بھائی کی بہن کے ساتھ جنسی زیادتی، مگر پھر کیا ہوا؟


معروف افسانہ نویس سعادت حسن منٹو لکھتے ہیں کہ ”مرد کی نظروں کو اگر عورت کے دیدار کا بھوکا رکھا گیا تو وہ شاید اپنے ہم جنسوں اور حیوانوں ہی میں اس کا عکس دیکھنے کی کوشش کرے گا۔ روٹی کے بھوکے اگر فاقے ہی کھینچتے رہے تو وہ تنگ آکر دوسرے کا نوالہ ضرور چھینیں گے“۔
عصمت چغتائی، سعادت حسن منٹو، جون ایلیا، حبیب جالب اور دیگر معاشرے کی برائیوں کو بے باکی سے لکھنے والے لکھاریوں کو شاید پتا تھا کہ معاشرے میں غیر فطری جرائم جیسا کہ بھائی کے ہاتھوں بہن کا ریپ، بیٹے کا سوتیلی ماں سے ناجائز تعلقات، معاشرے میں جاری ہے؛ لیکن وہ اس وجہ سے ان غیر فطری جرائم پر کھل کر بات نہیں کرسکے تھے کہ معاشرہ برداشت کی بلوغت کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا تھا۔

میں اب جس غیر فطری جرم سے پردہ اٹھانے والا ہوں وہ ایک اٹھارہ سالہ بھائی کے ہاتھوں چودہ سالہ بہن کا ریپ ہے لیکن شروع کرنے سے پہلے ہمیں نومبر 2011ء کراچی کے ایک اور واقعے کی طرف جانا ہوگا۔ یہ ضلع سرگودھا کے محمد ریاض کی کہانی ہے جو رزق حلال کمانے کے لیے کراچی میں سکونت پذیر تھا۔ محمدریاض دن کے وقت مزدوری کے عوض قبریں کھودتا تھا۔ قبر اگر کسی جوان لڑکی کی ہوتی تو پھر رات کو دوبارہ وہی قبر کھود کر قبر میں اتر جاتا اور کفن ہٹا کر اس کی مردہ لاش سے جنسی تسکین حاصل کرتا تھا۔ انٹرویو کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ یہ قبیح فعل وہ گزشتہ آٹھ سال سے کر رہا تھا جس میں اس نے پچاس سے زیادہ مردہ جوان لڑکیوں کو قبر کے لحد میں اپنی ہوس کا نشانہ بنا یا ہے۔

محمد ریاض نے ایک نجی چینل کی خاتون رپورٹر کو یہ بھی بتایا تھا کہ جب میں نے آخری بار قبر کھودی اور بدفعلی کی نیت سے مردہ لڑکی کے چہرے سے کفن ہٹایا تو اس کی آنکھوں سے میری چہرے پر تیز روشنی کی شعائیں آئیں اور مجھے جھٹکا لگا۔ اس کے بعد میں چیختا ہوا قبر سے نکلا اور لوگوں کو پتا چل گیا۔ اب یہ ایک غیر فطری جرم یعنی (Unnatural Offense) ہے۔ جب انٹرویو کے دوران خاتون رپورٹر نے ڈی ایس پی سے وہ دفعات (سیکشنز) پوچھے جو ایف آئی آر میں اس ملزم پر لگے تھے تو وہ دفعہ 297 مردے کی بے حرمتی کرنا، دفعہ 376 زنا بالجبر یعنی زبرستی کسی کا ریپ کرنا اور دفعہ 377 غیر فطری جرم۔ دفعہ 297 اور376 کی سزا ڈی ایس پی صاحب نے ایک سال بتائی، باقی دفعہ 377 کی سزا چودہ سال ہے۔

یہ واقعہ بیان کرنے سے میرا مقصد معاشرے کی ان برائیوں کی نشان دہی کرنا تھا جن کا ہمارے قانوں میں بھی واضح کوئی سزا کا تعین نہیں ہوا ہے۔ یعنی ہمارے قانون کی کتاب میں کوئی ایسی شق نہیں جس میں لکھا ہو کہ اگر کوئی شخص مردہ لڑکی کا ریپ کرے گا تو اس کی یہ سزا ہوگی۔ کیوں کہ یہ عمل قانون فطرت سے اتنا متضاد ہے کہ کوئی بھی ناخواندہ یا ابنارمل شخص بھی ایسا جرم نہیں کر ے گا۔

”ہم سب“ میں میرا گزشتہ کالم، ”بیٹی ہی پیدا ہونی تھی مگر واش روم میں کیوں“؟ شایع ہونے کے بعد ایک اور گائنا کالوجسٹ نے سوشل میڈیا پر رابطہ کیا، جو میرے لیے ذہنی تناو کا سبب بنا۔ کیوں کہ اس نے ایک ایسے غیر فطری گناہ کے بارے مجھے بتایا کہ میرے رونگھٹے کھڑے ہوگئے۔ اس گائنا کالوجسٹ کے ضمیر پر ایک سال سے بوجھ تھا۔ اس لیے وہ مجھے واقعہ اتنی جلدی جلدی بتا رہی تھی کہ کہیں میں سننے سے انکار نہ کر دوں۔ یہ سانحہ انھی کی زبانی سنیے:
عصر کا وقت تھا۔ ایک ماں اپنی چودہ سالہ بیٹی کے ساتھ کلینک میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں لیبارٹری کا ٹسٹ تھا، جس کے حساب سے وہ چودہ سالہ معصوم بچی حاملہ تھی۔ وہ مجھ سے پہلے کسی میڈیکل فزیشن کے پاس گئے تھے۔ جنھوں نے ٹسٹ کے بعد ماں بیٹی کو میری کلینک کا پتا دیا، ماں چوںکہ ناخواندہ تھی اس لیے انھیں بھی پتا نہیں تھا کہ ماجرا کیا ہے۔ جب میں نے ماں کو بتایا کہ آپ کی بیٹی حاملہ ہے تو اس کے چہرے کی حالت ایسی ہوگئی، جیسے کسی مریض کو اچانک پتا چلے کہ آپ کو لاسٹ اسٹیج کا کینسر ہے۔ سردی میں اس کے چہرے پر پسینا آگیا۔ وہ مجھ سے کچھ کہہ رہی تھی لیکن اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی اور حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ میں نے اسے پانی پلایا اور دلاسا دیا کہ ایسی کیسز میرے پاس دن میں تین چار آتے ہیں۔

اس کے بعد میری نظر بچی پر پڑی۔ وہ اتنی معصوم اور نا سمجھ تھی کہ اسے ہماری باتوں سے بھی پتا نہیں چلا کہ اسے کیا ہوا ہے۔ میرے کلینک کی میز پر ایک کھلونا نما گھوڑا پڑا تھا۔ اس ساتویں جماعت کے بچی کی نظریں اس گھوڑے پر جمی ہوئی تھی، اسے وہ گھوڑا پسند آگیا تھا۔ اتنے میں ماں نے اس کے چہرے پر ایک زوردار تھپڑ رسید کیا اور گرج دار لہجے میں پوچھا۔ کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے؟ یہ سوال اس معصوم بچی کی سمجھ سے باہر تھا۔ اس لیے میں نے ماں کو کلینک سے باہر بٹھایا اور بچی سے اپنے انداز میں سوال جواب شروع کیے۔ پہلے اسے میں نے بتایا کہ آ پ کا بچہ ہوگا۔ اس نے معصومیت سے پوچھا کہ باجی میں تو چھوٹی ہوں میرا کیسے بچہ ہوگا؟ اس کے بعد میں نے پوچھا کہ کس نے آپ کے ساتھ ایک مخصوص حرکت کی ہے۔ ایک منٹ تک وہ چپ رہی لیکن پھر جب میں نے ماں کو نہ بتانے کی یقین دہانی کرائی۔ تو وہ گویا ہوئی۔ میری امی گھر پہ نہیں تھیں، میں اور بھائی جان گھر میں اکیلے تھے۔ وہ میرے پاس آئے اور میری شلوار اتاری۔ میں نے واپس شلوار اوپر کر دی اور کمرے سے باہر بھاگی، ہمارے گھر میں دیوار کے پاس پتھر پڑے تھے میں اس پر چڑھ گئی، بھائی جان نے مجھے دھکا دیا اور پتھروں پر گرا دیا۔ پھر میرا دوپٹا میرے منہ میں ڈالا اور میری شلوار اتار کر میرے ساتھ سب کچھ کردیا۔ اس کے بعد بھائی جان مجھے کمرے کے اندر لے گئے۔ پستول نکال کر مجھے ڈرایا کہ اگر تم نے امی کو بتایا تو میں تمھیں مار ڈالوں گا۔

بچی چپ ہوگئی مگر اس کے چہرے پر خوف تھا۔ اتنے میں مسجد سے مغرب کی اذان بلند ہوئی۔ بچی نے مجھے ہاتھ سے ہلایا اور کہا کہ باجی! یہ اذان کی آواز سن رہی ہو؟ یہ میرے بھائی جان ہیں۔ وہ زیادہ ترمسجد میں ہوتے ہیں اور حافظ قرآن بھی ہیں۔ میں اس معصوم بچی کو دیکھ رہی تھی اور بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ میں نے اس کی ماں کو بلایا اور پوچھا کہ اس لاڈلی کے بھائی جان کی عمر کتنی ہے؟
”اٹھارہ سال“۔ ماں نے جواب دیا۔
پھر اس کی ماں کو ساری صورت احوال سے آگاہ کیا۔ بچی کی پیٹ میں پانچ مہینے کا بچہ تھا۔ میں نے ڈیلیوری کردی اور بچہ ان کے حوالے کیا اور وہ چلے گئے۔

یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟ جواب کے لیے آپ کو اس مضمون کی پہلے تین سطریں پھر سے پڑھنا ہوں گے۔ بھائی اور بہن کا رشتہ اتنا مقدس ہے؛ میں نے اپنی تیس سالہ زندگی میں کسی اسکول، مسجد یا مدرسے کے استاد سے یہ نہیں سنا کہ اپنی بہن سے بد کاری کرنے کی یہ سزا ہے۔ اس بارے میں، میں نے کافی اسلامی معلومات اکھٹی کی ہیں، لیکن میں مفتی یا عالم نہیں ہوں اور نہ میرے پاس مولانا سراج الحق، مولانا فضل الرحمان، مفتی عبدالقوی، مفتی منیب الرحمان اور اوریا مقبول جان کی طرح کاپی رائٹ ہے، اس لیے اس بارے میں، میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں