آئیے آپ کو زندہ جلا ڈالیں


husnain jamal (3)

انتہائی متانت اور وضع داری سے بات کرتے ہوئے میزبان لڑکے کو عقل و خرد کی خود ساختہ کرسی پر بیٹھ کر غصے میں ہکلاتے ہوئے جھاڑ پلانے والے دانشور کبھی عنبرین کے بارے میں بات نہیں کریں گے۔ یہ ان کا مسئلہ ہرگز نہیں ہے۔ یہ واہیات مرض صرف ان لوگوں کو لاحق ہے جو کسی بھی ظلم اور زیادتی کی صورت میں صرف اور صرف انسانیت کے رشتے سے بات کرتے ہیں۔ وہ دانشور ابھی ذہنی طور پر اس قدر بھی بالغ نہیں ہوئے کہ خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت دے سکیں۔

ان کا مسئلہ ان کا دماغ ہے کہ جس میں یہ بات بسیرا کر چکی ہے کہ خواتین بچے پیدا کرنے کے لیے اور پھر ان بچوں کو دودھ پلانے کے لیے اتاری گئی ہیں۔ ان کا دماغ عورت کو نہ بازار جانے کی اجازت دیتا ہے نہ کسی سیاسی جلسے میں، بلکہ ان کے فرمودات کی روشنی میں ملک کی پچاس فی صد آبادی صرف اور صرف گھر کا چراغ بننے کے لائق ہے اور باقی پچاس فی صد ان کی حفاظت کے لیے درشنی پہلوان بننے لائق۔

غصے میں تلملا کر اور پہلو بدل بدل کر جب وہ کہتے ہیں کہ ’مرد کس لیے ہے؟‘ تو ان کے لہجے میں چھپا صدیوں کا نسلی تفاخر اور غصہ ابل ابل کر باہر آتا ہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر عورت ایسی ہی قابل نفرت مخلوق ہے تو ظالمو اسے پیدا ہوتے ہی مار دو۔ اسے تمام عمر پال کر اس بات کا احساس دلانا کہ تو وہ مخلوق ہے جو صرف دودھ پلانے اور نسل آگے بڑھانے کے لیے کارگر ہے، اور اسے سات ڈبوں میں میں بند کر کے رکھنا کہاں کی انسانیت ہے؟ یہی سوچ ہمارے معاشرے کا وہ ناسور بن چکی ہے جس کا شکار عنبرین، سمیرا اور ہماری ہر وہ بہن، ہر وہ بیٹی ہوتی ہے جسے ونی، کاری اور چھتیس دوسرے طریقوں سے مارا جاتا ہے۔

ایبٹ آباد کے نواحی گاؤں کی رہنے والی مظلوم عنبرین کے باپ کا مطالبہ سن لیجیے، ’جیسے میری بیٹی کو جلایا گیا ہے ویسے ہی ان ملزموں کو جلایا جائے‘۔ اس باپ کے درد کا اندازہ کیجیے۔ جو پڑھنے والا صاحب اولاد ہے، خدارا اس درد کو محسوس کرے، جس باپ کی بیٹی اس کی آنکھوں کے سامنے زندہ جلا دی جاتی ہے وہ یہ بیان دیتے ہوئے کتنی بار مرتا ہو گا۔ غربت شاید اس کا سب سے بڑا قصور ہے اور یہی غربت اس بے چارے کو اس قابل بنا گئی ہے کہ وہ اب تک زندہ ہے۔ ہمارے ملک کے کسی بھی دور دراز گاؤں میں رہنے والے کمی کمین باسیوں کی بھیانک غربت اور لاچاری کا اندازہ اے سی کمروں میں بیٹھ کر یہ تحریر پڑھنے والے بھائیوں کو زندگی میں کبھی نہیں ہو سکتا۔ جس انسان کا بنیادی مسئلہ خوراک کی فراہمی ہو وہ غریب دنیا کی تمام ناانصافیاں بھول جاتا ہے صرف روٹی کے چکر میں۔ وہ ہر روز بے عزتی کی زندگی جیتا ہے، لوگوں کی ٹھوکروں پر زندہ رہتا ہے، جانوروں سے بدتر یہ زندگی اسے یہ سکھا جاتی ہے کہ بیٹی مر جائے تو بھی کیسے زندہ رہنا ہے۔ سندھ کی زینب بھیو کے ساتھ جب ۲۰۱۰ میں قائم خانی لڑکوں نے زیادتی کی تھی تو اس کا باپ بھی زندہ تھا، بیان دیتا جاتا تھا، سفید ڈاڑھی آنسوؤں میں تر رہتی تھی اور ہچکیوں میں بولتا چلا جاتا تھا، آنکھیں بے نور لگتی تھیں لیکن وہ کہیں دیکھتا تھا اور بات کیے جاتا تھا، وہ بے چارہ بھی اب تک زندہ ہوگا، یا غربت تیرا ہی آسرا!

