھلجھڑیاں‘ چھوڑنے کی عادت جسے صرف فوجی کلچر ہی ’ہضم‘ کر سکتا ہے اور کسی حد تک شریر طبیعت نے ہماری فضائیہ کی تاریخ میں ایک دلچسپ باب کا اضافہ کیا اور وہ باب تھا، ’ایچرلے  کا زمانہ‘!

ایچرلے کی شریر طبیعت کا اظہار اُن کی سروس کے آغاز میں ہی ہو گیا تھا۔ مثلاً جب کرونویل کالج سے پاسنگ آؤٹ کے موقع پر اُن کے تمام کورس کا گروپ فوٹو لیا جانے لگا تو ایچرلے نے ایک ’تخلیقی‘ سی شرارت کی۔ اُس زمانے میں گروپ فوٹو لینے کیلئے تمام گروپ کے تین فوٹو لئے جاتے تھے، یعنی ایک دائیں حصے سے، ایک بائیں حصے سے اور ایک درمیان سے۔ پھر ڈویلپ کرنے کے عمل میں انہیں کمال مہارت سے جوڑ کر ایک فوٹو بنا لیا جاتا تھا۔ جب ایچرلے  کے1922-24 کورس کا گروپ فوٹو ڈویلپ ہو کر آیا تو اس کے افسرانِ بالا نے دیکھا کہ گروپ میں تین ’ایچرلے‘ کھڑے تھے۔ ایچرلے  کو لعن طعن تو ہوئی لیکن افسران یہ جان کر ہنسے بغیر نہ رہ سکے کہ جب دائیں جانب سے فوٹو کھنچ چکا تھا تو ایچرلے خموشی سے کھسک کر درمیان میں آگیا تھا اور پھر درمیانی حصے کا فوٹو کھنچ جانے کے بعد بائیں جانب کھسک گیا تھا جس سے اس گروپ فوٹو میں ’تین ایچرلے‘ محفوظ ہو گئے۔

اسی لا اُبالی اور کھلنڈرے مزاج کی وجہ سے ایچرلے  نے نو عمری میں ہی ایک دفعہ اپنا ائر فورس کیرئیر قریب قریب ختم ہی کر لیا تھا۔ لیکن قدرت کو اُس کا ائر چیف بننا منظور تھا۔ نو جوان ایچرلے  ایک دفعہ جب سمندر پر پرواز کر رہا تھا تو اُسے رائل نیوی کا ایک بحری بیڑہ نظر آیا ۔ اُس نے فوراً پہچان لیا کہ اس جہاز پر تو اُس کا ایک بہترین دوست بھی تعینات تھا۔ کھلنڈرے افسر ایچرلے کی طبیعت لہرائی اور دوست سے ملنے کی غرض سے اُس نے اپنا طیارہ اُسی بحری بیڑے کے عرشے پر بنے مختصر سے رن وے پر پٹخ دیا۔ طیارہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا حالانکہ جہاز کے ’برِج‘ سے اُسے بار بار ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ ایچرلے  بھی بخوبی جانتا تھا کہ فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کا بحری بیڑے پر لینڈ کرنا فقط ایک حماقت ہے لیکن دوست سے ملاقات پر جو طبیعت لہرائی تھی، یہ کرتب بھی کر دیکھا۔ ایچرلے کو اس حرکت پر کورٹ مارشل اور سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا لیکن نوکری سے نکالے جانے سے بچ گیا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں