اُف یہ بیویاں


بیویاں صبح سویرے بیدار ہوتی اور کام پر لگ جاتی ہیں۔ اوپر سے بچوں شوہر اور ساس وغیرہ کے ناز نخرے، کہ یہ نہیں کھانا، وہ نہیں کھانا؛ وغیرہ۔ یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا ہے۔

اگلے روز پھر ان کا یہی معمول ہوتا ہے۔ ان کی چھٹی ہوتی ہی نہیں یہاں تک کہ بیماری میں بھی وقفے وقفے سے اٹھتی اور کام میں مدد دیتی ہیں۔

ہم پختونوں کی گھر والیوں کو تو ہر وقت حجرے میں موجود مہمانوں کے لذت دہن کا بھی انتظام کرنا پڑتا ہے۔

میکے ہی سے انھیں یہ پٹی پڑھائی جا چکی ہوتی ہے کہ اب اپنے نئے گھر ہی سے تمھارا جنازہ اٹھنا چاہیے۔ چناں چہ ہر گرم و سرد حالات کو بنا کچھ کہے برداشت کرنا ان کی عادت بن جاتی ہے۔

چارسدہ کے ایک دوست کے مطابق ان کی ماں اور گھر کی دیگر بہو بیٹوں نے شادی کے بعد میکے میں رات کبھی نہیں  گزاری۔ وہاں جانا ہو تو صبح جاتی ہیں اور شام کو اپنے ”سرتاج“ کی خدمت اقدس میں دوبارہ حاضر ہوجاتی ہیں۔

اپنے شوہر کی اتنی عزت کرتی ہیں کہ انھیں ان کو نام سے پکارنا بھی اچھا نہیں لگتا۔

مجھے یاد پڑتا ہے میری مرحوم والدہ ہمارے والد کو دوسروں کے سامنے ”وہ“، ”بچوں کا ابا“ کے نام سے یاد کرتی تھیں؛ اور ان سے جب جب بات کرتیں تو ”بندہ“ یا ”اے“  اور یا میرا نام لے کر پکارتی تھیں۔ اکثر میں ان کے منہ سے اپنا نام سن کر جواب دیتا، یا حاضر ہوجاتا تو وہ والد محترم کی طرف اشارہ کرکے کہتیں ”ان“ سے مخاطب ہوں۔

میری شریک حیات مجھے اب بھی پرنسپل صاحب یا اکثر ”لڑکے“ کہہ کر پکارتی ہیں۔ اگرچہ اب ہم اس آخری نام کے صحیح حق دار نہیں رہے ہیں۔

ہم بھی ان کو نام لے کر پکارنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اس لیے انھیں ”خاپیرئی“ یعنی ”پری“ کہہ کر بلاتے ہیں۔ ویسے وہ اس سے بڑی خوش دکھائی دیتی ہے، حالاں کہ وجہ آپ کو معلوم ہو گئی ہے۔

بیویاں اپنا خیال کم ہی رکھتی ہیں۔ بس ان کی ساری زندگی پہلے اپنے میکے اور پھر سسرالیوں کی خدمت، عزت اور خاطر مدارت میں گزر جاتی ہے۔

اپنے خوراک اور آرام کو دوسروں کے لیے تج دینے والی ”پری“ کی صحت خراب ہوجاتی ہے اورپھر یا تو وہ قبر میں جا اترتی ہے، یا بیماریوں اور کم زوری کی وجہ سے زندہ درگور ہو جاتی ہے۔

ان کا ہاتھ بٹانے والے شوہرکو زن مرید بے غیرت اور بزدل کہا جاتا ہے، چناں چہ بہت سے ”مائل بہ کرم“ یہ نہیں کر پاتے۔

کوئی اور ”مائل بہ کرم“ ہو تو ہو، میرے بارے میں یہ شک نہ کیا جائے؛ کیوں کہ ”غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں“۔

بیوی بے چاری شوہر کی مرضی یعنی لو میرج میں آئے، یا خاندان کی پسند یعنی ارینج میرج میں، اکثر اس کا ساس اور نندوں کی دشمنی سے پالا پڑتا ہے۔

لو میرج والی کا شوہر اِن کی نظر میں پہلے سے ہی زن مرید ہوتا ہے، یوں ساس نندیں اس کی بیوی سے ناراض رہتی اور بدلہ لیتی ہیں؛ جب کہ ارینج میرج والی کا شوہر بے پروا ہو، تو بھی اس کا غم اور وہ محبت دے، تو پھر وہ زن مرید اور یہ ”ظالم“ اور اس پر جادو کرنےوالی۔

بیویاں عدم التفات کا شکار بھی ہوں، تو اکثر و بیش تر اپنے”سرتاج“ کی وفادار ہوتی ہیں۔ شوہر صاحب باہر گھومے پھرے اور آنکھیں لڑائے، اسے اپنا حق سمجھے، مگر بیوی پر تھوڑا سا شک ہی پڑ جائے تو اس کا انجام  غیرت کے نام پر قتل ہوتا ہے۔

ایک دوست کہتا ہے، عم زاد بیوی بڑی ”خوش اخلاق“ اور ”نرم“  ہوتی ہے؛ جب کہ ماموں زاد بڑی پیار بھری۔ لیکن ہماری ماموں زاد کی ”خوش اخلاقی“ اور ”نرمی“، ہائے ہائے! بس سمجھ لیجیے، ہر بات، ہر ایک کے سامنے نہیں کی جا سکتی۔

ایک دوست کہتا ہے، بیوی کیسی بھی ہو، بیوی تو پختو (غیرت) کی بس ایک ہی ہونی چاہیے۔ لیکن اکثر لوگ کہتے ہیں، اگر دوسری آ جائے تو ایک پر کام کا بوجھ ہلکا اور آدھا ہو جائے گا اور یہ سدھر بھی جاتی ہے۔ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ بس ویسے ہی کہا۔

یہ آخری بند اگر گھر والی نے دیکھ لیا، تو پھر اسپتال کے آرتھو پیڈک وارڈ میں بندے کی بیمار پرسی کے لیے آنا مت بھولیے گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں