ترقیاتی کام اور سیاسی لوٹے


پاکستان میں اس وقت دسویں عام انتخابات کا غلغلہ ہے۔ شہروں اور مضافاتی علاقوں میں کوڑے کے ڈھیروں، صاف پانی کی فراہمی اور بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے کے موضات پر نہ صرف سوشل میڈیا پرسچی جھوٹی خبریں اور فوٹو شاپ کی ہوئی تصویریں چل رہی ہیں بلکہ ٹی وی اینکروں کا زور بھی انہی موضوعات پر رہتا ہے۔ اب تو انتخابی امیدواروں کے کاغزات نامزدگی کے ساتھ جو حلف نامہ منسلک کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے، اُس میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ پچھلے انتخابات میں کامیاب ہونے والے کسی رُکن اسمبلی نے اپنے حلقے کے عوام کے لئے کیا کارہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں۔

یہ بات سو فیصد درست ہے کہ یہ تمام سہولیات انتہائی اہم ہیں اور بنیادی انسانی اور شہری حقوق میں شامل ہیں، جن کی فراہمی ایک رفاہی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جو بات ہمارے شہریوں، سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلانے والے سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کی بحثوں سے خارج ہے یا خارج کردی گئی ہے، وہ یہ کہ یہ ساری سہولیات ریاست کے کن اہلکاروں کے کرنے کے ہیں۔ کیا یہ کام منتخب اراکین اسمبلی کے ہیں؟

اگر ہاں، تو پھر یہ قومی اسمبلی کے ممبران کے ہیں یا صوبائی اسمبلی کے ممبران کے؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ کہ اگر یہ منتخب اراکین اسمبلی ہی کا کام ہے تو اُن میں حکومتی اراکین تو شاید کُچھ اختیارات رکھتے ہوں، لیکن اپوزیشن اراکین اپنے حلقے مین شہری سہولیات فراہم کرنے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اُن کی بے اختیاری کی سزا کیا اُن کے ووٹروں کو دی جائے گی؟ وہ حلفنامے میں اپنی کارکردگی کے زمرے میں کیا لکھیں گے؟

شہری سہولیات فراہم کرنا ریاست کے کس ادارے کا کام ہے، اس کا جواب ہم نہایت آسانی سے اُن ممالک کی نظیر سے ڈھونڈھ سکتے ہین جہاں کی جمہوریتوں کی ہم مثال دیتے ہیں۔ تھوڑی سی تحقیق بھی ہمیں یہ بتا دے گی کہ یہ کام بلدیاتی اداروں کے ہیں، جو کہ اُنہوں نے نہیں کیے۔ اُن سے پوچھئے تو جواب ملے گا کہ نہ اُن کے پاس مکمل اختیارات ہیں اور نہ ہی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ضروری فنڈز ہیں۔ تو پھر قصور کس کا ہوا؟ ظاہر ہے کہ اُن اداروں کا، جنہوں نے بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور فنڈز دینا تھے۔ یعنی صوبائی حکومتوں کا۔

جب ہم ان بنیادی شہری مسائل کی رسی پکڑ کر قدم بقدم پیچھے چلتے ہیں تو بات واضح ہوتی چلی جاتی ہے۔ اب اگلا سوال یہ اُٹھتا ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کواختیار اور فنڈز کیوں نہیں دیتیں؟ اسی سوال میں ہمارے موجودہ سیاسی ”گھڑمس“ کی اصل کُنجی ہے۔

اگر شہریوں کو بنادی حقوق فراہم کرنے کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں کو سونپ دی جائے، تو ظاہر ہے کہ اُس کا سارا کریڈٹ بھی بلدیاتی نمائندوں کو جائے گا۔ تو پھر منتخب اراکین اسمبلی اپنے ووٹروں کو اپنی کارکردگی میں کیا دکھائیں گے؟ اگلی دفعہ ووٹ کس بِرتے پر مانگیں گے؟ یہ سوال ہمیں اس معاملے کے بنیادی سوال تک لے جاتا ہے اور وہ یہ کہ منتخب اراکین اسمبلی جب نالیاں، گلیاں اور پُل نہیں بنوائیں گے، تو پھر وہ کیا کریں گے۔

تو اس کے لئے بھی آپ مغربی جمہوریتوں کے ماڈل کو دیکھ سکتے ہیں کہ جہان بلدیاتی ادارے متحرک اور با اختیار ہوتے ہیں، وہاں اراکین اسمبلی کا کام کیا ہوتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی آسان یہ ہے کہ آپ اپنی یاد تازہ کیجئے کہ کہ ان اسمبلیون کا پورا نام قانون ساز اسمبلیاں ہے۔ یعنی شہری سہولتیں فراہم کرنا بلدیاتی اداروں کا کام ہے جبکہ قانون ساز اسمبلیوں کا کام انسانی و شہری حقوق، قانونی، انتطامی اور خارجہ امور کے بارے میں پالیسیاں بنانا اور قانون سازی کرنا ہے۔ ذمہ داریوں کی یہ تقسیم انتہائی اہم اور ہمارے سیاسی نظام کی بنیادی خامیوں کا اصل علاج ہے۔

اب آپ تصور فرمائیے کہ اگر بنیادی شہری سہولیات سے متعلق ترقیاتی کام بلدیاتی سطح پر ہونے لگیں، تو ان کے لئے وسائل (پیسہ) بھی بلدیاتی اداراوں کو ملیں گے اور ظاہر ہے کہ ان وسائل کی تقسیم کے لئے کوئی اصول یا پالیسی بھی طے کرنا ہو گی۔ جب ایسا ہوگا تو وہاڑی اور لیہ کے فنڈز لاہور یا ملتان پر خرچ نہیں ہو سکیں گے اور یہ بات ممکن نہیں رہے گی کہ بڑے شہر تو پیرس بنا دیے جائیں جبکہ لیہ اور وہاڑی میں صاف پانی بھی دستیاب نہ ہو۔ تمام علاقے بیک وقت بنیادی سطح سے اوپر کی طرف ترقی کریں گے۔

اس کے علاوہ وہ الیکٹیبلز جو سوائے گلیاں اور نالیاں بنوانے کے کوئی اور مہارت نہیں رکھتے، اُن کا قانون ساز اسمبلیوں میں کوئی کام نہیں رہے گا۔ یہ اس لئے کہ اول تو قانون ساز اسمبلیاں وہ کام کر ہی نہیں رہی ہوں گی جو اِن کو آتا ہے، اور دوسرے الیکٹیبلز کروڑوں روپیہ لگا کر ممکنہ طور پر اُس ترقیاتی بجٹ کے لئے ہی منتخب ہوتے ہیں جو منتخب ہونے کے بعد اُن کی دسترس میں آ سکتا ہے۔ یہ بجٹ جب اسمبلی کی بجائے بلدیاتی سطح پر ہو گا تو اسمبلی کی کشش میں بھی کافی کمی واقع ہو گی۔

دوسری طرف جب بنیادی شہری سولیات سے متعلق اختیارات منتخب اراکین اسمبلی کے پاس نہیں رہیں گے تو اُن کے پاس پالیسی سازی اور قانون سازی کا وقت زیادہ ہوگا اور اس معاملے میں کافی بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ امید کی جا سکتی ہے کہ وہی لوگ اسمبلیوں کا رُخ کریں گے، جن میں قانونی، سماجی اور معاشی سوجھ بوجھ ہو گی اور وہ قانون سازی میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔ اس سے ہماری قانون سازی اور پالیسی سازی میں بھی بہتری آئے گی۔

اس وقت کے اراکینِ اسمبلی جن کی کارکردگی کو پرکھنے کا معیار ہی حلقے میں ترقیاتی کام ہیں، اور اگر قانون سازی میں اُن کی ذاتی دلچسپی بھی نہیں ہے تو ان کی اسمبلی میں ضرورت ہی کیا ہے، ماسوائے اس کے کے کہ وہ کورم پورا کریں اور جب کبھی اُن کے ووٹ کی ضروت ہو اُنہیں منت سماجت سے حاضری پر مجبور کیا جائے؟ اگر کبھی ایسا ہو سکا تو عوام کو بھی یہ سمجھنے کا موقع ملے گا کہ اُنہیں بلدیاتی اداروں میں کس طرح کے لوگ چاہئیں، صوبائی اسمبلیوں میں کس طرح کے اور قومی اسمبلیوں میں کس طرح کے، اور شاید لوٹوں کی بجائے ہمیں ایسے برتن میسر آ سکیں جن کا پیندا ہموار ہوتا ہے اور لُڑکھنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
ڈاکٹر آصف قادری کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر آصف قادری کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں