پسنی حلقہ پی بی 51 گوادر


حلقہ پی بی 51 گوادر سے صوبائی اسمبلی کے آزاد امیدوار میر چاکر سنگھور بی این پی کے امیدوار میر حمل کلمتی کے حق میں دست بردار، اپنی رہائش گاہ میں میر حمل کلمتی اور سید معیار جان نوری کے ساتھ  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بی این پی کے امیدوار میر حمل کلمتی کے حق میں دست بردار ہونے کے ساتھ ساتھ بی این پی کے حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر طارق رند، کہدہ علی، سید وقار جان نوری اور دیگر موجود تھے۔ میر چاکر سنگھور نے کہا کہ گوادر کے عوام کی بہتر مفاد کی خاطر میر حمل کلمتی کے حق میں دست بردار ہو رہا ہوں۔

اس موقع پر حلقہ پی بی 51 گوادر سے بی این پی کے امیدوار میر حمل کلمتی  نے کہا کہ ہم ان قوتوں کے خلاف الیکشن لڑرہے ہیں جن کا اس علاقے اور سرزمین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میر چاکر سنگھور کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وطن دوستی اور قوم دوستی کا ثبوت دے کر ہمیں مضبوط کررہے ہیں۔ 25 جولائی سے پہلے گوادر کے عوام نے ثابت کیا ہے کہ اس مرتبہ بی این پی جیت رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ہر وقت تجربے کئے گئے ہیں۔ کبھی مسلم لیگ ق کی شکل میں، اب باپ کی شکل میں تجربہ کیا جارہا ہے۔

عوام کی قوت سے غیر سیاسی قوتوں کو شکست دیں گے۔ ہم حقیقی معنوں میں سیاست  کرکے غیر سیاسی قوتوں کو آگے آنے نہیں دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے دور وزارت میں سب سے زیادہ 476 ٹرالرز پکڑ کر فشریز کو سب سے زیادہ ریونیو دلایا۔ ٹرالنگ کو روکنے کے لئے فشریز فورس بنائی اور علاقے کے سیکڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کیا۔ جب پہلی مرتبہ مکران کو وزارت اعلی ملی تو ہم مکران میں انقلابی ترقی کی توقع کررہے تھے۔ میرانی ڈیم سے گوادر پائپ لائنوں کی منظوری وزیراعظم سے کروائی مگر انہی قوتوں نے اس کو روکا۔

علاقائی سیاست اور تعصب کی سیاست کبھی نہیں کی بلکہ ہر فورم پر علاقے کی ترقی اور خوش حالی کے لئے آواز بلند کی۔ گوادر کے عوام کے تعاون سے ان قوتوں کو دوبار پہلے شکست دی تھی۔ اب بھی ان شا اللہ عوام کی طاقت سے ان کو شکست دوں گا۔ ہمارا پلان ہے کہ ضلع گوادر کے عوام کو مفت ایجوکیشن اچھے تعلیمی اداروں میں فراہم کریں۔ اسکالرشپ دے کر ان کو ملک اور بیرون ملک اچھے تعلیم دلوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ سال میں اپوزیشن میں تھے۔ میرے فنڈز روک کر ایم پی اے اسکالر شپ کو انہی قوتوں نے بند کیا ہے۔

حالیہ بجٹ میں گوادر میں قانون سازی، ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹر کے لئے الگ گرانٹ رکھی ہے۔ گوادر یونیورسٹی کے لئے زمین کلئیر کرلی ہے۔ عوام کی تعاون سے منتخب ہو کر ضلع گوادر میں کوالٹی ایجوکیشن پر کام کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ گوادر کے حوالے سے قانون سازی کی جائے۔ گودار پورٹ، سی پیک پروجیکٹ کے تحت وفاقی حکومت ٹیکنکل ادارے قائم کر کے، گوادر کے نوجوانوں کو ہنر مند بنائے۔ ضلع گودار میں میرے دور میں شادی کور ڈیم، ماکولہ ڈیم جیسے بڑے آبی ذخائر بنائے گئے۔ ہمارے پاس جتنے وسائل تھے اس کو گوادر کے عوام کے ترقی اور خوش حالی کے لئے خرچ کیا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں