ہمارے ڈاکٹر رشید حسن خان صاحب


hasan jawedغالباً 1976 کا سال تھا۔ این ایس ایف نے سندھ میڈیکل کالج کے الیکشن میں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے صدر سمیت یونین کی کئی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ کامیابی اگلے کئی برسوں میں کراچی میں این ایس ایف کی مزید شاندار کامیابیوں کا سنگ میل ثابت ہوئی۔ لیکن ابھی اس تاریخ ساز کامیابی کا جشن جاری تھا کہ ایک خبر این ایس ایف کے کارکنان کو ایک شدید صدمے کا شکار کر گئی۔ یہ خبر این ایس ایف کے مرکزی صدر لطیف چوہدری’ مرکزی جوائنٹ سیکریٹری نرگس ہود بھائی اور کراچی کے صدر انجم رشید کی تنظیم سے اخراج کی تھی۔

نرگس اور انجم سندھ میڈیکل کالج یونٹ کے کارکنان سے بہت قریبی تعلقات رکھتے تھے اور الیکشن کے دنوں میں یونٹ کی سرگرمیوں میں گہری معاونت کرتے رہے تھے۔ کارکنان کی نظر میں دونوں بہت مخلص، محنتی اور بے لوث رہنما تھے اور ان کی اخراج کی خبر ایک شدید صدمہ تھی۔ ایسے میں ایک دن ڈاو میڈیکل کالج کے رہنما سید شیر شاہ تشریف لائے اور یونٹ کے سرگرم کارکنان سے اس سلسلے میں ایک نشست کی۔ اس زمانے میں سندھ میڈیکل کالج نیا تھا اور ابھی تک صرف تین سالوں کے طلبا پر مشتمل تھا۔ اس لئے ڈاو میڈیکل کالج یونٹ کے ساتھیوں کی رہنمائی ایک معمول تھی۔ اس نشست میں صف اول کے رہنماوں کے اخراج پر کارکنوں کے سوالات اور بے چینی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر شیر شاہ نے انہیں اگلے روز ایک اہم اجلاس میں شرکت کی دعوت دی لیکن اجلاس کے مقام اور تفصیلات کو ظاہر نہ کیا۔ وہ اگلے روز حسب وعدہ تشریف لائے اور سرکردہ کارکنان کو ساتھ لے کر ایک نا r h khan 3معلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔ مجھے آج بھی یاد نہیں کہ ہم کس علاقے کی طرف کئے۔ بس یہ یاد ہے کہ ایک بہت بڑے گھر میں ہم لوگ ایک ایک دو دو کی ٹکڑیوں میں داخل ہوئے جو غالباً تنظیم کے کسی ہمدرد کا تھا۔ وہاں ہم ایک بڑے کمرے میں پہنچا دیے گئے جہاں ہم سے پہلے مختلف یونٹوں کے بہت سارے کارکنان موجود تھے۔ یہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ کسی اہم شخصیت کا بے چینی سے انتظار ہو رہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد ایک قد آور شخصیت کمرے میں داخل ہوئی، سرخ و سفید، آنکھوں پر موٹا چشمہ، سرمئی شلوار قمیض اور پشاوری ٹوپی اور سینڈل میں ملبوس، یہ تھا ہمارا رشید حسن خان صاحب سے پہلا بالمشافہ تعارف جو اس وقت بھی اور آج تک ہم سب کے لیے صرف ڈاکٹر صاحب تھے۔

ان کی آمد نے اس رازداری کی بھی وضاحت کر دی جو اس اجلاس سے پہلے روا رکھی گئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب مقتدر قوتوں کی زور آوری سے محفوظ رہنے کے لیے کئی سالوں سے زیر زمین تھے۔ اس پہلی ملاقات سے قبل بھی وہ میرے لیے ایک دیو مالائی شخصیت تھے اور آج بھی جب وہ ہم میں نہیں رہے۔ مجھ سمیت جو بھی ایک بار ڈاکٹر صاحب سے ملا ان کے سحر کا شکار ہوا۔ اس پہلی ملاقات کے بعد ڈاکٹر صاحب سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں، اس کی وجہ تنظیم کا میری بابت یہ حسن ظن تھا کہ میں تنظیم سے گہرا نظریاتی رشتہ رکھتا تھا۔ ان سے ہر ملاقات ان کے سحر میں مزید اضافہ کا باعث بنتی، جس کی وجہ ان کی وہ بے شمار خصوصیات ہیں جس کا ہر وہ شخص قائل ہے جو ایک بار بھی ان سے ملا ہو۔ ان کے نظریات میں پختگی، مدلل گفتگو، علم کی وسعت اور کردار کی بلندی کا اقرار وہ لوگ بھی بلا جھجک کرتے ہیں جنہوں نے بوجوہ اپنے سیاسی راستے ان سے جدا کر لیے۔ بدلتے ہوئے عالمی منظر، پاکستانی سیاست میں مذہبی و لسانی فسطائیت اور کرپشن کا عروج، خود ان کی تنظیم میں شکست و ریخت اور صحت کے روز افزوں مسائل نے انہیں کئی سالوں سے گوشہ نشین کر دیا تھا۔ لیکن یہ تمام عوامل بھی انہیں ان کے اپنے نظریات پر مکمل ایمان اور یقین سے دور نہ کر سکے اور نہ ہی ان کے کردار کی بلندی کو کوئی گزند پہنچا سکے۔ ان کا طرز زندگی آخری وقت تک ان کے عوام دوست نظریات کا مکمل عکاس رہا۔

rashid
مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ میں نے 1980 کےشروع میں تنظیم میں ہونے والی ایک اور تقسیم کے وقت ان کی حکمت عملی سے اختلاف کیا لیکن انہوں نے اس اختلاف کو خندہ پیشانی سے برابری کی سطح پر سنا گو کہ میں تنظیم میں بہت نچلے مقام پر تھا یہاں تک کہ رکنیت کی امیدواری سے بھی دور۔ لیکن اس موقعہ پر فرئیر گارڈن کے لان پر کئی گھنٹے وہ مجھے اس طرح قائل کرتے رہے کہ جیسے میں ہی تنظیم کی سب سے اہم شخصیت تھا۔

ڈاکٹر صاحب سے آخری ملاقات خود میری خواہش پر قریباً دو سال قبل کراچی میں ان کی حسن اسکوائر کے نزدیک رہائش گاہ پر ہوئی۔ غالباً یہ ان کے کسی عزیز کا گھر تھا جس کے ایک مختصر سے کمرے میں وہ اپنی کتابوں کی صحبت میں رہ رہے تھے اور اپنے مطالعہ اور تحریر میں ہمہ وقت مشغول تھے۔ میری ملاقات کی خواہش کی دو بنیادی وجوہ تھیں۔ پہلی وجہ میری یہ خواہش تھی کہ میں ایک ایسی غلط فہمی کا ازالہ کرسکوں جو NSF Revisited نامی فیس بک کے صفحے پر ہونے والی ایک بحث کے دوران پیدا ہوئی۔ بدقسمتی سے کچھ دوستوں نے یہ مناسب سمجھا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو براہ راست اُس بد مزہ بحث میں شامل کریں، کاش کہ ان دوستوں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔ مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔

دوسری وجہ جو اس ملاقات کا باعث بنی وہ میری یہ خواہش تھی کہ میں این ایس ایف کی تاریخ مرتب کرنے کے سلسلہ میں تنظیم کہ چند پرانے ساتھیوں بہ شمول میرے rashid2ساتھی ساتھی محسن ذوالفقار جو کام کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس سلسلہ میں ڈاکٹر صاحب سے بھی ایک گفتگو کی جائے۔ مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹر صاحب اس مقصد پہ بھی رضامند ہوئے اور این ایس ایف کی تاریخ پر وہ غالباً ڈاکٹر صاحب کی آخری گفتگو ہو گی۔ دوران گفتگو ڈاکٹر صاحب کی یاد داشت قابل رشک تھی لیکن سب سے متاثر کن پہلو ان کے خیالات کا نتھار اور اپنے نظریات پر ان کا مکمل ایقان تھا۔ ایک عوامی انقلاب ان کی نظر میں ان کا خواب نہیں بلکہ ایک حتمی اور یقینی حقیقت تھا۔ مخالف عوامل اور کسی منظم تحریک کی بظاہر غیر موجودگی بھی ان کے یقین کو متزلزل کرنے کے لیے کافی نہیں تھی، انہی کے الفاظ میں ‘اگر مرغا اذان نہ دے تو کیا صبح نہ ہوگی’۔ ایک عوامی انقلاب ان کی نگاہ میں ہونے والی صبح کی طرح ایک ازلی حقیقت تھا۔ صد افسوس کہ انقلاب کی نقیب، ایک بہادر، ایماندار اور اپنے اصولوں پہ عملی پابند وہ شخصیت اب ہم میں نہ رہی۔ الوداع ڈاکٹر صاحب الوداع۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ہمارے ڈاکٹر رشید حسن خان صاحب

  • 08-05-2016 at 9:25 am
    Permalink

    اگر ڈاکٹر رشید حسن خان کی وہ گفتگو ریکارڈ کی گئی تھی تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ اس کا متن کسی مناسب شکل میں پڑھنے والوں سے شیئر کیا جائے تاکہ وہ اس تاریخ کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کے نقطۂ نظر کو خود ان کے الفاظ میں سمجھ سکیں؟

Comments are closed.