فیصلے کے بعد ایونفیلڈ ہاؤس کے باہر بٹتی ’قطری مٹھائی‘

سلمان فارسی - بی بی سی، لندن


ایونفیلڈ

ایک پاکستانی کی حیثیت سے پاکستان کے حالات سے میری دلچسپی فطری ہے۔

یہ ہی سبب تھا کہ جب پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت کے فیصلہ سنانے کی گھڑی آئی تو میرے قدم خود بخود مرکزی لندن کے ایونفیلڈ ہاؤس کی جانب بڑھنے لگے۔

اب تو پوری قوم کو پتہ چل چکا ہے کہ ایونفیلڈ ہاؤس کیا ہے اور کیوں وجہ تنازع بنا ہوا ہے۔ جی ہاں، یہ وہ ہی عمارت ہے جس میں مبینہ طور پر چار فلیٹ میاں نواز شریف کے بیٹوں کی ملکیت ہیں اور اس معاملے میں سابق وزیراعظم کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس بھیجا گیا تھا جس کا فیصلہ جمعہ کے روز سنایا گیا۔

عمارت کے سامنے جہاں میاں نواز شریف کے حامی جمع تھے وہیں ان کے مخالفین بھی موجود تھے جنھوں نے فیصلہ کے بعد بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔

ان ہی میں ایک نوجوان مٹھائی کا ڈبہ تھامے وہاں موجود لوگوں میں مٹھائی تقیسم کرنے لگا۔ وہ ساتھ ساتھ کہتا جا رہا تھا: ‘اس بار قطر سے خط تو نہیں آیا، لیکن مٹھائی ضرور آئی ہے!’

یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ مٹھائی واقعی قطر سے آئی تھی لیکن نوجوان کا اشارہ یقنیاً اس خط کی جانب تھا جو نواز شریف کے وکلا نے گذشتہ برس ان کے دفاع میں یہ کہہ کر عدالت میں پیش کیا تھا کہ یہ قطری شہزادے نے بھیجا ہے۔

مٹھائی بٹتے دیکھ کر نواز شریف کے کچھ حامی مٹھائی باننٹے والے نوجوان کی جانب لپکے اور اسے دھکے دینے لگے۔ ایک نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ‘تمھاری زبان کھینچ لیں گے!’ اور پھر ‘آئی لو نواز شریف’ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔

ایک اور شخص خوشی میں آئس کریم تقسیم کرتا نظر آیا جو ایونفیلڈ کی جانب اشارہ کرکے کہہ رہا تھا ‘اب یہ جائیداد پاکستان کی ملکیت ہے۔’

اسی دوران پاکستان کے ایک سابق وزیر کے بیٹے ایک کار سے نمودار ہوئے اور عمارت کی طرف جانے لگے تو وہاں موجود لوگوں نے ان پر فقرے کسنا شروع کر دیے۔

ایک نے کہا کہ یہ جگہ (ایون فیلڈ) بہت جلد خالی کرنی پڑے گی۔

وہاں موجود افراد میں خواتین کی تعداد بھی خاصی تھی۔ بہت سے لوگ وہاں سے اپنے موبائل فونز پر فیس بک لائیو کر رہے تھے۔

جبکہ کچھ پاکستانی ایون فیلڈ ہاؤس کے باہر سیلفیاں بنانے میں مصروف تھے۔

میں عدالتی فیصلہ پر اپنی رائے نہیں دینا چاہتا البتہ وطن سے دور ایک پاکستانی کی حیثیت سے فیصلے کے بعد پاکستانیوں کے ردعمل کا مجھے دکھ ضرور ہوا۔

میں سوچتا رہا کہ پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کو یہ دن دیکھنا پڑا کہ لندن کے ایک مہنگی ترین علاقے پارک لین میں کچھ پاکستانی اپنی روایتی جذباتیت کے اظہار میں مٹھائی اور آئس کریم تقسیم کر رہے تھے تو دوسرے انھیں دھکے دے رہے تھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5641 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp