ہم پھر کیا کر رہے ہیں؟


کافی دنوں سوچ کے دریا میں گھوڑے دوڑائے، ٹی وی و سوشل میڈیا پرآنے والی خبروں اور ہر گزرتے دن شیئر ہونے والی ویڈیوز پہ بھی عقابی نگاہ ڈالی تو نیاز مند کی اس رائے کوتائیدی گواہ باآسانی میسر آنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی کہ ہم بحیثیت قوم بڑی سرعت کے ساتھ ایک شدت پسند معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں اور اگر حقیقت کی عینک سے دیکھا جائے تو یہ معاشرہ تشکیل پا ہی چکا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے دائرہ کار میں مفروضہ کام سر انجام دینے کی بجائے دوسروں کے ذاتی اور ریاستی امور میں ’تو کون؟ میں خواہ مخواہ‘ کا مصداق بننے کی سر توڑ کوشش کرتے ہوئے انہیں اپنی آراء سے نوازتا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر تو وہ تحکمانہ رائے درجہ قبولیت پہنچ جائے تو خیر ورنہ جناب فتاوٰی کے ایک دلدلی کھیت سے گزرنے کے لئے اپنے پائنچے اڑس لیجیے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو روزانہ اس سوچ کے ساتھ صبح کرتے ہیں کہ میرا آج کا دن کل سے بہتر ہونا چاہیے، کہیں مجھ سے کوئی دل شکن فعل یا قول سر زد نہ ہو جائے اور میں اپنے حلقہ اثر میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دوں جس کے دور رس منفی نتائج سامنے آئیں؟ اور اگر ہم ایسا نہیں کر رہے تو سوال یہ ہے کہ ہم پھر کیا کر رہے ہیں؟

صدشکر کہ ہم ایک مسلمان ملک کے شہر ی ہیں مگر کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ اکہتر سال کا ایک طویل عرصہ گزارنے کے باوجود ابھی تک ہم بین الاقوامی دنیا میں من حیث القوم اپنی کوئی قابل ستائش شناخت نہیں بنوا سکے سوائے اس کےآکسفورڈ ڈکشنری میں لفظ PAKI کو بطور گالی کے مستعمل کروا دیا اور سبز پاسپورٹ ہر ائر پورٹ پر ایک مشکوک دستاویز کے کے طور پر جانچا جانے لگا۔ آخر کوئی پوشیدہ یا خلائی کارن تو ہے کہ بیرونی ممالک پاکستان کو گرے لسٹ پہ ڈالے بیٹھے ہیں۔ کوئی نکتہ چیں کہہ سکتا ہے کہ یہ پاکستان پر اپنی من مانی کروانے کے لئے غیر مسلم دجالی طاقتوں کا سیاسی و اقتصادی اور جغرافیائی دباؤ ہے لیکن جواباً عرض ہے کہ یہ طفل تسلیاں ’ دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے ’کی مصداق ہیں۔ خود سمیت سب سے سوال ہے یہ ہے کہ کیوں ہر وہ شخص مذہب، سیاست اور دجالی طاقتوں کا مہرہ ہونے کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے جو کسی بھی طرح سے وطن عزیز کا کوئی روشن پہلو دکھانے کی ادنیٰ سی کاوش بھی کرتا ہے؟ اگر ہم

بقول شاعر
شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

نہیں کر رہے تو پھر کیا کر رہے ہیں؟

اپنے گردو پیش پر نگاہ ڈالیں تو ہر شہر، محلہ اور گلی میں چوری، ڈکیتی اور قتل کی وارداتیں ایک عام معمول بنتا جا رہا ہے۔ فکری، ذہنی اور شعوری پسماندگی کا شکار عناصر کسی بھی فرد کو یتیم، بیوہ اور لاوارث بنانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، ضرورت ہے تو بس ایک چرب لسان، مفاد پرست اور مذہبی علم کو ایک آلہ کے طور پر استعمال کرنے والے کی۔ یہ فکری اور ذہنی تنگی کا مداوہ تبھی ممکن ہے کہ جب ہم خود میں سوچنےا ور غورو تدبر کرنے کی صلاحیت سے کام لینے کے ساتھ ساتھ مذہبی، شعوری اور فکری لچک پیدا کرنے والے ہوں۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ مذہبی منافرت، فرقہ واریت، تعصبیت، عدم برداشت اور امن امن کے محض لسانی پرچار نے ہمیں کہاں لا کھڑا کیا ہے؟

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں ہمیں قتل کر رہے ہیں (عبیداللہ علیم)

کیا ہم نے کبھی یہ سوچنے کی تکلیف برداشت کی سبز ہلالی پرچم میں مسلمان اکثریت کی نمائندگی کرنے والاسبز رنگ اقلیتوں کے نمائندہ سفید رنگ کے سہارے ہی لہراتا ہے؟ اور اگر اسی سفید پٹی کی حفاظت اور مضبوطی نہیں کی گئی تو سبز رنگ کا قیام بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ کیا کسی نے اقلیتی برادری بشمول ہزارہ کمیونٹی، ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں، یہودیوں اور احمدیوں کے ساتھ سوائے‘ اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں‘ کا رسمی راگ الاپنے کے علاوہ کوئی مؤثر اقدام کیا جہاں وہ اپنی مذہبی روایات اور سب سے بڑھ کر اپنی زندگی ہلالی پرچم کے سفید رنگ تلے گزار سکیں۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ وطن ِعزیز کا یہی سفیدپرچم ان اقلیتوں کے لئے کفن کا کام دیتا ہے۔ اگر مسلمان ہو کر ہم ان اقلیتوں کے حقوق کا درحقیقت تحفظ نہیں کر رہے تو کیا کر رہے ہیں؟

یورپ جسے ہم دجالی طاقتوں کا گڑھ اور حطبِ جہنم گرداننے میں کوئی دیر نہیں کرتے آج تمام سائنسی، تکنیکی، طبی، فنی حتیٰ کہ اخلاقی میدان میں بھی ہم نام نہاد مسلمانوں سے کہیں بڑھا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ہماری ان تمام اقدار پر قابض ہے جس کے حقیقی وارث کبھی ہم تھے یا بزعمِ خویش تمام اخلاقیات ہمارا ہی اثاثہ ہیں۔ کسی نے ان طاقتوں کو وطنِ عزیز سے یہ تمام اخلاقی اقدارجیسے مذہبی رواداری و آزادی، بنیادی انسانی حقوق جن کی ادائیگی کے بارے میں روزِ قیامت سب سے پہلے سوال کیا جائے گا، جھوٹ سے نفرت، استبدادِ مال وغیرہ بھرے بوروں میں لے جاتے تو نہیں دیکھا۔ اگر ہوا ہے تو بس اتنا کہ ہم ’پدرم سلطان بود‘ کے فلک بوس نعرے لگاتے رہے اور یورپ دنیاوی اور اخلاقی لحاظ سے خود سلطان بن بیٹھا۔ مانا کہ ہم تمام یورپ کو سرِ دست مسلمان نہیں بنا سکتے مگر ہم اپنے ملک اور خود کو تو حقیقی مسلمان بنا سکتے ہیں اور اگر ہم یہ نہیں کر رہے تو پھر کیا کر رہے ہیں؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
ابو لبیق کی دیگر تحریریں
ابو لبیق کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں