فروغ الحاد۔۔۔ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔۔۔۔۔


safdar sahar’’فروغِ الحاد: گل سے کوئی کہے کہ شگفتن سے باز آ ‘‘کے عنوان سے جناب سید ثاقب اکبر کا مضمون ہم سب پر پڑھا۔ پاکستان کے حوالے سے پرخلوص تحریر۔۔۔۔ مگر تشنگی سلامت ہے۔۔۔۔ الحاد کے فروغ کی وجوہات اگر مسلمان معاشروں میں یا پاکستانی معاشرے میں دہشت گردی فرقہ واریت اور خون خرابا ہے، تو سوال اٹھتا ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جو ان لعنتوں سے محفوظ ہیں وہاں الحاد کیوں فروغ پا رہا ہے۔ ہمارے ممدوح نے ایک خفیہ سروے کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ ’’پاکستان میں مذہب چھوڑنے اور ملحد بننے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اس میں شیعہ، سنی اور دوسرے تمام مسالک کے لوگ شامل ہیں، الحاد کے تیزی سے پھیلنے کا سبب سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بیٹھے سابقہ مسلمان ہیں جن کے بقول مذہبی تعلیمات جھوٹ پر مبنی ہیں اس کے علاوہ وہ مذہبی عقائد کے خلاف سائنسی ثبوت بھی پیش کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر سابقہ پاکستانی مسلمان ملحدین کی اکثریت پڑھی لکھی ہے اور ان میں مدارس سے فارغ التحصیل لوگ بھی شامل ہیں جو اسلام کو چھوڑ کر ملحد بن گئے‘‘۔

یہ تو ذکر تھا ایک خفی سروے کا، اب کچھ بیان ہو جائے جلی سرویز کا۔ ایک سروے کے مطابق دنیا میں مذہب پسندی کے حوالے سے کلی طور پر جو زوال آیا ہے وہ تقریبا نو فیصد ہے۔ اسی سروے کے مطابق جن ملکوں میں مذہب سے بے رغبتی بڑھی ہے ان کے نام اوپر سے نیچے بالترتیب یہ ہیں:ویتنام، آئر لینڈ، سوئٹزر لینڈ، فرانس، جنوبی افریقہ، آئس لینڈ، ایکواڈور، امریکہ، کینیڈا، آسٹریا۔ ان ملکوں میں لوگوں میں مذہب کی طرف رجحان میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔

اب اس سروے کا دوسرا حصہ ملاحظہ فرمائیں جو بتاتا ہے کہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے کونسے ایسے ملک ہیں جن کی آبادی کا بڑا حصہ خود کو ’بایقین‘ ملحد کہتا ہے۔ چین کی 47 فیصد آبادی خود کو ملحد کہتی ہے۔ جاپان کی 31 فیصد، چیک ریپلک کی 30 فیصد، فرانس، کوریا اور جرمنی کی بالترتیب 29، 15 اور 15 فیصد آبادی خود کو ملحد کہتی ہے۔ ان کے بعد ج وممالک آتے ہیں وہ ہیں ہالینڈ، آسٹریا، آئس لینڈ، آسٹریلیا اور آئر لینڈ۔

سروے کا تیسرا حصہ بھی آ خالی از دلچسپی نہیں جو ان ممالک کی فہرست بندی کرتا ہے جہاں کی اکثریتی آبادی خود کو مذہبی کہلوانا پسند کرتی ہے۔ اس فہرست میں گھانا، نائیجیریا، آرمینیا، فیجی، مقدونیہ، رومانیہ، عراق، کینیا، پیرو، برازیل سرفہرست ہیں جہاں کی آبادی بالترتیب 96،93،92،92،90،89،88،88،86،85فیصد خود کو مذہبی قرار دیتی ہے۔

اس جائزے سے سرسری اندازہ تو ہو ہی جاتا ہے کہ مذہب دوست اور مذہب دشمن معاشروں کی سماجی، سیاسی، معاشی حالت میں کیا بنیادی فرق ہے۔ مگر یہ چونکہ موضوع نہیں ہے بلکہ موضوع الحاد کے پھیلنے کی وجوہات ہے، اس لیے یہ بحث کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ ویسے دوستوں کی سہولت کے لیے عرض ہے کہ الحاد پسند معاشروں کے دیگر اشاریے بھی خاصے دلچسپ ہیں جیسے صحت، تعلیم، جمہوریت، استحکام، فلاحی ریاست، سماجی انصاف، پیداواریت اور تخلیقیت وغیرہ۔

جناب سید ثاقب اکبر صاحب کی درد مندی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے مگر جاننا چاہیے کہ الحاد دراصل ایک فلسفیانہ سوال ہے اور اس کا جواب فکری میدان میں دیا جانا چاہیے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ جو بھی معاشرہ سوال کے کلچر کی طرف گامزن ہوتا ہے وہاں الحاد کا نسبتا ٹھوس نظریہ ترویج پاتا ہے۔۔۔۔ الحاد دراصل تصور خدا کے حوالے سے خالص فسلفیانہ مباحث کا موضوع ہے۔ ہمارے ہاں الحاد کے فلسفے پر دانشورانہ مباحث کی بجائے فتوے بازی کا رجحان زیادہ شدید ہے۔

پوری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے ترقی کی، جن معاشروں نے سوال کے کلچر کو پنپنے کو موقع دیا۔ جن معاشروں نے کتاب اور قلم کو سب سے بڑی طاقت مانا، جن معاشروں نے وسیع المشربی اور رواداری اختیار کی، جن معاشروں نے انسانی مسائل کو انسانی کوششوں سے جوڑا، جن معاشروں نے فرد کو اہمیت اور امکان دیا، وہاں مذہب کی گرفت کمزور ہوئی۔ مذہبیت بند معاشروں کی بنیاد کا پتھر ہے جبکہ الحاد کھلے معاشروں کا وصف۔ تو اگر پاکستان میں مذکورہ بالا خفیہ سروے جیسی کوئی حقیقت موجود ہے تو اس پر غور و فکر کرنا چاہیے۔

منیر نیازی کی نظم آج ایک نئی معنویت کے ساتھ سامنے آ رہی ہے

بدلتے موسموں کی سیر میں

دل کو لگانا ہو

کسی کو یاد رکھنا ہو

کسی کو بھول جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں


Comments

FB Login Required - comments