جنسی ہراسانی کی شکار لڑکی: جاؤ بی بی معاف کرو


بات کچھ یوں ہے صاحبو ویسے تو ہر بات سے پہلے تمہید باندھنا ضروری نہیں ہوتی مگر آج اس کو کچھ ضروری جانا۔ ابھی فیس بک پر ہم سب کا ایک کالم “میڈیکل یونیورسٹیزکی فکیلٹی میں چھپے جنسی درندے” نظر سے گزرا۔ چونکہ خود بھی میڈیکل کے شعبے سے تعلق ہے تو تجسس پیدا ہوا کہ ایسا بھی کیا ہوگیا کہ ہمیں خبر ہی نہ پڑی۔

کالم سے کچھ واضح ہوا کہ پنجاب میڈیکل کالج کے ایک پروفیسر نے ایک لڑکی کو مسلسل 3 سال جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا اور وہ لڑکی صرف اس لیے خاموش رہی کہ پانی میں رہ کر مگرمچھ سے بیر کون رکھے۔ کالم میں لڑکی کا نام بھی عیاں تھا۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی تو سوچا اس کی پروفائیل کا چکر لگایا جائے۔ وہاں سب کچھ دیکھنے کے بعد صورت حال مزید واضح ہوگئی۔

ایک بات تو یہ سامنے آئی کہ یہ معاشرہ ابھی بھی مردوں کا معاشرہ ہے۔ یہاں پر عورت کو عزت کے ساتھ جینے کے لیے ابھی صدیاں درکار ہیں۔ غالباً امریتا پریتم نے کہا تھا “مرد نے عورت کے ساتھ صرف سونا سیکھا ہے جاگنا نہیں”۔ اس معاشرے میں خصوصاً مظلوم عورت کو جبر کے خلاف بولنے کے پہاڑ جتنی ہمت اور حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی عورت یہ حوصلہ پیدا کر لے تو وہی شور شروع ہوتا ہے جو ازل سے چلا آ رہا ہے “یہ لڑکی تو خود خراب ہے”، “3 سال تک مزے لینے کے بعد اب کیوں خیال آیا؟” اور اس طرح کے ان گنت طعنے موصول ہوتے ہیں۔

اس طرح کے معاملات پر مرد سارے ایک جُٹ ہو جاتے ہیں کہ اس کی عزت کو اتنا تار تار کر دو کہ دوبارہ کوئی عورت کچھ بولنے کی جرات ہی نہ کرے۔ اس سے مردوں کی انا کی تسکین بھی ہو جاتی ہے اور عورت کی عزت کے استحصال کا موقع بھی مل جاتا ہے۔

دوسری سچائی جس کا دل کو ملال ہوا کہ ہم لوگ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بہت جلد بھول جاتے ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب ننھی زینب کا ریپ کے بعد قتل ہوا اور نعش کچرا کنڈی سے ملی تو میڈیا نے خوب واویلا مچایا اور عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس صاحب نے از خود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا۔ ایک ہفتہ تو عوام نے خوب رونا رویا اور بعد میں کسی کو یاد نہیں کہ اس کا انجام کیا ہوا۔

بی بی جو لڑکیاں آواز اٹھاتی ہیں اور زمانے کی ہتھکڑیوں کو کھولتی ہیں ان کا انجام خدیجہ سے کچھ مختلف نہیں ہوتا۔ پھر ٹی وی پر خبر آتی ہے کہ حملہ آور باعزت بری ہوگیا اور میڈیا شور مچاتا ہے روز رات کو ٹاک شوز ہوتے ہیں اور اتنے میں کوئی اور ڈگڈگی بج جاتی ہے اور ہم اس کا تماشا دیکھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ہمیں وقت گزاری کے لیے الیکشن کا موضوع مل جاتا ہے۔ اور بعد میں مصروفیت کی وجہ سے معاشرہ اس طرح کی لڑکیوں کو صرف اتنا ہی کہتا ہے “جاؤ بی بی معاف کرو”۔


اسی بارے میں

میڈیکل یونیورسٹیوں کی فیکلٹی میں چھپے جنسی درندے

میرا پروفیسر تین سال سے مجھے جنسی ہراساں کر رہا ہے: پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کی طالبہ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں