حکیم الامت اور مولانا فضل الرحمٰن


حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا جو بھی کام اور کلام تھا، ہم اس پہ عمل تو کیا کرتے؛ بس چند نظموں و غزلوں کو حوالہ نصاب کر کے ہمارا قومی فریضہ ادا ہوگیا۔ باقی ان کا کچھ کلام ملاؤں کے ہاتھ لگا۔ کچھ گویوں، قوالوں کی نذر ہوا۔  ملا، علامہ اقبال کی زندگی میں ان سے زیادہ تر نالاں رہے۔ طرفین کے خیالات اک دوسرے کے بارے میں کوئی زیادہ خوش کن نہیں تھے۔ ملا کی ساری شریعت مستی گفتار اور فی سبیل اللہ فساد۔ علامہ صاحب کی کوشش تھی یہ طبقہ یہ کسی طرح خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیری ادا کریں۔

اب میاں کسی شاعر کی باتیں سن کر لگی بندھی روزی کو لات مارنا اور سیدھا جان دینے نکل جانا، یہ کہاں کی دانائی ہے۔ ملا حضرات یہ باتیں سن کر چڑ گئے اور اور فی الفور اپنا روایتی فتووں والا رجسٹر نکالا اور ان پہ کفر و شرک کے فتوے صادر کیے۔ تب غدار و ایجنٹ کی اصطلاح اتنی مستعمل نہیں تھی، ورنہ علامہ صاحب کو یہ سند بھی عطا ہوتی۔ اب انھی ملاؤں کے پیروکار علامہ کے شعروں کو نعروں میں ڈھال کر خون گرماتے ہیں۔ کئی بار تو اتنا خون گرما تے ہیں، کہ فشار خون بلند ہونے لگتا ہے۔ یا پھرعلامہ اقبال کے شعر پڑھ کر، نوٹ کما رہے ہیں۔ ملا کے نوٹ کمانے کا مولانا فضل الرحمٰن سے کوئی تعلق نہیں۔ نوٹ تو وہ بھی کما رہے ہیں لیکن یہود و نصاریٰ کی سازشوں کو بے نقاب کر کے۔ مولانا کا نام سن کر یہود و نصاریٰ تھر تھر کانپتے ہیں۔ ان دشمنوں کا ”تراہ“ نکل جاتا ہے۔ اکثر ان پر لرزہ بھی طاری ہوجاتا ہے۔

مولانا نے ایسی ایسی سازشیں بے نقاب کیں، جو صرف انھی کی کشف و کرامات کا نتیجہ ہے۔ سب سے پہلے مولانا فضل الرحمٰن ہی نے کہا تھا ”اسرائیل “ یہود و نصاریٰ کی سازش ہے۔ یہ ایسا راز تھا جس کو سن کر اغیار کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ مولانا ہی نے یہ فرمایا تھا، پاناما یہودیوں کی سازش ہے۔ یہ سن کر تو سبھی سکتے میں آ گئے۔

جب سے مولانا نے یہود و نصاریٰ کی سازشیں بے نقاب کیں ہیں، وہ زار زار رو رہے ہیں۔ رو رو کر ان کی گھگی بندھ گئی ہے۔ اسی رونے کی وجہ سے اسرائیل میں دیوار گریہ وجود میں آئی۔ مولانا ما شا اللّہ بقید حیات ہیں اور پورے جوبن پر ہیں۔ ان کا عزم ہے یہود ونصاریٰ کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مولانا کے ہوتے ہوئے سازش کی کیا مجال کہ ہو کے دے۔ وہ دن دور نہیں جب مولانا دشمنوں کی ساری سازشیں بے نقاب کر دیں گے۔ مولانا نے تو شاید یہود و نصاریٰ کی سازشیں بے نقاب کرنے کا ٹھیکا لیا ہوا ہے۔ اسی لیے ہر جگہ انھیں سازش نظر آجاتی ہے۔ جیسے حقیقت میں آنکھیں دیکھ لیتی ہیں حقیقت کو۔ مولانا ہی نے انکشاف کیا تھا، کہ عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔

مولانا میں علامہ اقبال کے مرد قلندر کی ساری خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ جہاد کے اتنے شیدائی ہیں کے ہزاروں جانوں کو جہاد کی نذر کر چکے ہیں۔ عوض میں صرف چند ڈالر لیے تا کہ دین کی اور خدمت کر سکیں۔ خود شوق شہادت سے کشاکش لب ریز کئی باڈی گارڈ اورکئی بلٹ پروف لے کر اکثر دیوانہ وار نکل کھڑے ہوئے۔ سرحدوں پر نہیں، سڑکوں پر۔ مولانا کا شوق جہاد پورا کرنے کے لیے اکثر روٹ بھی لگانا پڑتا ہے، تا کہ ان کی مجاہدانہ کدو کاوش میں ٹریفک کی وجہ سے کوئی خلل نہ آئے۔

اب مولانا کی جہاد سے محبت کی اور کیا مثال دوں، مولانا طوعاً و کرہاً ہر حکومت کا حصہ بنتے ہیں، تا کہ کشمیر کمیٹی اور ہاؤسنگ کی جہادی وزارتیں رکھ سکیں۔ لیکن مولانا عجز و انکسار کے پتلے آج تک کبھی کشمیر کے حق میں نہیں بولے، کیوں کہ اس سے خود ستائی کا عنصر ظاہر ہوتا ہے۔ اب کیا بندہ کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بن کر اپنی ہی کمیٹی کی باتیں کیے جائے؟ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں کشمیر کمیٹی کے سوا۔

اسی کمیٹی کی بدولت کئی ممالک کے طوفانی دورے بھی کیے، لیکن وہاں بھی حیران و لب بستہ رہے۔ چند دشمن عناصر نے ان دوروں کو چند اکٹھا کرنے کی مہم قرار دیا۔ اگر کسی نے تھوڑے سے ڈالر پاؤنڈ دے دیے تو یہ کوئی چندہ تو نہیں۔ چندہ تو صرف روپوں میں ہوتا ہے۔ یہود و نصاریٰ کی کرنسی میں کونسا چندہ۔ مولانا تو پیسوں، وزارتوں، سفارتوں کی پروا بھی نہیں کرتے، چاہے کتنی ہی بڑی قربانی دینا پڑے۔ اسی قربانی کی یاد تازہ کرتے ہوئے، وہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے ہفتہ پہلے مستعفیٰ ہوگئے۔ چشم زدن میں ایسی دیدہ دلیری حاتم طائی کی قبر پر ایسی لات کہ تعویذ اکھاڑ دیا۔ فتح و شادمانی کا جھنڈا گاڑ دیا۔ بلکہ جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا۔

علامہ اقبال ہی کا فرمان ہے، جدا ہوئی دین سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ مولانا یہاں بھی دین اور سیاست کو ساتھ چلا کر مندرجہ بالا شعر کی عملی تصویر و تفسیر بنے ہوئے ہیں۔ دین میں وہ فی الوقت حرف آخر اور سیاست تو گھر کی راندی باندی ہے۔ بیک وقت حکومت کے مزے لینا اور اپوزیشن کی سیاست انھی کے حسن کرشمہ ساز کا کمال ہے۔ ایسی سیاست کہ چانکیہ اور سقراط، بقراط، ارسطو تک پانی بھریں۔

مولانا صلہ رحمی کے بھی شدید، شدید قائل ہیں۔ چاروں بھائیوں رشتہ داروں کو مع اہل و عیال نوازنا، صلہ رحمی و کار ثواب، ۔سو مولانا دونوں ہاتھوں سے ثواب کما کر جنت کا سامان کررہے ہیں۔ فکر آخرت جو ہوئی۔ دنیا کا کیا یہ تو چار دن کی ہے۔ دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں۔ ایسی ہستیوں کی بدولت سیاست کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔

علامہ اقبال کا ایک شعر ہے، جس میں مرد مومن کی نگاہ سے تقدیر بدلنے کا ذکر ہے۔ مولانا نے کئی بار اس کا عملی مظاہرہ کیا۔ یہاں تک کہ جس پہ ہاتھ رکھ دیں، وہی جیتے ہے یا جو جیتتا ہے، اسی پہ ہاتھ رکھ کر اس کی تقدیر بدل دیں۔ سب کو یاد ہوگا کیسے سبھی فرقوں میں بٹّے تھے، اکثر پہ تو کفر و شرک کے فتوے بھی چسپاں تھے لیکن مولانا نے نگاہ  کی اور متحدہ مجلس عمل وجود میں آئی۔ اس کا سارا پھل تو مولانا نے کھایا لیکن باقیوں کی تقدیر بھی بدل گئی۔ ورنہ کہاں سارے خوار و زبوں پھرتے تھے، کفر و شرک کے فتوے الگ۔ یہی متحدگی کا عمل حال ہی میں دُہرایا گیا ہے۔ یار لوگ اسے حلال یا حلالہ کہتے ہیں۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

علامہ اقبال تو ویسے ہی کہہ گئے ہیں، لیا جائے گا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا۔ اسی امامت کے چکر میں مولانا نے امریکی سفیر سے اپنی وزارت عظمیٰ کی بات کی۔ ایسی باتیں وکی لیکس میں آئیں۔ ایسی خواہش کا اظہار مولانا نے مشرف سے بھی کیا، لیکن دل کے ارماں ۔ ۔ ۔!

مولانا مرد کوہستانی تو ہیں ہی لیکن کبھی کبھی بندۂ صحرائی بھی بن جاتے ہیں اور ڈیزل بھی اکثر صحراؤں سے نکلتا ہے۔ بارہا سننے میں آیا ہے کہ مولانا نے کسی زمانے میں ڈیزل کے پرمٹوں کے ساتھ بھی رہ رنورد شوق ہوئے۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی، مولانا فضل الرحمٰن نوٹ کمانے کے لیےعلامہ اقبال کے کسی شعر کسی تیغ تلوار کے محتاج نہیں۔
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

علامہ اقبال کی ساری زندگی قوم کو جگاتے گزری۔ دل ہی دل میں کڑھتے رہے۔ اکثر نوجوانوں کو شعروں کے ذریعے جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔ قوم کو جگانے کے لیے انھوں نے کیا کیا جتن نہ کیے۔ لیکن ازل کے سوئے ابد کو جاگیں۔ قوم کو جگانے کے لیے جو چیز نظر آئی، اسی پہ مصرع جڑ دیا، شعر گھڑ دیا۔

کبھی قوم کو جگانے کے لیے پہاڑ و گلہری کو استعارہ بنایا۔ کبھی مکڑا اور مکھی کی مثال دی۔ کبھی گائے اور بکری کی ترکیب استعمال کی۔ کبھی شاہین اور خودی کی بات کی۔ کبھی یورپ اور اسپین میں بیٹھ کر مسلمانان کو عظمت رفتہ کا حوالہ دیا۔ کبھی شمع پروانہ، کبھی ہمالیہ، کبھی تو جبرائیل و ابلیس کو بھی لے آئے؛ شاید ان کا نام سن کر جاگ اٹھیں۔ کچھ لوگ اٹھے اور بولے، میاں ابھی بڑی مشکل سے آنکھ لگی ہے؛ پہلے ہی غزنوی، غوری، بابر، سوری اور اورنگ زیب سے بڑی مشکل جان چھوٹی ہے؛ اوپر سے آپ بانگ درا اور بال جبریل لے آئے ہیں۔

علامہ اقبال کا خواب ان کی زندگی میں پوری طرح  شرمندۂ تعبیر نہ ہوا۔ بھلا ہو سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور فیس بک کا پھر جو نوجوان ہڑبڑا کر جاگے ہیں۔ بس صاحب نہ پوچھیے، اس نسل کو جاگتے ہی یہ شدید احساس ہوا؛ علامہ اقبال ہمارے قومی شاعر تو ہیں لیکن ان کی شاعری میں کچھ کمی رہ گئی ہے۔ فوراً علامہ کو وزن اور بحر سے عاری شعر تحفتاً، نذرانتاً، ہدیتاً، عقیدتاً عنایت کیے۔ وزن و بحر سے یوں عاری ہیں، بقول شاعر:
یوں بحر سےعاری ہے کے خشکی پہ پڑی ہے
غزل میں وہ سکتہ ہے، کچھ  ہو نہیں سکتا

اب علامہ اقبال کا غیر مطبوعہ کلام، جو بعد از مرگ معرض وجود آیا ہے اور آ رہا ہے؛ اتنا زیادہ کہ کئی دیوان بھی کم پڑیں۔ اس کلام کی برکت ہے، جو اس میں روز بروز اضافہ ہوا چاہتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب دُکان داروں کا پسندیدہ شعر بھی علامہ اقبال کے نام کردیا جائے گا اور ہر دُکان پہ لکھا ہوگا۔
نقد بڑے شوق سے
ادھار اگلے چوک سے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں