تھائی لینڈ کے غار اور پاکستانی دلدل میں پھنسے بچے


6 جولائی کی صبح اٹھی تو وٹس ایپ پر کوئی لگ بھگ 500 نو ٹیفکیشنز تھے۔ یہ میسجز اتنے کیوں؟ غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ : شریف، کرپٹ خاندان کو سزا ہو گئی ہے۔ مجھے دو نمبر کے لوگوں سے ویسے ہی کوئی دلچسپی نہیں رہتی اور پاکستان کی سیاست میں عمران خان کے علاوہ کوئی چہرہ ایسا نظر نہیں آتا کہ جو تنقید کے بھی قابل ہو۔ کیونکہ پھرقوم کو دھوکہ دینے اور وعدوں سے مکر جانے والے یہ دو نمبریے میرے نزدیک تنقید یا نفرت کے قابل بھی نہیں رہتے۔ کیونکہ نفرت بھی ایک قسم کی توجہ ہی ہو تی ہے۔ اور ایسے بھیڑیے آپ کی نفرت سے بھی توانائی حاصل کرتے ہیں۔

اچانک میری نظر ایک“ مختلف میسج“ پر پڑی جوایک دوست، ڈاکٹر بابر یوسفی کی طرف سے تھا : ”روبینہ کیا آپ تھائی لینڈ کے غار میں پھنسے بچوں والی سٹوری فالو کر رہی ہو۔ “ میں نہیں کر رہی تھی، میں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا :“ نہیں میں دلدل میں پھنسے لوگوں کی سٹوری فالو کر رہی ہوں یا سوکر ورلڈ کپ۔ “ وہ مجھے میری کم علمی پر شر مندہ کیے بغیر بولے: 11 سے16 سال کے 12 بچے اور ان کا فٹ بال کوچ تھائی لینڈ کے ایک غار میں پھنس گئے ہیں۔ کچھ دن بیشتر ڈاکٹر بابر نے اپنی سکوبا ڈائیونگ کی کچھ یو ٹیوب ویڈیو شئیرز کی تھیں، تب انہیں دیکھ کر مجھے لگا تھا، کہ جب ہم سب زمین کی کثافتوں میں سکون تلاش کر نے میں مصروف ہیں، یہ سمارٹ بندہ پانی کے نیچے جا کر اس آبی مخلوق کے ساتھ فرصت کے لمحات سنہرے کر رہا ہے۔ ایسی جدت خون میں کیسی نئی نویلی حدت پیدا کر تی ہو گی۔ اس دن میں نے سوچا زمین سے اوپر اٹھ کر خلاؤں میں جا کر انسان جتنا ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے، اسی طرح پانی میں گم ہو کر ایسی ہی تازگی، روح میں اترتی ہو گی۔

خیر سکوبا ڈائیونگ ایک تفریح کے ساتھ ساتھ ایک باقاعدہ سوشل ورک کا روپ دھار جائے گا، یہی ڈاکٹر یو سفی مجھے بتا رہے تھے ; ”غار میں پھنسے بچوں کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں، اور ان کو بچانے کا مشن تقریبا impossible ہے۔ “

سوشل میڈیا پر جہاں باقی سارے اس کرپٹ خاندان کی حمایت یا مخالفت میں لکھ رہے تھے، وہیں ڈاکٹر بابر یوسفی اور ان جیسے دوسرے سکوبا ڈائیورز نے ان بچوں کی جان بچانے کی خاطر سوشل میڈیا مہم چلا رکھی تھی۔ ڈاکٹر بابر نے بتایا جب میں نے فل ماسک کی تجویز دی تو میرا مذاق اڑایا گیا لیکن میرے نزدیک ان بچوں کے بچاؤ کے لئے فل فیس ماسک، ڈائیو ریگولیٹر کے ساتھ ضروری تھے، سو میں نے ocean reef، والوں سے رابطے کیے اور انہوں نے 35 ماسکز ڈونیٹ کیے۔ سنٹرل ٹرانسمیٹر کے ساتھ ایک ایک ماسک کی قیمت تقریبا سات سے نو ہزار پو نڈز کے درمیان بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر نے تھائی نیوی کے ساتھ بھی رابطہ کیا اور یہی فل ماسک والی بات پر اصرار کیا۔ اور انہوں نے اپنے آپ کو عقل کل سمجھے بغیر ان کی بات نہ صرف سنی بلکہ اس پر عمل بھی کر نا شروع کر دیا۔ وہ ہر اس تجویز، اس مدد کو ویلکم کر رہے ہیں، جو ان کے بچوں کی زندگی کی ضامن بن سکے۔ تھائی لینڈ کی اپنی حکومت، پو ری قوم اور نیوی کا جذبہ ایک طرف اور انٹرنیشل سکوبا ڈاؤرز کمیونٹی کا جذبہ اور یک جہتی ایک طرف۔ ان بچوں کی جانیں کتنی محترم ہو گئیں۔

ڈاکٹر یو سفی کی توجہ دلانے پر میں اس خبر کو فالو کر نے لگی تھی، اور جب میں ان بچوں اور ان کے ماں باپ کے متعلق سوچنا شروع کیا تو ایک بے چینی اور گہرے دکھ نے مجھے گھیر لیا لیکن جب رضاکاروں کی مدد کے جذبے کے بارے میں پڑھا تو دل اس احساس سے سرشار ہوا کہ آج بھی دنیا میں ایسے انسان ہیں جو صرف اپنی ذاتی پروجیکشن کے لئے ماسک پہنے لوگوں سے جھوٹی ہمدردی کا گھناونا کھیل نہیں کھیلتے بلکہ حقیقت میں اپنی جان اور مال کو داؤ پر لگا کر انسانیت کی مدد کرتے ہیں بلاشبہ ایسے ہی مخلص اور سچے لوگوں کی وجہ سے دنیا آباد ہے۔

ڈاکٹر یو سفی، آکسیجن کا لیول کم ہو نے کے خدشے کا اظہار ہی کر رہے تھے اور مجھے بتا رہے تھے کہ ان بچوں کو اپنی جان خطرے میں ڈالے بغیر نہیں بچایا جا سکتا، اسی وقت آکسیجن کم ہو نے کے باعث پہلے ڈائیور کی موت کی خبر آگئی۔ ۔ سچے انسان کی موت کی یہ خبر اس جعلی اور دو نمبری دنیا کے میڈیا میں وہ مقام نہیں حاصل کرسکتی جو دونمبر لوگوں کی سزا کی یا واپسی کی یا گرفتاری کی خبر کر رہی ہے مگر میرا ایسے گم نام شہیدوں کو سلام ہے۔ کیا اب بھی یہی فتوی ہے کہ جنت صرف مسلمانوں کی ہے۔

میں نے جب غار میں پھنسے بچوں کے والدین کے ان کے نام، حوصلہ دیتے، آنسو چھپاتے، کرب ناک الفاظ اور بچوں کے اپنے والدین کے نام اپنی معصوم معصوم غلطیوں پر معافی، اور مستقبل کے وعدے اور واپسی کی صورت اپنی پسندیدہ ڈشوں کی فرمائش، ان کے خطوط میں پڑھی تو میرا دل غم سے پھٹنے لگا۔ میں خدا کے آگے سجدہ ریز ہوگئی۔ وہ بارش کا طوفان جس کی پیشن گوئی کی جا رہی تھی، اور جس کے آنے کے بعد بچوں کو بچا نا ممکن نہیں رہنا، اس کے نہ آنے اور ان بچوں کی سلامتی کے لئے دعا مانگی۔ کیسی عجیب بات ہے لوگوں کو زندگی دینے کی خاطر جان قربان کر نے والے خالص لوگوں کے لئے تو ایسی خاموشی رہتی ہے اور لوگوں کی دولت، خون اور عزت کو روندنے والوں کے لئے ہمارا میڈیا اورسوشل میڈیا کیسے سرگرم رہتے ہیں۔ ہم نفرت میں بھی خود پرستوں کو ایسی اہمیت دے دیتے ہیں کہ ان کی طبعی، بوڑھی موت کو بھی لمحہ لمحہ خبروں میں زندہ رکھتے ہیں۔

ہو نا تو یہ چاہیے کہ ایسے دھوکے بازوں کا نام ہی اپنی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیں، مگر ہو تا یہ ہے کہ ہم اپنا وقت، توانائی ایسے ہی سائکوپاتھ کے متعلق سوچتے یا بات کرتے گزار دیتے ہیں، جن کے نزدیک نہ انسانی جان کی کوئی اہمیت ہے، نہ مال کی اور نہ جذبات کی۔ یہ معصوم لوگوں کو چارے کے طور پر کھاتے ہیں، اپنے بد بودار منہ سے جگالی کرتے ہیں اور صرف اور صرف اپنی ذات یا اپنے بچوں کی بھلائی کے علاوہ کچھ اور سوچنے کے اہل نہیں ہو تے۔

ان سطروں کو لکھنے تک، 6 بچوں کو ریسکیو آپریشن سے بچا لیا گیا ہے۔ بدھ کو شدید بارش سے پہلے پہلے باقیوں کو بھی وہاں سے نکالنا ضروری ہے، خدا کرے اس کالم کے چھپنے تک باقی بچے بھی اپنی ماؤں کے سینوں کے سا تھ جا لگے ہوں۔ آپ بھی دعا کریں۔

”ماں“ اس لئے اپنے بچوں کا ”ہیرو“ ہو تی ہے کیونکہ وہ اپنی ذات کو پیچھے رکھ کے بچوں کی خوشی، زندگی اورصحت کے لئے مصروفِ عمل رہتی ہے۔ تو یہ خودپرست اور خود غرض سیاست دان کیسے ہیرو ہو گئے؟ جو معصوم عوام کے خون پانی سے اپنے اور اپنے بچوں کی دولت اور زندگی کو طوالت دیتے ہیں۔

جس طرح تھائی لینڈ قوم اور ساری دنیا کی سکوبا ڈائیورز کمیونٹی نے ان تھائی بچوں کی زندگی کے لئے شعور اور قربانی کی کہانی تحریر کی اس میں ہمارے لئے سبق ہے۔ ۔ مگر ہماری عقل شیر ایک واری فیر تک ہی رہتی ہے بے شک یہ شیر آپ کے بچوں کو دلدل میں پھنسائے رکھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں