الیکشن 2018: ‘میں نے اپنی مخالفت کو ہی اپنی طاقت بنایا ہے’

فرحت جاوید - بی بی سی اردو، اسلام آباد


پاکستان

BBC

‘عام طور پر کسی بھی سیاسی جماعت میں سرمایہ دار گھرانوں سے تعلق رکھنے خواتین کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور انھی کی آؤ بھگت کی جاتی ہے، سٹیج سجایا جاتا ہے، مسئلہ تو ہم جیسی غریب گھروں کی خواتین کو ہوتا ہے۔’

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے یہ الفاظ کہنے والی سمیرا گل ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے حلقے این اے 62 سے الیکشن لڑ رہی ہیں اور یہی وہ بات ہے جو اس حلقے کو راولپنڈی کے دیگر حلقوں سے ممتاز بناتی ہے کیونکہ پاکستانی سیاست کے ہیوی ویٹس کے مد مقابل ایک خاتون کھڑی ہیں۔

الیکشن 2018: بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

راولپنڈی کے اہم ترین حلقوں میں سے ایک کہلائے جانے والے حلقے میں آج کل خوب گہما گہمی ہے۔ یہاں سے روایتی سیاسی خاندان ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جن میں سے ایک تو شیخ رشید احمد ہیں، جبکہ دوسرے سابق رکن قومی اسمبلی چودھری ابرار احمد کے صاحبزادے ہیں۔

حلقے میں جگہ جگہ انھی دو امیدواروں کے بینر نصب ہیں۔ یہ حلقہ مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، لیکن گذشتہ انتخابات میں یہاں پاکستان تحریک انصاف نے مضبوطی سے قدم جمائے ہیں البتہ پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک ماضی میں یہاں خاصا محدود رہا ہے۔

لیکن روایتی سیاست دانوں کے مدمقابل متوسط طبقے کے خاندان سے تعلق رکھنے والی سمیرا گل اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کا ‘کھویا ہوا ووٹ دوبارہ حاصل کریں گی۔’

خواتین اور انتخابات میں شمولیت کے حوالے سے جاننے کے لیے مزید پڑھیے

’عورت ووٹ ڈال سکتی ہے تو الیکشن میں کھڑی بھی ہو سکتی ہے’

الیکشن 2018: ’ایک عورت ہو کر کیسے سیاست کر لی‘

بی بی سی نے جب ان سے پوچھا کہ انھیں ٹکٹ لینے میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی میدان میں خواتین کو جن مشکلات کا سامنا رہتا ہے، انہیں بھی ایسی ہی مشکلات جھیلنا پڑی ہیں۔

پاکستان

BBC

‘لیکن میں سمجھتی ہوں کہ میری جماعت میں خواتین کو نمائندگی باقی جماعتوں کی نسبت بہتر طور پر ملتی ہے اور پارٹی کے اندر مضبوط خواتین کی رائے سنی جاتی ہے۔’

خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کی باقی جماعتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ 43 خواتین کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ جاری کیے ہیں جبکہ این اے 62 میں کسی اور سیاسی جماعت نے خاتون امیدوار کھڑی نہیں کی۔

سمیرا گل کہتی ہیں کہ قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں انتخابی مہم چلانا بھی آسان نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دس فیصد خواتین ووٹرز کے لازم ہونے پر تحفظات

فاٹا میں خواتین کے ووٹوں میں 36 فیصد اضافہ

‘شاہ رخ خان کو انتخابی مہم چلانے کے لیے نہیں کہوں گی’

’پہلے خواتین نے ووٹ ڈالا اب ایک قدم آگے جانا چاہتی ہوں‘

‘اب بھی لوگ بینروں پر خواتین کا فوٹو چھاپنا معیوب سمجھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو بےنظیر بھٹو کی فوٹو چھاپنی پڑتی ہے کہ ہماری قائد ہی ایک خاتون تھیں۔ لیکن میرے عورت ہونے کی وجہ سے اب بھی مسئلہ ہوتا ہے۔ لوگ کئی بار سوچتے ہیں کہ عورت کی تصویر بینر پر لگائیں یا نہ لگائیں۔’

سمیرا گل اپنے حلقے کی ان تنگ گلیوں میں گھر گھر جا کر مہم چلا رہی ہیں۔ اہلِ محلہ انھیں علاقے کے مسئلے بتاتے ہیں، بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ‘سیاست دان ووٹ لے کر دوبارہ یہاں کا رخ نہیں کرتے تو اب وہ کیوں کسی کو ووٹ دیں۔’

پاکستان

BBC

سمیرا گل انھیں قائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ ایسا نہیں کریں گی۔ ‘میرے پاس وسائل نہیں کہ میں بڑی بڑی گاڑیوں میں مہم چلاؤں، لیکن میں یہاں انھی تنگ و تاریک گلیوں میں پلی بڑھی ہوں، یہاں آج بھی وہی مسائل ہیں جو چالیس سال پہلے تھے اور میں انھیں سمجھتی ہوں۔ اس لیے لوگ میری بات سن رہے ہیں۔’

وہ کہتی ہیں کہ انھیں بلدیاتی سیاست سے لے کر قومی اسمبلی کے ٹکٹ کے حصول تک بے شمار پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

‘میں نے اپنی مخالفت کو ہی اپنی طاقت بنایا اور میں سمجھتی ہوں کہ اگر میری مخالفت نہ ہوتی تو شاید میں آج یہ ٹکٹ بھی حاصل نہ کر پاتی۔’

وہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں میں گروپس بنے ہوتے ہیں ‘اور جو گروہ مضبوط ہو گا وہی آگے ہو گا۔’ ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سیاسی جماعت میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ایک کارکن کی قدر کرتے ہیں اور ‘مجھ جیسی ورکر خواتین ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے آگے بڑھتی ہیں۔’

جماعت کا نام ٹکٹ وصول کرنے والے مرد امیدوار ٹکٹ وصول کرنے والی خواتین امیدوار

خواتین امیدواروں کی فیصد شرح

پاکستان مسلم لیگ ن

639

37

5.79

پاکستان تحریک انصاف

769

42

5.46

پاکستان پیپلز پارٹی

642

43

6.70

تحریک لبیک پاکستان

556

33

5.49

پاک سرزمین پارٹی

148

12

8.11

متحدہ قومی مومنٹ پاکستان

94

6

6.38

متحدہ مجلس عمل

583

33

5.66

آل پاکستان مسلم لیگ

154

8

5.19

پختونخوا ملی عوامی پارٹی

18

0

0

عوامی نیشنل پارٹی

187

14

7.49

بلوچستان عوامی پارٹی

64

3

4.69

بلوچستان نیشنل پارٹی

57

3

5.26

بی این پی عوامی

32

2

6.25

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق 107 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں سے 59 جماعتوں نے کسی خاتون امیدوار کو پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا، جبکہ 48 جماعتوں نے مجموعی طور پر 304 خواتین کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ دیے۔

جنرل نشست پر خواتین کے لیے ٹکٹ کا حصول مشکل کیوں ہے؟

اس سوال کے جواب میں سمیراگُل کہتی ہیں کہ ‘سیاسی جماعتیں اب بھی خواتین پر اعتماد نہیں کرتی ہیں، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جن خواتین کو ٹکٹ ملے ہیں یہ انہیں ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بھی کسی بھی مرد امیدوار کی طرح سیاست کے میدان میں اپنا لوہا منوا سکتی ہیں’۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے عام نشستوں پر انتخابات لڑنے کے لیے پانچ فیصد خواتین کے لیے ٹکٹ لازمی قرار دیے جانے کے بعد جماعتوں نے ٹکٹ تو فراہم کیے ہیں لیکن یہ تاثر بھی عام ہے کہ خواتین کو ان حلقوں میں ٹکٹ دیے گئے جہاں سے ان جماعتوں کی جیت کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

پاکستان

BBC

سمیرا گل بھی اس سے اتفاق کرتی ہیں لیکن وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ خواتین کو اس صورتحال کو بھی ایک چیلنج کے طور پر لینا چاہیے اور موثر انتخابی مہم چلانی چاہیے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مسلم لیگ ن نے 37 جنرل نشستوں پر خواتین کو ٹکٹ جاری کیے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے کل 769 جنرل نشستوں پر 42 خواتین کو دیے ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان نے 35، متحدہ مجلس عمل نے 33 جنرل نشستوں پر خواتین کو ٹکٹ جاری کیے۔

پاک سر زمین پارٹی نے 12، ایم کیو ایم پاکستان نے 6، آل پاکستان مسلم لیگ نے 8، پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے 18، عوامی نیشنل پارٹی نے 14، مسلم لیگ ق نے 5، بلوچستان نیشنل پارٹی نے 3 اور بی این پی عوامی نے 2 جنرل نشستوں پر خواتین کو ٹکٹ دیے ہیں۔


پاکستان

BBC
image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4548 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp