خورشید ندیم کا کالم (جو چھپ نہیں سکا)


کپٹن صفدر نے گرفتاری دے کرمزاحمتی تحریک کی بنیاد رکھ دی ہے۔ نوازشریف اور مریم نے بھی میدان کارزار میں اترنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کیا پنجاب اُن کے ساتھ نکلے گا؟ وہ ان لوگوں کو زبان حال سے جواب دے گا کہ جو کہتے ہیں کہ پنجاب نے ظلم کے خلاف کبھی مزاحمت نہیں کی؟ کیا راولپنڈی کی عوامی ریلی نے عوامی فیصلے کی پیش گوئی کر دی؟ کہتے ہیں اہم فیصلے جمعے کو ہوتے ہیں۔ کیا آنے والا جمعہ بھی ایک تاریخ رقم کر نے جا رہا ہے؟

سب سے پہلے تو شہباز شریف صاحب کو اپنے قدموں کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پانا ہے۔ بصورتِ دیگر یہ عمر بھر کی معذوری میں بدل سکتی ہے۔ اب نون لیگ کا ایک ہی بیانیہ ہو سکتاہے اور وہ ہے مزاحمت کا بیانیہ۔ اگر مگر اور بیانیوں میں انتخاب کا مرحلہ گزر چکا۔ شہبازشریف صاحب کا انجام نوازشریف سے الگ نہیں ہو سکتا، ہمہ یاراں دوزخ، ہمہ یاراں بہشت، جیل اُن کو بھی جانا ہے، مرضی سے جائیں یا مجبوری سے۔

ہفتے عشرے ہی میں قائد اور منتظم کا فرق واضح ہو گیا، بطور وزیراعلیٰ،وہ معاصرین میں ممتاز رہے، دوسرے صوبوں کے عوام خواہش کرتے رہے کہ شہباز شریف صاحب جیسا وزیراعلیٰ انہیں بھی نصیب ہو، سیاسی قیادت مگر چیزے دیگر است، وہ خود کو نوازشریف کا متبادل ثابت نہیں کر سکے، جب مزاحمت کی ضرورت ہو،اس وقت مفاہمت کی بات کرنا اپنی قائدانہ صلاحیت کو مشتبہ بنانا ہے۔ جب مزاحمت کا بیانیہ ہو گا تو قیادت فطری طور پر مریم نواز کو ہی منتقل ہو گی، شہباز شریف صاحب کو اب خود کو اس حقیقت سے ہم آہنگ بنانا ہو گا۔

اقتدار کا حق کس کے پاس ہے؟ عوام کے پاس یا کسی اور کے پاس؟ پاکستان کے سیاسی استحکام کے لیے لازم ہے کہ یہ بات ہمیشہ کے لیے طے ہو جا ئے۔ آج سیاست میں اس کے سوا کوئی بیانیہ نہیں۔ نوازشریف کی حمایت بھی اسی لیے ہے کہ وہ اس بیانیے کے واحد نقیب ہیں۔ اگر وہ اس امتیاز کو کھو دیں گے تو اہلِ سیاست کی اس صف میں جا کھڑے ہوں گے جن کی سیاست کا اوّل وآخر ہدف اقتدار ہے۔ نوازشریف طویل عرصہ اسی صف میں رہے ہیں۔ آج تاریخ نے انہیں موقع دیا ہے کہ وہ اپنی جگہ بدل لیں، اس وقت اس صف میں وہ تنہا کھڑے ہیں،

سنجیدہ لوگوں میں، نوازشریف کے مخالف دو طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں، ایک وہ جو عوامی بالادستی کے کسی اصول کو نہیں مانتے، ان کا خیال ہے کہ ’اچھی حکومت‘ہونی چاہیے، اگر یہ فریضہ کوئی آمر یا مسلح گروہ بھی سرانجام دے رہا ہے تو اسے قبول کیا جا سکتا ہے، یہ بات اہم نہیں کہ کوئی کیسے برسرِ اقتدار آتا ہے، اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو جمہوریت کو کفر کہتے ہیں. اس وقت مجھے اس طبقے سے کچھ کلام نہیں، ان سے اختلاف نظری ہے، میرے نزدیک ناجائز طریقے سے برسراقتدار آنے کے بعد کوئی فعل جائز نہیں ہو سکتا، وظیفہ زوجیت بعد کا معاملہ ہے، پہلے نکاح ثابت ہونا چاہیے۔

نواز مخالف دوسرا گروہ وہ ہے جو عوام کی بالادستی کے اصول کو مانتا ہے مگر اس کے خیال میں نوازشریف اس کے حقیقی نمائندہ نہیں، اس گروہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی دولت اور اقتدار کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں جسے انہوں نے عوامی بالا دستی کا نام دے رکھا ہے، وہ اس بات کو ماننے کے لیے آمادہ نہیں کہ ریاستی ادارے کسی جانب داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں یا شریف خاندان کے باب میں کوئی امتیاز روا رکھا گیا ہے، اس گروہ سے مکالمہ ممکن ہے، یہ سیاسی حرکیات کی بحث ہے۔

میں اس معرکے میں نوازشریف کے ساتھ کھڑا ہوں۔ اس کے دو اسباب ہیں، ایک یہ کہ وہ واحد سیاست دان ہیں جو اس وقت عوامی بالا دستی کا بیانیہ لے کرمیدان میں نکلے ہیں۔ پیپلزپارٹی وہ دوسری جماعت ہے جو بالادستی کے اس نظر یے سے سنجیدہ وابستگی رکھتی ہے، تاہم اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ وہ اس وقت اسٹینلیشمنٹ کی اتحادی جماعت ہے۔ اس کے شواہد گلی گلی بکھرے ہوئے ہیں۔ زرداری صاحب یہ کہہ چکے ہیں کہ عوامی بالادستی کے لیے ہم اپنے حصے کی قربانی دے چکے، اب یہ دوسروں کی ذمہ داری ہے۔ تاہم حالات بتا رہے ہیں کہ جلد یا بدیر، پیپلزپارٹی کو بھی اسی راستے پر آنا ہے۔

نوازشریف اس بیانیے کے ساتھ اپنی وابستگی میں مخلص ہیں یا نہیں، اس باب میں دو آرا ہو سکتی ہیں کہ یہ گمان کا معاملہ ہے۔ تاہم بطور واقعہ اس کا انکار محال ہے کہ وہ واحد سیاست دان ہیں جو اس کے علم بردار ہیں۔ جو عوامی بالا دستی کا قائل ہے۔ وہ اگر نوازشریف کو مخلص نہیں سمجھتا تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ خاموش ہو جائے؟ کیا وہ سیاسی عمل سے الگ ہو جائے؟ وہ جو بھی فیصلہ کرے، کم از کم کسی دوسرے سیاست دان کا وکیل نہیں بن سکتا۔ اب اسے طے کرنا ہے کہ نوازشریف کی مخالفت کے ساتھ، وہ عوامی بالادستی کے نظریے کے ساتھ، اپنی وابستگی کو کیسے ثابت کر سکتا ہے؟

میں غیب کی خبر نہیں رکھتا مگر یہ گمان رکھتا ہوں کہ نوازشریف اس معاملے میں سنجیدہ ہیں۔ ان کے گرد اگر احتساب کا شکنجہ کسا جا رہا ہے تو اس کا سبب بھی ان کی یہی سنجیدگی ہے۔ اگر کرپشن وجہ ہوتی تو یہ شکنجہ ہر اس شخص کے گرد دکھائی دیتا جس پر کرپشن کا الزام ہے۔ میں احتساب کے اس نظام کو کس طرح غیرامتیازی مان لوں جو صرف نوازشریف اور ان کے سیاسی حواریوں کو مجرم قرار دیتا ہو۔

پھر معاملہ یہاں تک محدود نہیں، محکمہ زراعت کا خصوصی ہدف بھی نون لیگ کے امیدوار ہیں، اب گلی گلی اس بات کے شواہد بکھرے ہیں کہ پاکستان کو مکمل طور پر ایک زرعی ملک بنایا جا رہا ہے۔ نوازشریف اسے’سرمایہ دارانہ‘ بنانا چاہتے ہیں، یہی اصل لڑائی ہے، اس واضح تقسیم کے بعد،عوامی بالادستی کے کسی علم بردار کے پاس، اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ نوازشریف کا ساتھ دے۔

سیاسی حمایت کوئی نکاح نہیں، اگر کوئی آدمی اپنے نظریے سے انحراف کرتا ہے تو اس سے الگ بھی ہوا جا سکتا ہے، اگر کل یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوازشریف  اس سے منحرف ہوگئے ہیں تو ہمارے پاس راستہ کھلا ہے کہ ان سے اعلان برات کر دیں۔ آج مجھے اپنے لیے کوئی اخلاقی جواز نہیں ملا کہ میں عوامی بالادستی کا قائل ہوں اور نوازشریف کا ساتھ نہ دوں۔

مجھے اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر آج نہیں تو کل قوم کو بہر حال اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہے کہ اقتدار کا حق کسے حاصل ہے، اگر قوم انتخابات میں اس سوال کو مخاطب بنا سکے تو ہم پُرامن طور پر اس کا جواب حاصل کر سکتے ہیں اور ملک بڑے اضطراب سے بچ سکتا ہے، بصورتِ دیگر ابھی پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ انتخابات کے بعد ملک عدم استحکام کے ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گا۔ نئی حکومت کو پہلے دن ہی سے اس کا سامنا ہوگا اور نئی کشمکش شروع ہو جائے گی۔

اہلِ سیاست، افسوس یہ ہے کہ فی الجملہ اپنے کردار کا ادراک نہ کر سکے، وہ نوازشریف صاحب کی مخالفت کا حق رکھتے تھے۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اپنے طور پر عوامی بالادستی کا علم لے کر کھڑے ہوجاتے، اگر انہیں نوازشریف صاحب پر اعتماد نہیں تھا، انہوں نے اس معرکے میں اس بیانیے کا ساتھ دیا جو عوامی بالادستی کی نفی پر کھڑا ہے۔ عمران خان کا تو خیر یہ مسئلہ کبھی نہیں رہا، پیپلزپارٹی کا تو یہ مسئلہ تھا۔ اس جماعت کی قیادت نے بھی تاریخ کے بجائے لمحہ موجود میں جینے کو ترجیح دی۔

عوام کی بالا دستی کے لیے اب پنجاب کو مرکزی کردار ادا کرنا ہے۔ پنجاب نے اپنی سیاسی بیداری کا ثبوت دینا ہے، نوازشریف کی آمد پر اگر عوام کا ہجوم امڈ آتا ہے تو یہ ایک مزاحمتی تحریک کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے، اس سے انتخابی نتائج پر بھی اثر پڑے گا، یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوگی کہ سیاست میں اس وقت اصل بیانیہ نوازشریف ہی کا ہے۔ کرپشن اور کارکردگی جیسے نعرے ضمنی ہو جائیں گے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں