مفاہمت، مداخلت اور اخلاق کے تقاضے


wajahatمقطع میں جو سخن گسترانہ بات کہنا ہے کیوں نہ آغاز ہی میں کہہ ڈالیں۔ کانٹے کی طرح کھٹکتا حرف حق کہہ ڈالیں اور مطلع صاف ہوجائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے شکایت ہے۔ پاناما لیکس کے معاملے پر جو دھول اڑی ہے اس کے بہت سے زاویے ہماری تاریخ میں حکومت اور حزب اختلاف کی کشمکش کی روایت میں ملتے ہیں۔ یہ موسم بھی گزر جائے گا۔ لیکن شاید ملال کا یہ پہلو باقی رہ جائے کہ پرویز رشید کا روشن نام غبار آلود ہوا۔ ہماری جمہوری روایت میں پرویز رشید کا نام جماعتی وابستگی سے ماورا ہو چکا ہے۔ پاکستان کا جو شہری ایوب آمریت سے لڑا ہو، جس نے ضیا الحق کی تعذیب سہی ہو اور جس نے پرویز مشرف سے دست بدست لڑائی کی ہو، اسے حریف سیاست دان پر ذاتی حملے کرنا زیب نہیں دیتا۔ درویش کے لئے یہ استاد پر گرفت کا مشکل مرحلہ ہے۔ اساتذہ ہی سے مدد لینی چاہیے۔ مصحفی نے لکھا تھا۔

جب یار نے کھینچی تیغ ہم پر

ہاتھوں کی پناہ ہم نے کر لی

مگر اسی مضمون کو مصحفی سے پہلے میر نے بھی بیان کیا تھا:

بری بلا ہیں ستم کشتہ محبت ہم

جو تیغ برسے تو سر کو نہ کچھ پناہ کریں

i-am-pervez-rasheed-1431859565-4604دونوں اشعار میں امر واقعہ بیان کیا گیا ہے لیکن ایک درجہ فرق کے ساتھ۔ انسان پر ظلم کی تلوار اٹھتی ہے تو دفاع کا جبلی تقاضہ ہے کہ ہاتھوں کی پناہ کر لی جائے۔ ملک کا آئین شہری کے لئے پناہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آمریت شہریوں کے ہاتھ سے آئین کی ڈھال چھین لیتی ہے تو ان جری انسانوں کی ضرورت پیش آتی ہے جو آمریت کی ستم رانی پر ہاتھوں کی پناہ کا بھی تکلف نہیں رکھتے ہیں اور سر کو غنیم کی مدافعت میں ڈھال کر لیتے ہیں۔ یہ وابستگی کا بلند تر درجہ ہے۔ پرویز رشید اس روایت کے آدمی ہیں۔ انہیں اپنی دلیل کے لئے گراوٹ اور بازاری پھبتیوں کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہئے۔ ہمارے جمہوری مکالمے کی شائستگی پرویز رشید اور ان کے پائے کے سیاسی رہنماو ¿ں کے لب و لہجے سے طے پائے گی۔ پرویز رشید نے اس باب میں بہت اچھے معیارات قائم کر رکھے ہیں۔ جب وہ ان سے انحراف کرتے ہیں تو جمہوریت کا بھلا چاہنے والوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔

پاناما لیکس پر بہت کچھ کہا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ سے تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا، پھر وزیراعظم کے استعفی کا آوازہ اٹھا، اس پر کچھ اختلاف اور اتفاق کی خبریں آئیں، بالاخر یہ دفتر لپیٹ دیا گیا۔ تحقیقاتی کمیشن کے قواعد و ضوابط پر رد و کد جاری ہے۔ ایک ترکیب اس دوران میں بہت مزے کی سنائی دی، “وزیراعظم نے اپنے منصب کے اخلاقی تقاضے پورے نہیں کئے”۔ تو صاحب، اخلاقی تقاضوں پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اخلاقی تقاضوں کا اعلیٰ ترین درجہ شہریوں کے ساتھ ریاست کے سلوک سے تعلق رکھتا ہے۔ ریاست آئین کے ذریعے شہریوں کے تحفظ اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے کی ذمہ داریاں اٹھاتی ہے۔ چونکہ ہماری ریاست ایک جمہوریہ ہے تو شہریوں کا بنیادی ترین حق سیاست میں حصہ لینا اور فیصلہ سازی میں شریک ہونا ہے تاکہ قوم کی معاشی اور معاشرتی منزلوں کا تعین شہری خود کر سکیں۔ شہریوں کا حق حکمرانی ریاست اور شہریوں کے درمیان تعلق میں اعلیٰ ترین اخلاقی تقاضے کی حیثیت رکھتا ہے۔

ہماری ریاست کے اداروں نے شہریوں سے یہ حق بار بار چھینا ہے۔ اس اخلاقی تقاضے کو صرف نظر انداز نہیں کیا بلکہ عمرانی اخلاقیات کے اس تقاضے سے انکار کیا۔ آمریت اخلاقیات کی بد ترین خلاف ورزی ہے۔ اور اس خلاف ورزی کو جمہوری مکالمے میں غیر آئینی مداخلت کہتے ہیں۔ آج ہم جانتے ہیں کہ اس اخلاقی جرم کا جواز دانستہ سازشوں کے ذریعے بار بار پیدا کیا گیا۔ زیادہ دور نہیں جاتے۔ اکتوبر 1958 کے پہلے ہفتے کی کچھ خبروں پر نظر ڈال لیں۔ بلند تر اخلاقیات کی کچھ مثالیں تو سامنے آنی چاہئے۔ اکتوبر 1958 کے پہلے ہفتے میں خان عبدالقیوم خان نے بتیس میل لمبا جلوس نکالا۔ بلوچستان میں خان آف قلات نے بغاوت کا اعلان کیا۔ مشرقی پاکستان اسمبلی کے اسپیکر کو کرسیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ سردار ابراہیم نے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کی طرف مارچ کا اعلان کیا اور پھر “روزنامہ جنگ” میں رئیس امروہوی نے قطعہ لکھا

دیار پاک میں ہے کار فرما

بحمد اللہ پاکستان کی فوج

مداخلت کی تمثیل کا ایک ایک منظر احتیاط سے مرتب کیا گیا تھا۔ ایوب خان کے خلاف عوامی ابھار میں مداخلت کی گئی۔ ستر کے انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار شہریوں کے حق حکمرانی میں مداخلت تھا۔ جنوری 1977 میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے عام انتخابات کا اعلان کیا تو اقتدار کے لئے ا ±تاولے سیاستدانوں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو انتخاب جیت جائے گا، پیپلز پارٹی کی حکومت میں موجود خامیاں اس کی عوامی مقبولیت پر فیصلہ کن اثر نہیں ڈال رہیں۔ چنانچہ آئین کے تسلسل کی بجائے ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے محروم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ عوام کی رائے کا مقابلہ ایک کھلے خط سے کیا گیا۔ محترم اصغر خان صاحب کا یہ خط مداخلت کی تاریخ کا حصہ ہے۔ سیاسی قوتوں کی ناپختگی کی پرداخت کی گئی۔ 1990 میں مداخلت کی گئی، اپریل 1993 اور ستمبر 1996 میں مداخلت کی گئی۔ اکتوبر 1999 میں مداخلت کی گئی۔

آمریت کا حقیقی نقصان یہ نہیں کہ ایک شخص اور اس کا ٹولہ قوم کی قسمت کے فیصلے کرتا ہے اور غلط فیصلے کرتا ہے۔ آمریت کا اصل نقصان یہ ہے کہ قوم پر اخلاق سے رو گردانی کا اجتماعی جرم مسلط کر دیا جاتا ہے۔ تیس برس کا گمنام ذوالفقار علی بھٹو سیاسی عزائم رکھتا تھا۔ ممکنہ مستقبل میں فوجی آمریت کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے آٹھ برس تک آمریت کا ساتھ دیا۔ انتیس برس کے نواز شریف نے سیاست میں قدم رکھنا چاہا تو ملک پر ایک پیر تسمہ پا سوار تھا۔ آمریت کی حمایت کرنے والوں کی عذر خواہی منظور نہیں۔ عرض صرف یہ ہے کہ آمریت میں عدلیہ، تمدنی ادارے، تعلیمی روایت اور تہذیب کے خدوخال بگڑ جاتے ہیں۔ آمریت کی بد اخلاقی سے تاریخ کے صفحات دور تک اور دیر تک آلودہ ہوتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پنڈی جیل میں پھانسی پا کر ثابت کیا کہ وہ جمہوری اخلاقیات سے نابلد نہیں تھا، آمریت کی چیرہ دستی کا نخچیر تھا۔ نواز شریف اپریل 93 سے مداخلت کار نفسیات میں کھٹک رہا ہے۔

سیاست دانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن آمریت اخلاق کے تقاضوں سے وہ انحراف ہے جس سے پیچیدہ غلطیاں جنم لیتی ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے مئی 2006 میں مداخلت کی اخلاقیات کے مقابل مفاہمت کا اخلاقی تصور پیش کیا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مداخلت سے انکار کی دستاویز یعنی میثاق جمہوریت کا متن لکھنے والے کچھ ہاتھ پانامہ تحقیقات کی ٹی او آر بھی لکھ رہے ہیں۔ یہ مک مکا (مفاہمت) کی اخلاقیات اور ایمپائر کی انگلی (مداخلت) کی اخلاقیات میں کشمکش ہے، 1977 کے موسم گرما میں اصغر خان صاحب کہا کرتے تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو سے مذاکرات میں کوئی نہیں جیت سکتا۔ آج کہا جا رہا ہے کہ آئینی اور قانونی طریقوں سے نواز شریف سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاستدان کی کامیابی اس کا جرم قرار دی جارہی ہے۔ مداخلت کی ناکامی کو جمہوریت کے نام فرد جرم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ اخلاقی تقاضوں کا معاملہ نہیں، یہ مداخلت کی سازش کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے۔ یہ کوشش میمو گیٹ اسکینڈل کے ذریعے 2012 میں کی گئی۔ ایک مداخلت کینیڈا سے منگوائی گئی تھی۔ ایک مداخلت 2014 میں اسلام آباد میں نمودار ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئین اور اخلاقیات میں تضاد ہے؟ دیکھئے، اخلاقیات پر ممکنہ ترین اجتماعی اتفاق رائے کو قانون کی شکل دی جاتی ہے۔ اور حکومت کرنے کے اخلاقی ضابطوں کو آئین کی صورت میں مدون کیا جاتا ہے۔ آئین اور قانون سے ہٹ کے اخلاقیات کا ہر بیان موضوعی ہے اور اس کا پیمانہ شخصی صوابدید ہے۔ شخصی صوابدید آمریت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ آئین اور قانون سے بلند تر کسی اخلاقی تقاضے کا ذکر مداخلت کو از سر نو زندہ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ ایک خطرناک اصطلاح ہے۔ حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرنا حزب اختلاف کا حق ہے۔ حکومت کی ناکامیوں کی بنیاد پر حکومت کو مسترد کرنے کے لئے رائے عامہ استوار کرنا حزب اختلاف کا آئینی حق ہے۔ اس حق کو آئین اور قانون کے دائرے میں استعمال کرنا چاہئے۔ اخلاقی تقاضوں کے نام پر موضوعی صوابدید اور مداخلت کا دروازہ نہیں کھولنا چاہیے۔

روز نامہ جنگ میں 7 مئی  2016 کو شائع ہونے والے اس کالم کا لنک درج ذیل ہے  

http://jang.com.pk/print/95417-wajahat-masood-column-2016-05-07-taisha-e-nazar-mufahimat-mudakhalat-aor-akhlaq-ke-taqazay


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “مفاہمت، مداخلت اور اخلاق کے تقاضے

  • 07-05-2016 at 3:53 am
    Permalink

    واہ بہت خوب

  • 07-05-2016 at 11:10 am
    Permalink

    beshaq parveez rasheed un chan politicians ma sa hen jinha jhmoryat ka husan mana jata ha.. but Unka qardar par bht sa daag laga hn us wazarat ki waja sa

  • 07-05-2016 at 11:49 am
    Permalink

    Wajahat sb’s many columns give the impression that he wants to have the cake and eat it too.

  • 07-05-2016 at 5:45 pm
    Permalink

    جی خوش ہوا.

Comments are closed.