مجھے راحت کے انتظار کا روگ ہے


کہانی شروع معلوم نہیں کہاں سے ہوئی تھی لیکن جب ہماری پہلی ملاقات ہوئی تو میری عمر 23 برس تھی۔ فیضان کو اسکول داخل کرائے ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا تھا، اور ہم دونوں ماں بیٹا اس تجربے سے نڈھال تھے۔ اگر ابا میاں کی ناراضگی کا ڈر نہ ہوتا تو شاید اس پہلے دن کے بعد میں وہاں قدم بھی نہ رکھتی جب تعارفی امتحان کی لیے لے جائے جاتے ہوئے فیضان اس قدر بلک بلک کر رویا تھا کہ قے سے اس کے نئے جوتے اور ایڈمیشن آفس کا قالین لتھڑ گئے تھے۔ ابا میاں کی طبیعت تھی ہی ایسی۔ ان کا ڈر ایسا ہی تھا۔ دیمک کی طرح کھا جانے والا۔

میں نے گھر کی ملازماؤں کو، آس پڑوس کی رہنے والی کتنی ہی پڑوسنوں کو، رشتے داروں کو، اشاروں کنایوں میں اپنا تمسخر اڑاتے دیکھا تھا۔ عرفان کی خود ساختہ جلا وطنی میری موجودگی ختم نہیں کروا سکی تھی، میری اولاد بھی ابا میاں کو ان کی اولاد واپس نہیں دلوا سکی تھی۔ یہ ایسی شکست تھی جس کے بطن سے صرف خوف ہی جنم لیتا ہے۔ سانس لیتا، دھڑکتا، ہر ہر سانس میں گونجتا خوف۔

خوفزدہ انسان سے ملے ہیں آپ کبھی؟ ایسے خوفزدہ انسان سے جو اپنے خوف کے اظہار سے بھی خائف ہو؟ خوف کی وجہ کا بیان ممکن نہ ہو، تو ایک ڈرے ہوئے انسان کے پاس اظہار کی عیاشی نہیں رہتی۔ بہادری کا نقاب اوڑھنا پڑتا ہے۔ میں نقاب اوڑھتی تھی۔ بھنچی ہوئی مٹھیوں کے ساتھ کھل کر مسکراتے ہوئے۔

ہماری پہلی ملاقات ہوئی تو میری عمر 23 برس تھی۔ مجھے یہ نقاب اوڑھتے ہوئے چھے برس ہوگئے تھے۔ سترہ سال کی دلہن کو چھوڑ کر سہاگ بدیس سدھار جائے تو پھر سولہ سنگھار تو ویسے ہی نہیں کر سکتی تھی۔ اس کا کمال یہ تھا کہ اس نے مجھے اس نقاب کے باوجود دیکھ لیا۔ آپ میں سے یہ کتنے لوگوں کے ساتھ ہوا ہے کہ کوئی اپ سے مخاطب ہو اور آپ کو اچانک یقین آ جائے کہ وہ نہ صرف آپ کے لفظ سن رہا ہے بلکہ وہ آپ کی بات سمجھ رہا ہے، آپ کو دیکھ رہا ہے۔ شفاف۔ مجھے راحت جبیں سے بات کرتے ہوئے یہی محسوس ہوا تھا۔ اس کے گہرے سانولے چہرے پہ اس کیاندر کو دھنسی ہوئی آنکھیں دمکتی تھیں۔ چہرے پہ پہلی نظر میں صرف وہ آنکھیں ہی دکھتی تھیں۔ ان کی چمک اس کے ناک میں سجے چاندی کے لونگ سے بھی زیادہ تھی۔ بس صرف اس کا قہقہہ تھا جو اس کی آنکھوں سے بھی زیادہ گونجدار تھا۔

اس روز میں چھٹی سے کوئی گھنٹہ بھر پہلے ہی اسکول پہنچ گئی تھی۔ دل عجیب بیقرار تھا۔ سستا سا پرائیوٹ اسکول تھا۔ گھر کے باقی بچے تو گاڑی میں قدرے دور واقع بڑے اور مہنگے اسکول میں جاتے تھے، مگر فیضان کا حساب ابا میاں باقی بچوں کے ساتھ نہ رکھتے تھے۔ ”یوں بھی، “ انہوں نے مجھے دلیل دی، ”تمہاری تسلی رہے گی اگر قریب کا کوئی اسکول ہوا تو۔ “ میں نے کیا اعتراض کرنا تھا۔

چوکیدار وغیرہ کوئی تھا نہیں سو میں گیٹ کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی۔ راحت وہاں پہلے سے کھڑی تھی۔ کچھ دیر وہ مجھے خاموشی سے دیکھتی رہی اور پھر اپنا چھلی کا بھٹا میری طرف بڑھا دیا۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔ وہ بھٹا آج 25 سال بعد بھی کبھی کبھی میرے ہاتھ میں آنچ دے اٹھتا ہے۔

راحت جبیں مجھ سے پانچ سال بڑی تھی۔ اس کی تین بیٹیاں تھیں اور وہ ہمارے محلے کی نہ تھی۔ اس کا تعلق میاں چنوں سے تھا۔ میرا میکہ بھی پنجاب میں رہ گیا تھا۔ میکہ کیا تھا۔ ماموں اور چچا کے عسرت زدہ گھر تھے جن کے درمیان گِلی بنے میرا یتیم بچپن گزرا تھا۔ ہم دونوں ہی حیدرآباد کی گرد اڑاتی دوپہر میں اپنی اپنی یاد کے سبز پنجاب کا سایہ اوڑھ لیتے۔

راحت محنت کش تھی اور پراندے بنا کر بیچتی تھی۔ چند دن میں ہی ہم آپس میں گھل مل گئے۔ اگرچہ ہم دونوں ہی اپنے اپنے گھر والوں کا زیادہ ذکر نہ کرتے تھے، پر پھر بھی کچھ باتیں شاید صوت اور سماعت کے تعلق کی محتاج نہیں ہوتیں۔ راحت کے لفظ کروشیے کی نئی نئی بنت کی بات کرتے اور اس کے جسم پر روز کوئی نیا نیل اس کے میاں کے چھوٹے پن کی کہانی سناتا۔ اس کے اونچے قہقہے میں مجھے اس کے آنسوؤں کی نمی بگھو دیتی۔ شاید یہی انکہے دکھ کی سانجھ ہمارا رشتہ بن گئی۔

ایک روز فیضان کو لے کر اسکول سے واپس گھر پہنچی تو ماحول میں عجیب کشیدگی تھی۔ چھوٹا دیور عزیز کڑے تیور لیے مجھے بلانے آیا۔ ساس، امی جان کے کمرے میں کچہری لگی تھی۔ “پوچھیں ان سے۔ آج بھی اسی کے ساتھ اسکول سے بڑی سڑک تک آئیں ہیں۔ “ وہ گرجا۔

امی جان نے اسے باہر جانے کو کہا اور اس کے بعد مجھے بہت رسان سے بتایا کہ راحت کو اس کا میاں آج سے آٹھ سال پہلے ایک کوٹھے سے بھگا کر لایا تھا۔ وہ ایک کسبی ہے اور ایک شریف عزت دار گھرانے کی بہو ہونے کے ناطے میں اس سے دور رہوں۔ ”عزیز کا خون بہت گرم ہے۔ وہ پہلے ہی اپنے سب دوستوں کے آگے شرمندہ ہے کہ اس کی بھابھی ایک رنڈی کی سہیلی ہے۔ “ امی جان نے اپنے پان کی گلوری منہ میں رکھ کر بات جاری رکھی۔ ”آج تو میں نے سمجھا بجھا لیا ہے، آئیندہ تمہیں اس کے ساتھ دیکھ کر وہ غیرت میں آ کر کیا کر بیٹھے، میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ تم بھی نہیں چاہو گی کہ بات عرفان کے ابا تک پہنچے۔ “

میرے کان سن ہو گئے۔
سہاگن وہی جو پیا من چاہی، یہ تو سب بتاتے ہیں۔ مگر جو پیا من نا چاہی گئی ہو، اس روگن کا حال کوئی نہیں لکھتا۔ معلوم ہے کیوں؟ کیونکہ ایسے روگ کو لفظ سمو ہی نہیں سکتے۔ بےوقعتی صرف برتی جاتی ہے، بیان نہیں کی جاتی۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

لینہ ناصر کی دیگر تحریریں
لینہ ناصر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں