کپتان کی سیاست اور ہمارا راستہ۔۔۔۔  


wisi 2 babaکپتان کے ساتھیوں کی نالائقی کام آئی۔ احتساب کا کسی کو اگر کوئی شوق تھا۔ کسی کا کوئی ارمان تھا۔ پانامہ پیپر سے اگر کوئی موقع ملا تھا تو وہ ضائع ہو گیا۔ دوسری بار ایسا ہوا کہ کپتان کو غلط بتی کے پیچھے لگا کر لمبے روٹ پر روانہ کر دیا گیا۔ حاصل وصول کچھ بھی نہیں۔ کچھ ہو سکتا بھی نہیں تھا۔ دھاندلی پر دھرنے کا نتیجہ تو یہ نکلنا چاہئے تھا کہ الیکشن قوانین تبدیل ہوتے۔ آئندہ کے لئیے دھاندلی کے امکاناات کو ممکن حد تک کم کیا جاتا۔ ہمیں ایک زیادہ آزاد الیکشن کمیشن ملتا۔

چار حلقوں کی دھن پر کپتان نے اپنے برگر بچے جی بھر کے نچائے۔ دھرنے سے برات بنی، کپتان لاڑا بن کے چار دن بھی نہ پھرا۔ دھاندلی پر بنے کمیشن کے فیصلے نے کپتان کو ایک غیر سنجیدہ سیاستدان بنا کر رکھ  دیا۔ دھرنے کا ایک ہی فائدہ ہوا تھا کہ کپتان کا گھر بس گیا تھا۔ وہ بھی ٹوٹ گیا ، اب دعا ہے کہ کوئی شرارتی سیاستدان اگلی الیکشن مہم میں کپتان کو وہ نہ کہنے لگ جائے جو پشتو میں کسی طلاق یافتہ مرد کو کہتے ہیں۔

اس بار کسی کپتان کسی نیم حکیم کی سن کر اپوزیشن کو ساتھ ملا کر یلغار پر نکلا ہے۔ وزیراعظم کا استعفی ایک اچھا مطالبہ تھا اس بار۔ یہ مطالبہ ہی مشترکہ اپوزیشن نے ڈراپ کر دیا ہے اپنی لسٹ سے۔ پندرہ نکاتی ٹی او آر تیار کر کے پیش کر دی گئی ہیں۔ سیانے وکلا کا کہنا ہے کہ یہ ٹی او آر اتنی یکطرفہ ہیں کہ سپریم کورٹ سے ساری ہی مسترد ہو جائیں گی۔

ایسا لگ رہا ہے جیسے سارے ہی سیاستدان شرط لگا کر کھیل رہے ہیں۔ شرط بس اتنی ہے کہ کون اس بار کپتان کو نئے طریقے سے عقلمند ثابت کرتا ہے۔

بابر ستار اچھی ساکھ رکھنے والے جانے مانے وکیل ہیں۔ اخبارات میں کالم بھی لکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ٹی او آر آئین کی متعدد دفعات سے متصادم ہیں۔ حامد خان اور اعتزاز احسن کو ہی اچھی فیس دے کر اپنا وکیل کر لیا جائے۔ یہ بڑے آرام سے تحقیقاتی کمیشن کو ہی غیر قانونی و غیر آئینی ثابت کر دیں گے۔

دل چاہتا ہے کہ کپتان یہ ساری بازی الٹا دے۔ کسی طرح سمجھ جائے کہ اس کے ساتھ بار بار ہاتھ ہو رہا ہے۔ وہ ہر گزرتے لمحے اسلام اباد سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے اقتدار میں آنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ ٹھیک ایشو اٹھاتا ہے غلط علاج بتاتا ہے۔ اس کے مخالفین کو موقع ملتا ہے۔ وہ سب اپنے فوائد سمیٹ کر سائیڈ پر ہو جاتے ہیں۔ اپنے زخم چاٹنے کو کپتان اکیلا بیٹھا ہوتا ہے یا اس کے چاہنے والے سوشل میڈیا پر خجل ہوتے ہیں۔

کپتان اپنی پالیسی بدل لے۔ پانامہ پیپرز سے پتہ لگا ہے تو صرف اتنا کہ ہمارے ملک کے سینکڑوں ارب پتی ایسے ہیں جن کا سرمایہ باہر ہے۔ جائیز ناجائز اور کرپشن کا ابھی الزام ہے، ثابت کچھ بھی نہیں ہوا۔ بہت مشکل سے ہی پانامہ پیپر میں درج کوئی سرمایہ دار قانون کے شکنجے میں آ سکے گا۔

سرمایہ دار کون ہوتے ہیں۔ عوامی زبان میں سمجھنا ہے تو یہ ساہو کار ہوتے ہیں۔ کاروباری شخس خطرہ مول نہیں لیتا۔ گیلی زمین پر پیر دھرنے سے بھی یہ لوگ گریز کرتے ہیں۔ یہ اپنے سرمائے کو وہاں لے جاتے ہیں جہاں انہیں نفع ملتا ہے۔ پاکستان میں ہماری معیشت کی حالت ایسی نہیں ہے کہ یہاں پر سرمائے سے نفع حاصل کیا جائے۔ یہاں رسک بہت ہیں۔

پاکستان میں اکنامک کاریڈور پراجیکٹ وہ امید ہے جو سرمایہ دار کو اپنا پیسہ واپس لانے پر اکسا سکتی ہے۔ کرپشن کا شور احتساب کے نعرے پکڑو پکڑو کی صدائیں یہ سب سرمایہ داروں کو بھگانے کے ہی کام آئیں گی۔ اس وقت ضرورت ہے کہ ہم آئندہ کے لئے قانون سازی کریں۔ سہولیات دیں، قوانین کو آسان بنائیں، سزاؤں کو بھی واضح اور آسان کریں۔ پرانی باتوں پر مٹی ڈالیں۔

کپتان نہیں جانتا کہ وہ کرپشن کا شور مچا کر غیر متعلق ہوتا جائے گا۔ سرمایہ دار اس کی پارٹی کو نظرانداز ہی کر دیں گے۔ اسے چاہئیے کہ وہ ماہرین کی ٹیم لے کر بیٹھے۔ اپنی معاشی پالیسی کا اعلان کرے۔ اپنی حکومت آنے کی صورت میں اپنے ترقیاتی منصوبوں کو واضح کرے۔ لوگوں کو یہ بتائے کہ نوازشریف نے صرف ٹریڈ روٹ پر عمل کیا ہے۔ ان راستوں کے ساتھ نئے شہر ہم بنائیں گے۔ یہاں تکنیکی مہارت کی اور ہنرمندوں کی ضرورت ہو گی۔ ہم اس کے لئیے ادارے بنائیں گے۔

کپتان کی ذات پر سب پاکستانیوں کو اعتماد ہے کہ وہ ایماندار ہے۔ ہمیں اس کی ایمانداری کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے۔ اپنی معاشی پالیسی کا بھی اعلان کرے۔ اس کے کرنے کو بہت کچھ ہے۔ جب وہ نئے شہروں کی بات کرے گا تو اسے بتانا ہو گا کہ بلوچستان کے لوگ اقلیت میں تو نہیں رہ جائیں گے۔ وہ اگر اس سوال کا جواب دے گیا۔ انہیں یقین دہانی کرا سکا کہ بلوچستان والے اقلیت میں ہوں گے بھی تو خلیجی ریاستوں کے بدو جیسے ہوں گے۔ اپنے وسائیل پر اختیار رکھتے ہوں گے حالانکہ وہاں غیرملکیوں کی تعداد مقامی آبادی سے زیادہ ہے۔

وہ یہ بتانے میں کامیاب ہو گیا تو اس کا اسے فائدہ ہو گا۔ تین صوبوں میں ہی نہیں فاٹا میں بھی بلکہ افغانستان میں بھی۔ پاکستان کے وہ تمام علاقے جہاں سیاست قوم پرستی کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ کپتان کی وہاں کوئی اپیل نہیں ہے۔ اس کے پاس ان کے لئے کوئی پیغام بھی تو نہیں ہے۔ یہ ان کے لئے کوئی خواب بنے گا ان سے شئیر کرے گا تب ہی وہ اس کو سنیں گے۔

ہمیں ایک اچھی ساکھ والے وزیر اعظم کی ضرورت ہے۔ جو انتھک ہو جو کارکنوں کی طرح کام کرے۔ جو ترقی کے خواب دیکھتا ہو۔ جو پاکستان کا موازنہ ترقی یافتہ دنیا سے کرتا ہو۔ پاکستان امکانات کا ایک نیا جہان ہے۔ یہاں ہر وقت ضرورت ہے ایک لیڈر کی۔ جو تعمیر کے ترقی کے خواب رکھتا ہو اور ان پر عمل کی ہمت بھی۔

نیا لیڈر تو جب آئے گا تب آئے گا۔ جو ہیں وہی کچھ کر لیں۔ کپتان ہی آگے ہو جائے۔ اپنی ٹیم بدل لے، اپنا منصوبہ واضح کر لے۔ پانامہ پیپر سے سبق سیکھیں، آئندہ کے لئیے قوانین بنا لیں۔ ہمیں آگے چلنا ہے بلکہ بہت آگے جانا ہے،  سب سے آگے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “کپتان کی سیاست اور ہمارا راستہ۔۔۔۔  

  • 07-05-2016 at 4:33 pm
    Permalink

    پڑہ کر پشتو زبان کے فلسفہ شاعر غنی خان کا ایک شعر یاد آیا۔۔۔۔خښتګ د پښتون شليګي باچه خان ورته ګيندي وهي۔۔۔ګاندهي ليوني شوي دي سنډا ته سريندے وهئ۔۔۔۔۔۔۔وہ کپتان کیا جو عقل اورخرد کی بات پر توجہ دیں۔۔۔چھوڑیں چی کوئی اورگل کر۔۔

Comments are closed.