عبدالستار ایدھی ایک انسان ایک مسیحاوجود انسانیت کا ترجمان ایدھی ڈے 8 جولائی


دنیا میں سینکڑوں مختلف مذاہب ہیں جن میں مزید سینکڑوں مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد کے ساتھ لاکھوں کروڑوں پیروکار ہیں۔ دنیا بھر میں عورت کی کوکھ سے پیدا ہونے والا بچہ ایک انسانی اساس پر جنم لیتا ہے لیکن لڑکپن سے بالغ عمری کے درمیان ہی اس پر کسی مذہب یا فرقے کی چھاپ لگ چکی ہوتی ہے اور باقی ماندہ زندگی اسی مخصوص طرز کی کشمکش میں گزرجاتی ہے۔

کیا کبھی کسی نے سوچا کہ انسان کو کیوں پیدا کیا گیا؟ دنیا میں جتنے بھی مزاہب ہیں سب میں جو ایک قدر مشترک ہے وہ ہے ”انسانیت“! کوئی بھی مذہب انسانیت کے استحصال کا پرچار نہیں کرتا بلکہ ہرایک کی بنیادی اساس بھی انسانی فلاح و بہبود پر قائم ہے۔

ذرا سوچیں! دنیا میں کتنے لوگ اور کونسے طبقے کے لوگ اس بنیادی اساس پر زندگی کو گامزن کیے ہوئے ہیں؟
ہر مذہب و فرقے و شہریت کی تقسیم سے پہلے دنیا کے ہر انسان کا ہر دوسرے انسان سے ”انسانیت“ کا رشتہ قائم ہے لیکن مذہبوں، فرقوں اور پارٹیوں نے ان رشتوں کو مختلف چادروں میں اوڑھ کر چھپا دیا اور آپس میں تقسیم در تقسیم کر دیا۔ لیکن اللہ تعالٰی اس دنیا میں ایسے خاص انسانوں کو بھیجتا ہے جو اپنی زندگی اسی انسانی رشتے پر غالب چادروں کو اتار کر بلا امتیاز ان کے دکھ درد سنتا ہے ان کے لئے مسیحا کا کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے انسان وہی ہوتے ہیں جو انسانیت کی تخلیق کے مقصد کو واضع کرتے ہیں۔
ایسے چند خاص انسانوں میں پاکستان کی دھرتی پر بھی عبدالستار ایدھی کے نام سے جنوری 1928 میں ایک فرشتہ صفت انسان نمودار ہوا جس نے بالآخر پوری دنیا میں تخلیق انسانیت کے مقصد کو عملی نمونہ کے طور پر پیش کیا اور 8 جولائی2016 کو اپنے تخلیق کار کے پاس پہنچ گئے۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)

میرے والد صاحب اکثر کہا کرتے تھے۔ بیٹا ”انسان ہی انسان کا دارو ہے“ دراصل وہ انسانی تخلیق کے مقصد کو ایک لائن میں بیان کر دیتے تھے اور ایدھی صاحب کو دیکھ کر لگتا تھا کہ یہی وہ ’دارو‘ ہے۔ ہم اپنے گھر و معاشرے کا جائزہ لیں کہ کتنے لوگ حقیقی انسان ہیں تو شاید ہمیں اکا دکا ملیں گے ہاں مگر کئی مومن، مسلمان۔ مولوی، ذاکر، صوفی، سردار، مہر، خان، سیٹھ، چوہدری و دیگرکئی ہزاروں لاکھوں مل جائیں گے یہی المیہ ہے کہ ہم اپنی بنیادی اساس سے کوسوں دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ہم کہنے کو بہت ترقی کر رہے لیکن ہم حقیقی طور پر اپنی بنیادی قدریں کھوتے چلے جا رہے ہیں۔

عبدالستار ایدھی صاحب ایک سادہ سے عام پاکستانی تھے جو نہ تو مولوی تھے، نہ ذاکر، نہ عالم، نہ ہی کوئی مذہبی و روحانی پیشوا اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی، تجارتی، سرکاری و غیرسرکاری تنظیم کے سربراہ۔

بس وہ تھے تو صرف ایک انسان۔ عبدالستار ایدھی جیسے انسانوں کے لئے نہ تو کوئی شیعہ، نہ سنی، نہ بریلوی، نہ وہابی۔ ، نہ مسلمان، نہ ہندو، نہ عیساءی، نہ کوئی بلوچی، نہ ہی پنجابی، نہ ہی سندھی، نہ ہی پختون اور نہ ہی کوئی دیگر تقسیم بس ایدھی صاحب کے لئے بس انسان ہونا کافی ہے اور بس پھر وہ ان کے لئے باپ بھی ہیں، ماں بھی ہیں، بھائی بھی ہیں، بہن بھی ہیں اور مسیحا بھی!

آج ایدھی صاحب ہم میں موجود نہیں مگر سب مذہبوں، فرقوں اور قوموں کو ایک عبدالستار ایدھی چاہیے۔ آئیں سب مل کر عہد کریں کہ ہم ایدھی صاحب کے مشن کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اگر ہم اپنا محاسبہ کریں تو ہماری اساس بھی انسانی ہے مگر ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ہم سب میں ایک عبدالستار ایدھی موجود ہے لیکن اس میں جان ڈالنا ہو گی تب آپ کی آنکھیں ایدھی کی آنکھیں بن جائیں گیں اور پھر آپ کو اردگرد لاوارث، یتیم، مسکین، غریب، مریض، لاچار، مستحق جیسے لوگ نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔ نفرتوں کی چادریں اتاریں اور بے لوث بلا امتیاز انسانیت کے لئے ’دارو‘ بن جائیں۔ یہی ایدھی کا خواب ہے اور یہی ہماری حقیقت ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں