شخصی حکمرانی کی طرف گامزن ترکی


mujahid ali

ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے بیس ماہ تک تک وزیر اعظم رہنے کے بعد وزارت عظمی اور حکمران پارٹی اے کے پی AKP کی صدارت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ کل رات انقرہ میں صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ طویل ملاقات کے بعد کیا گیا ہے تاہم وزیر اعظم نے اس کا اعلان آج کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے 22 مئی کو حکمران پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔ اس اجلاس میں پارٹی کا نیا لیڈر منتخب ہو گا جو پارٹی قواعد کے مطابق ملک کا وزیر اعظم بھی بنے گا۔ مبصرین کو اس بات میں شبہ نہیں ہے کہ آئندہ پارٹی لیڈر وہی شخص ہو گا جس کی طرف صدر اردگان اشارہ کریں گے۔ انہیں پارٹی اور پارلیمنٹ میں حکمران پارٹی کے ارکان پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ داؤد اوغلو اور صدر اردگان کے درمیان کئی معاملات پر اصولی اختلافات ہیں تاہم وزیر اعظم نے آج اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ صدر اردگان کے ساتھ اپنے برسوں پرانے تعلقات خراب نہیں کریں گے اور بدستور پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہیں گے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ پارٹی میں بغاوت بپا کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ تاہم اس اعلان کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ حکمران پارٹی اور ووٹرز میں خاص مقبول نہیں ہیں۔ پارٹی کا کوئی اہم رکن صدر کے مقابلے میں کمزور اور سیاسی تنہائی کا شکار اوغلو کا ساتھ نہیں دے گا۔ ترک وزیر اعظم اور صدر کے درمیان اصل کشمکش ملک میں صدارتی نظام استوار کرنے کے سوال پر ہے۔ صدر طیب اردگان ملک میں صدارتی نظام استوار کرتے ہوئے سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں جمع کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم اوغلو اس خواہش کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے رہے ہیں۔ اگرچہ اردگان مارچ 2003 سے اگست 2014 تک ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں لیکن صدر بنتے ہی انہوں نے سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں جمع کرنے شروع کردئے تھے۔ وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کی حیثیت گو کہ کٹھ پتلی اور بے اختیار وزیر اعظم سے ذیادہ نہیں تھی لیکن اردگان اس صورت حال سے بھی مطمئن نہیں تھے۔ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے ملک میں صدارتی نظام استوار کرنا چاہتے ہیں۔ اوغلو کے علیحدہ ہوجانے کے بعد اب ان کے لئے اس خواب کی تکمیل ممکن ہو سکے گی۔ لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ اس مقصد کے لئے شاید اس سال کے آخر تک انہیں ملک میں نئے انتخابات منعقد کروانا پڑیں۔ لیکن یہ قیاس آرائی ابھی تک اندازوں پر قائم کی جارہی ہیں۔ کیوں کہ پارلیمنٹ میں اکثریت ہونے کے باوجود حکمران جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی AKP کو طاقتور اپوزیشن کا سامنا ہے۔ گزشتہ برس جون میں منعقد ہونے والے انتخابات میں یہ پارٹی پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ چند ماہ دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کے بعد بالآخر صدر اردگان سیاسی جوڑ توڑ اور جنوب مشرق میں کردوں کے ساتھ معاہدہ ختم کرکے قوم پرست ووٹروں کی مدد سے نومبر میں منعقد ہونے والے انتخابات میں اپنی پارٹی کو واضح اکثریت دلوانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

erdogan-daud

صدر رجب طیب اردگان اور وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کے درمیان بعض بنیادی امور پر اختلافات رہے ہیں۔ صدر نے ہر شعبہ میں وزیر اعظم کی رائے کو مسترد کرکے اور پارٹی اور پارلیمنٹ میں اپنے وفا داروں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اوغلو کو مجبور محض بنا دیا تھا۔ اس حالت میں ترک وزیر اعظم کے لئے ذیادہ دیر تک طاقتور صدر کے سیاسی جوڑ توڑ کا سامنا کرنا ممکن نہیں تھا۔ اسے بھی صدر اردگان کی سیاسی عیاری اور مہارت کہنا چاہئے کہ اوغلو نے شدید اختلافات کے باوجود اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے صدر سے وفاداری کا عہد ہی کیا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں وہ صدر کو چیلنج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اوغلو کے استعفیٰ کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ترکی تیزی سے فرد واحد کی حکمرانی کی طرف بڑھے گا۔ یہ کشمکش ترکی کی سیاست میں کیا اثرات سامنے لاتی ہے، اس کے بارے میں ترک مبصرین مختلف آرا کا اظہار کررہے ہیں۔ تاہم ملک کے پارلیمانی نظام کو صدارتی طریق حکومت میں تبدیل کرنے کے عمل میں صرف ملک کے اندر ہی مخالفت نہیں ہوگی بلکہ اردگان کو یورپ کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیر اعظم کی ماہرانہ ڈپلومیسی کے ذریعے ترکی اور یورپ کے درمیان مارچ میں مہاجرین کے سوال پر ایک معاہدہ ہو گیا تھا۔ صدر اردگان اس معاہدہ سے لاتعلق رہے تھے۔ اس معاہدہ کے نتیجے میں ترک حکومت سمندر کے راستے یونان پہنچنے والے شامی پناہ گزینوں کو ترکی واپس روانہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بدلے میں یورپین یونین نے ترک حکومت کو پناہ گزینوں کی مدد کے نام پر 6 ارب یورو امداد دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ترک باشندوں کے لئے ویزا کے بغیر یورپ کا سفر آسان بنانے کا معاہدہ بھی ہوا تھا، جس پر چند روز پہلے عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ اس افہام و تفہیم کے نتیجے میں یورپی لیڈر ترکی کو یونین کی رکنیت دینے کے سوال پر ہمدردی سے غور کرنے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ وزیر اعظم داؤد اوغلو کے استعفیٰ اور اقتدار پر صدر اردگان کی گرفت مضبوط ہونے کے بعد یورپ کے ساتھ ترکی کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

صدر طیب اردگان جاہ پسند اور کسی حد تک انتہا پسندانہ رجحان رکھنے والے رہنما ہیں۔ وہ اختلاف رائے برداشت نہیں کرتے اور ملک میں اخبارات پر پابندیاں لگانے اور صحافیوں کو سزائیں دلوانے کا سلسلہ انہی کے دور میں شروع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ملک کے بیس فیصد کردوں کے ساتھ بھی تصادم کی پالیسی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ نومبر 2015 میں انتخابات سے پہلے صدر اردگان کے حکم پر ہی کردوں کے ساتھ امن معاہدہ ختم ہوا تھا جس کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا تھا۔ کردوں کو سزا دینے کے لئے ہی انہوں نے شام اور عراق میں ابھرنے والی دہشت گرد تنظیم داعش کے ساتھ بالواسطہ تعاون کا سلسلہ جاری رکھا تھا کیوں کہ ان کے خیال میں یہ گروہ کردوں کو عسکری لحاظ سے کمزور کررہا تھا۔جولائی 2015 میں شام کے بارڈر پر واقع ترک قصبے سوروچ پر دہشت گرد حملہ کے بعد ترکی نے داعش کے خلاف فضائی کارروائی کا حصہ بننے کا اعلان کیا تھا ۔لیکن اس کا اصل ٹارگٹ جنوب میں خود مختاری کا مطالبہ کرنے والے کرد تھے۔ اس کے علاوہ ترک فضائیہ شام میں داعش کے خلاف لڑنے والے کردوں پر بھی حملے کرتی رہی ہے کیوں کہ یہ تنظیم شام کی سرکاری افواج کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔ صدر اردگان کا خیال ہے کہ ترکی کی سرحد پر موجود کردوں کی یہ قوت کامیابی کی صورت میں ترک کردوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بھی بنے گی۔

اردگان اور داؤد اوغلو کے درمیان جن معاملوں پر اختلافات رہے ہیں ان میں ترک کردوں کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ صدر اردگان اس بارے میں سخت رویہ رکھتے ہیں جبکہ ملک کی معاشی ترقی کے نقطہ نظر سے داؤد اوغلو کردوں کے ساتھ امن کے حامی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کی بات کرتے رہے ہیں جبکہ صدر اردگان کسی بھی مخالفانہ رائے کو سختی سے کچلنے کے حامی ہیں۔ داؤد اوغلو حکومت مقدمہ چلائے بغیر لوگوں کو گرفتار کرنے کی بھی مخالف رہی ہے۔ اردگان اس طریقہ کا ر کی حمایت کرتے ہیں۔ اور مخالفین کو سخت سزائیں دلوانا چاہتے ہیں خواہ اس کے لئے انہیں غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہتھکنڈوں کا ہی سہارا کیوں نہ لینا پڑے۔

ترک اخبار جمہوریت نے اوغلو کے استعفیٰ دینے کی خبر سامنے آنے پر ’ محل کی بغاوت ‘ کی سرخی جمائی ہے۔ اپوزیشن کی دونوں اہم پارٹیوں سی ایچ پی CHP اور ایچ ڈی پی HDP نے اسے فرد واحد کا فیصلہ قرار دیا ہے۔ ان لیڈروں کا کہنا ہے کہ ملک کے 23 ملین ووٹروں نے احمد داؤد اوغلو کو اپنا وزیراعظم چنا تھا لیکن ایک شخص نے اپنے اختیارات میں اضافہ کے لئے اسے علیحدہ کردیا ہے۔ یہ جمہور کی نہیں ایک شخص کی کامیابی ہے۔ صدر رجب طیب اردگان نے غریب خاندان میں آنکھ کھولی اور 1996 میں استنبول کا مئیر بننے کے بعد سے انہوں نے مسلسل سیاسی کامیابیوں کا سفر کیا ہے۔ تاہم صدر بننے کے بعد سے انہوں نے جو اقدامات کئے ہیں ، ان پر اکثر نکتہ چینی کی جاتی رہی ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں ترک ریسرچ پروگرام کے سربراہ سونر چاآپتے Soner Cagaptay کا کہنا ہے اس اقدام سے لگتا ہے کہ اردگان ملک کے تمام اداروں کی شکل تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرد واحد کے ہاتھ میں جتنے اختیارات جمع ہو چکے ہیں، ماڈرن ترک تاریخ میں اس کی مثال تلاش کر نا ممکن نہیں ہے۔

ترکی میں نئے سیاسی اقدامات کا سفر شروع ہونے والا ہے۔ اس میں فیصلے کرنے کا سارا اختیار ایک شخص کو حاصل ہو جائے گا۔ اس اقدام سے ترکی اور دنیا کے دیگر ملکوں کے تعلقات بھی متاثر ہوں گے اور اگر اردگان اپنی خواہش کے مطابق غیر معینہ مدت کے لئے مکمل بااختیار صدر بن جاتے ہیں تو ترک معاشرہ کے علاوہ دوسرے اسلامی ملکوں پر بھی اس کا اثر مرتب ہو گا۔ ان آمرانہ اقدامات کی سیاسی مزاحمت ہونے کی صورت میں ترکی سیاسی بحران کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “شخصی حکمرانی کی طرف گامزن ترکی

  • 06-05-2016 at 8:38 pm
    Permalink

    آپ نے طیّب اردگان کے متعلق جو تجزیہ پیش کیا ہے اس میں واقعاتی حد تک کسی قدر حقیقت پائی جاتی ہے لیکن اکیلے طیّب اردگان کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ترکی ایک تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے جس نے امن اور جنگ دونوں حالتوں میں فائدہ اٹھایا ہے۔ معاہدہ کے تحت 1986 میں اسے یورپی یونین میں شمولیّت کا حق تھا لیکن دجالی منطق نے اس کے تیس سال بعد بھی اعتراضات کئے ہیں۔اوور ان کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس سے کہیں پسماندہ مشرقی یورپ کے ممالک کو شامل کر لیا گیا ہے۔ اب ترکی اپنی معاشی اور عسکری طاقت اور نیٹو کا اہم رکن ہونے کے باعث برابری کا حقدار ہے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مذاکرات کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ مغربی اخبارات باقاعدگی سے اردگان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں اور اس کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں۔ اردگان اپنے ملک کے لئے بہت بہتر ثابت ہو رہے ہیں اور مغرب میں موجود ترک آبادی جو اب لاکھوں کی تعداد میں ہے اور معاشی لحاظ سے مستحکم ہونے کے علاوہ مشرقی رکھ رکھاؤ پر قائم ہے۔ اس آبادی کی بڑھوتی یورپی باشندوں کے بالمقابل تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کو مغرب یورپین اسلام کے تحت کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔ ترکی کے خلاف گزشتہ سو سال میں جو سازشیں ہوئی ہیں ان سے حاصل کردہ سبق پر اردگان اب اپنی شاطرانہ ذہانت سے عمل کر رہا ہے۔ اور یہ اس کا محب وطن ہونے کی حیثیّت سے فرض ہے۔ مغرب کو کوئی ایسا حکمران پسند نہیں جو ان کے آگے جی حضوری میں ذرا سی غفلت کا مظاہرہ کرے۔ اردگان ایک جری حکمران ہے اور آزمائش کے دور میں ایک ثابت قدم لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے۔ مغرب ہمیشہ کمزور حکمرانوں کو پسند کرتا ہے ۔ اردگان اور دیگر مشرق وسطی کے حکمرانوں میں بڑا بنیادی فرق ہے۔ اس کو گرانے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ جب بیرونی مداخلت ملک کے اندر خرابی کرے تو آمریت کے ذریعہ ہی ان کا مقابلہ اس ملک کی مجبوری بن جاتا ہے۔ ترکی پاکستان کے لئے ایک ماڈل ہے۔اس کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مغربی پراپیگنڈا کے زہر سے بچتے ہوئے تنقید کرنی چاہیئے۔

Comments are closed.