محمد کاظم …. علم کی بات، کل کی بات، ہوئی


image1میں نے کاظم صاحب جیسے عالم آدمی سے تعلق کو ہمیشہ اپنی کسی نیکی کا انعام جانا۔ میرا ان سے ملنا اس زمانے میں رہا جب ان کی زندگی کا سورج اتار کی جانب گامزن تھا۔ ساڑھے چار برس میں ان سے ملاقات زیادہ تر ان کے گھرمیں رہی لیکن کبھی کبھار وہ لاہور میں کتابوں کی مشہور دکان ”ریڈنگز“ پر آتے تو بھی ان سے ملنا ہو جاتا۔ ان سے تعارف اس انٹرویو کے ذریعے سے ہوا جو میں نے ایکسپریس سنڈے میگزین کے لیے کیا۔ اس دور کے ہمارے میگزین انچارج عامرہاشم خاکوانی اورمیرا، دونوں ہی کا خیال تھا کہ ایک تو صاحبان علم کو انٹرویو کیا جائے اوران میں سے بھی ترجیحاً وہ حضرات ہمارا ہدف ہونا چاہییں جوگوشہ نشین ہیں۔ ایک بار ایسے افراد کی فہرست بنائی تو اس میں کاظم صاحب کا نام سرفہرست رہا، جن کے بارے میں سنا تھا کہ کم آمیز ہیں، اور انٹرویونہیں دیتے۔ خیر! جی کڑا کر کے ایک دن کاظم صاحب کو فون ملایا اورمدعا بیان کیا۔ ایسا کورا جواب دیا کہ دوبارہ انٹرویو کی بات کرنے کی کوئی جرات نہ کرے۔ تھوڑے دن بعد ہم نے مسعود اشعر صاحب کا انٹرویو کیا جو انھیں اتفاق سے پسند آ گیا۔ ہم نے ان کے خود پر قائم اعتماد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، عرض کی کہ کاظم صاحب کا انٹرویو کرنے کی بڑی خواہش ہے، پر وہ مانتے نہیں۔ مسعود اشعر صاحب نے بڑے یقین سے کہا کہ بھئی! وہ مانتے کیوں نہیں، ہم ان سے بات کریں گے، ضرور دیں گے وہ انٹرویو۔ اس وقت تو ہم نے سمجھا کہ شاید مسعود اشعرصاحب اپنی دوستی پرکچھ زیادہ ہی بھروسہ کر کے یہ بات کر رہے ہیں مگر انھوں نے کاظم صاحب سے بات کی اورنہ جانے ان سے کیا کہا کہ وہ انٹرویو پر آمادہ ہو گئے۔ انٹرویو شائع ہوا تو کاظم صاحب کے خیالات لوگوں کو بہت پسند آئے، اور سچی بات ہے مجھے پھر کبھی کاظم صاحب کے انٹرویو جتنا فیڈ بیک نہ ملا۔ کاظم صاحب بھی اس کاوش سے خوش ہوئے۔ ایک دن ازراہ تفنن کہنے لگے کہ آپ نے مجھے مشہور کر دیا اورمیری سوسائٹی کے لوگوں کو اب معلوم ہوا ہے کہ میں کوئی پڑھا لکھا آدمی ہوں۔ چوکھٹوں کی صورت میں اپنے خیالات کی پیشکش انھیں بے حد پسند آئی۔

میرے ساتھ بات چیت میں کاظم صاحب نے جماعت اسلامی چھوڑنے کی وجوہات پرجس دن روشنی ڈالی، اس سے اگلے روز فون پر مجھ سے کہنے لگے کہ جماعت سے متعلق ان کی باتیں شائع نہ کی جائیں تو بہتر ہے، کہیں جماعت والے برا نہ مان جائیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے مسئلہ پیدا ہو اوراب توجماعت اسلامی کے کردار پر اس سے کہیں زیادہ تند لہجے میں لکھا اور بولا جاتا ہے اور یوں بھی آپ نے ذاتی حوالے سے بات کی ہے۔ انھوں نے میری بات مان لی۔ کاظم صاحب نے ایک بار بتایا کہ ابوالخیرمودودی کے بارے میں ان کی یادداشتوں کو ممتازادیب شمس الرحمٰن فاروقی نے جماعت اسلامی (انڈیا) کی ناراضی کے ڈر سے اپنے رسالے ”شب خون“میں چھاپنے سے معذرت کرلی تھی۔ یہ تحریر بعد میں ”سمبل “ میں علی محمد فرشی نے جوں کی توں چھاپ دی۔

(اس بارے میں جناب شمس الرحمٰن فاروقی کا موقف ہے ”صرف جماعت اسلامی نہیں، مولانا مودودی مرحوم کے مداح اور بھی بہت سے اس ملک میں ہیں۔ لیکن میرا اصول رہا ہے کہ ”شب خون “ میں کوئی ایسی بات نہ چھپے جس پرذاتیات کا شبہ ہو۔ کاظم صاحب مرحوم کی سب باتیں ان کی اپنی معلومات اور تجربے پرمبنی تھیں، ان میں جھوٹ کا شائبہ مجھے کہیں نہ ملا تھا۔ لیکن آبگینوں کو ٹھیس نہ لگے اور خاطراحباب کا خیال رہے، یہ ہمیشہ میرا دستور رہا)

 کاظم صاحب کے فکری سفر کا آغاز مولانا مودودی کی تعلیمات کے زیر اثر ہوا۔ ”پردہ“ سمیت مولانا مودودی کی چھ کتابوں کو انھوں نے اردو سے عربی میں ترجمہ کیا۔ بعد ازاں جماعت اسلامی اوراس کے بانی سے جن دو وجوہات کی بنیاد پر وہ دور ہو گئے، ان کے بارے میں انھوں نے انٹرویو میں بتایا:

13162352_10153419210976529_1554446428_n ”مولانا امین احسن اصلاحی کے جماعت سے الگ ہونے پر جماعت کی علمی فضا متاثر ہوئی۔ جماعت میں وہ لوگ زیادہ نمایاں ہو گئے جن کا ذہن علمی سرگرمیوں کے بجائے سیاست میں زیادہ چلتا تھا جس سے جماعت کا مزاج اسلامی اور اصلاحی کی بجائے سیاسی ہوتا گیا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ 1964ء میں میرے آٹھ سالہ بیٹے کا انتقال ہوا جس کی موت نے مجھے توڑ کر رکھ دیا۔ اس صدمے پر ان لوگوں نے میری دلجوئی کی جن سے نظریاتی اعتبارسے میرا اختلاف تھا لیکن اگر کسی نے میرے ساتھ تعزیت نہ کی اور مشکل کی اس گھڑی میں میری خبرنہ لی تووہ جماعت اسلامی تھی۔ مولانا مودودی نے اظہار افسوس کے لیے نہ مجھے خط لکھا نہ ہی کسی ذریعے سے پیغام دیا، اور نہ مجھ سے مل کرافسوس کیا حالانکہ میں مولانا مودودی کی بیشتر تحریروں کا اردو سے عربی زبان میں ترجمہ کر چکا تھا اور ان سے خاصے عرصہ سے میرا تعلق تھا۔ اس زمانے میں مغربی فلسفہ کا بھی خوب مطالعہ کیا تو کچھ اس کا بھی اثرتھا کہ میں جماعت اسلامی کے اثرسے نکل گیا۔

مولانا مودودی کوجب میری ناراضی کی اطلاع ملی تو انھوں نے مجھے کھانے پر بلایا اور کہا کہ ’میں اس لیے آپ سے تعزیت کے لیے نہ آسکا کہ آپ سرکاری ملازم ہیں، میرے ملنے سے کہیں آپ حکومت کی لسٹ میں نہ آ جائیں، کراچی میں میرا برادر نسبتی بھی سرکاری ملازم ہے، میں اس سے ملنے سے بھی مجتنب رہتا ہوں۔ ‘ اس بات نے مجھے مطمئن نہ کیا اور مجھے یہ عذر لنگ ہی لگا۔ اس کے بعد وہ آمدم بر سر مطلب پر آ گئے اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ تفہیم القران کا عربی میں ترجمہ کریں۔ وہ مجھ سے ترجمہ اس لیے کروانا چاہتے تھے کہ عربوں نے ترجمے کے لیے میرا نام تجویز کیا لیکن اب میں یہ کام کرنا نہ چاہتا تھا۔ مولانا مودودی مصررہے اور میں ٹالتا رہا۔ میں نے ان کو بتایا کہ جدید عربی ادب پڑھنے سے میرا اسلوب اب پہلے والا نہیں رہا۔ اس پر مولانا مودودی کہنے لگے، آپ یہ بات مجھ سے نہ کہیں، میں جانتا ہوں آپ کسی بھی زمانے کی عربی لکھ سکتے ہیں۔ میں نے سرکاری مصروفیات کا بھی عذرکیا لیکن وہ مانے نہیں، اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ قاہرہ سے کاظم کو اہم تفاسیر منگوا کر دیں لیکن وہ تفاسیر مجھ تک نہ پہنچیں اورنہ ہی اس کے بعد انھوں نے مجھ سے ترجمے کے بارے میں کہا۔ وہ بڑے ذہین آدمی تھے، انھوں نے اندازہ کر لیا تھا کہ میں اب یہ کام نہیں کروں گا کیونکہ جب پہلے مجھے مودودی صاحب کے کام کا ترجمہ کرنے کو کہا جاتا تو میرے چہرے پر چمک آجاتی۔ اب وہ کہہ رہے تھے تو میں انکار کررہا تھا۔ “

13113046_10153419209346529_981012388_oعجب بات ہے، کاظم صاحب اگر فکری سفرکے ابتدائی زمانے میں مولانا مودودی کی کتابوں کا ترجمہ کرتے رہے تو زندگی کے آخری برسوں میں ان کے فکری مخالف ڈاکٹرفضل الرحمٰن کی تین کتابوں کو مسعود اشعرصاحب کی تحریک پر انھوں نے انگریزی سے اردو میں منتقل کیا۔ یہ کتابیں”مشعل“ نے ”اسلام اور جدیدیت“، ”قران کے بنیادی موضوعات“ اور”اسلام“ کے نام سے شائع کیں۔ کاظم صاحب کا عربی زبان سے ناتا دو اتفاقات کا مرہون منت رہا۔ ان میں سے ایک انھیں وقتی طورپرعربی سے دور لے گیا تو دوسرے اتفاق نے اس زبان سے اٹوٹ تعلق کی بنیاد رکھ دی۔ ان دو واقعات کے بارے میں انٹرویو میں تومختصراً بتایا لیکن” ایکسپریس“ نے جب معروف شخصیات کی زندگی کے دو تین یادگارواقعات پر مشتمل سلسلہ ”بھلا نہ سکے“ شروع کیا تو اس کے لیے میں نے کاظم صاحب کو زحمت دی تو انھوں نے عربی سے اپنے شغف کی بنیاد سے متعلق دو واقعات کو قدرے تفصیل سے بیان کیا۔

 محمد کاظم کے بقول: ”انسان کی زندگی میں کوئی ایک ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو اس کی زندگی کا دھارا ہی بدل کے رکھ دیتا ہے۔ ایسا واقعہ مجھے اس وقت پیش آیا جب میں آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرکے نویں جماعت میں داخل ہوا۔ ہمارا سکول واقع احمد پورشرقیہ میں آٹھویں جماعت کا امتحان ریاست بہاولپور کا ایک بورڈ لیتا تھا۔ میں اس امتحان میں اونچے نمبر لے کر کامیاب ہوا تھا اور اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ نویں جماعت میں اختیاری مضمون کے طور پر میں نے عربی کا انتخاب کیا۔ انھی دنوں میرے گھروالوں کو کسی وجہ سے بہاولپورجانا پڑا۔ آٹھویں جماعت میں میری اعلیٰ کارکردگی کی اطلاع وہاں میرے بزرگوں کو پہلے ہی مل چکی تھی۔ میرے اہل خانہ مجھے ایک ماموں سے ملانے کے لیے لے گئے جو بہاولپور کی عدالت میں جج کے عہدے پر فائز تھے۔ ماموں نے میری پیٹھ تھپکی اورمجھے شاباش دی۔ ساتھ ہی انھوں نے مجھ سے پوچھا، اچھا تو اب نویں جماعت میں کون سا مضمون لینے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا عربی کا مضمون میں نے لے بھی لیا ہے۔ اس پر وہ جلال میں آ گئے اور سرائیکی میں اپنی گونج دارآوازمیں پکارے، ”کیناں کیناں (بالکل نہیں، بالکل نہیں) تمھیں سائنس کا مضمون لینا ہو گا۔ اب براہ مہربانی واپس جا کرعربی کے بجائے سائنس کا مضمون لو۔ تمھیں آگے بھی سائنس ہی پڑھنی ہے۔ “ میرے یہ ماموں بڑے دبدبے والے تھے۔ انھوں نے جس طرح مجھے عربی کا مضمون لینے سے روکا مجھے یوں لگا جیسے میرے متعلق یہ حکم ان کی عدالت سے صادر ہوا ہے، جس سے سرتابی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ میں نے احمد پورشرقیہ واپس آ کر میٹرک میں سائنس کا مضمون لے لیا۔ میٹرک کرنے کے بعد ایف ایس سی کے امتحان میں میری فرسٹ ڈویژن نہ آ سکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انجینئرنگ میں داخلے کے لیے بہاولپور میں جو مقابلہ ہوا میں اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ میرے بزرگ مجھے انجینئرنگ میں بھیجنے پر بضد تھے۔ انھوں نے مجھے علی گڑھ یونیورسٹی بھیج دیا تا کہ وہاں انجینئرنگ میں داخلے کے لیے امتحان میں شامل ہو کر قسمت آزمائی کروں۔ اس امتحان میں خوش قسمتی سے میری کارکردگی اچھی رہی اوراس پر میں انجینئرنگ کی کلاس میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گیا۔ اب میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم لوگ ان دنوں ماموں سے ملنے نہ جاتے اورمیٹرک میں اختیاری مضمون کے بارے میں ان کا حکم نہ سنتے تو یہی ہونا تھا کہ میں میٹرک اورایف اے اوراس کے بعد بی اے میں عربی پڑھتا چلا جاتا اورشاید بی اے یا ایم اے کے بعد کسی سکول کا ہیڈ ماسٹر یا کسی کالج میں لیکچرارکے عہدے پرتعینات ہو جاتا۔ اس ایک واقعہ نے میری زندگی کا دھارا ہی بدل دیا اور مجھے ایک ٹیچر کی بجائے انجینئر بنا دیا۔

13128877_10153419209871529_1932690520_oایک عجیب اتفاق ہے اور اتفاق سب عجیب ہی ہوتے ہیں۔ میرے عربی زبان سیکھنے کی ابتدا علی گڑھ سے ہوئی۔ یہ اتفاق یوں ہوا کہ ہمارے انجینئرنگ کورس کے دوسرے سیشن میں ہمیں موسم گرما کی صرف دس چھٹیاں دی گئیں۔ میں نے سوچا کہ اتنی محدود تعطیلات میں دور دراز کا سفر کر کے بہاولپور جانا اور واپس آنا، اس میں زحمت زیادہ ہو گی اور گھر والوں کے ساتھ چند ہی روز گزارنے میں کوئی زیادہ طمانیت حاصل نہیں ہوگی۔ چناں چہ میں نے ان چھٹیوں میں ہوسٹل ہی میں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہی دنوں میں نے کسی اخبار میں ندوة العلما لکھنو کے کسی ادارے کی طرف سے عربی سکھانے کے لیے ایک کتابچے کا اشتہار دیکھا۔ کتابچے کا نام تھا ”عربی زبان کے دس سبق“ میں فارغ تو تھا ہی، سوچا کہ لاﺅ ان دنوں میں عربی کے یہ دس سبق ہی پڑھ لیتے ہیں۔ کتابچہ میں نے منگوا لیا، اور اس کے ہاتھ میں آتے ہی اسے تن دہی سے پڑھنا شروع کر دیا۔ میں نے دو دو سبق روزانہ پڑھ کے اور ان کی مشقیں حل کرکے اسے پانچ ہی روز میں ختم کردیا۔ یہ رسالہ ختم کرکے میں نے اپنے اندر ایک عجیب چیز محسوس کی۔ میں نے محسوس کیا کہ عربی زبان میرے لیے کسی طرح بھی اجنبی نہیں ہے۔ اس کے جراثیم میرے اندر کہیں موجود ہیں۔ چناں چہ اسے پڑھتے ہوئے مجھے لگتا ہے جیسے میں اپنی مقامی زبان میں سے کوئی زبان پڑھ رہا ہوں۔ اس رسالہ کی پشت پر چند دوسری کتابوں کا اشتہار تھا۔ قرآن مجید کی پہلی کتاب، قرآن مجید کی دوسری کتاب اور تسہیل العربیہ وغیرہ۔ میں نے یہ کتابیں بھی منگوالیں اور انہیں پڑھنا شروع کر دیا۔ یہ تین چار کتابیں پڑھنے کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں میرے اندر اتنی استعداد پیدا ہو گئی کہ میں یونیورسٹی لائبریری میں جا کر خلیجی ریاستوں کا ایک رسالہ ”العرب“ پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ میں اسے پوری طرح سمجھ تو نہیں پاتا تھا، لیکن اس میں سے بعض خبریں اور فیچر میں عربی اردو لغت کی مدد سے پڑھ کر سمجھ لیتا تھا، اور خوش ہوتا تھا کہ میں ایک عربی رسالہ پڑھنے کے قابل ہوگیا ہوں۔ انہی دنوں مولانا ابوالحسن علی ندوی کا ایک سلسلہ کتب ”قصص النبین الاطفال“ (بچوں کے لیے انبیاء کے قصے) بہت ہی آسان زبان میں لکھا ہوا میرے ہاتھ لگا۔ میں نے یہ سلسلہ بھی بڑے شوق اور انہماک سے پڑھ ڈالا۔ اب عربی زبان میرے دل میں گھر کر گئی تھی اور میں اسے کسی حال میں نہ چھوڑ سکا۔ انجینئرنگ کے آخری امتحان کے دنوں میں بھی میرا دستور العمل یہ رہا کہ جب میں ایک پرچہ دے کر ہوسٹل آتا، تو سب سے پہلے ایک دو گھنٹے عربی پڑھتا اور اس کے بعد اگلے دن کے پرچے کی تیاری شروع کرتا۔ ایک دن میرے روم میٹ نے حیران ہوکر پوچھا کہ اس امتحان میں کامیاب ہونے کے بارے میں آپ کا کیا ارادہ ہے؟ میں نے کہا جب تک واپس آ کر میں کچھ دیر کے لیے عربی نہ پڑھوں اگلے مطالعے کے لیے میرا ذہن ہی نہیں کھلتا۔ وہ میری عجیب سی منطق سن کر حیران ہوا اور خاموش ہوگیا۔ میں اگر چھٹیوں میں علی گڑھ یونیورسٹی سے گھر چلا جاتا تو نہ تو عربی سیکھنے سے متعلق اشتہار میری نظر سے گزرتا اور نہ ہی شاید عربی زبان میں میری دلچسپی قائم ہوتی۔ “

 کاظم صاحب کے تبصروں پرمشتمل کتاب ”کل کی بات“ کی اشاعت میں میرا بھی کردار رہا۔ ان سے ایک دن پوچھا ”آپ کو فنون میں چھپے تبصروں کو کتابی صورت
میں چھپوانے کا خیال نہیں آیا؟“ کہنے لگے ”پبلشر سے ایک بار کہا تو اس نے جواب دیا، کاظم صاحب! تبصرے کون پڑھتا ہے۔“ تقاضے پر اپنے تبصرے پڑھنے کے واسطے دیے جو میری وساطت سے محمد سلیم الرحمن صاحب کی نظرسے گزرے تو انھیں پسند آئے اور انھوں نے القا پبلیکشنزسے انھیں کتابی صورت میں شائع کرنے کی سفارش کر دی اور ”کل کی بات“ سامنے آ گئی۔ احمد ندیم قاسمی سے ان کو گہرا تعلق خاطر تھا۔ وہ اگر اردو کے صاحب طرز ادیب بنے تواس میں احمد ندیم قاسمی اور” فنون “کا بنیادی کردارتھا۔ اردو میں ان کا جو کام کتابی صورت میں سامنے آیا ہے، اس میں سے بیش تر ”فنون“ میں چھپا۔ احمد ندیم قاسمی کے بارے میں وہ خاصے حساس تھے، فتح محمد ملک نے جب ان کے، اپنے نام وہ خطوط شائع کردیے جن میں نجی معاملات کا ذکرتھا اور کچھ ناگفتنی باتیں بھی توکاظم صاحب بڑے مضطرب اور خفا نظر آئے۔

 محمد خالد اختر کے ساتھ ان کا گہرا یارانہ رہا، انھیں کے زیراثر انگریزی ادب کی طرف راغب ہوئے۔ محمد خالد اختر میرے بھی پسندیدہ ادیب ہیں، اس لیے اکثرگفتگو میں ان کا ذکر آتا۔ کاظم صاحب کی لاہور میں کار چوری ہوئی اور اس کی تلاش کے لیے پشاور کے کئی چکر انھوں نے لگائے جو بے سود رہے۔ اس کار میں محمد خالد اخترکی ایک کتاب کا مسودہ بھی تھا جس کی نقل بھی نہیں تھی۔ کاظم صاحب بتایا کرتے کہ آفرین ہے ان کے دوست پر جس نے کبھی اشارتاً بھی مسودے کی گمشدگی پر 13140554_10153419210711529_979185628_nتاسف ظاہر نہیں کیا اورہمیشہ گاڑی کے بارے میں پوچھا۔ ایک بار بتایا کہ خالد اختر نے یادداشتیں لکھنا شروع کیں اور ابھی اپنے والد صاحب کے بارے میں ہی اپنے خاص اسلوب میں لکھا تھا کہ وہ تحریر ان کی بہنوں کے ہاتھ لگ گئی تو انھوں نے خفا ہو کر ان سے کہا کہ تم کو پڑھا لکھا کراس دن کے لیے بڑا کیا تھا کہ باپ کی بے عزتی کرتے پھرو؟ یہ بات بتاتے ہوئے کاظم صاحب نے تبصرہ کیا کہ ہمارے ہاں سچی آپ بیتی لکھنے کے ضمن میں معاشرتی دباﺅ لکھنے والے پر اس طریقے سے بھی رہتا ہے۔ ایک بار بڑے مزے سے سنایا کہ ایک بارمحمد خالد اختر نے جب انھیں بتایا کہ وہ نماز پڑھ کر آ رہے ہیں تو کاظم صاحب نے ہنستے ہوئے ان سے کہا کہ تم کو آج نماز کا خیال کیسے آ گیا، تو معلوم ہوا بیمار بیٹے کی صحت یابی کی دعا کے لیے نماز پڑھی ہے۔ محمد خالد اختر کے نماز پڑھنے نے جس طرح کاظم صاحب کو حیران کیا، اس طرح ’اجمل کمال، مولانا روم کے مزار پر ان کو روتا دیکھ کرحیران ہوئے اور پوچھا کہ یہ ایک دم سے آپ کو کیا ہو گیا؟ تو اس کا جواب جن کو ایک دم سے کچھ ہو جاتا ہے، ظاہر ہے کہ ان کے پاس نہیں ہوتا اور جن کو زندگی بھر ایک دم کچھ نہیں ہوتا، ان کے لیے اس کیفیت کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایک بارمحمد خالد اختر کا بیٹا گاڑی کے ٹائی راڈ کھل جانے کے باعث حادثے سے بال بال بچا تو اس واقعہ کے بارے میں کاظم صاحب کو بتاتے ہوئے، انھوں نے لکھا ”منصوراب میرے کہنے پر شکرانے کے نفل پڑھ رہا ہے (اور اپنے Paganism کے باوجود میں بھی پڑھوں گا) زندگی جس پرہم اتنا بھرم رکھتے ہیں، بالکل غیر یقینی (Uncertain) ہے۔ “

 2011 ء میں میرا ارادہ بنا کہ اردو میں تبصروں پرمشتمل رسالہ جاری کیا جائے۔ اس ضمن میں جن احباب سے تبصرے کے لیے درخواست کی ان میں سے اکثر نے لیت ولعل سے کام لیا۔ صرف چند ایک ہی ایسے نکلے جنھوں نے تبصرے کی ہامی بھری اور پھروعدہ نبھایا بھی۔ کاظم صاحب اس معاملے میں سب سے کھرے ثابت ہوئے۔ انھوں نے میری تجویز کردہ کتاب پر بہت جلد تبصرہ کر کے میرے حوالے کر دیا۔ کمپوزنگ کے بعد پروف بھی خود دیکھے۔ رسالہ بوجوہ نکل نہیں سکا، اس لیے ان کا نیر مسعود کے مضامین پر تبصرہ ایک امانت کی صورت میرے پاس محفوظ ہے۔ نیرمسعود نے کتاب میں شامل ایک مضمون میں اپنے عزیز دوست اور ممتازمحقق رشید حسن خان کی تدوین کردہ مثنویات شوق پر’خواہش زدہ تحقیق‘ کے عنوان سے مضمون میں کڑی تنقید کی ہے۔ نیرمسعود نے رشید حسن خان کی تحقیق میں جن کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی ان کی کاظم صاحب کو، ان جیسے پائے کے محقق سے توقع نہیں تھی، اس لیے وہ انھیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”جہاں تک میں نے اس معاملے پر غور کیاہے مجھے لگتا ہے کہ یہ مضمون رشید حسن خان نے اپنی بڑھتی ہوئی عمرکے اس زمانے میں لکھا ہے جب ان میں زیادہ تحقیق وتدقیق کی مشقت جھیلنے کی طاقت نہیں رہی ہو گی۔ بڑھاپے کی کمزوری کیا ہوتی ہے، یہ کوئی مجھ سے پوچھے کہ آج کل میں خود اس منزل سے گزر رہا ہوں، اور حالت یہ ہے کہ ایک دن جو پڑھتا ہوں دوسرے دن وہ لوح ذہن سے مٹ جاتا ہے اور لوگوں اور کتابوں کے نام تک یاد نہیں رہتے۔ “بڑھتی عمر، بیماری اورقریبی دوستوں کے رفتہ رفتہ گزر جانے سے کاظم صاحب کبھی کبھی کچھ ایسی باتیں بھی کرتے، جن سے مایوسی جھلکتی اورلگتا کہ ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی عمرکا سفینہ کنارے پر آ لگا ہے۔ زندگی کے آخری برسوں میں قرآن مجید کے ترجمے میں منہمک رہے، جس کی اشاعت میں تاخیرنے انھیں خاصا بے چین کئے رکھا۔ صد شکرکہ قرآن پاک کا ان کے قلم سے ہونے والا سلیس اور رواں ترجمہ ان کی زندگی میں ہی چھپ کرسامنے آ گیا۔

ایک باران کے ہاں جانا ہوا توبتایا کہ کچھ ہی دیرقبل وہ کسی طالب علم کے، جو ان پرمقالہ لکھ رہا ہے، بیس سوالوں کا جواب لکھ کرفارغ ہوئے ہیں۔ یہ جوابات دکھائے اور ان کی نقل مجھے بھی دی۔ ان میں سے دوجوابات کے ذریعے سے ان کا ادبی نقطہ نظرواضح ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں ”میں کسی خاص نظریاتی تحریک سے متفق اورمتاثرنہیں ہوں۔ ہرنظریاتی تحریک میں مجھے جو باتیں اچھی لگتی ہیں انھیں قبول کر لیتا ہوں اوران کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہوں ٭ میرانظریہ فن کچھ نہیں ہے، فن تو فن ہوتا ہے جس کی بنیاد ذوق جمال (aesthetic sense)ہے۔ وہ کسی نظریے کے تحت تخلیق نہیں کیا جاتا۔ فن کا مقصد پڑھنے والوں کو مسرت پہنچانا ہوتا ہے۔ “

13153289_10153419209886529_241531450_n ہمارے ہاں کے کئی صاحبان علم کے صاحب تصنیف ہونے میں ان کی تکمیلیت پسندی حائل رہی ہے۔ بہت سوں نے اگر رسالوں میں کچھ چھپوا لیا تو کتابی صورت میں لانے سے پہلے ان میں اضافے ہی کرتے چلے گئے اورتسلی پھر بھی نہ ہوئی۔ اس قبیل کے لوگوں میں ہری پورہزارہ میں مقیم محمد ارشاد بھی شامل ہیں، جن کی علمیت کا اندازہ” فنون “میں ان کے مضامین سے اہل علم کو بخوبی ہوگیا تھا۔ وہ اگرکتاب کے مصنف بنے ہیں تو اس کا سارے کا سارا کریڈٹ محمد کاظم کے سر ہے، جنھوں نے محمد ارشاد کو رباعی سے متعلق کتاب چھپوانے کی تحریک دی، مسودہ پڑھا، اسے پسند کیا، اورپھر چھاپنے کے لیے پبلشر پر زور دیا۔ محمدارشاد نے پیش لفظ کے آخری پیراگراف میں اپنی کتاب کی اشاعت میں کاظم صاحب کے کردار کا فراخدلانہ اعتراف کیا ہے۔

کاظم صاحب نے زندگی بھرجو بھی کام کیا وہ قدر اول کے زمرے میں آتا ہے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی چھ کتابوں کو انھوں نے اردو سے عربی میں ترجمہ کیا، جن کو عرب دنیا میں بھی پذیرائی ملی۔ سید سلیمان ندوی، مسعود عالم ندوی، مولانا مودودی، ابو الخیر مودودی اور خورشید رضوی جیسے عالموں نے عربی میں ان کی دستگاہ کو مانا۔ ان کے اردو مضامین کی داد اس زبان کے جید ادیبوں نے دی۔ ”مغربی جرمنی میں ایک برس“ کو اردو کے بہترین سفرناموں میں شمارکیا جا سکتا ہے۔ تبصرے لکھے تو انگریزی کے دو ممتاز تبصرہ نگاروں محمد سلیم الرحمن اور خالد احمد نے تحسین کی۔ ترجمے کا کام انھوں نے تین زبانوں میں انجام دیا۔ عربی سے اردو، اردو سے عربی اور انگریزی سے اردو، ان تینوں طرح کے ترجموں میں اس فن کے ماہرین سے داد وصول کی۔ اردو مضامین کا باقاعدہ آغاز ”فنون“ میں الف لیلہ پرمضمون سے کیا۔ ابوالخیرمودودی نے اس مضمون کو پڑھ کر کاظم صاحب سے کہا ”آپ نے یہ مضمون بڑی محنت سے لکھا ہے۔ “ کاظم صاحب کے بقول ”بعد میں ہم نے جانا کہ ان کا اتنا کہہ دینا ہی ان کی بھرپورتحسین کا انداز تھا۔“ اس مضمون کی اشاعت سے قبل قاسمی صاحب سے پوچھا کہ کیا یہ ”فنون “کے معیار پر پورا اترتا ہے توجواب ملا کہ یہ” فنون “کے معیار سے کچھ اونچا ہی ہے۔ عربی کے عالم خورشید رضوی کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہوگیا کہ مضمون میں ادیب محقق پرغالب ہے یا محقق ادیب پر۔ ”مضامین۔ عربی ادب میں مطالعے“ کا انتساب ابو الخیر مودودی کے نام ہے۔ کاظم صاحب کتاب پیش کرنے گئے تو وہ صاحب فراش تھے۔ پہلے صفحے پر اپنا نام دیکھ کر کاظم صاحب سے کہنے لگے ”آپ نے مجھے بھی مولانا بنا دیا۔ اس پرکاظم صاحب نے جواب دیا ”میں نے کئی بارسوچا کہ آپ کے نام کے ساتھ مولانا لکھوں یا نہ لکھوں پھرمجھے خیال آیاکہ یہ لقب کہیں تو صحیح استعمال ہونا چاہیے۔“ کاظم صاحب کی مولانا مودودی سے قربت رہی لیکن بعد میں دوری ہوگئی مگر ان کے بڑے بھائی ابوالخیرمودودی سے ان کی وفات تک مراسم رہے۔ کاظم صاحب کو اپنی کتابوں میں ”عربی ادب میں مطالعے“ سب سے بڑھ کر پسند تھی۔ کچھ باتیں اب اس کتاب کے بارے میں بحوالہ ڈاکٹرخورشید رضوی، جنھوں نے” فنون“ میں اس کتاب پر نہایت عمدہ مضمون لکھا تھا جس سے ایک اقتباس نقل کرتا ہوں تاکہ کتاب کی اہمیت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ ہوسکے۔

13128643_10153419210086529_141652937_o”عربی ادب کے منتشر موضوعات پراس نوعیت کی کتاب اردوتوخیرعربی میں بھی کم کم ملے گی۔ ایسا آدمی ان کے ہاں بھی عام نہیں جو امراﺅالقیس اورمحمود درویش دونوں پر یکساں اعتماد، سہولت اوربصیرت کے ساتھ لکھے۔ جدید سے رغبت رکھنے والوں کو عموماً قدیم سے کچھ سروکارنہیں اورقدیم کے چاہنے والے جدید کو مہمل جانتے ہیں۔ ہاں طہ حسین کی بعض کتابوں خصوصاً فصول فی الادب والنقد اور حدیث الاربعا سے مجھے اس کتاب کی گہری مماثلت کا احساس ہوا۔ کیونکہ یہاں بھی نقطہ نظر کا وہی اچھوتا پن، اسلوب کی وہی سلاست، استدلال کی وہی براقی ودل نشینی، نظرکی وہی وسعت اورموضوعات کا وہی تنوع دکھائی دیا جو طہ حسین کا خاصہ ہے۔ “

اس تبصرے سے کاظم صاحب بہت خوش ہوئے، جس کا اندازہ ان کے اس خط سے ہوتا ہے، جوتبصرے کی اشاعت کے بعد خورشید رضوی کو انھوں نے لکھا”فنون کے تازہ شمارے میں اپنی کتاب ”مضامین“ پر آپ کا مقالہ پڑھا اور بے حد شرمندہ اور embarrassed ہوا۔ آپ نے اس کتاب کے مندرجات کو جس توجہ اورعنایت سے پڑھا ہے، اور پھر ان میں سے جو لطیف اور باریک نکتے برآمد کئے ہیں، وہ دلیل ہے، اس محبت کی جو آپ کو نہ صرف عربی زبان وادب سے ہے، بلکہ اس ناچیزسے بھی ہے۔ آپ کا یہ مضمون پڑھ کرمجھے یوں لگا جیسے مجھے اس سے زیادہ داد ملی ہے جس کا میں مستحق تھا۔“ دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیل جبران کو بطور ادیب خورشید رضوی زیادہ گردانتے ہیں اور نہ ہی کاظم صاحب ان کو اہمیت دیتے۔ خورشید رضوی کا کہنا ہے کہ خلیل جبران کوشش کے باوجود ان سے تو پڑھا نہیں گیا۔ جبران کے تخلیق کردہ ادب کے بارے میں اس کے ایک دوست نے ایک بار رائے دی تھی کہ اس میں ایک بدمزہ اوررقت آمیز جذباتیت کے اور کچھ نہیں۔ یہ حوالہ کاظم صاحب نے اپنے مضمون میں نقل کیا اور اس کے بعدان الفاظ پرصاد کرکے بات ختم کردی۔

 کاظم صاحب کو مطالعے اور پھر اس میں اوروں کو شریک کرنے کا بہت خیال رہتا جس کی ایک صورت تبصرے بھی ہیں مگر وہ ذاتی طور پر بھی دوست احباب کو اپنی پسند کی تخلیقات کے بارے میں بتاتے اوران سے کسی کتاب کی تعریف سن کر اسے پڑھنے کا اشتیاق ان کے ہاں پیدا ہو جاتا۔ معروف افسانہ نگارہاجرہ مسرورکے ایک خط سے پتا چلتا ہے کہ کاظم صاحب ہی نے سولزے نتسن کی کتاب ”کینسروارڈ“ پڑھنے کے لیے انھیں تجویز کی تھی۔ ایک بار مجھے بتایا کہ وہ اپنے ایک دیرینہ دوست سے جب بھی ملنے جائیں، ان کے لیے کتاب لے کرجاتے ہیں۔ کسی اخباررسالے یا دوست کے ذریعے نئی کتاب کا پتا چلتا تومجھے اسے لانے کے لیے کہہ دیتے اورمیں انھیں مطلوبہ کتاب فراہم کر دیا کرتا۔ وفات سے چند دن قبل بھی ان کا فون آیا اورمجھ سے خوشونت سنگھ کے ناول” ٹرین ٹوپاکستان“ اورمحمود ہاشمی کا سفرنامہ ”کشمیراداس ہے“ کی فرمائش کی، کتابوں کوان تک پہنچانے کی سوچ میں تھا کہ اطلاع ملی کہ وہ بیمار ہوکرہسپتال پہنچ گئے ہیں۔ مسعود اشعرصاحب نے کاظم صاحب تک باریابی کو ممکن بنایا اور پھر ان سے آخری ملاقات ڈاکٹرز ہسپتال میں انہی کے ہم راہ ہوئی، جس کے چند روزبعد وہ انتقال کر گئے۔ ہسپتال داخل ہونے سے قبل ان سے آخری ملاقات ریڈنگز پر ہوئی۔ ریڈنگز پر ایک دن کسی صاحب کو کاظم صاحب کی علمی کام کی بے حد تعریف اوریہ کہتے سنا کہ کاش! کاظم صاحب سے ملاقات ہو جائے۔ اس روزجب کاظم صاحب گھرکے لیے رخصت ہورہے تھے، وہ صاحب اتفاق سے ادھرموجود تھے، میں نے سوچا کہ چلو موصوف ان سے مل لیں، تھوڑی دیرمیں احساس ہوا کہ ہماری نیکی بیچارے کاظم صاحب کے گلے پڑ گئی ہے۔ ان صاحب کو بولنے کا ہیضہ تھا، بس بولتے چلے گئے، کاظم صاحب بیزاری ظاہر کر رہے ہیں، اور وہ چپ ہونے میں نہیں آ رہے، میں الگ شرمندہ، ایسے میں مجھے ایک ترکیب سوجھی، میں چپکے سے کاظم صاحب کے عزیز ہارون کے پاس گیا، جوان کی گاڑی ڈرائیو کر کے لائے تھے، ان کو صورتحال سے آگاہ کیا، اور کہا کہ وہ جا کرکاظم صاحب سے کہیں کہ دیر ہو رہی ہے اب چلیں۔ یہ تدبیرکارگر رہی، اورمذکورہ باتونی سے ان کی جان چھوٹی۔ یہ تو ایک صاحب سے کاظم صاحب کو ملوانے کے تلخ تجربے سے متعلق ایک بات ہے لیکن اب خوش گوار یاد کا بھی ذکرکر دوں۔ کراچی سے معروف شاعر اور مترجم سید کاشف رضا آئے تو کاظم صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہرکی، میں انھیں موٹرسائیکل پر ان کے ہاں ملوانے لے گیا تو وہ ان سے مل کر بے حد خوش ہوئے اورمہمان کواپنی دستخط شدہ تازہ کتاب ”یادیں اور باتیں“ بڑی محبت سے پیش کی۔

8 اپریل 2014ء کو کاظم صاحب کے دنیا سے گزرجانے کے بعد امجد اسلام امجد نے اپنے کالم میں لکھا کہ ’کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں میں سے بھی دس میں سے نوکو یہ بتانا پڑتا ہے کہ سید محمد کاظم کون تھے اوران کا کام اور علمی درجہ کیا ہے؟ ‘محمد کاظم کو علی عباس جلال پوری کی وفات کا تین ہفتے بعد پتا چلا تو انھوں نے دکھ سے لکھا ”سنا ہے کسی اردو اخبارمیں ان کے انتقال کی مختصرسی خبرچھپی تھی لیکن جو انگریزی اخبارمیرے ہاں آتا ہے، اس کے لائق مدیروں کے نزدیک یہ کوئی قابل ذکرخبرنہیں تھی کہ فلسفہ وفکرکے اتنے بڑے استاد اورمصنف اس جہان سے گزر گئے۔ “ افسوس کی بات یہ ہے کہ کاظم صاحب کے ساتھ بھی ہمارے اخبارات نے علی عباس جلالپوری جیسا سلوک روا رکھا۔

 


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “محمد کاظم …. علم کی بات، کل کی بات، ہوئی

  • 07-05-2016 at 6:33 pm
    Permalink

    کاظم صاحب جیسے نادرہ روزگار ادیب پر اتنا عمدہ مضمون لکھنے پر آپ واقعتاً مبارک باد کے مستحق ہیں۔ سلامت رہیے۔

  • 07-05-2016 at 9:28 pm
    Permalink

    khob as hazrat

  • 07-05-2016 at 9:30 pm
    Permalink

    kazim sahab kamal k adeeb thay aap nay bahut acha mazmoon likha hay

  • 07-05-2016 at 10:47 pm
    Permalink

    A great service would be for some university to publish a set of carefully prepared bibliographies of such scholars of past and present.

  • 08-05-2016 at 1:55 am
    Permalink

    Shandar . Mahmood ul hassan say yehi expectation thee. Kamal likha. Mashallah

  • 08-05-2016 at 4:38 pm
    Permalink

    بہت خوب۔

  • 08-05-2016 at 9:01 pm
    Permalink

    نہایت عمدہ

Comments are closed.