جب بیٹی حیران کرتی ہے۔۔۔


میری بیٹی نے مجھے دو دفعہ حیران کیا۔ پہلی دفعہ جب اس نے مجھے لندن سے فون کرکے بتایا کہ وہ لاہورسے آئے ہوئے اپنے ہم جماعت لڑکے کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے اوروہ یہ بھی چاہتی ہے کہ اس کی ماں کومیں سمجھاؤں کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن اس کی ماں اور نانی طوفان کھڑا کردیں گی۔ دوسری دفعہ اس وقت جب منگنی کے بعد شادی سے صرف تین ماہ قبل اس نے مجھے رشتہ ٹوٹ جانے کی خبر دی تھی۔ دونوں دفعہ اس کی ماں اور نانی کو سمجھانا مشکل ہوگیا تھا۔ سمجھنا تومیرے لیے بھی مشکل تھا لیکن حالات سے سمجھوتہ اگر سمجھتا ہے تو اس لحاظ سے میری سمجھ اچھی تھی۔

ہم لوگ بہار سے پہلے مشرقی پاکستان آئے وہیں ڈھاکہ میں میری پیدائش ہوئی وہاں کے ہی پرائمری اور سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، نذرالاسلام کے گیت گائے، بچپن کے دوست بنائے، ڈھاکہ کی دہی اور پنیر کھا کر بڑا ہوا۔ چٹاگانگ کے ساحل اور سلہٹ کی پہاڑیوں کو دیکھنے کا موقع ملا، مشرقی پاکستان کے چھوٹے ریل کے ڈبوں میں سفر کیا، ندی اور نالوں کو پہچانا، دریاؤں میں ڈولتی ہوئی کشتیوں میں ایک پار سے دوسرے پار گئے اور وہاں کی بارشوں سے لطف اندوز ہُوا۔ بظاہر زندگی پرسکون تھی، کھانے پینے کو وافر تھا، کسی سے کوئی جھگڑا نہیں تھا سب امن و آشتی کے ساتھ سکون سے رہ رہے تھے۔ نہ جانے کیا ہُوا کہ ابا جان نے فیصلہ کرلیا کہ انہیں مشرقی پاکستان میں نہیں رہنا ہے۔

ان کا خیال تھا کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ پاکستان ایک مصنوعی ملک ہے۔ بنگالیوں کی اکثریت کے باوجود پاکستان پر مغربی پاکستانیوں کی حکومت ہے جو مشرقی پاکستان میں بہاریوں کو استعمال کررہے ہیں۔ ان کی مدد سے پاکستان کی اکثریت پر حکومت کررہے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں بہاری بہت زیادہ اقلیت میں ہیں لیکن صوبے کی حکمرانی میں ان کا بہت حصہ ہے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے زبان کے مسئلے پر ہونے والے فسادات دیکھے تھے۔ پاکستان کو بنے ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے تھے کہ لوگوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے خلاف نعرے بلند کرنے شروع کردیے۔

اتنی جلدی یہ سب کچھ شروع ہوجائے گا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا وہ بھی اس بنگال میں جہاں پاکستان کی تحریک کا آغاز ہوا جہاں مسلم لیگ بنی، جہاں اُردو سے محبت کی جاتی تھی وہاں اُردو کے خلاف مہم چلے گی، اسے نفرت کا نشانہ بنایا جائے گا۔ تحریک کے نتیجے میں زبان کا مطالبہ تو مان لیا گیا مگر حکمرانوں نے اپنی حماقت، کوتاہ نظری اور خود غرضی سے نفرت کے جو بیج بوئے ا ن کی فصل اُگ رہی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ مشرقی پاکستان میں فسادات ہوں گے جس کا نشانہ بہاری بنیں گے۔ میں چھوٹا تھا اور مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اندر اندر کیا کیا پک رہا ہے۔ ابا جان جہاندیدہ تھے بہار کے فساد میں ایک بھائی کھو چکے تھے جس کے قتل کے بعد ڈر ڈر کے رہنا ان کی عادت سی بن گئی تھی، خوف کی چادر وہ ہمیشہ اوڑھے رہے۔

ہم سب لوگ سب مغربی پاکستان آگئے تھے۔ ابا جان نے ڈھاکہ میں بنایا ہُوا گھر بیچ دیا، جمع شدہ پونجی لے کر کراچی آگئے۔ انہوں نے کم سرمائے اور بڑی محنت سے آہستہ آہستہ کراچی میں بھی زندہ رہے کے لیے لوازمات پیدا کرلیے تھے۔

میں نے بھی کراچی میں اسکول کی تعلیم مکمل کی تھی، انٹر کا امتحان اتنے اچھے نمبروں سے پاس کرلیا کہ مجھے کراچی کے میڈیکل کالج میں تو نہیں مگر لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا تھا۔ چھ سال بہت تیزی سے کراچی لاڑکانہ کراچی کے چکر لگاتے ہوئے گزرگئے اور میں ڈاکٹر بن گیا تھا۔

ڈاکٹر بننے کے بعد میں باہر نہیں گیا، نہ جانے کیوں میرا خیال تھا کہ چانڈکا میڈیکل کالج سے پڑھے ہوؤں کو باہر کے ملک والے شاید موقع نہ دیں۔ یہ میری غلطی تھی، بعد میں بہت سارے لڑکے لڑکیاں جو چانڈکا کے پڑھے ہوئے تھے نہ صرف یہ کہ باہر گئے بلکہ پڑھ لکھ کر لوٹ کے بھی آئے اور کئی ان ہی ملکوں میں رہ گئے۔ لیکن مجھے اس کا کوئی خاص افسوس نہیں ہے۔ میں نے کراچی کے جناح ہسپتال میں ہاؤس جاب کرنے کے بعد کچھ عرصے تک جناح ہسپتال میں ہی کام کیا پھر گلشن اقبال کے علاقے میں اپنا دوا خانہ کھول لیا تھا۔ جلد ہی میرا دواخانہ چل نکلا۔

اس زمانے میں گلشن اقبال میں تیزی سے آبادی بڑھ رہی تھی اور ڈاکٹروں کی تعداد بہت کم تھی۔ میں صبح سے شام تک دواخانے میں مصروف رہتا۔ میں اچھا ڈاکٹر تھا، مریضوں کو وقت دیتا تھا، ان کی سنتا تھا، میرے لیے مریضوں کی کبھی کوئی کمی نہیں تھی بہت تیزی کے ساتھ علاقے میں میری مشہوری ہوگئی۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ میری آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا اور میں اچھی بلکہ بہت اچھی خوشحال زندگی گزاررہا تھا۔

ابا جان ریٹائر ہوگئے، گلشن کے ہی اچھے سے علاقے میں میں نے مکان بنالیا۔ میرا چھوٹا بھائی بھی ڈاکٹر بن گیا، اس نے سندھ میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی پھر ڈاکٹر بننے کے بعد انگلستان چلا گیا اوروہیں کا ہوکر رہ گیا۔ شروع شروع میں تو وہ ہر سال آتا رہا لیکن امی اور ابا جان کے جانے کے بعد اس کا آنا جانا کم ہوگیا۔ اچھی بات یہ تھی کہ وہ انگلستان میں خوش اور مطمئن تھا۔ بہار سے بچ کر نکلے ہوئے اباجان کی اولادیں کہاں سے شروع ہوکر کہاں پہنچ گئی تھیں۔

ابا جان اور امی کی ہی زندگی میں میری، بھائی اور چھوٹی بہن کی شادی ہوگئی تھی۔ اللہ نے مجھے دو بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی۔ زندگی سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں تھی مجھے۔ میری بیوی میرے والدین کی پسند تھی۔ وہ سگھڑ اور خانہ داری والی اچھے گھرانے کی بہاری لڑکی تھی۔ اس زمانے میں بہاریوں کی بہاریوں میں ہی شادی ہوتی تھی۔ اب تو حالات بدل گئے ہیں، بچے اپنی مرضی سے شادیاں کررہے ہیں۔ ہم لوگوں کے زمانے میں شادیاں والدین کی مرضی سے ہوتی تھیں اور ان کی ہی مرضی سے زندگی گزرجاتی تھی۔ آج کل یہ تصور کرنا ممکن نہیں ہے۔ آج کا طریقہ یہی ہے اور اسے تسلیم کرلینا چاہیے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں