افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی!


khurram niazi

کچھ عرصے قبل عزیزم انعام رانا کا ایک کالم پڑھا تھا جس میں لاہور کے کسی پروفیسرکا ذکر ہوا تھا جو انہیں انقلاب کے اسباق پڑھایا کرتے تھے تو یکلخت ڈاکٹر رشید حسن خان کا خیال آیا۔ جنہیں ہم سب بڑی محبت سے ‘ڈاکٹر صاحب’ کہتے تھے۔ کوئی پچاس سال انقلاب کے لئے لڑتے لڑتے پچھلے ہفتے موت سے بازی ہار گئے کتنے مختلف تھے وہ انعام رانا کے ممدوح سے!

میرا پس منظر یہ تھا کہ والد گرامی جماعتِ اسلامی کے مونس و حامی تھے۔ بچپن سے سرخوں کی برائیاں گھر میں سنتا اور زندگی، اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ جیسے رسالوں میں پڑھتا آیا تھا ۔ ڈاؤ میڈیکل کالج میں داخلہ ہوا تو طلباء یونین پر نئی نئی پابندی لگی تھی۔ طلباء کی اکثریت دائیں بازو(جمعیت) اور بائیں بازو(این ایس ایف) میں تقسیم تھی۔ مجھے محض تجسس اور اشتیاق این ایس ایف کے قریب لےگیاا۔ ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات ڈاؤ میڈیکل کالج کے سالِ اول میں ہوئی۔ اس وقت صلاح الدین گنڈا پور کے گروپ کی علیحدگی کے بعد تنظیم پھرسے یکجا ہوئی تھی۔ اکثر متحرک کارکنان وہ تھےجو گنڈا پور کو تو چھوڑ آئے تھے لیکن ہنوز ڈاکٹر صاحب سے کدورت رکھتے تھے۔ اس لئے ہمیں خصوصی تاکید کردی گئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب سے سخت سوالات کرنے ہیں۔

rasheed-hassan-khan2

کچھ دیر بعد دیکھا کہ کوئی چالیس پینتالیس سالہ صاحب سینہ تان کر تیزی سے چلتے ہوئے ہاسٹل فور میں داخل ہو رہیں ہیں دو سینئر کارکنان سرجھکائے مودبانہ ان کے جلو میں تھے۔ قامت سرو صنوبر تھی یا نہیں لیکن ہم سب سے اونچے ہی نظر آئے۔ دمکتا ہوا کتابی چہرہ، نقوش پہاڑی، ناک یونانی جس پر جمی موٹے شیشوں کی عینک کے پیچھے چھپی بیضوی آنکھیں۔ کتھئی چار خانے والی بش شرٹ اور سلیقے سے استری شدہ بھوری پتلون۔ وہ پہلی نظر میں ہی وہ خوش لباس اور متاثر کن شخصیت لگے۔ یہ راز بعد ازاں متعدد ملاقاتوں میں کھل گیا کہ کہ ان کے پاس تھے ہی صرف ساڑھے تین جوڑے۔۔۔ ایک وہ جو اس دن پہنے ہوئے تھے،ایک سلیٹی ملیشیا اور دوسرا سفید کے ٹی کا قمیض شلوار جو وہ خود دھو کر استری کر کے پہن لیتے تھے۔ سردی میں ایک سیاہ چرمی جیکٹ۔ شکنیں نہ کبھی ان کے لباس پر دیکھیں نہ جبین پر۔ اس ملاقات میں عامر رضا جو اب امریکہ میں مقیم ہیں اور اظہر حسین مرحوم نے درشت لہجے میں دو ایک سوالات پوچھے لیکن ڈاکٹر صاحب نے ان کو ایسی خندہ پیشانی، وضاحت اور نرمی سے جوابات دیے کہ سب کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔

ان کا لہجہ ہمیشہ دوستانہ ہوتا اور گفتگو مدلل لیکن مخاطب کی ذہنی سطح کے مطابق، وہ غیر ضروری لفاظی، مشکل اصطلاحات اور ثقیل الفاظ سے خود بھی گریز کرتے اور دوسروں کو بھی یہی تاکید کرتے۔ ہاں ہم جیسے پروفیشنل کالجوں کے طلباء سے انگریزی میں بات کیا کرتے۔ باغ و بہار طبعیت کے مالک تھے۔ انہیں تاریخ ازبر تھی بولتے تو جیسے کہاوتوں، لطیفوں اور چٹکلوں کا دریا بہاتے جاتے۔ مجھے اس پہلی ملاقات کی بس دو باتیں یاد رہ گئیں ایک ان کا یہ کہنا کہ ملک کا دفاع اس کے تمام باشندوں کا فرض ہے۔ اگر ریاست شہریوں کے بنیادی حقوق فراہم کردے تو ہر فرد اٹھ کر اس کی حفاظت کرے گا اور بجٹ کا کثیر حصہ دفاعی مد میں خرچ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ دوسرا ان کا حاضرین کو یقین دلانا کہ تمہارا مستقبل محفوظ ہے۔ تم سب تعلیم حاصل کرکے اگر صرف اپنے لئے سر چھپانے کے ٹھکانے اور ایک باعزت ذریعہ معاش پر اکتفا کرلو اور اپنی بقیہ صلاحیتیں اور وقت ملک کے عام عوام کی خدمت اور ان میں شعور جگانے کے لئے وقف کردو تو ملک میں انقلاب کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہ بھی کہ جب اپنے سے نچلے طبقات کی طرف دیکھو گے تو ہمت بحال رہے گی۔

اس پہلی ملاقات کےایک زمانے بعد نہایت تاسف اور شرمندگی سے یہ اعتراف کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ ان کی اس ہدایت کو مجھ سمیت وہاں موجود درجن بھر ساتھیوں نے در خورِ اعتناء نہیں جانا اور ڈاکٹر صاحب اکیلے ہی اپنے راستوں پر چلتے رہے۔ یہ اور بات کہ ہر چند سالوں بعد ان کے ہمقدم چلنے والوں کا ایک نیا قافلہ تیار ہوجاتا۔

وہ 1962ء میں ڈاؤ میڈیکل کالج میں آئے تھے اور این ایس ایف کے مرکزی صدر کی حیثیت سے 1968ء کی اس طلباء تحریک کے میرِ کارواں تھے جس کے نتیجے میں ایوبی آمریت کا خاتمہ ہوا اور جمہوریت کی راہ ہموار ہوئی۔ وہ سمجھتے تھے کہ آزادی کے بعد بھی ملک میں وہی نظام جاری ہے جو انگریزوں نے متعارف کرایا تھا جس میں جاگیردار اور گماشتہ سرمایہ دار اقتدار پر چھائے ہوئے ہیں اور تمام ادارے اور پالیسیاں بیرونی آقآؤں کی خوشنودی اور حمایت کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ اس صورتحال کا حل وہ یہ پیش کرتے کہ طلباء، مزدور اور کسانوں کے ساتھ اتحاد بنا کر عوام دوست تبدیلیوں کی کوشش کی جائے۔ ان کے تصورات کی عکاسی اس زمانے کے ان مقبول نعروں سے ہوتی ہے کہ:

کون بچائے گا پاکستان—طلباء، مزدور اور کسان!
rasheed-hassan-khan1جمہوریت کے تین نشان۔۔۔طلباء، مزدور اور کسان!

یحییٰ خان اور پھر بھٹو ادوار میں این ایس ایف مخالف مظالم سے بچنے کے لئے وہ کئی سال جیل میں یا زیرِ زمین رہے۔ جنرل ضیاء نے ترقی پسندوں سے اپنی نفرت کا بر ملا اظہار بارہا یہ کہہ کر کیا کہ ’(ترقی پسندوں پر) اس ملک کی ہوا، اس کی دھوپ، اس کی چھاؤں، اس کی چاندنی، اس کا رزق اور اس کا پانی حرام ہیں‘ کچھ جیل کی دوستیاں اور کچھ دوردراز علاقوں میں چھپتے پھرنے کے باعث انہیں پاکستان کی تمام زبانوں پر خوب عبور تھا وہ چپے چپے کی ثقافت سے خوب آشنا تھے۔ انہوں نے 1980ء میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیا۔ لیکن پھر عام ڈاکٹروں کی طرح اپنا مستقبل بہتر بنانے یا ملک سے باہر جانے کے بجائے مزدور بستیوں میں خیراتی کلینک چلاتے رہے اور عوامی سیاست کرتے رہے۔ انہوں نے آخری سانس تک نہ انقلابی نظریات سے اپنا رشتہ توڑا نہ عملی جدوجہد کو چھوڑا۔ وہ آخر دم تک پر امید رہے۔ وہ ایک سچے پاکستانی اور ایک مخلص عوام دوست تھے۔ ان کے ساتھ اپنی مختصر رفاقت میں ان سے نہ پاکستان کی کوئی برائی سنی اور نہ ہی مذہبی، نسلی اور فرقہ وارانہ تعصب کی کوئی بات ۔ ’جیسے عوام ویسے حکمران‘ اور ’عوام جاہل اور بے وقوف ہیں‘ جیسے جملے ان کی بیاض میں نہیں تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ پاکستانی عوام کا شعور بہت بلند ہے اور ہر گزرتا دن اس میں اضافہ کر رہا ہے۔ وہ نہ کبھی پاکستان کے مستقبل سے مایوس ہوئے نہ انہوں نے اپنے کسی ملنے والے میں یاسیت اور ناامیدی منتقل کی۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انقلابی تخریب کار اور انتہا پسند ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت اس تاثر کی نفی کرتی تھی۔ وہ سمجھایا کرتے تھے کہ ہمیں سرمایہ دار سیاسی جماعتوں کی نورا کشتیوں پر بحث کرکے اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے عوامی مسائل اور ان کے حل پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئے۔ چھوٹے چھوٹے مطالبات منوا کر آگے بڑھنا چاہیے۔ وہ عورتوں کی آزادی کے حامی تھے۔ تمام عمر غیر شادی شدہ رہے لیکن ان کے دامن پر کبھی کوئی چھینٹ نہیں پڑی۔اسی طرح وہ خودداری میں اپنی مثال آپ تھے۔ انہوں نے نہ بازارِ سیاست میں اپنے دام لگوائے نہ کبھی ایک دھیلے کی کرپشن کی۔ انہوں نے اپنے لاتعداد مداحوں کے مالی تعاون کی ہر پیش کش کو ہمیشہ سختی سے ٹھکرایا۔

انقلابی سیاست میں دانشوری بھگارنے کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔ کارکنان کی اکثریت کچلے ہوئے طبقات سے آتی جو حقیقتاً اپنے شب و روز کو بدلنا چاہتی تھی۔ ہمارے اجلاس، کنونشن اور کونسل سیشن مشاعرے نہیں ہوا کرتے تھے جن میں ایک دوسرے کے قصائد بیان کیے جائیں اور پھر داد و تحسین کے دونگڑے برسائے جائیں۔ اور نہ ہی مجالسِ عزاداری کہ گزرتے آلام پر گریہ زاری کی جاتی۔ شخصیت پرستی جو مڈل کلاس کا رحجان ہوتا ہے کی ڈاکٹر صاحب حوصلہ شکنی کرتے اور تنقید اور خود تنقیدی کا خیرمقدم کرتے۔ ان محافل میں ڈاکٹر صاحب کی اہمیت کی وجہ ان کا پرانا کردار یا فلسفیانہ گہرائی نہیں بلکہ مسلسل عمل سے جڑے رہنا ہوا کرتا۔ انہوں نے کبھی ریٹائرمنٹ لی نہ گوشہ نشینی اختیار کی اور کبھی رہنمائی کے لئے دستک دینے والوں کو مایوس واپس نہیں جانے دیا۔

ڈاکٹر صاحب نے پچھتر چھہتر سال کی عمر میں انتقال کیا۔ یہ عمر چل چلاؤ ہی کی ہوتی ہے۔ لیکن دنیا بھر میں پھیلے ان کے نظریاتی شاگردوں، سابقہ ہم سفروں، ہم رکابوں اور ہم نفسوں میں رنج و سوگواری کا سبب یہ ہے کہ سن رسیدگی کے باوجود ان کی فکر تروتازہ اور حوصلے جوان رہے۔ آخری ایام میں بھی ان کی کوشش رہی کہ اپنے ہر ملنے والے میں انقلاب کی دبی ہوئی چنگاری کرید کرید کر بیدار کردیں۔

ڈاکٹر صاحب کے انتقال سے پاکستان کے محنت کش اپنے ایک پرخلوص ہمدرد و غمخوار ساتھی سے محروم ہوگئے۔ بائیں بازو کی تاریخ کا ایک درخشاں باب اختتام کو پہنچا۔ انقلابی سیاست کے ایک اہم دور کا خاتمہ ہوا اور ایک دیو مالائی کردار اپنے خون سے آرزوؤں کے چراغ روشن کرتا کرتا تاریکیوں میں اوجھل ہوگیا۔

پیدا کہاں ہیں ایسے پرا گندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی


Comments

FB Login Required - comments