بھکاری، حرام خور اور وسیع دستر خوان


روزی اور روٹی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اب روزی کے حساب سے روٹی تر ہو یا چکنی، سوکھی ہو یا باسی اس سے ان کے معدے اور آنتوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ کیوں کہ ان کی زبان زائقے سے اور پیٹ چوہوں سے محروم ہوتا ہے۔ یہ لوگ کئی لوگوں کے مدد گار اور ان کی زندگی کا لازمی جزو ہو تے ہوئے بھی اپنے وجود کی اہمیت باور کرانے میں ناکام رہتے ہیں۔

کسے دماغ کہ محرومیاں شمار کرے

ہزار رنگ سے کرتا ہے ہائے ہائے کوئی

(میر احمد نویدؔ )

مہنگائی اور بنیادی ضروریات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے جہاں محنت کش طبقے میں پچھلے برسوں کی نسبت آبادی میں کمی واقع ہو رہی ہے، وہیں بھکاریوں اور ان کے خاندان کے افراد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ بھکاری کے ہاں جائز یا ناجائز طریقے سے جنم لینے والا بچہ اپنی پیدائش سے ہی اپنے خاندان پر بوجھ نہیں بنتا، وہ اپنا پیٹ ہی نہیں اپنے بڑوں کا کشکول بھی بھرتا ہے۔ معذور بچے کی پیدائش بھکاریوں کے لیے قدرت کی جانب سے عظیم تحفہ سمجھا جا تا ہے۔ ایسا بچہ سب سے زیا دہ کماؤ ہو تا ہے۔ اسی پر بات ختم نہیں ہوتی، یہ مافیا ہماری قوم کے کئی بچوں کو اغوا کر کے، انہیں معذور بنا کے سڑک پر لا کر چھوڑ دیتا ہے۔ ہمارے ہاں خدا ترسی اور درمندی کا احساس اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ ہم کسی معصوم بچے یا معذور فرد کو بھیک دے کر، اس سوچ کے ساتھ قلبی طمانیت محسوس کرتے ہیں، کہ اس بچے یا معذور کا کیا قصور ہے۔ ارے بھائی آپ کی دی ہوئی بھیک اس بھکاری کے صندوق میں جمع ہو رہی ہے جو اس بچے کو استعمال کر رہا ہے۔ یہ بھیک کسی کی بیماری اور معذوری ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔ آپ کی بھیک در اصل بھکاریوں کے بچوں کے اغوا کی تحریک کو مزید مضبوط کرے گی۔

ہمارے رسول نے سوال کرنے (ہاتھ پھیلانے) کی سخت ممانعت فرمائی ہے۔ رسول کے پاس جب ایک شخص نے آکر سوال کیا تب آپ نے اصحاب سے یہ نہیں کہا کہ اس کی پیسے سے مدد کر دو بلکہ اس سے اس کے گھر کی کچھ چیزیں منگوا کر صحابہ کے ہاتھ بیچ دیں اور ملنے والی رقم سے اسے کلہاڑی خرید کر لکڑیاں کاٹ کر انہیں بیچنے کی ہدائت کی۔ یوں تھوڑے دن کی کسمپرسی جھیلنے کے بعد اس شخص کے مالی حالات بہتر ہو نا شروع ہو گئے۔ لیکن ہمارے ہاں رسول کے اس عمل کی کھلم کھلا اس انداز سے خلاف ورزی کی جاتی ہے، جس سے حرام خوری کی تحریک ملتی ہے۔

بھیک مانگنا ایک قبیح فعل ہے۔ خواتین کتنا بھی پڑھ لکھ جائیں۔ کیسی بھی ظالم یا پتھر دل ہوں لیکن بھکاریوں کے لیے ان کے دل میں احساسِ ترحم ہر وقت ٹھاٹیں مارتا رہتا ہے۔ اپنے گھر کی کسی پریشانی کو ٹالنے یا ان کی بد دعا سے بچنے یا دعا لینے کی غرض سے انہیں بھیک میں کچھ دینا وہ اپنا فرض سمجھتی ہیں، اور یوں اپنی وہمی فطرت کی بنا پر بھکاریوں کی تعداد میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

بھیک مانگنے والے ہمدردی کے مستحق ہر گز نہیں۔ ہاسپٹل کے باہر، بس اسٹاپ، ریلوے اسٹیشن اپارٹمنٹ کے گیٹ، چوراہوں پر تعینات، پیشہ ور بھکاری جنہیں ہم اور آپ روزانہ دیکھتے ہیں، بھلا وہ ہماری بھیک یا ہمدردی کے مستحق کیسے ہو سکتے ہیں۔ ہاتھ پھیلانے کی عادت میں مبتلا افراد میں عزت نفس، غیرت، حمیت اور حساسیت جیسی صفات ناپید ہو نے کی وجہ سے چوری اور جھوٹ تو عام بات ہے ہی لیکن لالچ اور طمع کے ہاتھوں یہ اغوا اور قتل جیسے جرائم سے بھی نہیں چوکتے۔ بھکاریوں کی مدد کرنے میں پتہ نہیں انسان اپنے کس احساس کو طمانیت دیتا ہے، اس میں ا نا کی تسکین ہے یا خود نمائی کا جذبہ، یہ کون سا حساسِ ترحم ہے جو ہر طرح کی برائی کو معاشرے تیزی سے پھیلا رہا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے ان سے لاعلم نہیں، مگر بھکاریوں کے گینگ کی جانب سے ملنے والا بھتہ، پولس کو چشم پوشی پر مجبور کرتاہے۔ لیکن ہم خود کو بھی بھیک جیسے جرم کی افزائش سے بری الذمہ نہیں کر سکتے۔ ان بھکاریوں کے ہاتھوں ہونے والے جرائم میں ہماری مدد بھی شامل ہے۔ حکومت، انتظامیہ، پولس کوئی ان کی بیخ کنی کرے یا نہیں لیکن سب سے زیادہ ذمہ داری ہماری ہے کہ جیب یا بیگ میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے سوچیں کہ ہماری بھیک ہمارے معاشرے کو زوال کے اس دوراہے پر کھڑا نہ کر دے جہاں محنت کش کے بجائے ہمیں جگہ جگہ بھکاری دکھائی دیں۔ اگر آخرت کو سنوارنے کی دھن ہے تو اپنے رشتے داروں اور دوستوں کا جائزہ لیں، ہو سکتا ہے۔ تنگ دستی کے باوجود ان کی خودداری انہیں مالی مدد کی طلب سے روک رہی ہو۔

بھکاریوں کی تعداد جو اس حساب سے کیڑے مکوڑوں کی طرح بڑھتی رہی تو دن رات محنت سے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی خواہش میں اپنے مالک کے ہاتھوں ذلیل ہو نے والے کہیں بھکاریوں کی تن آسانی کی تقلید نہ کرنے لگ جائیں۔ بھیک دینے اور لینے والوں کے عمل کو جرم قرار دینے سے ہی بھکاریوں کو محنت سے پیسہ کمانے کی جانب راغب کیا جا سکتا ہے۔

فلاحی تنظیموں اور خدا ترسوں کی جانب سے دسترخوانوں کی وسعت کے ساتھ بھکاریوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان پیشہ ور بھکار یوں کی آبادی کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی سماجی برائی اور جرائم میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ دسترخوان کا اجرا ہو یا گھر گھر کھانا پہچانے کا انتظام دونوں صورتوں میں انسانی طاقت، پیسہ اور صلاحیت کا استعمال غلط سمت میں ہو رہا ہے۔ فلاحی کاموں کا تعلق محض بھوکے کو کھانا کھلانے سے نہیں بھوک کو ختم کرنے کے مستقل انتظام سے ہے۔ دن میں تین وقت پیٹ کو سکون چاہیے۔ لیکن دماغ اور جسم سے کارآمد محنتانہ ہی معاشرتی اور انفرادی سطح پر ترقی کا ضامن ہو سکتا ہے۔

کچھ کام چور جو دنیا میں آنے کا مقصد صرف دو وقت روٹی کا حصول سمجھتے ہیں۔ انہیں بھی صبرو و شکر سے جینے کا ایک آسان راستہ دستر خوان کی صورت نے دکھا دیا ہے۔ یہ اپنی حالِ بے حالت سے بے پروا، مست وبے نیاز اپنی زندگی جیتے ہیں۔ یہ ہاتھ پھیلانے اور مال جمع کرنے کو گناہِ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ مگر ان کی زندگی سے کسی کو کوئی نقصان نہیں تو فائدہ بھی نہیں پہنچ رہا۔

بغیر کسی مجبوری اورمحنت سے حاصل کیا ہوا رزق حرام ہے۔ کسی مشقت کے بغیر روٹیاں توڑنے والے معاشرے کو ایسی زبوں حالی سے دوچار کر دیں گے جس کا خمیازہ آئندہ کئی نسلوں تک بھگتنا پڑے گا۔ اور درد مند دل لوگوں کی آخرت میں جہنم کی آگ سے بچنے کی فکر نے ان بھکاریوں کو پیٹ کی آگ بجھا نے کی فکر سے بے نیاز کر دیا ہے۔ بھکاریوں اورایسے لوگوں کی معاونت کے لیے ہمارے ہاں کئی خدا ترسوں سے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں۔ یہ بڑی محنت سے اپنا پیسہ، وقت اور صلاحیت، لوگوں کی خود داری اور ان کی کمائی کی جانب رغبت ختم کر نے میں صرف کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی قسم کی این جی اوز اور فلاحی ادارے کام رہے ہیں صدقہ و خیرات دینے والوں میں ہمارا ملک سرِ فہرست ہے۔ یہ فخر کا نہیں فکر کا مقام ہے۔ دستر خوانوں پر بھکاریوں کی آمد پر پابندی لگائی جائے۔ صرف ان لوگوں کو پاس دیا جا ئے، جو مزدوری کرتے ہوں یا بے روز گار ہوں۔ ہر شخص اپنا شناختی کارڈ دکھا کر یا کسی مزدور کی سفارش پر کھانا کھا سکتا ہے۔ لیکن ان دستر خوانوں پر بھکاری عورتوں، بچوں اور مردوں کی شرکت پر پابندی لگائی جا ئے۔ معمولی تفتیش سے ہی بھکا ری کی اصلیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

اگر مذکورہ تجاویز پر عمل ممکن نہیں تو ملک بھر سے دستر خوانوں کو لپیٹ دیں اور اس مد میں خرچ کی جانے رقم سے روز گار کا بندو بست کیا جا ئے۔ حکومتی سطح پر ایسی ٹیم تشکیل دی جائے جو ایسے تمام بھکاریوں کی بستیوں میں جا کر ان کی فہرست مرتب کرنے کے بعد انہیں روزی کمانے کی جانب مائل کیا جا ئے۔ کسی بھی بھکاری کی غیر حاضری پر اسے سزا دی جا ئے۔ بھکاریوں کو بھیک مانگنے پر کچھ مہینے قیدِ با مشقت کی سزا یقینی بنائی جا ئے۔ ان اقدا مات سے ایک طرف بھکاریوں کی تعداد میں کمی ہو گی اور دوسری طرف محنت کش طبقے میں اضافہ ہو گا۔ ۔ کم آمدنی والے پردیسی مزدور طبقے کے لیے بے شک تین وقت کا کھانا ایک بڑی مدد ہے لیکن اس کے لیے مزدوری کے اوقات میں ایک وقت کا کھانا لازمی، اور ان کی اجرت میں اضافے کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔

کتا ایک وفادار بے ضرر جانور ہے۔ محض پیار سے ہاتھ پھیرنے یا کھانا کھلا دینے پر غلام بن جا تا ہے۔ کسی کیفیت کے زیرِ اثر کبھی کسی انسان کو کاٹ لے تو اس کا علاج چودہ ٹیکے ہیں۔ مملکتِ خدا داد میں نوے فی صد لوگ اپنے گھر میں کتوں کے بجائے فرشتوں کی موجودگی زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔ اس لیے انہیں گھر میں نہیں رکھتے۔ ہمارے ملک کے بڑے شہروں میں کتوں سے زیادہ بھکاریوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جب کتوں کی شہر میں تعداد بڑھ جاتی ہے تو تو انہیں بلدیہ کی جانب سے پہلی اور آخری خوراک دے کر یا گولی مار کر ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جا تا ہے۔ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کم کرنے کے لیے شائد اور کوئی راستہ بھی نہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں