اساتذہ، جنسی ہراسانی کا معمہ اور عہد حاضر کی ”ہیرا منڈی“


معمے بڑی عجیب چیز ہوتے ہیں،انسان اگر اُن میں الجھ جائے تو اسے اُس وقت تک چین نہیں ملتا جب تک وہ اِن کو حل نہ کر لے۔ اب معمے، پہیلیاں ہیں بھی کئی اقسام کی۔ اہل پاکستان ابھی تک لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو نہیں جان پائے۔ اہل امریکا کئی دہائیوں سے معروف زاڈویک(Zodliac)  سیرئل کلر کے معمے کے حل کی تلاش میں ہیں۔۔ یہ سوال بھی لاینحل ہے کہ کینیڈا کے ساحلوں پر یہ جو 6 یا 8 ٹوٹی ہوئی پنجر ٹانگیں جوتا موزا پہنی ملتی ہیں یہ کہاں سے آ جاتی ہیں؟ انسان معموں کے پیچھے جائے تو ایک زندگی تو صریحاً ناکافی ہے۔ مگر چھوٹے موٹے معمے، چھوٹی موٹی پہیلیاں بھی بعض اوقات انسان کو بڑی الجھن میں رکھتی ہیں۔ کوئی دو تین ماہ قبل جامعہ کراچی کے ایک استاد کی جانب سے ایک طالبہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی خبر کے حوالے سے بڑی گرما گرمی میڈیا پر ہوئی۔ پھر ایک میڈیا گروپ نے اس بات پر اپنی پروموشن کی راہ نکالی اور کئی دن تک اُس استاد کی تصویر دکھا دکھا کر خبریں اور پروگرام کرتا رہا۔ پھر الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے اُن کی خبر لی تو بالآخر اس چینل نے خاموشی اختیار کی۔ مگر پھر بھی دیگر چینلوں اور کچھ اخبارات میں ہلکی پھلکی فائرنگ جاری رہی۔

بات اخبارات اور ٹی وی سے نکل کر معاشرے میں پھیلی۔ استاد تو خیر اس معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ہیں ہی اور جامعہ کراچی کے اساتذہ؟ وہ تو بھیڑ بکریاں ہیں، کوئی بھی طالع آزما اُن پر حملہ کر سکتا ہے، اُن کو بدنام کر سکتا ہے اور اُن کے دفاع کے لئے کوئی اتھارٹی موجود ہی نہیں۔ پھر معاشرہ بھی کسی بھی ایک استاد کے حوالے سے کسی بھی خبر کو (اگر وہ منفی ہو) تو بلا تحقیق فوراً مان لیتا ہے۔ اس لئے کہ اس معاشرے کو علم سے منسلک لوگوں سے کسی بھی طور محبت تو ہے نہیں۔ یہ معاشرہ تو علم کی دنیا سے منسلک لوگوں کو صرف نفرت اور حقارت سے دیکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معاشرہ استاد کی عزت کرتا ہے مگر ذرا اس ”قابل عزت“ استاد کی ”اوقات“ تھانوں اور سرکاری دفتروں میں دیکھئے۔

اس ملک کی افسر شاہی تو بڑی بات یہاں تو ایک پولیس کانسٹیبل بھی استاد کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔ پھر اس ملک کے نودولتیے ہیں جو کسی تجارت، کسی کاروبار، کسی دھکے، کسی جادو، کسی بدعنوانی، کسی لوٹ مار سے دولت، شہرت، طاقت کے زینوں تک پہنچ گئے، ان سب کے لئے تو استاد بڑی حد تک ”جوکر“ کا درجہ رکھتا ہے۔ اب اس سماج میں کہ جہاں استاد کا وجود ہے ہی ایک غیر ضروری شے، ایک ایسا معاشرے جو طاقت اور دولت کی پوجا کرتا ہے اور جو علم کو نفرت اور حقارت سے دیکھتا ہے، ایسے معاشرے میں استاد پر بالکل اسی اخلاقیات کا اطلاق ہوتا ہے جو کہ روایتی ہندو معاشرے میں بیوہ کے لئے مخصوص تھیں۔ یعنی وہ سفید ساڑھی پہنے، چپل نہ پہنے، کنگھی نہ کرے، کوئی زیور نہ پہنے، الغرض بس جلدی سے مر ہی جائے نگوڑی۔ کیوں زندہ رہ کر زندگی کا پاپ کیے جا رہی ہے۔ معاشرہ ہمیشہ کمزور پر اسی نوع کی اخلاقیات کا اطلاق کرتا ہے۔ جو بھی ”کمزور“ ان اخلاقیات کے کسی بھی اصول سے ایک فیصد بھی انحراف کرے وہ ایسے معاشروں کے لئے گردن زدنی ہوتا ہے۔

جامعہ کراچی میں وقوع پذیر جنسی ہراسانی کے قضیے میں بھی ہمارے معاشرے اور ہمارے ذرائع ابلاغ نے دراصل یہی کیا۔ دنیا کا اصول ہے کہ ہر مقدمے میں دونوں طر ف کی بات سن کر ہی شواہد کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے مگر جب بات استاد کی ہو تو یہ معاشرہ بغیر اس کا موقف سنے ہی اسے ہی قصوروار ٹھہرانے لگتا ہے اور مخالف کو فوراً شرافت بلکہ ملکوتیت کا درجہ ہی عطا کر دیتا ہے۔ مگر بالآخر جامعہ کراچی کی اپنی کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آ گئی جس کے مطابق غلطی دونوں اطراف سے ہوئی، طالبہ محترمہ استاد محترم سے فوائد حاصل کرتی تھیں، جب کہ استاد محترم بھی طالبہ کی تصاویر پر رائے زنی فرماتے اور ان سے ذاتی تعلق استوار کرنا چاہتے تھے۔ محترمہ نے لیکچرار صاحب سے اپنے اور اپنی سہیلی کے نمبر بڑھوانے / پاس کروانے کا دباﺅ ڈالا جس پر محترم تیار نہ ہوئے جس پر محترمہ نے نہ شعبے کے مشیر طلبہ سے رابطہ کیا نہ ہی صدر شعبہ سے بلکہ سیدھا اپنی اور محترم کی گفتگو کے ریکارڈ لے کر میڈیا پہنچ گئیں۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ محترمہ کے اور ان کی سہیلی کے نمبر کس قدر کم تھے جو وہ بڑھوانا چاہتی تھیں اور استاد محترم نے محترمہ کے اس مطالبے کو پورا کیوں نہ کیا جب کہ وہ خود بھی محترمہ سے طرح طرح کے مطالبات کرتے رہتے تھے؟ اس کی اک تکنیکی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ محترمہ اور ان کی سہیلی کا نتیجہ سمیسٹر سیل میں جمع ہو چکا ہو جس کے بعد استاد چاہتے ہوئے بھی نتیجہ بدل نہیں سکتا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ محترمہ اور ان کی سہیلی کی کلاس میں تعلیمی ساکھ اس قدر پست ہو کہ ان کے نمبر بڑھانے کی صورت میں استاد کو سب کی نظروں میں آ جانے کا خطرہ ہو۔ اب جو بھی بات ہو مگر بات یہ ہے کہ یہ رپورٹ کسی ادھ کچے میڈیا چینل کی نہیں بلکہ جامعہ کے اساتذہ اور دفتری عملے کے مستند ارکان پر مبنی کمیٹی کی ہے کہ جس نے ساتھ شہادتیں اور بیانات بھی دلیل کے طور پر جمع کیے ہیں اور حوالے دیے ہیں۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ اس موجودہ صورت میں دونوں ہی برابر قصور وار ہیں بلکہ طالبہ ایک اعتبار سے زیادہ قصور وار ہے کیونکہ وہ نہ صرف یہ کہ اپنی جنس، اپنے وجود کو ایک کرنسی کے طور پر استعمال کرنا جانتی ہے بلکہ وہ ایک بلیک ملر بھی ہے۔

یہ وہ اخلاقی بدعنوانی کا درجہ ہے جو ایک طالبہ سے (جو ابھی تک عملی زندگی میں بھی نہیں آئی اور لیکچرار صاحب سے یقینی طور پر عمر میں بھی چھوٹی ہے) صریحاً غیر متوقع تھا۔ اس موجود رپورٹ کی روشنی میں سزا کے حقدار و دونوں ہی ہوئے اور سزا بھی برابر ملنی چاہیے۔ اگر لیکچرار صاحب کو نوکری سے برخاست کیا جاتا ہے تو محترمہ کو بھی تعلیمی ادرے سے خارج کیا جانا چاہیے اور ساتھ ہی محترمہ کے کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے میں داخلے پر بھی پابندی لگنی چاہیے۔ کیونکہ پڑھائی سے نکالا جانا اور نوکری سے نکالا جانا ایک برابر سزائیں نہیں ہیں۔ اگر معاف کیا جاتا ہے تو دونوں کو کیا جانا چاہیے مگر تنبیہ تو دونوں کو برابر ملی نہیں۔ لیکچرار صاحب کا نام پورا شہر جان گیا ہے، ان کی تصویر ساری دنیا نے دیکھ لی ہے۔ اب یقیناً ہمارے وطن کی فیمی نسٹ(Feminists)  جو صنفی برابری کے نعرے لگاتی ہیں، اُن کا بھی اصولاً یہی مطالبہ ہوناچاہیے کہ برابر کی تنبیہ محترمہ طالبہ صاحبہ کی بھی کی جائے۔ یعنی ان کی تصویر بھی اتنے ہی دن میڈیا پر چلائی جائے اور اس رپورٹ میں ظاہر ہونے والے ان کے حوالے سے بھی انکشافات ساری دنیا کے سامنے پیش کیے جائیں۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا، اس لئے کہ لڑکیاں معصوم ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ِاس نوع کی ”مظلوم عورت“ کی حمایت میں میڈیا اور این جی اوز فوراً ظاہر ہو جاتے ہیں تا کہ ”مظلوم عورت“، میڈیا اور این جی اوز کی دکان چلتی رہے۔ یہ وہ غلیظ ترین کاروبار ہے کہ جسے عہد حاضر کی ”ہیرا منڈی“ کہا جا سکتا ہے۔ 2016 کے اکتوبر میں بھی میڈیا، این جی اوز اور ایک”مظلوم عورت“ نے مل کر جامعہ کراچی کے ہی ایک اور استاد پر (جو مظلوم عورت کے بیٹوں کی عمر کا ہے) پر ایسی ہی تہمت دھری تھی۔ مگر 20 ماہ گزر جانے کے باوجود مظلوم خاتون اپنی تہمت کا ایک لفظ بھی عدالت میں ثابت کرنے سے قاصر ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسی خبریں چٹ پٹی ہوتی ہیں اور ایسے معاملات میں این جی اوز کو تھوڑی توجہ تھوڑی بھیک مل جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر استاد پر حملہ کرنے میں جاتا کیا ہے؟ وہ تو ہے ہی غیر ضروری وجود۔ وہ بگاڑ کیا لے گا ؟ اس لئے اس معاشرے میں روز استاد کی توہین و تحقیر ہوتی ہے۔ اس لئے کہ ان کا پہلا گناہ اس طاقت کے پجاری معاشرے میں استاد ہونا ہے اور اس گناہ عظیم کے بعد کسی اور گناہ کی گنجائش ہی کب ہے؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں