مرزا کی گوری محبت اور شیطانی وسوسے


مرزا کہ جن کے شب و روز اہلیہ کی خدمت میں بسر ہوتے ہیں اور جسے اُن کے حاسدین خوشامد اور بقیہ رشتہ دار زن مریدی سے تعبیر کرتے ہیں، ایک انقلاب آفریں تبدیلی کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ اور بقول اُن کے، یہ تبدیلی اُن کے نئے سیل فون کی مرہونِ منت ہے۔ انہوں نے تازہ تازہ اینڈرائڈ فون خریدا تھا اور ایمیل اور سوشل میڈیا کی دنیا سے روشناس ہوئے تھے یہیں سے اس خوشگوار تبدیلی کا دروازہ کھلتا ہے۔

خود فرماتے ہیں، سچی بات ہے ہم نے اب تک کی زندگی ضائع ہی کر دی۔ علم کی روشنی سے تو حقیقی معنوں میں ہم اب اس فون کے آنے کے بعد روشناس ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں جنہیں ہم اب تک اپنی دنیاوی ترقی اور ایمان کا حریف سمجھتے آئے ہیں دراصل ہماری مدد کرنے اور ہمیں خوش رکھنے کے لئے بیتاب ہیں۔ اور یہ کہ وہ یہ کام بلا لالچ ہی کر رہی ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم اُن کے اس جذبے سے آگاہ ہوں اور وہ ہمارے رابطے کے پتے سے آگاہ ہوں۔

مرزا کا یہ جذبہ دیکھ کر پہلے تو ہمیں اپنے آپ پر افسوس ہوا کہ ہم گوروں کے معاملے میں بہت تنگ دل واقع ہوئے ہیں۔ ہمارے خیال میں، ہمارے تمام مسائل ماسوائے ہمارے خانگی مسائل کے کہ وہ ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں، کی وجہ یہ گورے ہی ہیں۔ گوروں کے بارے میں یہ رائے ہم نے کوئی خلا میں نہیں بنائی تھی بلکہ اس نتیجے پر بھی ہم مرزا کی وساطت سے حاصلکیے گئے علم کی بدولت ہی پہنچے تھے۔ مگر اب مرزا نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہم اپنی تنگ نظری اور احساں نا شناسی پر نادم ہیں۔

مرزا نے بتایا کہ ترقی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے البتہ ہمیں اس کے لئے رجعت پسندی کو خیر باد کہنا ہوگا۔ ہم نے پوچھا کہ اس عمر میں (ہمارا اشارہ اپنی نہیں اُن کی عمر کی طرف تھا) کوئی رجعت پسندی سے کیسے پیچھا چھڑا سکتا ہے اور یہ کہ اس ترقی کے کوئی خد و خال بھی آپ کے سامنے ہیں؟ مرزا نے ہمارے پہلے سوال کا مختصر جواب دے کے بات ختم کر دی کہ ایسے ہی جان چھڑانی ہے جیسے انہوں نے یعنی مرزا نے چھڑائی ہے۔ البتہ خد و خال والی بات پہ پہلے تو ان کے گالوں پر لالی آئی، آنکھوں میں چمک اُتری؛ سانسوں میں بے ترتیبی پیدا ہوئی، چہرے پر پسینہ آ گیا اور آواز میں تھرتھراہٹ۔ بمشکل تمام، مرزا خدو خال بتانے کی سعی کر رہے تھے۔

اس ضمن میں، مرزا نے شرماتے ہوئے ہمیں اپنے موبائل فون میں موجود ایک حسینہ کی تصویر دکھائی جو مرزا نے بتایا کہ اُس خاص طور پر مرزا کے لئے بنوائی تھی۔ تصویر دیکھتے ہی ہماری کیفیت بھی تقریباً مرزا والی ہی ہو رہی تھی بس بیچ میں محبت کا ہی فرق باقی رہ گیا تھا۔ محترمہ ایک نوجواں گوری خاتون تھیں، دراز قد، سنہری بال اور دلنشیں آنکھیں۔ یہ تینوں خوبیاں مرزا نے خود ہی گِنوائیں۔ مرزا کی کیفیت کو وہ لوگ بخوبی سمجھ رہے ہوں گے جو محبت کے دل آویز تجربے سے گُذر چکے ہیں باقی صاحبان اپنے محلے میں کسی ایسے صاحب سے پوچھ لیں جو یہ کام کرتے ہوں یعنی محبت کرتے ہؤے پکڑے گیے ہوں یا محبت کرنے کی تربیت حاصل کر چکے ہوں۔ محبت کا تجربہ رکھنے والے لوگوں کو تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے کیونکہ ایسے لوگ محلے میں اس کام کے لئے کافی بدنام ہوتے ہیں۔

خیر، مرزا بتا رہے تھے کہ ان محترمہ کو جونہی خبر ہوئی کہ ہم نے اپنا ایمیل اکاؤنٹ بنا لیا ہے تو انہوں نے تُرتت سے ہمیں ایک ایمیل بھیجی اور دوستی کرنے کی شدید خواہش کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی یہ واضح کر دیا کہ انہیں مرزا سے کسی بھی قسم کا کوئی لالچ یا غرض نہیں۔ مرزا نے بتایا کہ وہ نیک دل خاتون محض ہماری دلجوئی کی متمنی ہے اور اپنے خرچے پر ہمیں ملنے کے لئے آنے پر تیار ہے۔ اُس نیک بخت خاتون نے مرزا کو ایک رائے یہ بھی دی ہے کہ مرزا خود اگر دوبئی وغیرہ تک پہنچ جائیں تو ملاقات کا لطف دوبالا ہو سکتا ہے جبکہ دوبئی میں رہائش وغیرہ کے اخراجات اُن خاتون کے ذمہ ہوں گے۔ وہ لیڈی اگرچہ تمام عمر مرزا کے ساتھ گُزارنے کا ارادہ رکھتی ہے مگر مرزا کی سہولت کے لئے وہ یہ بھی کر سکتی ہے کہ مرزا سے محض تعلق اُستوار رکھا جائے اور مرزا کے اپنے ہی طے کردہ شیڈول کے مطابق مرزا سے ملاقاتیں جاری رکھی جائیں۔

اس تمام تر التفاتِ بے مثال کے لیے اس خاتون نے محض ایک ہی شرط رکھی ہے اور وہ یہ کہ مرزا کوئی اخراجات نہیں کریں گے البتہ گوروں میں تحفے تحائف دینے اور لینے کا کلچر ہے لہٰذا مجبوراً تحائف قبول کرنے سے نہ تو وہ انکار کر سکے گی نہ انکار سُنے گی۔ مذید یہ کہ اس لیڈی نے تجویز پیش کی ہے کہ وہ لگے ہاتھوں مرزا کو کچھ رقم یعنی ڈالر بھیج دے گی جس سے مرزا فوراً کوئی معقول کاروبار شروع کریں گے۔

مرزا بتا رہے تھے کہ شاید آج کل اس لیڈی کا کوئی نمائندہ یعنی ملازم مرزا سے رابطہ بھی کرے جس کو شاید مرزا کو کچھ رقم اس کے اخراجات کے ضمن میں دینی پڑے جو ظاہر ہے بعد میں وہ لیڈی ادا کر دے گی۔ مرزا اسی رقم کا بندوبست کرنے ہمارے پاس تشریف لائے تھے۔

ہم مرزا کی قسمت پر رشک کر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ مرزا نے ایسی کون سی نیکی کی ہوگی کہ پچھلی عمر میں قسمت کی حسین دیوی مرزا پر مہربان ہو گئی ہے اور ایک امیرزادی گوری نے مرزا کو اپنا جانو بنانے کا ارادہ کر لیا ہے۔ وہ بھی ایسے کہ وہ اپنی محبت ہی نہیں بلکہ اپنی دولت بھی جو کہ ڈالروں کی شکل میں ہے مرزا پر نچھاور کرنے کا تہیہکیے بیٹھی ہے۔ ایسے بے لوث اور مخلص لوگ یقیناً گوروں میں ہی ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ شیطان نے ہمارے دل میں وسوسے ڈال دیے تھے اور ہمارے دل میں خدشات اُٹھ رہے تھے کہ کہیں یہ سب کچھ کسی فراڈ وغیرہ کی کوشش ہو۔

مرزا نے ہمارے چہرے سے اس شیطانی خدشے کو فوراً بھانپ لیا اور ہمیں کسی بھی بدگمانی اور بد شگونی سے باز رہنے کی تنبیہ کی۔ سچی بات تو یہ ہے ہم نے بھی مرزا کی اس امیرزادی چاہنے والی سے کافی امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔ اب ہمیں بھی اس گوری سے ملنے کا شدید اشتیاق ہو چلا ہے اور ہمارا ارادہ ہے کہ پہلی ملاقات میں ہی مرزا کی نظر بچا کر اُس گوری صاحبہ سے درخواست کی جائے کہ ہمارے لئے بھی کوئی اسی طرح کی رحمدل گوری کا بندوبست کر دے۔ ہمیں شاعرانہ حُسن یا سنہرے بالوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ہم تو محض ترقی کرنے اس شاندار موقع کو کسی صورت جانے نہیں دینا چاہتے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں