سید نیئر بخاری کو معافی مانگنے میں کیا عار تھی؟


\"edit\"سینیٹ کے سابق چیئرمین، پیپلز پارٹی کے سینئر لیڈر اور مہذب انسان کی شہرت رکھنے والے سید نیئر بخاری نے حکومت کے دو نامعلوم اعلیٰ عہدیداروں کے مشورہ پر آج سیشن کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری منظور کروا لی ہے۔ ان پر بدھ کے روز اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں داخل ہوتے ہوئے ڈیوٹی پر متعین ایک پولیس ہیڈ کانسٹیبل پر حملہ کرنے اور کار سرکار میں مداخلت کرنے کا الزام عائد ہے اور کل ایک مقامی مجسٹریٹ کے حکم پر نیئر بخاری اور ان کے صاحبزادے جرار بخاری کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے گئے تھے۔ سینیٹ کے سابق چیئرمین نے بدستور بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اس موقع پر بننے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں انہیں پولیس افسر کے ساتھ بدتہذیبی کرتے اور ان کے بیٹے کو تھپڑ رسید کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سماجی برتری اور خود کو درست اور جائز سمجھنے کا رویہ پاکستانی معاشرے میں زہر کی طرح سرایت کر چکا ہے۔ اس لئے اس معاملہ کو عزت و وقار کا معاملہ بنانے کی بجائے کیا سید نیئر بخاری غلطی کا اعتراف کر کے ہیڈ کانسٹیبل سے معافی مانگ کر معاملہ ختم نہیں کر سکتے؟

یہ اس افسوسناک تنازع کا آسان ترین حل ہے۔ لیکن ذاتی انا کا بھوت پاکستان میں ہر کس و ناکس پر اس حد تک حاوی ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی غلطی کا اعتراف کرنے، اس سے سبق سیکھنے اور آئندہ منفی رویہ سے تائب ہونے کی بجائے، غلطی پر اصرار کرنا ہی اپنی شان اور وقار کے شایان شان سمجھتا ہے۔ حالانکہ ڈیوٹی پر موجود پولیس کے ایک معمولی اہلکار سے ہاتھا پائی کسی بھی عوامی نمائندے کے لئے باعث افتخار نہیں ہونی چاہئے۔ تاہم ہماری سماجی تفہیم چونکہ ان خطوط پر راسخ ہو چکی ہے، اس لئے معاملہ کی نزاکت اور اس کے منفی اثرات کو سمجھنے کے باوجود کوئی بھی اعتراف حقیقت کرنے، غلطی ماننے اور معافی مانگنے پر تیار نہیں ہوتا۔ حالانکہ غلطی مان لینا اور اس پر معذرت کر لینا بڑے پن کی علامت ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسی بڑائی کی علامتیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتیں۔

مسئلہ کا سادہ حل اختیار کرنے کی بجائے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے اپنی پارٹی کے ایک ساتھی کی مدد کرنے کے لئے فون کر کے انہیں اس معاملہ کو متعلقہ پولیس افسر کے ساتھ مفاہمت کے ساتھ نمٹانے کا مشورہ دینے کی بجائے، میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس پر دھواں دار تنقید کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ آئی جی پولیس شاہ سے بھی زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ سینیٹ کے سابق چیئرمین اور ایک معزز شہری سے متعلق ہے، اس لئے اسے پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ یعنی اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی میں یہ سوال اٹھائیں گے کہ کسی ادارے کے باہر سکیورٹی کے لئے مقرر کئے گئے پولیس اہلکار کیوں کر سینیٹ کے سابق چیئرمین کی تلاشی لے سکتے ہیں؟ نہ جانے دنیا کے کون سے قانون اور کس اخلاقی اور انسانی روایت کے تحت وہ یہ ثابت کریں گے کہ تلاشی لینے کا استفسار کرنے پر کسی بھی شخص کی توہین کی جا سکتی ہے۔ جبکہ اب کیمروں میں ریکارڈ ہونے والی فلم سارا واقعہ پوری دنیا کے سامنے پیش کر چکی ہے۔ خورشید شاہ اس معمولی معاملہ کو انسانی ہمدردی اور دانشمندی سے حل کرنے کی بجائے اسے سیاسی رنگ دے کر حکومت کو مطعون اور پولیس کو بطور ادارہ الزام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ موقف ایک ایسے سیاسی لیڈر نے اختیار کیا ہے جو عوام کی حکمرانی کی دعویدار جماعت کا نمائندہ ہے۔ یہی پارٹی ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر منتخب وزیراعظم کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہی ہے اور مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔

یہ مطالبہ کرتے ہوئے جن ملکوں کی سیاسی روایت اور اخلاقیات کا حوالہ دیا جاتا ہے، وہاں پر کوئی سیاسی لیڈر کسی پولیس افسر یا سیاسی اہلکار سے دست و گریبان ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ وہ برطانیہ ہو یا امریکہ یا مغرب کا کوئی دوسرا ملک، وہاں پر سیاستدان قانون کے پابند ہوتے ہیں۔ اس کا فیصلہ بھی وہ خود نہیں کرتے کہ قانون کا تقاضہ کیا ہے۔ بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتیں اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ کسی جھگڑے کی صورت میں سیاستدان قصور وار تھا یا نہیں۔ حیرت ہے ایک طرف اپوزیشن لیڈر کے طور پر خورشید شاہ ملک کے وزیراعظم سے اعلیٰ سیاسی روایات و اخلاقیات پر عمل کروانے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن اپنی ہی پارٹی کے ایک لیڈر کی ایک تقریباً مصدقہ غلطی کو بطور پارلیمنٹرین عزت و وقار کا معاملہ بنا رہے ہیں۔ یہ رویہ قابل مذمت ہے اور اسے ہر سطح پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

خود کو خاص اور دوسروں کو عام سمجھنے کے رویے نے ہی ملک میں وی آئی پی کلچر کو فروغ دیا ہے جو اب اس سے بھی ایک قدم آگے وی وی آئی پی VVIP کلچر بن چکا ہے۔ اس کو ختم کرنے اور معاشرے میں تہذیب، قانون پرستی، تشدد سے اجتناب اور بدتہذیبی سے گریز کا چلن عام کرنے کے لئے کام کا آغاز بھی وہیں سے ہونا چاہئے جہاں سے خرابی شروع ہوئی ہے۔ یعنی اس ملک کے شرفا اور عہدہ یا پوزیشن کے زعم میں خود کو خاص سمجھنے والے لوگ یہ قبول کرنا شروع کریں کہ وہ بھی اس ملک کے عام شہری ہیں۔ بس ان کا سماجی کردار مختلف ہے۔ اور اگر عوام نے انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا ہے تو انہیں اس پر گھمنڈ کرنے کی بجائے انکساری اور عام شخص سے محبت و احترام کا اظہار کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ انہیں عوام کے اعتماد کی وجہ سے ذمے داری کی یہ پوزیشن عطا ہوئی ہے۔ سینیٹ یا قومی اسمبلی کے کسی رکن کو صرف اپنے عہدے یا پوزیشن کی بنیاد پر قانون شکنی اور قانون کے رکھوالوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

آئی جی پولیس اسلام آباد طارق مسعود یاسین کا یہ موقف درست ہے کہ پولیس اہلکار وی آئی پی شخصیات کی حفاظت کرتے ہوئے جان کی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ اس لئے ملک کے اہم لوگوں کو اس ایثار اور ان تکلیفوں کا احساس کرنا چاہئے جو ان اہلکاروں کو اپنی ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی ان خدمات کو صرف یہ کہہ کر نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے کہ انہیں اس کام کا معاوضہ ملتا ہے۔ وہ تنخواہ اور معمولی مراعات کے بدلے میں جو خدمات عوام و خواص کو فراہم کرتے ہیں، اس میں اکثر و بیشتر انہیں اپنی جان کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ کسی ادارے یا عمارت پر دہشت گرد حملہ کا سب سے پہلا نشانہ پولیس اہلکار بنتے ہیں۔ اسی طرح ”خاص“ شخصیت پر چلنے والی گولی کے لئے بھی یہی محافظ اپنا سینہ پہلے پیش کرتے ہیں۔ اس قربانی پر بطور قوم ان کا شکر گزار ہونے کی بجائے ان کی خدمت گزاری کو اپنی عزت نفس پر حملہ سمجھنا افسوسناک رویہ ہے۔

پاکستان خاص طور سے دہشت گردوں کے نشانہ پر ہے۔ بار بار نقصان اٹھانے کے باوجود ہر تھوڑے عرصے بعد کوئی نہ کوئی افسوسناک سانحہ رونما ہوتا ہے جس میں بیش قیمت انسانی جانیں تلف ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس متعدد ترقی یافتہ ملکوں میں ایک سانحہ کے بعد سکیورٹی اور کنٹرول کا ایسا مضبوط حصار قائم کیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کے لئے اسے توڑنا آسان نہیں ہوتا۔ سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ ہمارا نظام ہے جو معمولی عہدیدار سے لے کر بڑی پوزیشن پر فائز شخص کو یہ احساس اور گنجائش فراہم کرتا ہے کہ وہ ان تمام پابندیوں، ضابطوں، رکاوٹوں اور پوچھ گچھ سے بالا ہے۔ اسی رویہ کی وجہ سے سکیورٹی کا نظام کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ جب ایک اعلیٰ افسر یا عہدیدار کسی پابندی کو خاطر میں نہیں لائے گا تو اس سے نیچے کا عملہ بھی یہی فرض کرے گا کہ یہ رکاوٹیں اس کے لئے نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں پولیس کے بعد دیگر سکیورٹی ادارے بھی ناکام ہو رہے ہیں۔ کیونکہ بااختیار اور صاحب حیثیت لوگ ہر مرحلہ پر ڈیوٹی پر مامور افسروں اور اہلکاروں کے اختیار کو چیلنج کرتے ہیں۔ اگر کوئی ڈیوٹی افسر قاعدہ و ضابطہ کے مطابق تلاشی لینے، سوال کرنے یا دوسری کارروائی کرنے پر اصرار کرے تو اس کے ساتھ مار پیٹ کی جاتی ہے یا اثر و رسوخ سے اس کا تبادلہ کروا دیا جاتا ہے۔

ایسے ماحول میں ایک ایسا پولیس ہیڈ کانسٹیبل جس نے جان بوجھ کر یا انجانے میں سید نیئر بخاری کی تلاشی لینے پر اصرار کیا …. دراصل پوری قوم کا محسن ہے۔ کہ اس نے کسی غیر متوقع سانحہ کی روک تھام کے لئے بنائے ہوئے ضابطے پر عمل کرنے کی کوشش کی۔ ایک ایسے شخص کو سیاسی پوزیشن کی وجہ سے مطعون اور ناقابل اعتبار ثابت کرنے کی کوشش کرنے والا سینیٹ کا سابق چیئرمین ہو یا قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر، وہ اس ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کو خراب کرنے کا ذمہ دار ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 532 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “سید نیئر بخاری کو معافی مانگنے میں کیا عار تھی؟

  • 07-05-2016 at 5:28 pm
    Permalink

    کیا خوب کہتے ہیں آپ… ہمیشہ مدلل کلام

Comments are closed.