پاکستان میں جمہوریت پسندوں اور آمریت پسندوں کے درمیان ٹھوس تقسیم


سیاسی طور پر آزاد ہر ملک میں سیاسی مکالمہ اور سیاسی تقسیم پائی جاتی ہے۔

اہل مغرب میں سیاسی طور پر دو بڑے نظریاتی گروہ ہیں : پرو لیبر اور پرو بزنس۔ امریکہ میں ڈیموکریٹکس پرو لیبر سمجھے جاتے ہیں جبکہ ریپبلکنز پرو بزنسز۔ برطانیہ کی برسراقتدار پارٹی پروبزنس ہے اور لیبر پارٹی پرو بزنس۔ کینیڈا کی برسراقتدار پارٹی پرو لیبر ہے جبکہ حزب مخالف پرو بزنس۔ فرانس و جرمنی کے سربراہان پرو بزنس ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس سیاسی تقسیم کے پس منظر میں کیپیٹلزم اور کیینزین سوشلزم کے مباحث موجود ہیں۔

پاکستان میں عموما مسلم لیگ (ن) کو پرو بزنس اور پیپلز پارٹی کو پرو لیبر سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح ڈیموگرافک تقسیم میں بھی جہاں مڈل کلاس شہری آبادی موجود ہے وہاں مسلم لیگ ن کا ووٹ نسبتا زیادہ ہے اور جہاں غریب دیہی آبادی ہے وہاں پیپلز پارٹی کا۔ یہ ایک حتمی فارمولا نہیں، فقط ایک ہلکی (thin ) لکیر ہے۔ تحریک انصاف ابھی مرکز میں اقتدار میں نہیں آئی اس لئے اس کے بارے میں اندازہ لگانا ذرا مشکل ہے، پشاور کو دیکھ کر اندازہ لگایا جائے تو زاویے خلط ملط ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں ثقافتی بنیادوں پر بھی تقسیم موجود ہے اور قومیت پسندی کی بنیاد پر بھی۔ اسی طرح پولیٹیکل اسلام، سوشلزم اور لبرل ازم کی بنیاد پر بھی واضح تقسیم موجود ہے۔

مگر راقم کی نظر میں سیاسی طور پر ایک اور بڑی لکیر بھی موجود ہے۔ جمہوریت پسندوں اور آمریت پسندوں کے درمیان۔ اگرچہ آمریت پسند کھل کر خود کو خود کو آمریت پسند نہیں کہتے مگرجب وہ ہیئت مقتدرہ کی سیاست میں مداخلت اور گورننس کی مطلق العنانی کی حمایت کرتے ہیں تو خود بخود آمریت پسندی کی گود میں جا گرتے ہیں۔

جمہوریت پسندوں میں لبرل بھی ہیں، سوشلسٹ بھی اور پولیٹیکل اسلام کے حامی بھی، جن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ عوام جسے پسند کرے، اسے حق حکمرانی حاصل ہے۔ عوام کا منتخب کردہ سربراہ ریاست ہی ریاست کا چیف ایگزیکٹو اور ریاست کے امور کا نگران ہوتا ہے اور تمام ادارے اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔

آمریت پسند جمہوریت کو صرف اس وقت سپورٹ کرتے ہیں جب حکمران ان کی مرضی کے آئیں۔ چاہے وہ عوام کے ووٹ لے کر آئیں، امپائر کی انگلی سے، کسی بھی قسم کے ایکٹوازم سے یا براہ راست جمہوری عمل پر شب خون سے۔

راقم کا خیال ہے کہ جمہوریت پسندوں کو جمہوریت کی بنیاد پر بننے والے اس اتحاد کی حمایت کرنی چاہئے اور اسے مضبوط کرنا چاہئے۔ جب یہ اساس مضبوط ہو جائے اور جمہوریت کا مقدمہ فکری و عملی طور پر نہ صرف تسلیم کر لیا جائے بلکہ امور ریاست میں کام کرتا ہوا بھی نظر آئے تب سیاسی مکالمہ کو آگے بڑھایا جائے کہ آیا امور ریاست لبرل فکر کے مطابق ہو یا سوشلسٹ، مولانا مودودی کی فکر کو رہنما بنایا جائے یا جاوید احمد غامدی صاحب کو۔ حتمی فیصلہ یقینا عوامی انتخاب ہی ہے۔

بغیر جمہوریت کے تسلسل اور اس کی قوت حکمرانی کے دیگر معیار بے سود ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ایک محلے کے بچے سکول جاتے ہیں، کچھ دن پڑھتے ہیں، پھر چند دن بعد چوکیدار انہیں اندر ہی نہیں گھسنے دیتے مگر اہل محلہ اس بحث میں پڑے رہتے ہیں کہ آیا سلیبس کون سا ہونا چاہئے لبرل، سوشلسٹ یا اسلامک۔ ضروری ہے کہ پہلے بچوں کی تعلیم کے حق کو منوایا جائے اور چوکیداروں سے کہا جائے کہ آپ کے ذمے سکول کی چاردیواری کی حفاظت ہے، آپ سکول پر یا اس کے امور پر قبضہ نہیں کر سکتے۔

اسی طرح اگر بچے سکول تو جا رہے ہیں مگر چوکیدار انہیں کلاس روم میں بیٹھنے ہی نہیں دیتے یا بیٹھنے تو دیتے ہیں مگر ٹیچرز کو کلاس میں گھسنے ہی نہیں دیتے۔ تب بھی اگر طلباء یا اساتذہ کی کارکردگی کو معیار بنایا جاتا ہے تب بھی یہ منطقی طور پر ناقص ہے۔ اساتذہ کو اپنا کام پورے اختیار سے کرنے دیجئے، طلباء کو تعلیمی عمل سے نہ روکا جائے اور سکول کے چوکیدار سکول انتظامیہ کے ماتحت ہوں، تب اگر کارکردگی ظاہر نہیں ہوتی تو انتظامیہ، اساتذہ اور طلباء ذمہ دار ہیں اور ان سے یقینا بازپرس کرنی چاہئے۔

جمہوریت کو چلنے دیجئے۔ اس سے اس کی طاقت نہ چھینی جائے اور عوام کو اپنے فیصلے کرنے دیں۔ اسی میں پاکستان کی بھلائی ہے۔ اسی طرح ہی تمام ادارے سول و غیر سول مضبوط و قائم رہ سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 150 posts and counting.See all posts by zeeshan