صیہونیوں کی نئی عالمی سازش کے تانے بانے


adnan-khan-kakar-mukalima-3

بہت سے مسلمان اس بات پر بہت خوشی منا رہے ہیں کہ لندن جیسے شہر کا میئر ایک مسلمان صادق خان بن چکا ہے۔ لیکن کیا یہ اتنا ہی سادہ معاملہ ہے جتنا کہ سمجھا جا رہا ہے؟ یہ گورے ساری دنیا کو بے وقوف بنا سکتے ہیں، مگر ہم پاکستانیوں کو نہیں۔ کیا ان کو یاد نہیں ہے کہ جس وقت نیویارک کے ٹوین ٹاور سے جہاز ٹکرائے تھے، تو اسی وقت ہم سب نے یہ بتا دیا تھا کہ یہ امریکی سازش ہے اور انہوں نے خود ہی جہاز ٹکرائے ہیں، ورنہ اس دن تین ہزار یہودی اس جگہ سے اچانک چھٹی کیوں کرتے۔ اور بعد میں فارن ہائیٹ نائن الیون نامی امریکی فلم نے ہمارے پاکستانی تجزیے کی تصدیق بھی کر دی۔ اس وقت بھی صیہونی ایک نیا جال لے کر آئے ہیں جو کہ صورت حال کو ایک وسیع کینوس پر دیکھنے کے عادی باشعور پاکستانی تجزیہ نگار پہچان چکے ہیں۔ اس سازش کے تانے بانے لندن سے امریکہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔

mp_sadiq_khan

سب سے پہلے تو ہم صادق خان کے معاملے کو دیکھ لیتے ہیں۔ صورت حال پر غور کریں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ غالب مسیحی اکثریت رکھنے والے لندن میں، جس میں کم از کم ستر فیصد سفید فام مسیحی ہیں، میئر کی پوزیشن کے لیے دو ہی امیدوار نامزد کیے جاتے ہیں۔ ایک دیسی مسلمان صادق خان ہے، اور ایک یہودی زیک گولڈ اسمتھ۔ صادق خان جیت جاتا ہے اور زیک ہار جاتا ہے۔ الیکشن مہم کے دوران زیک خوب الزامات لگاتا ہے کہ صادق خان انتہا پسند مسلمانوں کے ساتھ روابط رکھتا ہے۔ لیکن حقیقیت کیا ہے؟

لندن کے پرانے میئر کین لونگ سٹون نے نہایت جرات سے کام لیتے ہوئے پوری قوم کو بتا دیا کہ پاگل ہو کر یہودیوں کا قتل عام کرنے سے سے پہلے ہٹلر نے صیہونیوں کو سپورٹ کیا تھا۔ اس پر صادق خان نے یہ ماننے سے انکار کر دیا۔ انہیں یہ فکر تھی کہ وہ اس لونگ سٹون کے بیان کے باعث لندن کے یہودی ووٹوں سے محروم ہو جائیں گے۔

وہ الیکشن مہم کے دوران یہودیوں کو پرچانے کے لیے اسرائیل پر کسی قسم کی پابندیاں لگانے کی مخالفت بھی کرتے رہے حالانکہ ماضی میں وہ اس کی حمایت کرتے رہے تھے۔ الیکشن مہم میں انہوں نے کہا کہ ’ہم اسرائیل کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ میں ساری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ میں ایک ایسا مسلم میئر بنوں گا جو کہ لندن کے یہودیوں کو نفرت سے بچانے کے لیے ماضی کے کسی بھی میئر سے زیادہ کچھ کرے گا‘۔ صادق خان جیت گئے اور یہودی زیک گولڈ اسمتھ ہار گیا۔

کیا یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ یہودی ووٹر ایک یہودی مئیر کو ووٹ دے کر جتانے کی بجائے ایک مسلمان کو منتخب کر لیں گے؟ اصل میں ہوا یہ ہے کہ عیار صیہونیوں نے سازش کی اور ایک ایسے مسلمان کو الیکشن میں کھڑا کر دیا جو ان کے ساتھ ملا ہوا تھا، اور اس کی جیت 13164221_10208091502158901_4303844373986564010_nکو یقینی بنانے کے لیے اس کے مقابل ایک یہودی کھڑا کر دیا۔

اب یہودی ووٹروں کو تو اصل بات معلوم تھی، اس لیے انہوں نے صادق خان کو ووٹ دیا، جبکہ لندن کے بھولے بھالے مسلمانوں نے سوچا کہ ایک یہودی کی بجائے مسلمان کو ہی ووٹ دینا چاہیے۔ وہ یہ بات بھی بھول گئے کہ کچھ عرصے پہلے ہی 2013 میں پارلیمنٹ میں صادق خان کی ہم جنس پرستوں کی شادی کے قانون کی حمایت کرنے کی وجہ سے بریڈ فورڈ کی جامع اسلامیہ رضویہ کے مفتی محمد اسلم نقشبندی بریلوی صاحب نے صادق خان کو مرتد قرار دے دیا ہے۔ دیکھیں کس طرح بھولے بھالے مسلمانوں کو ایک سازش کے ذریعے مجبور کر کے اپنے پسندیدہ شخص کو ووٹ ڈلوایا گیا ہے۔

donald-trump

اب اس منظرنامے کو سمجھ کر ہم دنیا کے ایک اہم ترین الیکشن کی طرف چلتے ہیں جو کہ دنیا کے اربوں مسلمانوں پر براہ راست اثر انداز ہو گا۔ امریکی الیکشن میں اس وقت تین نمایاں امیدوار ہیں۔ ریپلکن پارٹی کے ڈانلڈ ٹرمپ، اور ڈیموکریٹک پارٹی کے برنی سینڈرز اور ہلیری کلنٹن۔

ڈانلڈ ٹرمپ نے تو پہلے دن سے ہی مسلم مخالف بیانات دینے شروع کر دیے تھے۔ مسلمانوں کی امریکہ آمد پر پابندی، پاکستان کے بارے میں برے ارادے، افغانستان میں فوجی یونٹ، وغیرہ وغیرہ کے بارے میں آپ سب جانتے ہی ہیں۔ عام طور پر صدارتی امیدوار سب کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہ خاص طور پر مسلمانوں اور نسل پرستی کے مخالفین کو خود سے پرے دھکیل رہا ہے۔ کیوں؟ اس سوال کا جواب کچھ دیر میں دیکھتے ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ مسلمان اسے ووٹ نہیں دیں گے۔

ہلیری کلنٹن۔ بل کلنٹن کے دور میں ہی یہ مشہور تھا کہ یہ اس کی ملکہ نور جہاں ہے، اور وائٹ ہاؤس پر اسی کی حکومت ہے اور بل کلنٹن اپنے اوول آفس میں بیٹھا فارغ ٹائم پاس کرتا رہتا ہے۔ بعد میں صدر اوباما کی وزیرخارجہ کی حیثیت سے بھی اس نے افغانستان، عراق اور لیبیا وغیرہ پر مسلمانوں کے خلاف جنگ میں اہم رول ادا کیا۔ پاکستان میں تو اس کا کردار ایسا تھا کہ اسے ایک دل جلی پاکستانی بہو نے منہ پر ہی پاکستان کی ساس قرار دے دیا تھا۔ لیکن مفتیان کرام نے بیان کیا ہے کہ عورت کی حکمرانی تو اسلام میں مطلق حرام ہے، ہاں کوئی شروع عذر وغیرہ ہو یا وزارت مل رہی ہو جس کے ذریعے مسلمانوں کی خدمت کی جا سکتی ہو تو پھر ہی عورت کی حکمرانی جائز ہو سکتی ہے، جیسا کہ ہم محترمہ بے نظیر اور محترمہ فاطمہ جناح کے کیس میں دیکھ چکے ہیں۔ لیکن ہلیری کلنٹن تو تمام مسلمانوں سے خوب تنگ ہے، وہ کسی مفتی صاحب کو وزارت کیوں دے گی؟ قصہ مختصر اس کو حکمران بنانے کی خاطر مسلمان ووٹ نہیں دیں گے۔

تیسرا بچتا ہے ایک فرشتہ صفت برنی سینڈرز۔ افغانستان، عراق، لیبیا، ہر جنگ کے خلاف اس نے ووٹ دیا تھا۔ خود کو لبرل بنا کر پیش کرتا ہے۔ سب سے محبت کا دعویدار ہے۔ رنگ، نسل، عقیدے سے بالاتر ہو کر وہ سب انسانوں کو برابر کا شہری قرار دیتا ہے۔ برنی سینڈرز کتنا اچھا اور نیک شخص ہے۔ امریکہ کا صدر اسی کو ہونا چاہیے۔ سارے مسلمانوں کو چاہیے کہ برنی سینڈرز کو ہی ووٹ دیں اور امریکہ کا صدر بنا دیں۔

لیکن ٹھہریے۔ ایک منٹ توقف کیجیے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ برنی سینڈرز کون ہے؟ ہم سادہ دل پاکستانی سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں سارے مسیحی رہتے ہیں۔ نہیں جناب، برنی سینڈرز کے والدین پولینڈ کے یہودی تھے۔ بظاہر وہ یہ کہتا ہے کہ وہ یہودی نہیں ہے، اس کا نظریہ خدا بالکل مختلف ہے، وہ کہتا ہے کہ ہر شخص خدا کو اپنے انداز میں ہی مانتا ہے، اور میرے لیے خدا کا مطلب یہ ہے کہ سب انسان ایک ہی مادہ ہیں، سب زندگی ایک ہی مادہ ہے، اور ہم سب جڑے ہوئے ہیں۔ لگتا ہے کہ برنی سینڈرز مسلم صوفیا کا مسئلہ وحدت الوجود بیان کر رہا ہے۔ لیکن کیا ایسا ہی ہے؟ کہیں برنی سینڈرز ایک خفیہ راسخ العقیدہ صیہونی تو نہیں ہے جو کہ صدارت پر قبضہ کرنے کے مشن پر ہے؟

menorah

سنہ 1983 میں جب برنی سینڈرز برلنگٹن کا میئر تھا، تو اس نے سٹی ہال میں یہودیوں کے تہوار ہنوکا پر یہودیوں کا مقدس نوشاخہ شمع دان ’منورہ‘ رکھنے کی اجازت دی تھی جو کہ آٹھ فٹ اونچا تھا۔ دوسری شب برنی سینڈرز نے مقدس منورہ کی شمعیں خود روشن کی تھیں اور جب ربی راسکن نے اس سے پوچھا تھا کہ کیا اسے مدد چاہیے تو اس نے جواب دیا تھا کہ اسے وہ تمام مقدس دعائیں بخوبی یاد ہیں جو کہ منورہ روشن کرتے ہوئے پڑھی جاتی ہیں۔ کیا اب بھی کوئی شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ برنی سینڈرز ایک راسخ العقیدہ یہودی نہیں ہے؟

کیا آپ یہ دیکھ رہے ہیں کہ جس طرح عیار صیہونی لابی نے پس پردہ رہتے ہوئے تمام برطانوی مسلمانوں کو لندن کے میئر کے لیے صادق خان کو ووٹ دینے پر مجبور کر دیا ہے، ویسے ہی اب ڈوریاں ہلائی جا رہی ہیں اور تمام امریکی مسلمانوں کو غیر شعوری طور پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ برنی سینڈرز کو ہی ووٹ دیں۔ ساری دنیا میں مسلمانوں کو اس طرح بے وقوف بنایا جا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں وطن عزیز میں بیٹھے ہم پاکستانیوں کے علاوہ کسی کو ایسی سازشوں کا گمان تک نہیں ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے تو اسرائیلی پاکستان کو اپنا دشمن نمبر ایک سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی ہر عیاری کو سمجھتے ہیں۔

سب پاکستانیوں کو دعا کرنی چاہیے کہ خدا کرے کہ برنی سینڈرز کی بجائے ڈانلڈ ٹرمپ ہی جیت جائے تاکہ صیہونی سازش ناکام ہو جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

40 thoughts on “صیہونیوں کی نئی عالمی سازش کے تانے بانے

  • 08-05-2016 at 12:17 am
    Permalink

    Gosh ..im sick n tired of these typical “conspiracy theory approach ” …Clearly the writer of this blog has no clue how the thought process of a common voter in the west works … Have some real homework before writing these kind of ‘fiction” blogs ..???

    • 08-05-2016 at 1:06 pm
      Permalink

      i hope if you have learned some “angrazi” words then you know the meaning of SARCASAM.

  • 08-05-2016 at 12:47 am
    Permalink

    The reason ‘Yahood’, ‘Hanood’ and ‘Nasara’ are jealous of Pakistanis is that we have an uncanny ability to sniff any conspiracy. This time again credit goes to Adnan Sb that he exposed the complicated plot. Good post.

  • 08-05-2016 at 1:22 am
    Permalink

    عدنان بھائی۔۔۔ اپنے کالم کے ساتھ مفہوم الکلام بھی نتھی کیا کریں تاکہ ھم جیسے کوڑھ مغز قارئین آپ کے طنز کی گیرائی و گہرائی کی لِم پا سکیں۔۔۔۔۔۔۔ اتنا مشکل کالم تحریر کرنے پر تحسین۔۔۔ تاھم اس کے اختتام پر” امیجنگ ٹیکنیک” استعمال فرمائیں کی ٹپ بھی ھونی چاہیے تھی۔۔۔ کیا فنکاری ھے بھائی۔۔۔!!!!!!!!! لطف آگیا

  • 08-05-2016 at 6:44 am
    Permalink

    مجھے بہت افسوس ہوتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر ایرا غیرا نتھو خیرا خود کو سیاسی، معاشی، معاشرتی امور پر عالمِ کامل تصور کرتا ہے۔ کہنے کو یہ صاحب آئی ٹی اور فوٹو گرافی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن عالمی سیاست میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ایسی سازشیں ڈھونڈ لائے ہیں کہ شاید صادق خان اور برنی سینڈرز بھی ششدر رہ جائیں!

  • 08-05-2016 at 7:38 am
    Permalink

    Born Muslim Borm Mad. Her Cheez Pakistani AQAL Dushmano Ko Kyun Ulti Samjh Aati Hey. Fakhar Karny K Bajjaye Hum Keerry Kyun Nikalna Shurru Kr Dety Hen !!!!!!!?????

    • 08-05-2016 at 9:40 pm
      Permalink

      سر یہ قوم ہے ہی ایسی۔ برائی کو پسند کرتی ہے۔ صاف واضح چیز کو سمجھنے سے انکاری ہو جاتی ہے۔ بس اس کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

  • 08-05-2016 at 8:34 am
    Permalink

    Plz read this. It has another perspective. Historically tested.
    “Politics and Islam”
    ——————–
    His (Akram Nadwi’s) radicalism is of entirely another caliber. He’s an extremist quietist, calling on Muslims to turn away from politics and to leave behind the frameworks of thought popularized by Islamists in recent centuries. Akram’s call for an apolitical Islam unpicked the conditioning of a generation of Muslims, raised on the works of Abu l’Ala Maududi and Sayyid Qutb and their nineteenth-century forerunners. These ideologues aimed to make Islam relevant to the sociopolitical struggles facing Muslims coping with modernity. Their works helped inspire revolutions, coups, and constitutions. But while these thinkers equated their faith with political action, the Sheikh believed that politics was puny. He was powered by a certainty that we are just passing through this earth and that mundane quests for land or power miss Islam’s point. Compared with the men fighting for worldly turf, Akram was far more uncompromising: turn away from quests for nation-states or parliamentary seats and toward God. “Allah doesn’t want people to complain to other people,” he said. “People must complain to Allah, not to anyone else.”

    Excerpt From: Power, Carla. “If the Oceans Were Ink.” .

  • 08-05-2016 at 10:58 am
    Permalink

    عدنان سر کالم تو آپ نے لکھا ہے، لیکن اب اس کو وہی لوگ شئیر کریں، جن پر آپ طنز کیا

  • 08-05-2016 at 12:43 pm
    Permalink

    Chore ki darehi mean tinka.

  • 08-05-2016 at 1:01 pm
    Permalink

    بھائی عدنان کاکڑ اوپر کے کمنٹس پڑھ کر لگتا ہے آپ نے جھک ماری ہے ایسا لاجواب کالم لکھ کر۔
    کیسے کیسے کوڑھ لوگ ہیں جو طنز و کنایا رمز و اشارا نہ جانے بغیر درمیان میں کوس پڑتے ہیں

  • 08-05-2016 at 2:09 pm
    Permalink

    The most lunatic column I have read so far on these pages. The author does not know that there were four candidates contesting the election not two. The rest is a crap from the same dirty basket of bigotry. This author who reminds me of Mullahs of Pakistan has no idea about the mechanism behind the ballot behavior of western voters. How could the Jews convince over one and half million multiethnic Londoners that they should vote for Khan, and what about over a million who voted for the Jewish candidate? It is logically impossible for what he is asserting in his column. But who would claim that logic and truth is the salient feature of Pakistani journalism and authorship.

  • 08-05-2016 at 2:49 pm
    Permalink

    حقائق سے میلوں دور، مفروضوں پر منبی اور یہود و ہنود اور نصاریٰ کے متلعق ایک روایتی پاکستانی/ مسلمانی بغض و منافقت اور تعصب پر منبی اِس جیسا کالم اور پر یہ دعویٰ کی پاکستانی تجزہ نگار، سب اندر کی بات جانتے ہیں، انتہائی مضحکہ خیز ہے اور ساتھ ہی یہ کالم پاکستان میں ملائیت اور نام نہاد سیاسی تجزیہ نگاروں اور صحافتی دانشوروں کی اسی روش کی بازگشت ہے جس کے تحت وہ یہ دعوے کرتے رہتے ہیں کہ ’’ تہذیب مغرب کو اپنے ہی ہاتھوں سے خود کشی کرے گی ‘‘ ۔ مخصوص دینی برادریوں کے ساتھ کالم نگار کی مسلکی رقابت اور عالمی تناظر میں سیاسی اختلاف کا یہ بھونڈا اظہار، اردو صحافت میں حق و صداقت کے مقابلے میں جھوٹ، مفروضوں اور مکر و فریب کو پھیلانے اور انہیں مضبوظ کرنے کی دانستہ یا نا دانستہ کوشش کے سوا کچھ نہیں ۔

  • 08-05-2016 at 3:30 pm
    Permalink

    عدنان کاکڑ صاحب‘ یہودونصاریٰ وہنود کی خوف ناک اور گہری سازشوں کو بے نقاب کرنے میں آپ ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ لگتا ہے کہ اس مہارت کے لئے آپ نے بہت ریاضت کی ہے۔ لیکن اوریا مقبول جان کے اعلیٰ مقام تک پہنچنے کے لئے آپ کو بہت کشٹ کاٹنا پڑیں گے۔

    دوستوں کے ردعمل سے ندیم فاروق پراچہ وہ کالم یاد آگیا جو انہوں نے ملالہ یوسف زئی کے بارے میں لکھا ہے۔ اس کے بعد ڈان کے مدیرکویہ وضاحت کرنی پڑی تھی کہ یہ ایک طنزیہ تحریر ہے۔

    اگرآپ برا نہ مانیں تو ہجے کی ایک غلطی کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتاہوں۔ صیہونی کوصہیونی لکھنا چاہیئے۔

    • 08-05-2016 at 9:33 pm
      Permalink

      شکریہ جناب۔ املا کے معاملے میں صیہونی بھی درست ہے۔

      صَیہُون {صَے (ی لین) + ہُون} (عربی)
      صہیون، صَیہُون
      عربی زبان میں اسم علم صہیون کا مورد صیہون اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے 1984ء کو “ارمغانِ مجنوں” میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
      اسم معرفہ (مذکر – واحد)
      [ترمیم]معانی

      1. یروشلم کے نزدیک یہودی مذہب کا ایک مقدس مقام، (مجازاً) تقدس۔
      “یہودیوں کے مطرب پیغمبر کا تو یہ کہنا ہے کہ صیہون یعنی کمالِ حسن سے خدا جلوہ گر ہوا۔”، [1]

      صَیہُونی {صَے (ی لین) + ہُو + نی} (عربی)
      صَیہُون، صَیہُونی
      عربی زبان سے مورد اسم صَیہون کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت ی بطور لاحقۂ نسبت ملنے سے صیہونی بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے 1955ء کو “نکتہ راز” میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
      صفت نسبتی
      جمع ندائی: صَیہُونِیو {صَے (ی لین) + ہُو + نِیو (و مجہول)}
      جمع غیر ندائی: صَیہُونِیوں {صَے (ی لین) + ہُو + نِیوں (و مجہول)}

  • 08-05-2016 at 5:03 pm
    Permalink

    عدنان کاکڑ صاحب! آپ کا کالم پڑھ کر بہت خوشی بھی ہوئی اور بعض کمنٹس پڑھ کر آپ سے ہمدردی بھی ہے کہ اس جہاں میں سخن فہموں کی کس قدر کمی ہے۔ آپ کو چاہیے کہ مضمون ختم کرنےسے پہلے یہ وضاحت کر دیا کریں کہ یہ طنزیہ کالم ہے تاکہ فاضلین خلاصہ جات کسی ذہنی الجھن کا شکار نہ ہوں۔
    آپ کی نگہ دور بین البتہ بنیادی سازش کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے۔ یہود و نصاریٰ کی اس حرکت کا مقصد مسلمانوں کےلیے سیکولر ازم کی لعنت کو قابل قبول بنانا ہے ورنہ کہاں لندن اور کہاں ایک مسلمان میئر۔ میرا خیال ہےکہ لندن کی میئرشپ کا شمار کلیدی عہدوں میں ہوتا ہوگا۔ سیکولرازم کا بظاہر خوش نما چہرہ دکھا کر نوجوانان امت کو گمراہ کرنے کی یہ بھونڈی سازش ہے۔ چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر۔
    آپ کو یاد ہو گا کہ چند برس پیشتر جب بنگلہ دیش کے یونس خان کو نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا تو اس وقت ہمارے ایک جید کالم نگار نے اس سازش کا بھانڈا بیچ کالم پھوڑ دیا تھا کہ یہ مسلمانوں میں سودی نظام کو قابل قبول بنانے کی مکروہ سازش ہے۔ اس کے بعد کسی پاکستانی کی زبان پر یہود و نصاریٰ کے اس ایجنٹ کا نام کبھی نہیں آیا۔
    امت مسلمہ کو خبردار کرنے پر ایک بار پھر شکریہ۔

    • 08-05-2016 at 9:20 pm
      Permalink

      جناب اگر اہل کرم مضمون کے علاوہ مصنف کا تعارف پڑھنے کے باوجود بھی بہکنا چاہتے ہیں تو انہیں بہکنے دیں اور ان کمنٹس پر ہمیں خوش ہونے دیں۔

  • 08-05-2016 at 6:26 pm
    Permalink

    Hello Jonathan swift of our country. I feel pity upon you when I see some comments of some wise people. Their state of mind is not less than that person after listening to a a lateefa asks WHAT HAPPENED NEXT???? .THEY ARE MISERABLECREATURES

    • 08-05-2016 at 9:42 pm
      Permalink

      یہ وہی جوناتھن سوفٹ تھا نہ جو کبھی دیووں میں بونا ہو جاتا تھا اور کبھی بونوں میں دیو؟ بس یہی معاملہ یہاں بھی درپیش ہے۔

  • 08-05-2016 at 7:36 pm
    Permalink

    comments are more hilarious than column itself….u r a genious me adnan

    • 08-05-2016 at 9:43 pm
      Permalink

      شکریہ جناب۔ کمنٹس واقعی مضمون سے بہتر ہیں۔ مضمون کی بہت سی خامیوں کی ان کی وجہ سے نشاندہی ہو گئی ہے۔

  • 08-05-2016 at 8:28 pm
    Permalink

    One stupidity may lead to another (sorry I don’t have Urdu fonts). This article is sheer ignorance about western democracies. To call it a satire (TANZ) is yet another demonstration of stupidity. I have been reading Dawn for years and I enjoy reading cultural critic NF Paracha. There is always a note in the end of his humorous columns that the text above is a satire.

    • 08-05-2016 at 9:24 pm
      Permalink

      Well if you have been reading NFP for such a long time, then perhaps you’d have noticed that it started to appear after his Malala masterpiece. If an audience has to be told that the piece is a satire or not so, then pity on that audience, including those who believe that they are sociologists.

      But I do like the idea. Author of every piece must write something like this at end of his article:

      Readers, this is a news story.
      Hello, it is a political analysis.
      Mr, this is a food recipe
      Sir this is a satirical piece.

      • 08-05-2016 at 10:05 pm
        Permalink

        As you are a keen reader of NFP and Dawn, let me give you beginning of article on Malala that was published on 10 Octotber 2013
        ————
        Malala: The real story (with evidence)
        NADEEM F. PARACHA

        Share Email 13 Comment(s) Print
        Updated
        2013-10-10 16:04:29
        In September 2012, a 15-year-old school girl from Pakistan’s Swat valley was reported to have been shot in the face and head by a Taliban activist.

        The attack caused outrage around the world and the news was given widespread coverage in the local and international media.
        =======================
        Today, for the benefit of those sociologists who are a keen reader of NFP, the story is present with a disclaimer
        ————
        Malala: The real story (with evidence)
        NADEEM F. PARACHA — UPDATED OCT 11, 2013 07:11PM

        DISCLAIMER: The following article is a work of satire and fiction and in no way attempts to depict events in real life.

        In September 2012, a 15-year-old school girl from Pakistan’s Swat valley was reported to have been shot in the face and head by a Taliban activist.

    • 08-05-2016 at 10:09 pm
      Permalink

      You have made a claim:

      ” I have been reading Dawn for years and I enjoy reading cultural critic NF Paracha. There is always a note in the end of his humorous columns that the text above is a satire.”
      —————-
      Kindly point out where is the said note that explains that “above is a satire”. Please find it for me.

      http://www.dawn.com/news/1251651/why-you-reside-jovial-in-dubai-an-open-letter-from-taher-shah-to-pakistani-politicians

    • 09-05-2016 at 8:43 am
      Permalink

      مصطفیٰ حسین صاحب‘ آپ بہت جذباتی ہوگئے ہیں۔ غصہ تھوک دیں اوراس تحریرکا لطف اٹھائیں۔ اور ہاں ممکن ہوتو اپنے کمپیوٹر پا اردوسافٹ وئرڈلوالیں بہت اچھا رہے گا۔ اس ویب سائٹ پر انگریزی ڈھنگ سے لکھی نہیں جاتی اور اس کا مزا نہیں آتا۔

  • 08-05-2016 at 9:03 pm
    Permalink

    عدنان صاحب، اردو میں طنزیہ ، واقعی طنزیہ، تحریریں بہت کم لکھی گئی ہیں۔ ہم لوگ مذاح تک محدود رہے ہیں، اور طنز میں بھی جب تک غالب کا کوئی مصرع یا فقرہ نہ شامل ہو اسے قبول نہیں کر پاتے۔ یہ خود اپنی جگہ ایک تحقیق طلب بات ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ ابراہیم جلیس اور کنہیا لعل کپور کے علاوہ اور کوئی نام میرے ذہن میں نہین آتا، اور انھیں اب کون جانتا ہے۔ پتہ نہیں کیوں میں سوچتا ہوں کہ اگر یہی تحریر ہندی یا پنجابی میں ہوتی تو پڑھنے والے نسخہٴ ترکیب استعمال کی فرمائش نہ کرتے۔ ہندی میں طنز کی زوردار روایت بن چکی ہے۔ شاید ایک دن اردو میں بھی یہی صورت بن جائے۔

    • 08-05-2016 at 9:38 pm
      Permalink

      طنز لکھنے میں تو جو مزا آتا ہے سو آتا ہے، زیادہ سواد اس پر کمنٹس پڑھ کر آتا ہے۔

  • 08-05-2016 at 9:15 pm
    Permalink

    Adnan Bhai, hum aap ko mashwara to nahi de sakte, lekin khauf hai ke agar aap issi tarha likhtey rahe to aap ko samajh kar parhne walon ki ta’dad mai roz ba roz kami hoti jaegi. Iss mulk me seedhi saadhi bat ko samajhne wale bhi kitne hein jo aap tanziya andaz me khama farsai farmate hein.

  • 09-05-2016 at 1:29 pm
    Permalink

    Basically we are jealous of ourselves. Malala wins Noble prize, we cannot digest it and declare she is a pro West, planted girl who is against Muslims. Sharmeen wins 2 Oscars and we are angry that she exposed us before the world. Now Sadiq Khan wins and we have declared him a friend of Israel. Why only Pakistan is not accepting Israel while most Arabs have good relations with it. Now the writer wants the Muslims of USA to support a person who is clearly against Muslims and immigrants. For God sake, please leave the jealousy aside and look at the facts. Why we always become suspicious of our own people or the people who are openly supporting us.

    • 10-05-2016 at 11:13 am
      Permalink

      Kindly read your own words. You said:

      “There is ***always*** a note in the end of his humorous columns that the text above is a satire”

      I have given you two examples that this disclaimer is not *ALWAYS* present.

      As a sociologists, you should be aware of the pitfall that generalization creates

  • 10-05-2016 at 3:29 pm
    Permalink

    Kakar sahib, I provided you with an example that Paracha’ satire entails a disclaimer. And that is also my general impression. If there are instances where such attention was not drawn in Dawn, there could be two reasons for it. Either because the text itself is so humorous that an average reader can see that it is mere satire or the editor forgot to emphasize. Your style of writing has no such clue at all that it was merely a satire. That confused some readers, including me. I have been reading Urdu satirical columns of the late Rais Amrohi in daily Jang since youth- hood and have an idea about what is satire and what is serious, or cynicism. If I have been wrong to assess the hidden satire in your column, I apologize for that. But the fault line in this case is a two-ways street. Stay blessed.

    • 10-05-2016 at 3:41 pm
      Permalink

      So do you now retract your statement that NFP/Dawn ALWAYS put a disclaimer indicating that the piece is satire?

    • 10-05-2016 at 3:43 pm
      Permalink

      And this starting paragraph contains enough foolishness to mark it a satirical article making fun of conspiracy theories and narcissism.

      بہت سے مسلمان اس بات پر بہت خوشی منا رہے ہیں کہ لندن جیسے شہر کا میئر ایک مسلمان صادق خان بن چکا ہے۔ لیکن کیا یہ اتنا ہی سادہ معاملہ ہے جتنا کہ سمجھا جا رہا ہے؟ یہ گورے ساری دنیا کو بے وقوف بنا سکتے ہیں، مگر ہم پاکستانیوں کو نہیں۔ کیا ان کو یاد نہیں ہے کہ جس وقت نیویارک کے ٹوین ٹاور سے جہاز ٹکرائے تھے، تو اسی وقت ہم سب نے یہ بتا دیا تھا کہ یہ امریکی سازش ہے اور انہوں نے خود ہی جہاز ٹکرائے ہیں، ورنہ اس دن تین ہزار یہودی اس جگہ سے اچانک چھٹی کیوں کرتے۔ اور بعد میں فارن ہائیٹ نائن الیون نامی امریکی فلم نے ہمارے پاکستانی تجزیے کی تصدیق بھی کر دی۔ اس وقت بھی صیہونی ایک نیا جال لے کر آئے ہیں جو کہ صورت حال کو ایک وسیع کینوس پر دیکھنے کے عادی باشعور پاکستانی تجزیہ نگار پہچان چکے ہیں۔ اس سازش کے تانے بانے لندن سے امریکہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔

  • 10-05-2016 at 3:49 pm
    Permalink

    Cute

Comments are closed.