تھائی لینڈ کی مٹی سونا ہے!


husnain jamal (3)وہ محاورہ ہم نے کئی بار سنا ہے، مٹی کو سونا کر کے بیچنا، اگر اسے اپنی آنکھوں کے سامنے سچ ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں تو ایک چکر تھائی لینڈ کا لگا لیجیے۔ افریقہ کے دور دراز علاقوں میں پایا جانے والا پودا انکرینا ہو یا یمن کے بارڈر پر پائے جانے والے دیو ہیکل ایڈینیم (چمپا کے ایسے پھول والے پودے) ہوں، مڈغاسکر کے جنگلات میں پایا جانے والا باؤباب کا درخت ہو یا میکسکو کے صحراوں کے کیکٹس ہوں، برصغیر میں پائی جانے والی بوگن ویلیا ہو یا چین کے بھی محدود حصوں میں پایا جانے والا جنکو بائیو لوبا ہو، پہاڑی علاقوں کے چنار ہوں یا صرف ہوا پر چلنے والے ٹیلنڈسیا کے پودے ہوں، قبرستانوں اور صحراوں میں اگنے والی جڑی بوٹیاں ہوں یا کسی اور ملک کے پہاڑوں پر ہزاروں کی تعداد میں اگنے والے ڈائیکیا پودے ہوں، بھئی سب ہی کچھ وہ لوگ لے کر جاتے ہیں، اسے وہاں مصنوعی ماحول میں تیار کرتے ہیں، ان کی افزائش نسل کرتے ہیں اور ایسا خوب صورت اور چمکتا ہوا بنا کر واپس بھیجتے ہیں کہ ان تمام ملکوں کے باشندے اپنے ہی ملک میں پائے جانے والے پودے خوشی خوشی مہنگے داموں خریدتے ہیں اور فخر سے گھروں میں سجاتے ہیں۔

پہلے بوگن ویلیا کی بات کرتے ہیں۔ بچپن سے ہم سرخ، گلابی، عنابی، سفید، شربتی، پیازی اور کرمزی رنگوں کے پھولوں والی یہ بیلیں اپنے گھروں یا سکولوں میں دیکھتے آئے ہیں۔ تھائی ماہرین نے اس کا ایک موٹا تنا لے کر اس پر پانچ رنگوں کی شاخیں پیوند کر دیں، سال دو سال ان کو پھلنے پھولنے کے لیے دئیے، لیں جی image7گرافٹڈ بیل تیار۔ ہر موسم میں آپ کو ایک پودے پر تین سے پانچ رنگوں تک کے پھول کھلے ملیں گے۔ دو انچ موٹے اور دو فٹ چوڑے تنے پر اگر تین رنگ کا گرافٹ ہے
تو وہ بیل کم از کم پانچ ہزار پاکستانی روپے میں آپ خرید فرمائیں گے۔ اپنے یہاں کبھی صرف ایک گملے میں تین رنگوں کی بوگن ویلیا اکٹھی گاڑ کر دیکھ لیجیے شاید وہی کام بن جائے۔ پرفیکشن بھلے نہ ہو مگر وقت کے ساتھ وہ بھی آ جائے گی۔ اب اگر اسی آرٹ میں بڑے پودوں کو دیکھیے تو آپ کو بوگن ویلیا کی چھتری بنی نظر آئے گی، ہم نے اپنے گھروں میں لگی بوگن ویلیا کو کبھی ایسا بنانے کا نہیں سوچا۔ نامعلوم کیوں۔ کھجور کے پتوں یا شہتوت کی شاخوں سے بنی ٹوکریوں میں مناسب چھید کر کے انہیں اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جہاں چھتری بنانی ہو وہاں ٹوکری میں سوراخ کر کے شاخوں کے درمیان اسے پھنسا دیجیے، اور نئی نکلنے والی چھوٹی شاخیں اسی میں پھنساتے جائیے، مناسب تراش خراش چلتی رہی تو عرصہ دو سال میں آپ منزل مقصود پر ہوں گے۔ بوگن ویلیا میں پیوند کاری کرنا بھی کوئی ایسے معرکے کی بات نہیں، انٹرنیٹ پر ٹی گرافٹ سے متعلق تفصیلات دیکھ لیجیے، موسم وہی حبس والا اور برسات والا بہترین رہے گا، کر دیجیے بسم اللہ، اوپر والا بھلی کرے گا!

اب آپ بونسائی کی مثال لے لیجیے، یہ جو نرسریاں بھری پڑی ہیں طرح طرح کے بونسائی پودوں سے، یہ اتنی جلدی اتنی زیادہ تعداد میں کہاں سے آ جاتے ہیں۔ بات سنجیدگی کی ہے، سبق لینے کی ہے۔ تھائی لینڈ میں نرسری والوں نے بڑے بڑے فارم ہاؤس صرف فائکس (Ficus) کی پیداوار اور نشوونما کے لیے مختص کیے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس جینیٹک انجینئیر سے لے کر عام پانی دینے والوں تک ہر شخص اپنے شعبے کی مختصر تربیت لے کر آتا ہے۔ اور وہ تربیت انہیں وہاں کے مالی بابے دیتے ہیں۔ اگر ہم صرف فائکس کی مثال لیں تو دیکھیے کہ باوجود صدیوں سے بوہڑ، پلکھن، تھائی فائکس، فائکس کوئنز لینڈ، چائنیز فائکس پالنے کے، ہم نے ان سے کیا حاصل کر لیا۔ اتنا بھی نہیں کہ ہمارے بچوں کو معلوم ہو جائے کہ بوہڑ کیا ہے اور پلکھن کیا ہے! نرسریوں میں image6جائیے اور ان سے بوہڑ کے پودے مانگیے، پیپل کے مانگ لیجیے، آپ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگے گا، آپ کے اپنے دیسی پودے اب ملنے بند ہو گئے ہیں یا بری حالت
میں کسی کونے کھدرے میں پڑے ہوں گے اور آپ ہی جیسے کسی خبطی صارف کا انتظار کرتے ہوں گے۔ ایک جھٹکا نرسری والوں کو بھی لگے گا، ان کو وقت پڑ جائے گا کہ کہاں سے ڈھونڈ کر مطلوبہ مال گاہک کی خدمت میں پیش کیا جائے، یہ بھی دیکھیے گا کہ وہ فوری طور پر کوئی قیمت بتانے سے قاصر ہوں گے۔ اس لیے کہ ان پودوں کے گاہک اب آتے ہوں تو بھاؤ یاد رکھیں، ہاں سامنے پڑا اسی فائکس (بوہڑ اور پلکھن بھی فائکس ہیں) کا بونسائی پچاس ہزار میں آپ کو پیش کر دیا جائے گا۔ جو دکھتا ہے، وہ بکتا ہے۔

بونسائی کی روائتی تعریفوں کی روشنی میں وہ پودا کم ترین درجے کا بونسائی ہو گا کہ جس پر آپ پیوند کاری (گرافٹنگ) کریں اور اسے حسب ضرورت تیار کر لیں۔ بونسائی صبر مانگتا ہے اور بازار میں ملنے والا ریڈی میڈ بونسائی آٹھ دس سال میں گروتھ ہارمونز اور مصنوعی کھاد دے کر تیار کیا جاتا ہے۔ یہاں تک بھی ہو تو ہمیں کیا، مسئلہ تب ہوتا ہے کہ جب ایک فائکس پر دوسرے فائکس کا پیوند لگتا ہے۔ جو دیو قامت بونسائی آپ عموماً نرسریوں میں دیکھ رہے ہوتے ہیں ان میں یہی اسٹیرائیڈل برکتیں اور پیوند کاریاں بھری ہوتی ہیں۔ تنا فائکس کی جس نسل کا ہوتا ہے، اس کا پتا نسبتاً موٹا ہوتا ہے۔ جو شاخیں اور پتے اس پر آپ دیکھ رہے ہوتے image5ہیں وہ فائکس کی دوسری نسل کے ہوتے ہیں۔ جس وقت وہ بونسائی بنا، اس وقت تو بنانے والوں نے تنے سے نکلنے والے موٹے پتے اور شاخیں کاٹ دیں اور دوسری نسل کے باریک اور چھوٹے پتوں والی شاخیں لگا دیں۔ بونسائی تیار! جب وہ ایک دو برس بعد آپ کے گھر میں آئے گا تو نیچےسے اس کے اپنے پتے بھی پھوٹ پڑیں
گے اور آپ نے وقت پر چھنٹائی نہ کی تو کچھ عرصے میں پچاس ہزار کا پودا پانچ ہزار کی اوقات پر آ جائے گا۔

پھر ایک اور مسئلہ دھوپ چھاؤں کا ہے۔ تھائی لینڈ میں آب و ہوا زیادہ تر ایسی ہوتی ہے جیسے آپ کے یہاں جولائی اگست کا موسم، تو ان پودوں کو ہلکی ہلکی نمی ضرور چاہئے ہوتی ہے۔ یہ بے چارے وہاں ایک پتلے سے سبز نیٹ (جالی) میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں جسے ہم سہولت کے لیے گرین ہاؤس کہہ لیتے ہیں۔ اور اس سب کے ساتھ ساتھ مستقل ہوا کے لیے بڑے بڑے پنکھے تک نصب ہوتے ہیں، کئی دیگر باریکیاں ہوتی ہیں جن میں پڑنا مضمون میں اور موٹے موٹے الفاظ بھرنے والی بات ہو گی، وہاں سے نکلیے اور دیکھیے ہم کیا کرتے ہیں۔ ہم لوگ انہیں دن دیہاڑے ساڑھے بارہ سے چار کی دھوپ دیتے ہیں تو اس سے بھی ان کی حالت خراب ہوتی ہے۔ کوشش کیجیے کہ انہیں اس رخ رکھیے جہاں بارہ بجے کے بعد کی دھوپ ان پر کم رہے یا آئے ہی نا۔ اور چونکہ آپ خرید ہی چکے ہیں، یا خریدنے والے ہیں تو ایک بات کا دھیان اور رکھیے کہ ان کی مٹی خود تبدیل نہ کریں تو بہتر ہے۔ نرسری والوں سے کہیے وہ چار پانچ سو روپے میں بہترین تیار مکسچر آپ کو پیش کر دیں گے، بونسائی بھی خوش اور آپ بھی خوش۔

image2گذشتہ دو تین برس سے فائکس کے علاوہ اور پودوں کے بونسائی بھی آنے شروع ہوئے ہیں جن میں پیوند کاریاں نہ ہونے کے برابر ہیں، وہ واقعی کمال صنعت کا درجہ رکھتے ہیں۔ باقاعدہ شاخوں پر مطلوبہ شکل دینے کے لیے تاریں لگی ہوں گی، پودے میں کوئی جوڑ نظر نہیں آئے گا، اگر بڑی شاخیں کاٹی بھی ہوں گی تو اس خوب صورتی سے کہ آپ مشکل ہی سے کھوج لگا پائیں گے۔ جہاں سے کاٹا ہو گا وہاں ایک سوراخ سا بنا دیا جائے گا جیسے قدرتی طور پر درختوں میں ہوتے ہیں۔ پھر بعضے ایسے بھی ہوں گے کہ جن میں پھل اور پھول آتے ہوں گے، مثلاً ہبسکس کا بونسائی، ویسٹیریا کا بونسائی یا پھر وہ اپنے کروندے کے پودے کا بھی بونسائی بنا بنایا آپ کو نظر آ جائے گا۔

چودہ مئی ورلڈ بونسائی ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے تو اس خوشی میں ہم اگلی قسط میں کوئی دیسی سے بونسائی خود بنانے کی کوشش کریں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 150 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “تھائی لینڈ کی مٹی سونا ہے!

  • 07-05-2016 at 12:11 pm
    Permalink

    یہ قوم اگر پودوں اور پھولوں کے پیچھے ہی لگ جائے تو شاید کچھ بھلا ہو جائے، شاید طبائع میں نرمی اور “حسنین” نہیں تو “جمال” ہی آ جائے ۔۔۔۔ 🙂

Comments are closed.