آ گئے لبیک والے، چھا گئے لبیک والے


مملکتِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کہ قیام جس کا دینِ اسلام کی سربلندی، دشمنانِ اسلام کی سرکوبی اور کفّار کے سینے پر مونگ دلنےکے لیے عمل میں آیا تھا، بفضلِ خدا اور بزرگانِ دین کی نظرِ کرم کے طفیل آج تک اسلام کا گڑھ ثابت ہوتی چلی آئی ہے۔ طاغوتی قوّتوں اور ان کے مددگاروں نے پاکستان کو اپنے قیام کے حقیقی مقصد سے دور کرنے اور راہِ راست سے بھٹکانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مگر ان کی ہر کوشش سعئ لاحاصل ثابت ہوئی ہے۔ جب بھی جدیدیت، امن پسندی اور انسانیت نوازی کے نام پرہماری قوم میں بے راہ روی اور اسلامی اقدار سے دوری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، قدرت کی جانب سے ایسے مردِ مومن اور مردِ حق اس قوم میں پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے جذبہء ایمانی اور یقینِ کامل سے ایسی تمام طاغوتی چالوں کا مقابلہ کیا ہے اور اسلام کی حقانیت کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہونے دیا۔

یاد رہے کہ یہ وہی مملکتِ خداداد ہے جس کا قیام مشیتِ الٰہی کی بدولت ستائیسویں رمضان المبارک کو عمل میں آیا۔ یہ وہی اسلام کا قلعہ ہے کہ جس کی حفاظت کے لیے لشکرِ کفّار کے مقابل فرشتے مدد کو اترتے ہیں اور سبز چوغوں والے بزرگ دورانِ معرکہء حق و باطل غنیم کے بموں کو ہوا ہی میں دبوچ کر دشمن افواج کی جانب اچھال دیتے ہیں۔ یہ وہی قوم ہے کہ جس کی قیادت عیش وعشرت میں مبتلا حکمرانوں کے ہاتھوں میں رہنا خدا کو منظور نہ تھا، اسی لیے خدائے بزرگ و برتر نے اس ملک کی قیادت حضرت جنرل ضیاء الحق جیسے شعائرِ اسلامی کے پابند حکمران کے ہاتھوں میں سونپ دی۔ اس بطلِ جلیل کے گیارہ سالہ سنہری دورِ حکومت میں اسلام کا اس قدر نفاذ کیا گیا کہ مزید نفاذ کی گنجائش ہی نہ بچی۔ لادین قوت نے جب ہمسایہ اسلامی ملک پر قبضہ کرنا چاہا تو دشمن کے دانت کھٹے کرنے کے لیے جنرل حمید گل جیسا ضرب و حرب کا ماہر میدان میں اترا۔ جہاد کے ترانے بلند ہوئے۔ ملک کا بچہ بچہ جہاد کے گم گشتہ تصور سے آشنا ہوا۔ اقبال کے شاہینوں کی ایک ایسی کھیپ تیار ہوئی کہ جھپٹنا، پلٹنا اور پلٹ کر جھپٹنا ان کے لیے لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ تھا۔ دشمن پاکستان کی شہ رگ کو آزاد کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو جناب حافظ محمد سعید جیسے فرزند توحید نے دشمن کو لرزا کر رکھ دیا۔ اور اب ایسے میں کہ جب مسلمانانِ پاکستان کے ایمان خطرے میں تھے۔ باطل قوّتیں جھوٹی انسان دوستی کا لبادہ اوڑھے مسلمانوں کو لبرل ازم اور آزاد خیالی کی جانب راغب کر رہی تھیں۔ مسلمانوں کے عقائد پر حملے ہو رہے تھے اور ختمِ نبوّت کے قانون میں ترمیم کرنے کے لیے پسِ پردہ سازشیں جاری تھیں۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسلام جیسے مجاہدین کے مذہب کو امن کا مذہب قرار دیا جا رہا تھا۔ ایسے میں ان فتنہ انگیزیوں کے سدِّ باب اور دشمنانِ اسلام کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے امیر المجاہدین حضرت مولانا خادم حسین قادری رضوی جیسی ہستی اس خطہء اسلام کے سوادِ اعظم میں ظہور پذیر ہوئی کہ جن کی گرمئ گفتار نے باطل کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔

انہوں نے مسلمانوں کی سوئی ہوئی حمیّتِ دینی کو اپنے جوشِ خطابت سے خوابِ غفلت سے بیدار کیا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے دین کی وہ اصل تصویر پیش کی جو کہ نت نئے نظریات و خیالات سے ان کے نا پختہ ذہنوں کو پراگندہ کر کے ان کی یادد اشت سے محو کر دی گئی تھی۔ جب اہلِ ایمان کا یہ قافلہ امیرالمجاہدین کی قیادت میں آگے بڑھا تو اس نے ایک تحریک کی صورت اختیار کر لی۔ آگئے لبیک والے۔

آج اس تحریک کا دائرہء کارعلامہ صاحب کی اولولعزم قیادت میں ملک کے طول وعرض میں پھیل چکا ہے۔ ملک بھر میں پھیلے انتخابی حلقوں میں اس تحریک کے امیدوار، عقیدہء ختمِ نبوّت کے پہریدار اور بزرگانِ دین کے جانثار جنرل الیکشن میں حصّہ لے رہے ہیں۔ کامیابی جن کا مقدّر ہے کہ اہلِ اسلام کے اس ملک میں چاہے لوگوں کے ایمان کمزور ہی سہی مگر کون بدبخت ہو گا جو دین کے نام پر ووٹ نہ دے گا۔ باطل کی صفوں میں ہیجان برپا ہے کہ عنقریب اہلِ ایمان کی حکومت اس خطہء زمیں پر قائم ہوا چاہتی ہے۔ کس خوبصورتی سے کافروں کے نظام یعنی جمہوریت کو اسلام کے غلبے کے لیے استعمال کیا ہے۔ کیا ذہنِ رسا ہے حضرت کا۔ جب آپ کافروں کے بنائے ہتھیار ان کے خلاف جہاد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں تو کافرانہ نظام کے استعمال میں بھلا کیا مضائقہ ہے۔ بس نیّت نیک ہونا شرط ہے، اور حضرت کی نیّت پر شبہ کرنے کی ہمّت بھلا کون کر سکتا ہے۔
ہتھیار پر یاد آیا کہ یہ ایٹم بم کیا ہم نے صرف دل کی تسّلی کے لیے بنایا ہے؟ یقین مانیے ایک بار آ لینے دیں لبیک والوں کو۔ ہم یہ ایٹم بم کفار کے ممالک پر اٹھا اٹھا کر ماریں گے۔ دیکھتے ہیں کون نہیں کرتا مسلمانوں کی عزّت، کون مانگتا ہے ہم سے اپنے سُودی قرضے واپس۔ اور ہالینڈ، تُو تو اپنی خیر منا لے۔ ایک طیارہ امریکہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو لینے کے لیے روانہ ہو گا۔ اور کیا ہمّت ہے امریکہ کی کہ چوں بھی کر جائے۔ ذرا جو چوں چراں کی، امیرالمجاہدین کے ایک اشارے کی دیر ہے، اتنے ایٹم بم برسائیں گے امریکہ پر کہ دھواں بن کر اڑ جائے گا۔

زکوٰة و عشر کے ساتھ ہی ساتھ خراج اور جزیے کا نظام بھی نافذ کیا جائے گا جس سے نہ صرف یہ کہ ملکِ پاکستان کی معیشت کو استحکام میّسر آئے گا بلکہ ہر جانب اسلام کا بول بالا ہو جائے گا۔ مردوں کو نہ صرف چار شادیاں کرنے کا پابند بنایا جائے گا بلکہ کفّار پر لشکرکشی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی لونڈیوں کی ایک کثیر تعداد بھی میّسر آئے گی۔ فحاشی اور بے حیائی کا ہر راستہ روک دیا جائے گا۔ خواتین گلیوں بازاروں میں فیشن کے نام پر بے حیائی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے شرعی پردے میں نظر آئیں گی۔ اندرونی اور بیرونی اسلام دشمن طاقتوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔ سب کے لیے عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کو بھی لازم کیا جائے گا۔ آزادی اظہارِ رائے جیسے باطل نظریات کا پرچار کرنے والوں کو آزادی کے حقیقی مفہوم سے روشناس کرایا جائے گا۔ آلِ سعود کی نجدی اور ایران کی رافضی حکومت کو اصلاحِ عقائد کی دعوت بزورِ شمشیر دی جائے گی۔ پاکستان میں رہنے والے کفّار اور باطل عقائد رکھنے والے نام نہاد مسلمان یا تو تائب ہو کر عقیدہء حق کو اپنا لیں گے یا پھر اس ملک میں ذلیل ہو کر رہیں گے اور حکومتِ وقت کو جزیہ ادا کریں گے۔ تمام سینما گھروں کو مسمار کر کے ان کی جگہ ذکر و فکر کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ادب و ثقافت کے نام پر پھیلائی جانے والی فحاشی و بے حیائی کا ایسا قلع قمع کیا جائے گا کہ یہ شاعر لوگ سب خواتین کو بہنیں سمجھنے لگیں گے اور اپنی صلاحیتیں رجز گوئی کے لیے وقف کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ ان افسانہ و ناول نگار ٹائپ کے لوگوں کو قائل کیا جائے گا کہ وہ اپنے قلم کو اولیاء کرام کے قصّوں کو بیان کرنے کے لیے وقف کر دیں۔ موسیقی کی تانوں کی جگہ دف کی آواز پر مجاہدین کے قصیدے سنائی دیا کریں گے۔ بیماریوں کے علاج کے لیے جگہ جگہ وظائف و دم کے مراکز کیے جائیں گے۔ حضرت رضوی صاحب کے فیض یافتہ اہلِ شفاء بیماروں کا روحانی طریقے سے علاج کیا کریں گے۔ غرض یہ کہ اسلامی فلاحی ریاست کی ایک ایسی عملی تصویر پیش کی جائے گی کہ دیگر مسلم ممالک کے لیے مثال ہو۔ آخر میں آپ سب برادرانِ اسلام سے گزارش ہے کہ ووٹ تحریکِ لبیک ہی کو دیں اور بدلے میں جنت کا حصول یقینی بنائیں۔ کون ایسا بدبخت ہو گا جو اپنا ووٹ تحریکِ لبیک کو نہیں دے گا۔ ابھی تو ہم صرف گذارش کر رہے ہیں۔ ڈریں اس وقت سے جب! اس وقت تمام علماء و مشائخ تحریکِ لبیک کی حمایت کا اعلان کرتے جا رہے ہیں۔ اور ایسا نہ کرنے پر بڑے بڑے پیروں کی پیری منسوخ ہونے جا رہی ہے۔ اپنے ایمان کی خیر منائیں اور کرین کے نشان پر مہر لگائیں۔ اور ایک بار میری آواز میں آواز ملا کر بولیں۔۔ آ گئے لبیک والے، چھا گئے لبیک والے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں