شادی کرنے کا فیصلہ کب کیا جائے؟



شادی غالبا وہ واحد موضوع ہے، جس پہ ہمارے سماج میں بات کرنا، ہر فرد اپنا حق سمجھتا ہے۔ کسی کو کبھی اس بات سے دل چسپی نہیں ہوگی، کہ آپ کے رجحانات کیا ہیں؟ تعلیم کے لیے کیا چنا ہے؟ مستقبل کی پلاننگ کیا ہے۔ آپ کن حالات میں ہیں؟ زندگی کیسے گزر رہی ہے، لیکن جس بات میں لاشعوری دل چسپی ہوگی، وہ ہے شادی۔یہ سوال لڑکیوں سے کالج کے دور ہی میں کیا جانا شروع ہو جاتا ہے، معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ۔ ہاں بھئی ہے کوئی؟ پھر ہر فنکشن میں فیملی گیدرنگ میں؛ اس کے بعد اگر آپ پریکٹکل لائف شروع کر لیتے ہیں، تب یہ سوال بے انتہا کھل کے کیا جاتا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ سماج جو سیکس کے بارے میں بات کرنے کو ٹیبو سمجھتا ہے۔ جس کے لیے سیکس ایجوکیشن کا مطلب سیکس کرنے کی تعلیم ہے اور وہ اس پہ چیختا چنگھاڑتا ہے کہ ہمارے بچوں سے یہ بات مت کرو، وہی سماج کتنے آرام سے پوچھ لیتا ہے کہ آپ جسمانی تعلق قائم کر چکے ہیں یا نہیں۔ جی بالکل! کیوں کہ اس کے نزدیک شادی کا واحد مقصد یہی ہے اور نسل بڑھانا ہے۔ایسا نہیں کہ یہ بہت ہلکا پھلکا سوال ہے؛ اس سوال سے میں نے مرد بھی اتنے ہی زچ ہوتے ہوئے دیکھے ہیں، جتنا کہ خواتین۔ ہر اس فرد کو جو یہ کار خیر سر انجام نہیں دیتا یا نہیں دینا چاہتا، ایک عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی زندگی میں بنیادی چیزیں مسنگ ہوں کسی کو پروا نہیں ہوگی، لیکن اگر اس نے شادی نہیں کی، یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو وہ ابنارمل ہے۔

سوسائٹی کے اسی پریشر کی وجہ سے میں نے وہ لوگ بھی دیکھے ہیں، جو اس سوال سے بچنے کے لیے ہر خاندانی اکٹھ، دوستوں کی محفل ہو، سماجی سرگرمی سے دور ہو جاتے ہیں؛ اور وہ والدین بھی دیکھیے ہیں جو اولاد کو سمجھتے ہوئے بھی، لوگوں سے نالاں ہو کے اس سوال سے نظریں چراتے ہیں۔ کسی فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کرنے کا تصور بد قسمتی سے ہمارے یہاں نہیں پایا جاتا، لیکن براہے مہربانی اپنی منافقت کا بھرم قائم رکھتے ہوئے، ایسا نجی سوال پوچھنے سے تو گریز کیا کریں۔

شادی محض ایک سماجی و جسمانی بندھن نہیں ہے، اس کے کچھ اور تقاضے ہیں۔ یہ ایک ذمہ داری اٹھانے اور نباہنے کا نام ہے؛ اگر اس کی بنیاد محض جسمانی، جذباتی یا سماجی تعلق پہ ہوتی، تو کم سے کم ہمارے سماج میں گھریلو تشدد، ٹینشن، اسٹریس اور طلاق جیسے واقعات نہ ہوتے۔ اب سوال ہے کہ کیا شادی کی ہی نہ جائے یا پھر کی جائے تو کب۔ ایک چھوٹا سا جواب میرے پاس بھی ہے۔
شادی اس لیے مت کریں کہ آپ کے سب دوستوں کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ اس لیے بھی نہ کریں کہ عمر ہو چکی ہے۔ اس لیے بھی مت کریں کہ آپ کے بعد بہن بھائیوں کی باری آنا ہے۔ اس لیے بھی مت کریں کہ بڑھاپے میں سہارا کون بنے گا۔ اس لیے بھی مت کریں کی اکیلے پن کا خوف ہے۔ اس لیے بھی نہ کریں کہ سماج کو ہر فرد یہی سوال پوچھتا ہے۔ اس لیے بھی مت کریں کہ آپ کو اپنی جسمانی ضرورت کو پورا کرنا ہے۔ اس لیے بھی نہ کریں کہ آپ کا سابق رشتہ ختم ہو چکا ہے اور آپ کا ساتھی اپنی زندگی میں خوش ہے۔ اس لیے بھی نہ کریں کہ آپ کا ساتھ زندگی میں کون دے گا۔ شادی تب کریں جب آپ یہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔

شادی محض ایک سماجی و جسمانی ضرورت پورا کرنے کا نام نہیں ہے؛ یہ ایک ذمہ داری رشتے نباہنے کی کسی ایسے کا ساتھ پانے کی، جس کے ساتھ آپ خوش رہ سکیں اور جسے آپ کا ساتھ پسند ہو۔ لو میرجیز کے ناکام ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم لوگ لسٹ (ہوس) کو لو (محبت) سمجھ بیٹھتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد ہی بیزاری آن گھیرتی ہے۔

یہ مذاق نہیں ہے ایک سنجیدہ فیصلہ ہے اتنا ہی سنجیدہ جتنا کہ آپ اپنے کیرئیر کو فیوچر کو لے کے پلاننگ کرتے ہیں۔ اگر سنجیدگی سے ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں تو ویل اینڈ گڈ ورنہ غلط رشتے میں ہونے سے تنہا رہنا کہیں بہتر ہے۔

واقعی اس سماج میں رہنا مشکل ہے جہاں آپ کو اکیلا ہونے کی بنا پہ کوئی مکان دینے کو تیار نہ ہو۔ جہاں آپ کی ورکنگ پلیس پہ بھی آپ کی قابلیت سے زیادہ اس معیار پہ جانچا جاتا ہو، کہ آپ فیملی بنا چکے ہیں یا نہیں۔لیکن پھر بھی یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شادی ایک ذمہ داری، ذہنی، جسمانی، جذباتی وابستگی کا نام ہے۔ جہاں جو ایسا ملے، اسے ساتھ لے کے چلیں؛ نہ ملے تو تن تنہا رہنا غلط شخص کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں