کیا آپ دوستی کے راز سے واقف ہیں؟


میری نگاہ میں دوستی انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ محترم‘ معتبر اور مخلص رشتہ ہے۔

مجھ سے جب لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ نے اتنے دوست کیسے بنا لیے یا آپ اس عمر میں بھی نئے دوست کیسے بنا لیتے ہیں؟ تو میں مسکرا دیتا ہوں۔ میں بخوبی جانتا ہوں کہ ان سوالوں کا جواب ایک جملے میں نہیں دیا جا سکتا۔

ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب کے لیے مخلص دوستوں کا حلقہ ہماری ذہنی صحت کے لیے اہم ‘ ضروری اور ناگزیر ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ احساسِ تنہائی زندگی کا سب سے زیادہ تکلیف دہ احساس ہے اداسی‘ اینزائٹی اور ڈیپریشن سے بھی زیادہ۔ اس دنیا میں نجانے کتنے لوگ جزیروں کی طرح رہتے ہیں۔ نہ کوئی دوست نہ ہمدرد نہ کوئی ہمراز۔

نفسیاتی حوالے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں کے لیے دوسرے لوگوں کو پسند کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو خود کو پسند نہیں کرتے۔ میں نے ایک دن اپنے کلینک میں چار مریضون سے پوچھا کہ وہ خود کو کیوں پسند نہیں کرتے

ایک نے کہا ’میں بہت موٹی ہوں‘

دوسرے نے کہا ’ میں عقل مند نہیں ہوں‘

تیسرے نے کہا ’ میں بدصورت ہوں‘

چوتھے نے کہا ’میں زندگی میں ناکام ہوں‘

نجانے کتنے لوگوں کا ساری دنیا میں ایک بھی دوست نہیں۔ وہ بہت سے لوگوں کو جان کر بھی کسی کو نہیں جانتے۔ بہت سے لوگوں سے مل کر بھی دل سے نہیں ملتے۔ محفل میں ہوتے ہوئے بھی تنہا ہوتے ہیں۔ وہ اپنے راز اپنے ساتھ قبر میں لے جاتے ہیں۔

دوسروں سے صحتمند رشتہ قائم کرنے سے پہلے ہمیں اپنی ذات سے ایک صحتمند رشتہ قائم کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ positive self image اور narcissism میں فرق نہیں کر سکتے۔ میری نگاہ میں اپنے آپ کو پسند کرنا اپنا احترام کرنا اور اپنے جذبوں خوابوں اور آدرشوں کی عزت کرنا ایک مثبت عمل ہے۔ میں نے ایک مریضہ سے کہا اگر آپ خود کو پسند نہیں کرتیں تو آپ کیسے امید رکھتی ہیں کہ اور لوگ آپ کو پسند کریں۔ اپنی ذات کا احترام کرنا غرور اور تکبر سے بہت مختلف ہے۔ دوسروں سے دوستی سے پہلے ہمیں اپنا بہترین دوست بننا ہوگا۔

بعض لوگ اس لیے دوست نہیں بنا پاتے کیونکہ وہ دوسروں پر اعتماد اور اعتبار نہیں کر سکتے۔ ان میں سے بہت سوں کو ماضی میں تلخ تجربات ہوئے تھے جب انہیں ان لوگوں نے دھوکہ دیا جنہیں وہ اپنا دوست سمجھتے تھے۔ مجھے یہ کالم لکھتے ہوئے کسی انجانے شاعر کا شعر یاد آ رہا ہے

مجھ کو خود اپنے آپ سے شرمندگی ہوئی

وہ اس لیے کہ تجھ پہ بھروسہ بلا کا تھا۔

کون سا شخص قابلِ اعتبار ہے اور کون سا نہیں۔ یہ ہمیں زندگی کے تجربات سکھاتے ہیں۔ کسی غلط انسان پر اعتبار کرنا اتنی ہی سادہ لوحی ہے جتنی کسی قابل اعتبار شخص پر اعتبار نہ کرنا۔

میں اپنے ان مریضوں کو جو دوست بنانا چاہتے ہیں مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنا ایک مشغلہ اپنائیں۔ کسی چیز یا موضوع میں خاص دلچسپی لیں۔ چاہے وہ ادب ہو یا موسیقی‘ COOKING ہو یا PAINTING ‘ کھیل ہو یا سیاست۔ جب وہ ایک HOBBY بنا لیتے ہیں تو میں مشورہ دیتا ہوں کہ چند ایسے لوگوں کو تلاش کریں جن کے ساتھ ان کا مشغلہ مشترک ہو۔ اس طرح ان کی اپنے شوق میں ایک خاص دلچسپی پیدا ہوتی ہے اور نئے لوگوں سے دوستی کا آغاز بھی ہوتا ہے۔

میں ایک لکھاری ہوں میں کتابیں پڑھتا اور لکھتا ہوں۔ جب مجھے کسی ادیب یا شاعر کی تخلیق پسند آتی ہے تو میں اس کی تعریف کرتا ہوں اور اسے ملاقات کی دعوت دیتا ہوں۔ میں ادیبوں ‘شاعروں اور دانشوروں کی دوستی سے محظوظ اور مسحور ہوتا ہوں۔ میری یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ مجھے دوسرے شاعر ادیب بھی دوستی کی دعوت دیتے ہیں۔

میری نگاہ میں دوستی کا ایک HOMEWORK ہوتا ہے۔ وہ ہوم ورک دوستی کو صحتمند اور پائیداد بناتا ہے۔ دوستی کے ہوم ورک کا پہلا قدم قدرِ مشترک تلاش کرنا ہے۔ میری دوستی کی قدرِ مشترک ادب ہے فلسفہ ہے غیر روایتی سوچ اور زندگی ہے۔ دوستی کا دوسرا قدم DEAL BREAKER کی نشاندہی ہے۔ ہر دوستی میں ایک ایسا پہلو ہو سکتا ہے جو اس دوستی کو مجروح کر سکتا ہے۔ اس پہلو کی نشاندہی دوستی کی پائیداری کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ کسی بھی وقت دوستی کسی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

میرے چند دوست ایسے ہیں جن سے میں زندگی کے ہر موضوع پر گفتگو کر سکتا ہوں لیکن بعض کے ساتھ ایک موضوع پر بات کرنا دوستی کو نقصان پہنچا سکتا ہے اس لیے میں اس موضوع سے احتراز کرتا ہوں۔ اس کی چند مثالیں حاضرِ خدمت ہیں

میں ایک دوست سے مذہب پر‘ دوسرے سے سیاست پر‘ تیسرے سے ہم جنسیت پر‘ چوتھے سے اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر تبادلہِ خیال نہیں کرتا۔ بعض لوگ مجھے کہتے ہیں کہ وہ دوستی ہی کیا جب آپ ہر موضوع پر گفتگو نہ کر سکیں۔ میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں آپ مثالیت پسند ہیں میں حقیقت ہسند ہوں۔ دنیا میں کوئی چیز مثالی نہیں ہوتی چاہے وہ دوستی ہی کیوں نہ ہو۔

میں اپنے دوستوں سے کاروبار کرنے سے بھی احتراز کرتا ہوں کیونکہ دوستی love model کی جبکہ کاروبار business model کا آئینہ دار ہے۔ دونوں کی توقعات مختلف ہیں۔ اگر ان دونوں میں تضاد آئے تو وہ دوستی کو مجروح کر سکتی ہیں۔

بعض مشرقی لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مردوں اور عورتوں کی دوستی نہیں ہو سکتی۔ میں اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا۔ اگر دو انسان مخلص ہیں تو چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں ان کی آپس میں دوستی ہو سکتی ہے۔ میری بہت سی مشرقی و مغربی خواتین دوست ہیں۔ ہم ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں اعتبار کرتے ہیں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔

میری نگاہ میں انسان کی ذہنی صحت کا دارومدار صحتمند دوستیوں پر ہے۔ اسی لیے میں دوستوں کو اپنی فیملی آف دی ہارٹ کا ممبر سمجھتا ہوں۔

ہماری دوستیاں ہماری زندگی کا قیمتی تحفہ ہیں۔ میرے دوستوں کا حلقہ میری زندگی بھر کی کمائی ہے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ کہ میرے دوستوں کا حلقہ بڑھ رہا ہے۔اس بڑھاوے میں ’ہم سب‘ کے کالم ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ میرا آپ کو دوستانہ مشورہ ہے کہ اگرآپ کی زندگی میں مخلص دوست ہیں تو انہیں بتائیں کہ وہ آپ کی زندگی میں کتنے اہم ہیں اور اگر آپ کے دوست نہیں ہیں تو اس مسئلے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں کیونکہ ہمارے دوست ہماری خوشیوں کو دوبالا اور ہمارے دکھوں کو آدھا کر دیتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 147 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail