بے جان پرزوں کا علم اور غصے کی نئی فصل


aasem_bakhshiدنیا کے دوسرے تمام مضامین کی طرح ہمیں نفسیات کا مضمون بھی بہت پسند ہے۔ لیکن چونکہ یہ بہت سنجیدہ مشغلہ نہیں اس لئے زیادہ تر محض نئی کتابوں کے تبصروں سے ہی نکات اٹھا کر کسی نظریاتی شیخ چلی کی طرح اپنی ڈائری پر حاشیہ آرائی کرتے رہتے ہیں کہ اگلے جنم میں میٹرک کے بعد سائنس کی بجائے سماجیات، نفسیات ، فلسفہ وغیرہ جیسے مضامین کا انتخاب کریں گے تو اس جنم کا پڑھا کام آئے گا۔ تو بس اس ہلکی پھلکی تحریر کا محرک آج صبح سویرے نفسیاتی تحقیق کی ایک نئی کتاب سے ہمارا تعارف ہے۔ ڈیل کارنیگی کی روح سے معذرت کے ساتھ یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ عوامی ادب میں ’اپنی مدد آپ ‘ کی صنف ہماری ناپسندیدہ ترین صنف ہے، یہ ہمارے اپنے لئے بھی ایک عجیب و غریب نفسیاتی انکشاف تھا کہ ہم نے نہ جانے کیوں اس لنک پر کلک کر دیا جو Presence: Bringing Your Boldest Self to Your Biggest Challenges نامی اس عام سی نئی کتاب پر ایک تبصرہ تھا۔ معلوم ہوا کہ کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر ایمی کڈی کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی نیا شخص آپ سے پہلی بار ملتا ہے تو وہ آپ کی شخصیت میں فوراً ان دو سوالوں کے جواب تلاش کرتا ہے۔

۱۔ کیا میں اس شخص پر بھروسہ کر سکتا ہوں؟
۲۔ کیا میں اس شخص کی عزت کر سکتا ہوں؟

باقی کتاب سے تو خیر کوئی بحث نہیں کہ وہ مارکیٹنگ کے سوقیانہ ٹوٹکوں پر مشتمل ہے یعنی کیسے اپنے آپ کو ایک ذہین، پروقار اور قابلِ اعتماد شخص کے طور پر خریداروں کے سامنے پیش کیاجائے ، ہماری نگاہ انہی دو سوالوں پر ٹک کر رہ گئی۔ہم محترمہ کڈی کے پورے تناظر سے بھی واقف نہیں لیکن چونکہ وہ سماجی نفسیات دان ہیں لہٰذا گمان غالب ہے کہ وہ ان سوالوں کی بنیاد میں وضع قطع، چال ڈھال، ملنساری و انکساری ، حرکات و سکنات اور طرزِ گفتگو وغیرہ جیسے متغیرات ہی کو لے کر آگے بڑھ رہی ہوں گی۔ لیکن ہمیں یہ دو سوال اس لئے بہت دلچسپ محسوس ہوئے کہ کسی زمانے میں ازراہِ تفنن ہم نے بھی کچھ ایسے ہی سوالوں کی فہرست مرتب کی تھی جو پاک سرزمین میں ہر نیا ملنے والا شخص (آپ کے بارے میں) اپنے آپ سے کرتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ ہمارے سوال دو نہیں بلکہ کافی زیادہ تھے لیکن اب چونکہ ہم کڈی صاحبہ کی( بھونڈی) نقالی کر رہے ہیں تو ان سوالوں کو یوں وضع کرنا پسند کریں گے۔

۱۔ کیا میں اس شخص کو کوئی مفت مشورہ دے سکتا ہوں ؟
۲۔ کیا میں اس شخص سے کوئی مفت مشورہ طلب کر سکتا ہوں؟

جاننے والے جانتے ہیں کہ ہمارے ننھے ننھے نظریاتی پیر مشرق و مغرب کی بحث میں کسی وسطی مقام پر ایستادہ ہیں لیکن یہ ہمارے معاشرے کی ایک ایسی جہت ہے جس سے ہم پہلے تو شدید جھنجھلاتے تھے لیکن جوں جوں لطف اٹھانے کی عادت ڈالی تو اس کے مداح بن گئے۔ ہماری تھیوری یہ ہے کہ مشرق میں اب تک قدیمی سماجی روایت کی ایک بگڑی ہوئی سطحی شکل پر فرد کا فرد سے فاصلہ نہایت کم ہے۔ ظاہر ہے کہ کبھی یہ فاصلہ خطرناک حد تک بھی کم ہو جاتا ہے لیکن بہرحال اتنا تو طے ہے کہ عمومی طور پر ہر فرد دوسرے کے مکانی دائروں میں دخل اندازی کو جینیاتی مجبوری کے باعث ناگزیر سمجھتا ہے۔ ہمارے کئی (مغرب پرست) دوست ہم سے اس نتیجے میں متفق نہیں اور ہماری خوش خیالی کہہ لیجئے لیکن ہم اسے سراسر فرد کی فرد سے محبت ہی سمجھنے پر مضر ہیں۔ ( دیکھئے کیا ہماری شعرو سخن کی روایت میں محبوب کو قاتل سے تشبیہ نہیں دی گئی ؟) کئی بار ایسا ہوا کہ ہم بس، ٹرین یا جہاز میں کسی کتاب میں مستغرق ہیں اور فوراً ساتھ براجمان نامعلوم ہم سفر نے اپنا ہاتھ بڑھا کر کتاب کو ذرا سا اونچا کرتے ہوئے سرورق پر عنوان دیکھنے کی کوشش کی۔ یہ سوال تو ایک سے زیادہ بار پوچھا گیا کہ بھائی آپ کا کل صبح کوئی امتحان وغیرہ ہے اور ہم صرف بے چارگی میں سر ہلا کر ہی رہ گئے کہ اب کیا جواب دیں۔ پھر لباس، وضع قطع اور دوسرے ظواہر کی بنیاد پر کچھ اندازے لگا کر فوراً ہمیں مفت مشورے سے نوازا گیا یا مفت مشورہ طلب کیا گیا۔ہم فی الحال کڈی صاحبہ کے مقابلے میں اپنی تھیوری کو حتمی درجے میں سماجی تجربہ گاہ میں آزمانے کے قابل تو نہیں لہٰذا پچھلے سال کی ڈائری سے ایک ہی دن میں پیش آنے والے یہ دو واقعات اپنے سوالوں کی سندِدعویٰ کے طور پر نقل کرتے ہیں۔

کل دوپہر یونیورسٹی سے واپس آ رہا تھا کہ اپنی کالونی کے آغاز پر ایک ضعیف بزرگ سڑک کے کنارے سودا سلف کے کچھ لفافے اٹھائے کھڑے نظر آئے۔ چڑھائی کافی زیادہ ہے اس لئے معلوم یہی ہوتا تھا کہ کسی لفٹ کے انتظار میں ہیں۔ پروگرام تھا کہ گھر جانے سے پہلے نائی کے ہاں حاضری دیتا جاو¿ں کہ بالائی میدان تقریباً صاف ہونے کے باوجود بھی اتنے بال بچ گئے ہیں کہ ہر ماہ رسماً ہی سہی ،انہیں کٹوانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ نائی کی دکان پہلے موڑ پر ہی تھی لیکن سخت دھوپ اور بزرگوار کی بے چارگی دیکھ کر پیر خود بخود بریک پر جا پڑے۔ خیال نہ آیا کہ گاڑی میں اس وقت بیگم اختر فیض آبادی کی گائی صاحبزادہ میکش کی غزل ’شرابِ ناب کو دو آتشہ بنا کے پلا‘ بج رہی تھی۔ جس وقت وہ بزرگ گاڑی کا اگلا دروازہ کھول کر میرے ساتھ بیٹھے تو مجھے محسوس ہوا کہ غور سے میری شکل دیکھ رہے ہیں۔ اتفاقاً کان لگے تو تو یہ شعر گایا جا رہا تھا۔

پِلا ہر ایک کو، ہر ایک پر نوازش کر
مگر یہ شرط ہے پہلے مجھے پِلا کے پلِا

چونکہ اپنی ریشِ پرنور و پراسرار کو گاڑی میں بپا نغمہ و آہنگ سے تطبیق دینا تقریباً ناممکن تھا اس لئے جلدی سے ٹیپ بند کر دیا۔ بزرگ بہت نفیس معلوم ہوتے تھے، میں نے پوچھا کہ آپ کو کہاں جانا ہے تو کہنے لگے پہلے آپ بتائیے؟ میں نے کہا میں تو آپ کو گھر پہنچانے کے لئے ہی رکا ہوں ورنہ منزل تو وہ سامنے والی نائی کی دکان تھی۔فرمانے لگے آپ مجھے اتار دیں، ویسے ہی تکلیف کی، کوئی نہ کوئی رک ہی جاتا۔ میں نے کہا حضرت میں نے تو بس آپ کی دعا لینے کی خاطرآپ کو گھر پہنچانے کا سوچا۔

اب گاڑی چل رہی تھی، اور میں انٹرویو کے لئے تیار تھا۔ دعائیں دیتے ہوئے پوچھنے لگے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ میں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے مضامین پڑھاتا ہوں۔ کہنے لگے ”زمانے نے کیا کروٹ لی، پہلے زیادہ تر لوگ، ادب، سیاسیات، معاشیات یا فلسفے وغیرہ کا کہتے تھے، اب اگر سڑک پر randomly کسی کو روکو تو وہ انجینئرنگ کا طالبعلم یا استاد نکلتا ہے۔ مگر میری رائے میں یہ ایک اچھی کروٹ ہے۔“ میں نے طرح دینے کی خاطر کہا کہ”سرآپ کی رائے میں تھوڑا توازن خراب نہیں ہو رہا، لوگ بس طرح طرح کے مکینک ہی بنتے جا رہے ہیں؟“، تو وہ مزید کھلے اور نصیحت آموز لہجے میں کہنے لگے، ”بیٹا آپ پرزوں کے ماہر ہیں۔ ہر شے کو پرزے کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان کا علم حاصل کرتے ہیں۔ لیکن انسان کے اندر بھی ایک دنیا آباد ہے جو ادب، فلسفے، تاریخ، سیاسیات وغیرہ کی دنیا ہے۔ اس کا علم بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آپ پرزوں کو کافی جان چکے ہیں اب اس طرف بھی آئیے۔ ادب اور فلسفے کے لئے آپ اپنے طور پر مطالعہ کر سکتے ہیں اور استاد کے بغیر بھی اچھی خاصی منزلیں طے کر سکتے ہیں۔“ میں نے کہا سر آپ نے بہت اہم نصیحت کی اور میں پرزے چھوڑ کر اس طرف فوری توجہ کرتا ہوں۔ ان کی منزل آ چکی تھی اور وہ دعائیں دیتے، اپنی جھکی ہوئی کمر کے ساتھ لفافے اٹھائے، گھر کے دروازے کی جانب چل پڑے۔

واپس مڑا اور نائی کی دکان کے آگے بریک لگائی۔ اندر داخل ہوا تو وہ نہیں تھا جو عموماً ہم پر ہاتھ صاف کرتا ہے۔ ایک بالکل نیا نوجوان تھا جس نے حیرانی سے مجھے ایک کتاب تھامے دکان میں داخل ہوتے دیکھا۔ خیر علیک سلیک ہوئی، اور اس نے چادریں وغیرہ چڑھا کر ہمارا سر نیچے کو دبایا اور اپنا کام شروع کیا تو ہم نے ہاتھ میں پکڑا ہوا اسد محمد خان کی کہانیوں کا مجموعہ باہر نکالا (جو اب چادر کے نیچے آ چکا تھا) اور سفید چادر کے نیچے سے دونوں ہاتھ نکال کر اس کا مطالعہ شروع کر دیا۔ پڑھتے پڑھتے کچھ دیر بعد آئینے کی جانب نظر کرنی تھی کہ آنکھیں چار ہوتے ہی ان حضرت نے فوراً ہاتھ کھینچ لئے۔ ہم نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا تو کہنے لگا: ”مولوی صاحب، مجھے کوئی ورد بتا دیں کیوں کہ غصہ بہت آتا ہے۔ چھوٹی سی بات ہی کیوں نہ ہو، غصے سے بپھر جاتا ہوں اور کبھی کبھی آپے سے باہر بھی ہو جاتا ہوں۔“ میں نے کہا بھائی میں کونسا کسی آستانے پر دم درود کرتا ہوں، آپ کو کیسے خیال آیا کہ میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟ کہنے لگا اصل میں آپ کے ہاتھ میں موجود کتاب کا نام (’غصے کی نئی فصل‘) دیکھا تو میرے ذہن میں آیا کہ غصے کے علاج کے بارے میں وظائف درج ہوں گے۔ ”اوہ، اچھا“، میں نے کہا، ”آپ بالکل صحیح پہنچے، یہ اسی بارے میں ہے۔ کئی چلّے تو کافی مشکل ہیں کیوں کہ اس کے لئے کافی مجاہدہ اور خوراک میں پرہیز وغیرہ درکار ہے، سب سے سہل یہ ہے کہ جونہی غصہ آئے بیٹھ جائیں اور ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس نوش کریں۔ لیکن یاد رکھیں غصے کو اپنے اندر ہی قید رکھنا ہے۔ رات کے پچھلے پہر جب پوری دنیا ساکت ہو، اپنے گھر کی چھت پر جائیں، ایک الاو¿ جلا کر سامنے آلتی پالتی مار لیں اور تصور میں الاو¿ کے دوسری طرف اپنے بالمقابل اس شخص کو لائیں جس پر آپ کو غصہ تھا (جو ظاہر ہے اب تک آپ کے اندر ہی ہے)۔ بس اب اپنے حلق سے غیظ و غضب کی آوازیں نکالتے ہوئے، آنکھیں نکال نکال کر دانت نکوستے ہوئے سامنے والے پر اس زہرناکی سے پھنکاریں کہ اس کا دل دہل جائے۔

بس اتنا یاد رکھیں یہ دروزیوں کا حلقہ غیظ ہے اور دروزیوں کا یہ شیوہ نہیں کہ سامنے والے پر حملہ آور ہوں۔ میں خود بھی اسی حلقے سے ہوں اور یہ ہمارے شیخ کی لکھی اوراد و وظائف کی کتاب ہے۔ اگلے ماہ ملتے ہیں تو اپنے احوال سے آگاہ کیجئے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 48 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

7 thoughts on “بے جان پرزوں کا علم اور غصے کی نئی فصل

  • 19-01-2016 at 3:47 pm
    Permalink

    واہ کیا نسخہ بتایا ہے پیر و مرشد۔ سردیوں میں تو یہ خوب مزا دے گا۔ لیکن گرمیوں میں یہ آگ مار ڈالے گی۔

    • 19-01-2016 at 3:55 pm
      Permalink

      اس آزمودہ نسخے کے لئے آپ مرشدِ خاص قبلہ اسد محمد خان ہی کو دعا دیجئے۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے۔

  • 19-01-2016 at 4:14 pm
    Permalink

    Haha.. Simply zabardast

  • 19-01-2016 at 4:59 pm
    Permalink

    ھاھاھاھاھاھاھاھاھا بہت عمدہ ۔۔۔۔ ا م خ کی ایک اچھی تفہیم! سلامت رہیئے بھائی جی!

  • 20-01-2016 at 12:56 am
    Permalink

    خوب ہے

Comments are closed.