جاگ رہا ہے پاکستان


الیکشن 2018ء مملکتِ خداداد پاکستان کے لئے حقیقی معنوں میں ایک مبارک سال ثابت ہوا ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختیار اور قوت کا حتمی منبع عوام الناس ہوتے ہیں۔ انہی کے پاس وہ امرت دھارا ہوتا ہے جو ایک عام انسان کو اُس کے عام حالاتِ زندگی سے اُٹھا کر مسندِ اقتدار پر بٹھا سکتا ہے۔ عوام الناس کے پاس ہی وہ طاقت اور اختیار کی کنجی ہوتی ہے جسے ہم عام الفاظ میں ووٹ کہتے ہیں۔

یہ چھوٹا سا لفظ ووٹ، جو ایک چھوٹی سی پرچی پر لگے انگوٹھے کے نشان پر مشتمل ہوتا ہے اس کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ ممکن ہی نہیں۔ یہ سارے لوگ جو ایوانِ اقتدار میں اقتدار اور اختیار کے مزے لوٹتے ہیں اِنہیں اِن ایوانوں تک یہی معمولی سی پرچی پہنچاتی ہے اور اِس پرچی کے ڈالنے کا حتمی اختیار صرف اور صرف ووٹر کے پاس ہوتا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ تھی کہ ہمارا ووٹر جو دوسروں کو اقتدار کی مسند پر بٹھانے کی بے بہا طاقت کا امین ہوتا ہے اسے اپنی طاقت اور اختیار کا رتی برابر اندازہ نہیں تھا۔ یہ لوگ ان ایم این ایز اور ایم پی ایز کو حکمران اور خود کو رعایا تصور کرتے تھے اِنہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ لوگ اِنہی کے ووٹ سے منتخب ہو کر آتے ہیں اور یہ ووٹ ان لوگوں کو عوامی خدمت کے مقصد کے لئے دیے گئے تھے۔

ان لوگوں کا ایوانِ اقتدار میں بیٹھنے کا مقصد اقتدار کے مزے لوٹنا نہیں بلکہ عوام الناس کی خدمت کرنا ہے۔ اِنہیں یہ عہدے، یہ وزارتیں اور یہ صدارتیں دی ہی اِس لیے جاتی ہیں کہ یہ عوام کے ٹیکس سے جمع شدہ قومی خزانے کو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کریں۔ لیکن عملاً یہاں ہوتا کیا رہا ہے؟ سبھی جانتے ہیں 2013ء میں جن ایم این ایز اور ایم پی ایز کو لوگوں نے اپنی گلیوں اور بازاروں میں اور اپنے گھروں کی دہلیزوں پر دیکھا انہیں پھر اگلے 5 سال صرف ٹی وی سکرینز پر ہی دیکھ سکے۔ اور یہ آج کی بات نہیں ہے۔

جب سے پاکستان معرضِ وجود میں آیا ہے الا ماشاءاللہ سبھی حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا ہے اور عوام ہر 5 سال بعد پھر اِنہی لوگوں کے ہاتھ بےوقوف بن جایا کرتے تھے وہی خوشنما وعدے، وہی دلکش باتوں کے لچھے، جن میں بھولے عوام کو اُلجھا کر ہر دفعہ ووٹ حاصل کر لیے جاتے تھے لیکن 2018 ء کا سورج ایک نئی اور روشن صبح کے ساتھ نمودار ہوا ہے۔ یہ سال حقیقتاً تبدیلی کا سال بن کے آیا اور میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنا بڑا انقلاب آج تک نہیں آیا اور وہ انقلاب ہے عوام الناس کا شعور اور آگہی۔ میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہی کہ آج سے پہلے کے لوگ بےشعور تھے یا حالات اور معاملات سے آگہی نہیں رکھتے تھے۔ سب کچھ تھا لیکن وہ جرات اور ہمت نہیں تھی جو ایک عام آدمی کو حکمران طبقے کا گریبان پکڑنے کے لئے درکار تھی۔ اور وہ ہمت اور جرات الحمدللہ آج عوام کو مل گئی ہے۔ اور اس کا بہت بڑا کریڈٹ بلاشبہ میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا کو جاتا ہے۔

آج عام آدمی نے اپنی طاقت کو جان لیا ہے۔ اُسے ادراک ہو گیا ہے کہ آج ہی وقت ہے کہ جب ان لُٹیروں اور چوروں کو آئینہ دکھایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ گھڑی ہے جب عوام اپنی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرکے ہر اُس شخص کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کر سکتے ہیں جنہیں اُن کے ووٹوں نے منتخب کیا تھا لیکن اپنے انتخاب کے بعد وہ اپنے حقیقی فرائض سے چشم پوشی کر کے محض ”لُٹو تے پھٹو“پروگرام پر عمل پیرا رہا۔ اور الحمدللہ آج پاکستان کا عام آدمی جگہ جگہ آئینہ لیے کھڑا ہے۔ جگہ جگہ عوامی عدالت سجائی ہوتی ہے۔ ہر ایک عوامی نمائندے کو عام آدمی نے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

جس جس حلقے میں جو بھی نمائندہ ووٹ مانگنے جا رہا ہے لوگ اسے خوب آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور اُس سے اُن کی 5 سالہ کارکردگی کے بارے میں سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔ اور درحقیقت یہی وقت کا تقاضا ہے اللہ پاک نے قرآن پاک میں فیصلہ سنا دیا ہےکہ خدا اُس قوم کی حالت نہیں بدلا کرتا جسے اپنی حالت بدلنے کا خیال نا ہو“اور الحمدللہ پاکستانی قوم نے اپنی حالت بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
رابعہ فاطمہ کی دیگر تحریریں
رابعہ فاطمہ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں