مفاہمت اور نرم خوئی کی ضرورت


editوزیر اعظم نواز شریف نے آج سکھر ملتان موٹر وے کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن پر سخت تنقید کی ہے اور اس کے ہتھکنڈوں کو دہشت گردوں کے مماثل قرار دیا ہے۔ ایک طرف حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے قواعد و ضوابط پر مذاکرات کرنے کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف وزیر اعظم کے سخت حملے ملک کی سیاسی صورت حال کو مشکل اور پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

وزیراعظم کی باتوں سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اب دو تین ہفتے پہلے کے مقابلے میں زیادہ پر اعتماد ہیں۔ ایک طرف انہوں نے اپنے خاندان کے جھگڑے پر قابو پا لیا ہے اور اب پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ان کے بیٹے پاناما اسکینڈل پر نواز شریف کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اپنے ہی گھر میں تنہا ہونے کا مرحلہ اب شاید بیت چکا ہے۔ دوسری طرف نواز شریف کو فوج کی طرف سے بھی مثبت اشارے ملے ہیں اور انہیں اس بات کا یقین ہے کہ فوج سیاسی حالات خراب ہونے کی صورت میں مداخلت سے گریز کرے گی۔ اس کے بدلے میں فوج کوسندھ کے علاوہ پنجاب میں بھی اپنی مرضی کے مطابق کارروائی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

دو روز قبل کراچی رینجرز کی حراست میں جاں بحق ہونے والے ایم کیو ایم کے کارکن آفتاب احمد کی موت پر حکومت کی خاموشی بھی درپردہ طے پانے والے سمجھوتے کی چغلی کھاتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ پاناما پیپرز کا بھانڈا پھوٹنے کے فوری بعد وزیر اعظم جس سراسیمگی کا شکار تھے، اب وہ اپنی سیاسی مہارت، جوڑ توڑ یا سمجھوتوں کے ذریعے اس پر قابو پانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اسی لئے اب صرف ان کے وزیر اور مشیر ہی بدکلام نہیں ہیں بلکہ وہ خود بھی منہ زوری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست میں حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ یہ گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر پاکستانی سیاست پینترا بدلتے دیر نہیں لگاتی۔ اسی لئے وزیراعظم کو بدستور احتیاط سے کام لینے اور معاملہ فہمی سے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔

پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات کے بارے میں متعدد شبہات پائے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے دو مرتبہ قوم سے خطاب کیا اور خود کو احتساب کے لئے پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ابھی تک وہ اس بارے میں کوئی پیش رفت دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ اگرچہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو کمیشن بنانے کے بارے میں خط لکھا جا چکا ہے لیکن چیف جسٹس نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن متفقہ طور پر صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے کمیشن بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن کے ٹی او آرز TORs پر بھی اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

حکومت کو یہ معاملہ تعطل کا شکار کرنے کی بجائے، اس حوالے سے فوری اقدام کرنے اور متفقہ قواعد بنا کر کمیشن کے لئے راہ ہموار کرنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن کو دہشت گردوں جیسا قرار دے کر وزیر اعظم خود اپنے لئے مشکلات میں اضافہ کریں گے۔ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اگر آج نہیں تو کل ان کے لئے مشکل کا سبب بن سکتے ہیں۔ عقل سلیم کا تقاضہ یہی ہے کہ اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کی بجائے مفاہمت اور نرم خوئی سے کام لیتے ہوئے متنازعہ امور پر اتفاق رائے پیدا کر لیا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali