صادق خان نے انتخاب کیسے جیتا؟


editصادق خان لندن کے مئیر منتخب ہو گئے ہیں۔ برطانیہ میں پاکستانی کمیونیٹی کے علاوہ پاکستان میں بھی اس انتخاب میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ پاکستانی اخبارات اور ٹیلی ویژن اسٹیشنوں نے انتخاب سے پہلے اور بعد میں صادق خان کے بارے میں خبریں اور تبصرے شائع کئے۔ ان کے مد مقابل کنزرویٹو پارٹی کے زیک گولڈ اسمتھ تھے۔ وہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ کے بھائی ہیں۔ عمران خان کی طرف سے زیک گولڈ اسمتھ کی حمایت کی وجہ سے بھی اس انتخاب میں پاکستانیوں کی دلچسپی زیادہ ہو گئی تھی۔

صادق خان لیبر پارٹی کی طرف سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں اور پیشہ کے لحاظ سے وکیل ہیں اور انہیں انسانی حقوق کے معاملات پر مہارت حاصل ہے۔ انہوں نے بطور وکیل اور سیاست دان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ لندن کا مئیر سیاسی اہمیت کے اعتبار سے وزیر اعظم کے بعد برطانیہ کا اہم ترین عہدہ سمجھا جاتا ہے۔ صادق خان نے اپنی محنت اور سیاسی جد و جہد کی وجہ سے یہ اہم انتخاب جیتا ہے۔ اب ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ پچاسی لاکھ آبادی کے اس شہر کے معاملات کو درست کرنے میں وہ اپنی صلاحیتیں صرف کریں گے۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ پہلی نسل کے برطانوی پاکستانی ہونے کی حیثیت سے بھی یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کے والدین ساٹھ کی دہائی میں پاکستان سے برطانیہ آئے تھے جہاں ان کے والد بس ڈرائیور کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ لیکن صادق خان کی کامیابی کو صرف اس بات سے منسلک کرنے کا رویہ کہ ان کا تعلق پاکستان سے ہے یا وہ مسلمان ہیں ، کسی طرح بھی صورت حال کی مکمل اور قابل قبول تصویر پیش نہیں کرسکتا۔ درحقیقت ان دونوں عوامل نے اس کامیابی میں کوئی خاص رول ادا نہیں کیا۔ لندن میں پاکستانی نژاد آبادی کی شرح تین فیصد سے بھی کم ہے اور برطانیہ کے دارالحکومت میں مسلمانوں کی آبادی بارہ فیصد کے قریب ہے۔ صادق خان کی کامیابی دراصل ان کی ذاتی محنت، لیبر کے منشور اور جمہوریت کی کامیابی ہے جس میں کوئی بھی شخص اپنے عقیدہ اور نسلی پس منظر سے قطع نظر کسی بھی سیاسی عہدہ پر صرف اپنی محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر کامیاب ہو سکتا ہے۔ یہ سب سے بڑھ کر لندن کے شہریوں کی کامیابی ہے کہ انہوں نے عقیدہ اور نسل کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کی بجائے اپنی صوابدید کے مطابق سب سے بہتر امید وار کو منتخب کیا۔

انتخاب کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد ووٹروں اور مدمقابل امید واروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صادق خان نے کہا کہ ’ یہ خوف پر امید کی فتح ہے۔ خوف کے ساتھ زندگی نہیں گزاری جا سکتی لیکن امید ہمیں آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہے۔‘ یہ بات کہتے ہوئے ان کا اشارہ انتخابی مہم کے دوران مخالف امید واروں کی طرف سے ان پر اسلامی انتہا پسندوں کا ہمدرد ہونے کے الزام کی طرف تھا۔ اس الزام تراشی میں ملک کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بھی شریک ہو گئے تھے تاکہ ان کی پارٹی لندن پر سیاسی کنٹرول برقرار رکھ سکے۔ لیکن انہیں اس مقصد میں کامیابی نہیں ہو سکی۔ لیبر پارٹی کے لیڈر جرمی کوربن کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ خاص طور سے اس منفی پروپیگنڈا کی وجہ سے گھروں سے نکلے اور انہوں نے صادق خان کو کامیاب کروانے کے لئے ووٹ دیا۔ جمعرات کو ہونے والے انتخاب میں اگرچہ صرف 45 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالا لیکن یہ شرح 2012 کے انتخاب کے مقابلے میں سات فیصد زیادہ تھی۔ صادق خان کو تیرہ لاکھ سے زائد ووٹ ملے جبکہ ان کے قریب ترین مد مقابل زیک گولڈ اسمتھ کو دس لاکھ کے لگ بھگ ووٹ مل سکے ۔

زیک گولڈ اسمتھ کی بہن جمائمہ نے صادق خان کی کامیابی پر اپنے ٹویٹ پیغام میں انہیں مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ان کی کامیابی تمام نوجوان مسلمانوں کے لئے مثال راہ ہو گی۔ لندن مختلف ثقافتوں ، مذاہب اور پس منظر رکھنے والے لوگوں کا شہر ہے۔‘ جمائمہ کی یہ بات یورپ میں آباد مسلمان اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بھی رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ یورپ کے ملکوں میں آباد ہونے والے مسلمان اور پاکستانی نژاد شہری گزشتہ کچھ عرصہ سے شدید سماجی اور سیاسی دباؤ محسوس کررہے ہیں۔ خاص طور سے مشرق وسطیٰ سے ابھرنے والی دہشت گردی کی لہر اور اس کے نتیجے میں یورپ میں حملوں اور پناہ گزینوں کی یلغار کے بعد مسلمان دشمن رویوں میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف یورپی ملکوں کی سیاسی قیادت نے امیگریشن کنٹرول کی پالیسیوں کو نافذ کرنے کے لئے ایسا لب و لہجہ اختیار کیا ہے ، جس سے اسلام دشمنی کی بو آتی ہے اور جو عمومی سماجی رویوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ان حالات میں صادق خان کی کامیابی یہ سبق سکھاتی ہے کہ معاملات سے لاتعلقی یا انتہا پسندانہ نعرے بازی ، اس نفرت اور تعصب کا مقابلہ کرنے کے لئے مناسب راستہ نہیں ہے۔ بلکہ اسے جمہوری طریقوں سے لوگوں کا اعتماد جیت کر اور ان کے لئے کام کرکے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے صادق خان کی کامیابی پورے یورپ بلکہ اس سے بھی آگے تک یہ پیغام سامنے لائے گی کہ ان ملکوں میں آباد مسلمان مقامی نظام اور رسم و رواج کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے لئے جگہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

صادق خان کی کامیابی کو مسلمان یا پاکستانی کی کامیابی قرار دے کر اس پیغام کی اہمیت کو کم اور بے وقعت کیا جائے گا کہ لندن کا شہری مسلمان ہو یا پاکستانی نژاد لیکن وہ سب سے پہلے اپنے شہر کا باشندہ ہے۔ صادق خان اسی حیثیت میں لندن کے مئیر بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

2 thoughts on “صادق خان نے انتخاب کیسے جیتا؟

Comments are closed.