عنبرین کا قصور یہ تھا کہ اس نے اپنی سہیلی صائمہ کی مدد کی، اپنی پسند کی شادی کرنے میں اور اپنے علاقے سے محفوظ مقام پر منتقلی میں۔ اب چوں کہ صائمہ ان غنڈوں کے ہاتھ سے نکل چکی تھی تو بدبودار غلیظ ذہنوں کا ایک جرگہ بیٹھا اور اس جرگے نے عنبرین کا زندہ جلا دینے کا حکم سنا دیا۔ عنبرین کی ماں نے چپ چاپ اپنی بیٹی ان جانوروں کے آگے ڈال دی جن کے منہ کو خون لگا ہوا تھا۔ عنبرین کی ماں بھی دیگر ملزمان کے ساتھ گرفتار ہوئی ہے، لسے دا کی زور محمد، جینا یا مر جانا (کمزور کا کیا زور) ! گرفتار کرنے والوں کے ساتھ بھی وہ اسی خاموشی سے روانہ ہو گئی ہو گی جیسے بیٹی کو ان لوگوں کے ساتھ روانہ کیا تھا۔ اپنی کوکھ سے پیدا کرنے والی کتنی لاچار اور کیسی بے بس ہو گی صرف لمحہ بھر کو سوچیے اور پھر نام نہاد مذہبی ٹھیکے دار دانشور کا وہ فرمودہ دیکھیے جس میں وہ راوی ہیں کہ کتیا بھیڑیوں سے بچوں کی حفاظت کرتی ہے اور کتا گاؤں گاؤں کی خاک روزی کے لیے چھانتا ہے۔ صنف نازک کے حق میں ایسی اسفل مثال انہیں کا حصہ ہے، اور اسی سوچ کے نتیجے میں عنبرین کی ماں ایک جانور جتنی ہمت بھی نہ رکھ پائی کہ ان بھیڑیوں سے اپنی بیٹی کو بچا سکے۔ ایسی ضعیفی، ایسی لاچاری!

عورتوں کے خلاف مظالم میں جرگے سرفہرست ہیں، سوال یہ ہے کہ حکومت ملکی عدالتوں کے متوازی چلتے اس واہیات نظام پر پابندی کیوں نہیں لاگو کرتی؟ صدیوں پرانا جاگیرداری اور سرداری نظام اکیسویں صدی کے جمہوری ملک میں تعفن کیوں پھیلا رہا ہے؟ ہر جرگے کے پیچھے بڑے بڑے نام ہوتے ہیں اور وہ نام اس جرگے کا استعمال اپنے تمام مخالفین کو رگیدنے کی خاطر کرتے ہیں۔ جرگہ ایک مسلسل ظلم اور جبر ہے جو قیام پاکستان سے آج تک مسلط چلا آ رہا ہے، یعنی چند بدعنوان اور جاہل لوگ مل کر عام لوگوں کی تقدیر کا حسب منشا فیصلہ کریں اور عدالت عالیہ کو نظر انداز کر دیا جائے، قوانین کی دھجیاں بکھیر دی جائیں، کمال ہے!

ایک لمحے کو تصور کیجیے کہ آپ عنبرین ہیں۔ بھول جائیے کہ آپ کے کچھ خواب ہیں، کچھ امنگیں ہیں، صرف وہ لمحہ دھیان میں لائیے جب آپ کو ان درندوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ آپ اپنی ماں کو کن آنکھوں سے دیکھیں گی؟ اپنے باپ سے کیا فریادیں کریں گی؟ پھر آپ کو نشہ آور دوا پلائی جاتی ہے اور آدھے ہوش، آدھی بے ہوشی میں آپ کو باندھ کر جلایا جاتا ہے، کبھی شاور میں اچانک کھولتا پانی آ جائے تو کیسے بلبلا کر جسم بچایا جاتا ہے؟ اب جو پورے جسم پر آگ لگی ہو تو کیا محسوس ہو گا؟ اذیت، لامتناہی تکلیف، شدید درد اور دماغ میں اور زبان پر خدا سے مدد کی درخواست جو زمینی خداؤں کے کانوں تک نہ کبھی گئی اور نہ جائے گی، اس طرح جلنا مقدر ہو گا!

اس وحشت ناک جہالت سے نکلنے کا وقت اب بھی ہے، صرف ہمت کیجیے۔ مذہب کے ان جاہل ٹھیکیداروں کو مسترد کیجیے، ذہن کو کشادہ رکھیں، بیٹیوں کو اور بہنوں کو اگر وہ پیدا کر لی گئی ہیں تو معاشرے کا مفید اور کار آمد شہری بنائیے۔ انہیں ان کی پسند کی شادی کا حق تو مذہب بھی دیتا ہے، ان کے اس حق کو کم ازکم کھلے ذہن سے تسلیم کیجیے، ان کے آنے جانے پر پابندیاں مت لگائیے۔ دنیا سمٹ چکی ہے، انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی کی صورت میں ہماری بیٹیوں ہماری بہنوں کے پاس وہ تمام علم ہے جو ہمارے پاس شاید آج بھی نا ہو، وہ اپنا اچھا برا بہت خوب سمجھتی ہیں، ان کی راہ نمائی ضرور کیجیے لیکن ان کو ایک جان دار مخلوق سمجھ کر، اپنا خون سمجھ کر، اپنا حصہ سمجھ کر ان کے حقوق بھی دیجیے۔ ایک بیٹی دس بیٹوں سے زیادہ محبت کرنے والی اور سمجھدار ہوتی ہے کبھی آزما کر تو دیکھیے۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 148 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “آئیے آپ کو زندہ جلا ڈالیں

  • 06-05-2016 at 9:06 pm
    Permalink

    وہ بندر ہیں‌ جن کے ہاتھ بٹیریں‌ لگی ہوئی ہیں۔ بٹیروں‌ کو سمجھنا اور سوچنا ہوگا کہ کب تک بندر بازی کا حصہ بننا ہے؟

Comments are closed.