انسان چھوٹا کیسے ہوا ؟


wajahat گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی کے دن تھے۔ دنیا بہت بڑی تبدیلیوں کی لپیٹ میں تھی۔ کہیں گورے اور کالے میں مساوات کی لڑائی تھی۔ کہیں عورت اور مرد میں برابری کے لیے جدوجہد تھی۔ امریکا سے فرانس تک درس گاہوں میں طلبا تعلیمی آزادیوں کے لیے ایسے شعلہ بجاں تھے کہ ڈیگال جیسے مرد آہن کو گھٹنے ٹیکنا پڑے۔ ناروا جنسی پابندیوں نے صدیوں سے انسان کے امکان پر قفل ڈال رکھے تھے۔ یہ زنجیریں بھی پگھل رہی تھیں۔ افریقہ کو غیر ملکی غلامی سے آزادی مل گئی تھی مگر مقامی چیرہ دستیوں کے ہاتھوں غربت اور خانہ جنگی کے سائے بدستور موجود تھے۔ابن انشا فاقہ زدہ بچوں کی تصویر دیکھ کر سوال کرتا تھا ”یہ بچہ کس کا بچہ ہے؟“۔ ہم جیسے دور افتادہ دیہاتیوں تک ویت نام کی خبریںمنو بھائی کی نظم اور شفقت تنویر مرزا کی تحریر سے پہنچتی تھیں۔ اندھیرا جس قدر گہرا ہو، خواب کے ستاروں کی چمک اسی قدر تیز ہو جاتی ہے۔ ہماری نسل بھی بہتر مستقبل کا خواب لیے لمحہ بہ لمحہ بدلتی صف بندی میں جا کھڑی ہوئی۔ انصاف اور آزادی کے لیے جدوجہد مقابلے کا امتحان نہیں ہوتی۔ انسان خواب دیکھتے ہیں، خواہ تعلیم یافتہ ہوں یا ان پڑھ، امیر ہو ںیا غریب۔ سعادت حسن منٹو نے لکھا تھاکہ ”امرتسر کی دیواروں پر انقلاب کے اشتہار لگاتے ہوئے اسے اپنے جذبوں کی سمت کا بھی صحیح اندازہ نہیں تھا“۔ نصف صدی بعد ہماری نسل کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ دور دراز کے ملکوں سے چھپ کر آنے والی کچھ کتابیں تھیں جو چھپ چھپا کر تقسیم ہوتی تھیں اور جنہیں پڑھ کر ہم فیض صاحب کے لفظوں میں گنگناتے تھے ”دوہاتھ لگے اور بیڑی پورم پارہوئی“۔ایسی ہی ایک کتاب تھی ”انسان بڑا کیسے بنا“۔ میخائل ایلین نے چھوٹی چھوٹی سائنسی حقیقتوں کے بارے میں ایسے ان گنت سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی تھی جو معصوم ذہنوں میں اٹھتے تھے۔ اردو ترجمہ زیادہ مو¿ثر نہیں تھا اور چربہ پسند ناشروں کی مہربانی کے طفیل املا اور بیان کی غلطیاں بہت زیادہ تھیں۔ ہمارے فرشتے بھی یہ غلطیاں پکڑنے کی استعداد نہیں رکھتے تھے۔ ہمیں تو یہ بھی خبر نہیں تھی کہ ابھی انسان بڑا نہیں بن سکا۔ وقت اور مقام بدلنے سے کبھی بڑا ہو جاتا ہے، کبھی چھوٹا رہ جاتا ہے۔ کبھی زقند اور جست کی منزلوں میں ہوتا ہے تو کبھی ایک قدم اٹھانے میں صدیاں گزر جاتی ہیں۔

فرانز کافکانے میٹا مارفوسس کا پہلا جملہ لکھا۔ ”گریگر سیمسا اس صبح اذیت ناک خوابوں سے بیدار ہوا تو اس نے خود کو اپنے بستر پر ایک بڑے مکڑے میں تبدیل ہوا پایا“۔ کافکا کی موت کے پچاس برس بعد انتظار حسین نے اردومیں ”کایا کلپ“ کے عنوان سے افسانہ لکھا۔ پہلا جملہ تھا”شہزادہ آزاد بخت نے اس روز مکھی کی جون kafka1906میں صبح کی“۔ یہ لکھنے والے بھی غضب ہوتے ہیں۔ بظاہر پرانی باتیں دہراتے ہیں مگر وقت کے بیجوں پر کندہ لکیریں پڑھ لیتے ہیں۔ اشتراکی روس کا ادیب میخائل ایلین انسان کے بڑا ہونے کا اعلان کر رہا تھا اور خط تنصیف کے دوسری طر ف ادیب تاسف میں تھا کہ انسان چھوٹا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سب باتیں مجھے گزشتہ دنوں کچھ ایسی تحریریں پڑھنے سے یاد آئیں جن میں ہمارے ہم وطن ادیبوں نے اپنے شہروں کو یاد کیا ہے۔ یاد آفرینی کی اس مشق میں یادش بخیر کا پہلو تو قدرتی ہے مگر یہ تاثر بھی بالکل واضح ہے کہ ہمارے ملک میں کہیں نہ کہیں کچھ ایسی خرابی واقع ہوئی ہے کہ اسد محمد خان، آصف فرخی اور زینت حسام جس کراچی کا ذکر کرتے ہیں وہ بدل چکا ہے اور اس کی نئی صورت ترقی اور بہتری کی نہیں، زوال اور مایوسی کی ہے۔ ملتان میں ڈاکٹر انوار احمد اپنے گمشدہ شہر کو یاد کرتے ہیں، سیالکوٹ کے اچھے دن مرحوم خالد حسن ضبط تحریر میں لائے، راولپنڈی کی باتیں شاہد ملک سے سنیں، پشاور کے نمکین کلچوں کو یاد کرنے والے بہت ہیں، حیدر آباد کے چائے خانوں کا ابراہیم جوئیو اور فہمیدہ ریاض سے پوچھئے۔سندھ کے سیاسی ابھار کی داستانیں حسن مجتبیٰ کے ناخنوں میں بھری ہیں۔ لاہور تو سولہویں صدی کی نور جہاں سے لے کر بیسویں صدی کے ناصر کاظمی تک اپنے عشاق کے ضمن میں ہمیشہ خوش نصیب رہا ہے۔ ان سب لوگوں کی یادوں میں محض گلی کوچے اور اینٹ پتھر کی عمارتیں نہیں، اچھے اور نیک لوگوں کی فہرستیں ہیں جیسے منڈیروں پر قطار اندر قطار چراغ رکھے ہیں ۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ان چراغوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔ ایسے جان پڑتا ہے جیسے ہم سب مل کر مارسل پراﺅست کا ناول  Remembrance of the Things Pastپھر سے لکھ رہے ہیں۔ پڑھنے والے نے اس سے نتیجہ نکالا کہ جب معاشرے پر زوال آتا ہے تو انسان چھوٹا اور بڑا نہیں ہوتا، انسانیت چھوٹی پڑنے لگتی ہے۔ پاکستان پر زوال آیا ہے۔ یوں ہم اپنی دف کے دفاع میں اور دوسروں پر دشنام دھرنے کے شوق میں جسے چاہیں ملزم بنا دیں ۔ مگر سچ یہ ہے کہ ہمارے چھوٹا ہو جانے کا سبب انفرادی غلطیاں نہیں، ہم نے اجتماعی ٹھوکر کھائی ہے۔ ہم نے قوم کی تعمیر کے بنیادی اصولوں سے انحراف کیا ہے۔

معاشرہ اپنا اخلاقی احتساب کرنے کی روایت چھوڑ دے تو انسان بالشتیے ہو جاتے ہیں۔ احتساب کے لیے جنون اور تعصب کی نہیں، تحقیق اور دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے متروکہ املاک کے جھوٹے دعوﺅں، چھوٹی بڑی جنگوں میں کارکردگی حتیٰ کہ ملک کے دولخت ہونے پر بھی اپنا احتساب نہیں کیا۔ جنرل یحییٰ خان نے1966 ءمیں کہا تھا ”قوموں کا مورال بلند رکھنے کے لیے کچھ جھوٹ قائم رکھے جاتے ہیں“۔ پچاس برس بعد ہم کہتے ہیں ”ہارو یا جیتو، ہمیں تم سے پیار ہے“۔ہشت نگر سے لے کر لیاقت باغ راولپنڈی تک ، ڈھاکہ سے کراچی تک، لاہور سے ڈیرہ بگتی تک ہم نے ابنائے وطن کے لہو کا احترام نہیں سیکھا۔ شہریوں کے تحفظ کی ضمانت موجود نہ ہو تو انسان چھوٹا رہ جاتا ہے۔ افلاس اور محرومی کا بنیادی نشان یہ ہے کہ اس سے انسانی احترام مجروح ہوتا ہے۔ انسان کا احترام ختم ہو جائے تو انسان چھوٹا رہ جاتا ہے۔ جب ہم ذاتی مفادات کے لیے احمقوں کے قصیدے پڑھتے ہیں تو ہم چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ ہم صحافی ہیں تو صحافت پر تنقید کو بارہ پتھر باہر قرار دیتے ہیں۔ وکیل ہیں تو کالے کوٹ کو قانون سے ماورا ہونے کا لائسنس سمجھتے ہیں۔ جنرل ہیں تو اپنے وردی پوش رفقا کو احتساب سے بچانے کے لیے ریٹائرمنٹ سے بھی واپس لے آتے ہیں۔ سرکاری اہلکار ہیں تو اپنے رفیقوں کی نااہلی پر پردے ڈالتے ہیں۔ سیاست دان ہیں تو جمہوریت کے نام پر بدعنوانی کی چشم پوشی کرتے ہیں۔ پیشہ ورانہ اور گروہی عصبیت کی ان صورتوں کی موجودگی میں ہم کس اخلاقی قامت پہ گھمنڈ کرتے ہیں۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں ۔ ہمارا جھوٹ پکڑا جاتا ہے اور ہم جھنجھلاہٹ میں ایسے مصنوعی غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں جو مزید تضحیک کا سامان پیدا کرتا ہے۔ دوسرے ملکوں اور منطقوں میں ناانصافی پر ہم خدائی فوج دار بن جاتے ہیںاور اپنے گھر میں ہونے والی ناانصافیوں پر تاویلیں پیش کرتے ہیں۔ ساٹھ برس سے ہماری انتظامیہ اور حکومتوں نے بلوچ، پختون، سندھی اور بنگالی قوم پرستوں کا بال بچہ کولہو میں گھان کرنے میں یدطولیٰ پایا ہے اور جو قاتل عمامہ پہن کر عربی بولتا ہوا نازل ہوتا ہے اسے ہم کبھی دوست کہتے ہیں اور کبھی فرزند۔ ہم منافق ہی نہیں، بزدل بھی ہیں۔ اخلاقیات کے جو خدوخال ہم نے تراشے ہیں وہ ناقابل عمل ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہم دوسروں کو بدکار سمجھتے ہیں اور اپنی پارسائی کا ڈھول پیٹتے ہیں۔ ریاکاری کا ناٹک کرنے والے چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ہمیں دوسروں کی زندگی میں سہولت پیدا کرنے کی فکر نہیں۔ کسی بیماری کا علاج ہم نے نہیں ڈھونڈا۔ کسی کو مسکراتا دیکھ لیتے ہیں تو ہمارے اخلاقی لحاف میں اذیت ناک بھونچال پیدا ہوجاتا ہے۔ کام کاج کے لئے دفتر جاتی خاتون کی موبائل فون سے خفیہ تصویریں لے کرانٹر نیٹ پر ڈال دیتے ہیں اور اس کارکردگی پر خود کو داد کا مستحق سمجھتے ہیں۔ ہم اجتماعی طور پر بالشتیے بن چکے ہیں اور اذیت میں ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “انسان چھوٹا کیسے ہوا ؟

  • 06-05-2016 at 6:41 pm
    Permalink

    bohat umda tehreer janab, Grager Samsa ki kahani kuch arsa pehlay parhee thee, aap kay column sey revise ho gai. Aap sachaai kay naqeeb hain, salamat rahain.

  • 07-05-2016 at 7:22 am
    Permalink

    “شہریوں کے تحفظ کی ضمانت موجود نہ ہو تو انسان چھوٹا رہ جاتا ہے۔ افلاس اور محرومی کا بنیادی نشان یہ ہے کہ اس سے انسانی احترام مجروح ہوتا ہے۔ انسان کا احترام ختم ہو جائے تو انسان چھوٹا رہ جاتا ہے۔ جب ہم ذاتی مفادات کے لیے احمقوں کے قصیدے پڑھتے ہیں تو ہم چھوٹے رہ جاتے ہیں۔”

    بہت خوب لکھا ہے، وجاہت بھائی! ہم لوگ باتوں کے “بڑے” ہیں اور عمل کے “بونے” ۔۔۔۔۔۔

    • 08-05-2016 at 4:26 pm
      Permalink

      Wajahat is like you too….NGO man , pride of performant so government man…..lets see..what he turns out next….

  • 07-05-2016 at 3:31 pm
    Permalink

    بہت خوب لکھا ہے آپ نے.

  • 08-05-2016 at 4:07 am
    Permalink

    معافی چاہتا ہوں جناب کہ آپ سے اختلاف کروں گا. ہم کبھی بھی بڑے نہیں تھے، ہم ہر دور میں ماضی کو بڑا بنا کر دکھاتے ہیں. ہزاروں برس سے ہند سند کی دھرتی بالشتیوں کو جنم دیتی آئی.

  • 09-05-2016 at 4:50 pm
    Permalink

    جب ہم ذاتی مفادات کے لیے احمقوں کے قصیدے پڑھتے ہیں تو ہم چھوٹے رہ جاتے ہیں۔
    یہ جملہ تجربات کا نچوڑ اور کتابوں پر بھاری ہے ۔

Comments are closed.