ووٹ کو عزت دو


میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز صاحبہ کی وطن واپسی کا فیصلہ نہایت خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے۔ جیسا کہ الیکشن میں بس کچھ ہی دن باقی ہیں مگر تاحال کوئی خاطر خواہ کیمپیئن مسلم لیگ نواز کی جانب سے دیکھنے میں نہیں آئی۔

صاف ظاہر ہے میاں نواز اور مریم بی بی جو کہ مرکزی قائد ہیں عوام میں موجود نہیں ہیں۔ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بس میاں محمد نواز شریف ہی اس پارٹی کا چہرہ ہیں اور عوام کے لئے کشش ثقل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مسلم لیگ نواز جو پورے پاکستان میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا کرتی تھی اس بار پنجاب میں بھی دکھائی نہیں دے رہی۔ لاہور جو مسلم لیگ نواز کا گھر ہے وہاں کسی جگہ آپ کو کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی ماسوائے پی ٹی آئی کے جوش و ولولے کے۔ علیم خان، عمران خان، یاسمین راشد، میاں اسلم اقبال، حماد اظہر ودیگر پوری طرح چھائے ہوئے ہیں۔ لاہور کی سڑکوں پہ لگے پولز تحریک انصاف کے پارٹی پرچموں سے لدے ہوئے ہیں۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز ماڈل ٹاؤن میں سہمے بیٹھے ہیں۔ جب کہ دیگر مرکزی رہنما نیب گردی سے خود کو بچاتے پھر رہے ہیں۔ یوں مسلم لیگ نواز کی الیکشن کیمپیئن نہ ہونے کے برابر ہے اور بظاہر بہت برا حال نظر آریا ہے۔

ایسے میں کیپٹن صفدر کی ایک بہت بڑی ریلی میں گرفتاری اور میاں صاحب کی اپنی صاحبزادی کے ہمراہ وطن واپسی کا فیصلہ پارٹی میں ایک نئی روح پھونکنے کے مترادف ہے۔ امید یہ کی جا رہی ہے کہ لاہور ائیرپورٹ پہ ہونے والا استقبال اپنی مثال آپ ہوگا۔ سوئے ہوئے لیگی جاگ جائیں گے۔ شہباز شریف اور دوسرے رہنماؤں کی بیٹری چارج ہو جائے گی اور ایک بار پھر سے ن لیگ الیکشن مہم کا حصہ بن جائے گی۔

ایسے میں اگر پیر کو مریم نواز صاحبہ کی ضمانت ہوجاتی ہے تو سونے پہ سہاگہ ہوگا۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ مریم نواز ایک مکمل اور پختہ لیڈر بن چکی ہیں، اگر وہ آخری دس دن میں ملک گیر جلسے جلوس کرتی ہیں اور اپنا بیانیہ پیش کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو 25 جولائی کے نتائج بہت مختلف ہوں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ میاں محمد نواز شریف جیل کی کال کوٹھڑی میں ٹک کر بیٹھیں اور پارٹی کی قیادت کریں اور ان کے فالوورز انکی ہدایات پہ من وعن عمل پیرا ہوں اور اس الیکشن کو زندگی اور موت سمجھ کر لڑیں۔ کیونکہ اس میں پارٹی کی بقا کا مسئلہ تو ہے ہی، ساتھ ہی یہ نادیدہ قوتوں سے ملک کو آزاد کروانے اور سِول سپرمیسی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا آخری موقع ہے۔

اسٹیبلشمنٹ نے بساط بچھا دی ہے اپنی مرضی کی، لیکن جمہوری قوتوں کو بلآخر کھیلنا تو ہے ہی۔ لھذا جم کے کھیلا جائے کیونکہ ٹوٹی پھوٹی جمہوریت بھی آمریت سے ہزار گنا بہتر ہے۔ اس کے لئے ووٹ کو عزت دینی ہوگی۔ اپنے ووٹ کی عزت خود کروانی ہوگی۔ مریم نواز کو بینظیر بھٹو بننا ہوگا، میاں محمد نواز شریف کو نیلسن منڈیلا بننا ہوگا۔ کسی قوت سے کسی قسم کی کوئی ڈیل کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ وگرنہ اسی طرح جوڈیشیل مرڈر ہوتے رہیں گے کبھی کسی بھٹو کا کبھی کسی پارٹی کا اور کبھی ہمارے ووٹ کا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ملک کامران مانک کی دیگر تحریریں
ملک کامران مانک کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں