جھیل بنجوسہ کے کنارے ذاتی زوجہ مگر تتلیاں غائب


”اُف! کیسا غلیظ واش رُوم ہے، یہ تو استعمال کے قابل نہیں ہے“۔
میں نے یہ سنتے ہی فورا ویٹر کو پکارا، اور لعن طعن شروع کر دی کہ آپ صفائی کا خیال بھی نہیں رکھتے، جب کہ میں یہاں آپ کے ریستوران کا نام سن کر آیا تھا، کہ بہت اچھا انتظام ہے۔ ویٹر دوڑا دوڑا گیا، اور صفائی کرنے والے کو بلا لایا۔ اتنے میں ہم دونوں اور بچے ایک میز کے گرد بیٹھے مینیو دیکھنے لگے۔ راولا کوٹ شہر کے مرکز میں ایک سب سے اچھا ریستوران تھا، جہاں فیملی کے بیٹھنے کے لیے کیبن بنے ہوئے تھے۔

”کیا کھاو گی تم“؟
”کچھ بھی منگا لیں، مجھے کچھ خاص بھوک نہیں ہے“۔ بے پروائی سے جواب دیا گیا۔
”مٹن کڑاہی منگوا لوں“؟
”نہ! مٹن نہیں؛ باہر کا کھانا ہو، مٹن سے بو آتی ہے“۔
”چکن“؟
”میرے معدے میں درد ہے، آپ سے کہا تھا، اسپغول رکھ لینا، وہ لائے“؟
”ہاں! نیچے؛ گاڑی میں ہے۔ پہلے کھانا تو کھا لو“۔
”اچھا“۔

”چکن“؟
”کچھ بھی منگوا لیں۔ بچوں کے لیے چکن بوٹی کا کہ دیں، بس“۔
”اپنے لیے“؟
”جو بھی آپ کا دِل چاہے“۔
”سبزی“؟
”نہیں“!
”دال“؟
”مٹن ہی ٹھیک رہے گا“۔

کہوٹہ سے آگے بڑھیں تو آزاد پتن تک دائیں طرف دریاے نیلم بہتا چلا جاتا تھا، نیلم کے اُس پار اور ہمارے بائیں ہاتھ بھی پہاڑ تھے؛ راولا کوٹ جاتے، آزاد پتن کا پل عبور کرتے ہی دریا بائیں ہاتھ پہ بہنے لگتا ہے، اور کچھ ہی دیر میں آنکھ سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ پنڈی سے کشمیر جاتے گام گام پر دل کش نظاروں سے واسطہ پڑتا ہے۔ مہینا سوا مہینا پہلے کا واقعہ ہے، ہم دوست ایک وین میں سوار پکنک کے لیے جا رہے تھے۔

پکنک کا پروگرام بنا تو میں نے انکار کر دیا، کیوں کہ میری مالی حالت نہایت پتلی تھی، کسی طرف سے کوئی پے منٹ نہیں آئی۔ دوست ایسے جان تھوڑی چھوڑتے ہیں، کہ آپ کے اکاونٹ میں رقم نہ ہو، اور وہ منہ موڑ جائیں۔ ایک نے دس ہزار جیب میں ڈال دیے، کہ تمھیں جانا ہوگا۔ دوسرے نے آفس کی وین نکلوا لی؛ ساتھ آٹھ دوستوں کی ٹولی نکلی۔ راہ سے کسی نے پھل خرید لیے، تو کسی نے سیگرٹ کا بند و بست کر دیا۔ ہم تھے اور ہمی تھے۔

”کہا تھا ناں، کہیں جائیں تو مٹن نہیں کھانا چاہے؛ دیکھیے تو! باس ہے اس میں۔ اور یہ چکن بوٹی!؟ یہ بھی کچی ہے“۔

”یار! یہ کیا لے آئے ہو؟ میں نے ویٹر کو جھاڑ پلائی۔ وہ چکن بوٹی اٹھا کے لے گیا، کہ اسے مزید بھون لائے۔

عید کے بعد ایک کلائنٹ نے چھوٹی سی رقم کا چیک بھیج دیا؛ قرض خواہوں کو پتا نہ چلنے دیا کہ پے منٹ آ گئی ہے۔ پنڈی سے صبح سویرے ہم اپنی کار میں نکلے تھے؛ آزاد پتن دریا پر بنے پل سے چھہ سات کلومیٹر اِدھر معلوم ہوا کہ کسی تنظیم کے احتجاج کے باعث آگے راستہ بند ہے۔ تفصیل کسی کے پاس نہ تھی۔ ایک مقامی نے متبادل راستے کا بتایا۔ اس طرف ہو لیے۔ پہاڑوں سے بل کھا کے گزرنے والی یہ کچی پکی سڑک ایک ڈراونے خواب کی طرح رہی، جس میں جتنا تیز بھاگو، فاصلہ طے ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

”آپ پہلے پتا کر لیتے کہ آج ہڑتال ہے یا نہیں“۔
”کس سے پتا کر لیتا“؟ مجھے خود اپنی آواز میں جھنجلاہٹ محسوس ہوئی۔
”یہ دیکھیں کتنا خطرناک راستہ ہے؛ بچے ساتھ ہیں، اگر کچھ ہو گیا تو“؟

دوستوں کے ساتھ نکلے تو پنڈی سے روانہ ہوتے ہی بارش نے تعاقب شروع کر دیا۔ کہیں چائے پینے کو ٹھیرے، تو کہیں تصویر اُتروانے کو رُکے۔ کوئی عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کی تان اُٹھانے لگا، تو کوئی مکیش کی یاد دلاتا چلا گیا۔ دوست اور پھر شاعر، تو بیچ بیچ میں شعر بھی سناتے چلے جاتے۔ واہ وا؛ سبحان اللہ کرتے ہم کشمیر پہنچے۔ دو کو مشاعرے میں شریک ہونا تھا، باقی بارش، دھند، کچے راستوں، کیچڑ سے ہوتے جھیل بنجوسا دیکھنے پہنچے۔

”اسے کہیں تازہ روٹی لے کے آے، یہ تو برف ہو رہی ہے۔ لگتا ہے، صبح سے بنا کے رکھی ہے“۔

متبادل اور خطرناک راستے سے پہاڑوں کو سر کرتے، جب ہم دریا کے پل پر پہنچے تو اسے بھی مسدود کر دیا گیا تھا۔ اس سے آگے بڑھنے کو سوال ہی نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ گزشتہ شب ڈاکووں نے ایک بس لوٹ لی تھی، فائرنگ سے بس ڈرائیور زخمی ہوا تھا۔ اس لیے ٹرانس پورٹ یونین سڑک بند کر کے احتجاج کر رہی تھی۔ اس طرف پنجاب اور اُس طرف کشمیر۔ دو تھانوں کی حدود ہو تو کوئی ایک ذمے داری نہیں لیتا، یہاں تو ایک صوبے اور ریاست کی حد تھی، شنوائی کیوں کر ہوتی۔

”یہ آپ تفریح کے لیے لائے ہیں، ہمیں؟ پتا ہوتا تو میں آتی ہی نہ“۔
”پتا ہوتا، تو میں کیوں لاتا، تمھیں“؟

مجھے اس لمحے پر افسوس ہو رہا تھا جب میں نے جھیل بنجوسا کی تعریف کی تھی، کہ اگلی بار ہم وہاں جائیں گے۔ پل پر پھنسے ابھی تیس چالیس منٹ ہی ہوئے تھے۔ بچے گاڑی میں سو رہے تھے۔ پل کے اُوپر، اِس طرف، اُس پار؛ جہاں جہاں سڑک کا نشان تھا، وہاں وہاں گاڑیاں ہی گاڑیاں، لوگ ہی لوگ دکھائی دیتے تھے۔ نیچے تیز رفتار سے بہتا پانی۔

بارش زرا تھمی تھی کہ ہم دوست جھیل بنجوسا پہنچ گے۔ یہ مصنوعی جھیل ہے؛ دو ایک کو نماز پڑھنا تھی، جھیل کے اطراف میں نماز کا مناسب انتظام، نہ ڈھب کا استنجا خانہ۔ واش رُوم کے نام کے جس کمرے میں داخل ہوئے، اس میں ڈیڑھ فٹ کھڑا پانی استقبال کرتا تھا۔ ہم سیر کرنے آئے تھے، ایسی معمولی تکلیفوں کی پروا کیوں ہونے لگی۔ جس نے نماز پڑھنا تھی، پڑھی۔ دھوپ نکلی تو نہ جانے کس اور سے تتلیاں نکل آئیں اور اِدھر اُدھر پرواز کرنے لگیں۔

”یہ راستہ کب کھلے گا؟ ہم کب تک یہاں رہیں گے“؟

”میں نے پتا کیا ہے، مذاکرات ہو رہے ہیں۔ اُدھر سے کشمیر کی انتظامیہ بھی آ گئی ہے، اِدھر سے پنجاب کی انتظامیہ؛ ٹرانس پورٹ یونین کے نمایندوں سے بات چیت چل رہی ہے۔ میرا خیال ہے اب جلدی فیصلہ ہو جائے گا“۔

”اور اگر راستہ نہ کھلا تو“؟

”کیسے ہو سکتا ہے، راستہ نہ کھلے! ہمیشہ کے لیے تو بند نہیں ہو سکتا“۔

ہمیں راستہ کھلنے کے انتظار میں دریا کے کنارے کھڑے لگ بھگ دو گھنٹے ہو چکے تھے۔

بارش میں پکوان کا لطف دو بالا ہو جاتا ہے؛ پکوڑے، اُبلے انڈے، چپس، چائے، بے فکرے دوستوں کی محفل، بیویوں کے لطیفے ہوں، تو کون سا نظارہ دِل کش نہ ہوتا ہوگا۔ سبھی کا فیصلہ تھا، کہ اُس جھیل میں ناو نہیں کھینچی جا سکتی، جہاں احتیاطی تدابیر سرے سے مفقود ہوں۔ ہنگامی حالات سے نبٹنے کے لیے امدادی ٹیم نہ متعین کی گئی ہو۔ جھیل کے اطراف میں سیر کرتے، تصویریں لیتے، چھیڑ چھاڑ کرتے وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔

یونین والوں سے مذاکرات کام یاب رہے۔ اڑھائی تین گھنٹے بعد راستہ کھلا۔ یہ نصیب اچھے تھے کہ دونوں اطراف کی انتظامیہ نے ٹریفک کو الجھنے نہ دیا، ورنہ ہر ایک پہل کے چکر میں دوسرے کا راستہ کھوٹا کرتا ہے۔ خدا خدا کر کے راولا کوٹ پہنچے؛ سہ پہر ہو چکی تھی، طے ہوا کہ پہلے کھانا کھا لیا جائے، پھر جھیل بنجوسا جائیں گے۔

”کھانا تو ایک ذرا کام کا نہ تھا۔ آپ کو سینس ہی نہیں ہے، کس جگہ سے کھانا ہے، کہاں سے نہیں؛ ایسا بد ذائقہ کھانا میں نے کبھی نہیں کھایا؛ یاد ہے ناران کاغان میں کتنا اچھا کھانا تھا“؟

بِل ادا کر کے ہم ریستوران سے باہر آئے۔

”وہ سامنے سے بچوں کے پیمپر لے لیں، اور ہاں پتا کرنا اس کے پاس فیشل کریم ہے، تو وہ بھی لے لیجیے گا“۔

”فیشل کریم کا کیا کرو گی، واپس پنڈی جا کے لے لیں گے“۔

”آپ پتا تو کر لیں، ہو سکتا ہے، پنڈی سے ملے نہ ملے“۔

مہینا سوا مہینا پہلے جب دوستوں کے ساتھ جھیل بنجوسا آیا تھا، تو سڑک کی تعمیر ہو رہی تھی؛ اس بار سڑک پہلے سے بہ تر حالت میں تھی۔

”اُف! یہ کیسے راستے سے جا رہے ہیں، آپ؟ کوئی اور راستہ نہیں ہے، جہاں گاڑی جھٹکے نہ کھائے۔ آپ کو گاڑی بھی تو صحیح طرح سے چلانا نہیں آتی“؟
”جانو! معاف کر دو، مجھے تمھیں یہاں نہیں لے کے آنا چاہیے تھا“۔ میں نے بےچارگی سے کہا۔

”لے کے کیوں نہیں آنا چاہیے تھا، خود ہر جگہ سے گھوم آتے ہیں، آپ؛ اور ہمیں کہیں لے کے ہی نہیں جاتے“۔
”گزشتہ سال ناران کاغان نہیں لے کر گیا“؟!
”ایک بار لے گئے تو کون سا احسان کیا“!
”اور اس سے پچھلے سال ہنزہ گئے تھے، وہ“؟
”اب آپ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی یاد دلائیں گے“؟

جھیل بنجوسا میں تیرتی کشتیاں دیکھ کر بچے مچلنے لگے، کہ ہمیں شپ کی سیر کرنا ہے۔
”بیٹا یہ شپ نہیں بوٹ ہے“۔ میں نے بچوں کو پیار سے سمجھایا۔
”اب آپ بچوں کو تو بخش دیں۔ بچے یہاں سیر کرنے آئے ہیں، شپ اور بوٹ کا فرق سمجھنے نہیں“۔
”اچھا بھئی، معافی چاہتا ہوں؛ لیکن کشتی میں نہیں بیٹھیں گے، لائف جیکٹس تک نہیں ہیں، ان کے پاس“۔
”آپ تو خوام خواہ ہی ڈرتے ہیں۔ ساری دُنیا بیٹھتی ہے“۔

”اچھا ٹھیک ہے، تم بیٹھ جاو، میں نہیں بیٹھوں گا“۔ میں زچ آ چکا تھا۔
”ہاں! اگر ڈوبیں تو ہم ڈوبیں؟! آپ یہاں کھڑے ہو کے نظارہ دیکھیں؟! چلیں آئیں؛ چپ کر کے بیٹھیں“۔
”لیکن مجھے پانی سے ڈر لگتا ہے“۔ میں نے رونی صورت بنا کے کہا۔
”آپ کو کس چیز سے ڈر نہیں لگتا؟! بہانے مت بنائیں، آ جائیں“!
اس سے زیادہ مزاحمت ہو بھی نہ سکتی تھی۔ ناچار کشتی میں بیٹھنا پڑا۔

”دیکھا؟ کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ ایسے ہی آپ۔۔۔“ کشتی سے اُترے تو مجھے یہ سننا پڑا۔
”اچھا! بچوں کو واش رُوم لے کے جانا ہے؛ کس طرف ہے؛ اور صاف ہے ناں“؟
”بالکل بھی صاف نہیں ہوگا، ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ پانی کھڑا ہوگا، میں تمھیں یقین دلاتا ہوں“۔ میں نے ہار مانتے ہوئے کہا۔
”تو پھر آپ یہاں لائے کیوں“؟

”ٹھیک کہ رہی ہو؛ مجھے مری لے جانا چاہیے تھا“۔
”مری بھی کوئی جانے کی جگہ ہے! ہزار بار دیکھ چکی ہوں“۔
خلاف توقع واش رُوم صاف تھا۔ مجھے خود حیرت ہوئی کہ یہ تبدیلی کیسے آئی۔
”آپ تو کہ رہے تھے، بالکل بھی صاف نہیں ہوگا؛ یہ اس ریسٹورنٹ سے بہ تر ہے جہاں سے آپ نے بد مزہ کھانا کھلایا تھا“۔

جھیل بنجوسا سے واپسی ہوئی تو پیچھے مڑ کے دیکھتے استفسار کیا گیا۔
”آپ کہ رہے تھے، یہاں تتلیاں بھی ہیں؛ مجھے تو ایک بھی نہیں دکھائی دی“؟!
”آج تو مجھے بھی نہیں دکھائی دی“۔

”تو آپ نے غلط کہا تھا“؟
”نہیں تو! جب میں پہلے آیا تھا، تو میں نے دیکھی تھیں“۔
”ہوتیں تو دکھائی نہ دیتیں“؟
”شاید وہ موسم دوسرا تھا“۔ میں منمنایا۔
وہ مجھے شکوہ کناں نظروں سے دیکھ رہی تھی، اور میں یہ سوچ رہا تھا، کہ مہینے سوا مہینے میں موسم بدل گیا تھا، یا دوستوں کے ساتھ ہر جگہ ہی بہار ہوتی ہے۔ انسان عاجز ہے؛ خدا کی خدا ہی جانے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 253 posts and counting.See all posts by zeffer-imran