رتی گلی جھیل، خواب سے حقیقت تک


رتی گلی؛ ایک مدت سے وقت کے قید خانے میں مقید ایک خواہش تھی۔ اس خواہش میں معصوم بچے کی سی لگن تھی، وارفتگی تھی اور تحیر تھا۔ لگ بھگ ایک سال ہوا، رتی گلی کی جڑواں جھیلوں کے تصور نے نہاں خانہ ذہن میں ڈیرا جمایا ہوا تھا۔ یہ خواہش ایک ٹھہرے ہوئے تالاب کے مانند تھی، جس میں کبھی کبھار کوئی کنکر گر پڑتا، کوئی تصویر دیکھتا، دل مچل مچل جاتا۔ مستنصر حسین تارڑ کا سفر نامہ “رتی گلی” پڑھا۔ دل میں اک لہر سی اٹھی اور خانہ دل میں شور برپا ہو گیا۔ اک آواز آئی۔ بے خطر دوڑ پڑو رتی گلی کی جانب۔ اور اس آواز پر میں نے لبیک کہہ دیا۔

کھلی جیپ کچے راستے پر بلندی کی طرف بڑھتی جا رہی تھی۔ یہ ایک تنگ سا راستہ تھا جو نوک دار اور بڑے بڑے پتھروں پر مشتمل تھا۔ دھول کی حکمرانی تھی، اس راستے پر۔ بائیں جانب پہاڑوں اور گلیشئیر سے نکلا دودھ کی طرح یخ پانی زور و شور سے بہہ رہا تھا۔ سامنے بلند و بالا پہاڑ تھے۔ سبزہ تھا۔ قدِ آدم درخت تھے۔ یہ خوابوں کا راستہ تھا، جو حقیقت پر ختم ہونا تھا۔ میرے دوستو! یہ رتی گلی جیپ ٹریک ہے۔

مظفر آباد سے ایک سو چھہ کلو میٹر دور “دواریاں” نامی قصبہ آتا ہے، جہاں سے بائیں جانب اٹھارہ کلو میٹر جیپ ٹریک رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ تک جاتا ہے۔ یہاں ایک بہشت آباد ہے۔ فردوس بر روئے زمیں است۔ اگست 2016ء کی چھہ تاریخ تھی، ہم پانچ دوست گزشتہ روز اسلام آباد سے موٹر سائیکلوں پر وادی نیلم اور خاص طور پر رتی گلی جھیل دیکھنے نکلے تھے۔ ہمیشہ کی طرح ٹیکسلا سے عمر فاروق میرے ساتھ تھا۔ ساجد شاہ صوابی اور عمران حارث دینہ سے ایک دن پہلے ہی اسلام آباد آ چکے تھے۔ میرے ایک کلاس فیلو وقار بھی اس سفر میں ہمارے ساتھ تھے۔ دن بارہ بجے ہم بہارہ کہو سے چلے اور نمازِ جمعہ جھیکا گلی مری میں ادا کی۔ تین بجے کوہالہ پہنچے۔

دریا کے کنارے کچھ دیر رکنے کا ارادہ کیا۔ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ بارش شروع ہو گئی اوراس قدر شدید کہ آگے جانا محال نظر آنے لگا، لیکن ایسے علاقوں کے موسم کا کچھ اعتبار نہیں ہوتا۔ آن کی آن میں دھوپ ختم اور بادل چھا جاتے ہیں۔ پھر زور کا مینہ برستا ہے، لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہی دھوپ نکل آتی ہے۔ گھنٹے بعد بارش تھمی اور ہم آگے بڑھے۔ پندرہ کلو میٹر بعد “دولائی” میں ایک آبشار آتی ہے۔ دریا کے اُس پار اِس آبشار تک جانے کے لیے دیسی ساخت کی ایک کیبل کار لگی ہوئی ہے، جس میں بیٹھ کر ہم دریا کے دوسرے کنارے پہنچے۔ ایک گھنٹا وہاں گزارا اور عین مغرب کے وقت مظفر آباد پہنچے جہاں ہوٹل “ریور اِن” میں رات قیام کے لیے ٹھہرے۔

دوسرا دن:
دریا کے کنارے ہوٹل میں رات گزارنے کے بعد، اگلی صبح سات بجے ہم سب وادی ئنیلم والی سڑک پر ہو لیے۔ میں اِس سے پہلے بھی دو بار وادی نیلم جا چکا تھا۔ اس بار مگر رتی گلی جھیل نے مجھے سفر پر مجبور کیا تھا۔ وادی کا غان ، ناران اور بابو سر ٹاپ بھی بہت خوب صورت مقام ہیں، لیکن نیلم کے ساتھ اُن کا مقابلہ نہیں۔ یہاں دریا مسلسل ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ صبح صبح کا وقت تھا اور سڑک تقریباً خالی تھی۔ ہمارا ارادہ تھا کہ ہم جلد از جلد دواریاں پہنچ کر رتی گلی کو روانہ ہو جائیں تا کہ رات کو دواریاں آ کر رُکیں اور اگلے دن واپس آتے ہوئے کیرن اور کٹن میں کچھ دیر ٹھہریں۔ بارہ بجے ہم دواریاں پہنچے۔ بہت مشکل سے جیپ ملی۔ اسلام آباد سے تین دوست آئے ہوئے تھے جو جھیل پہ جانا چاہتے تھے۔ اُن کے ساتھ مل کر ایک جیپ کرایہ پر لی اور اب ہم رتی گلی کے جیپ ٹریک پہ تھے۔

دواریاں سے ہمارے ساتھ ہمارے گائیڈ سلطان بھی شامل ہو گئے تھے۔ سلطان اس علاقے کا انسائیکلو پیڈیا ہے۔ خاص طور پر جھیلوں کے بارے میں ان کی معلومات حیرت انگیز تھیں۔ اٹھارہ کلو میٹر کے جیپ ٹریک کے ارد گرد کے مناظر میں کیسے بیان کروں۔ تا حد نظر سبزہ ہی سبزہ تھا۔ کئی جگہوں پہ گلیشئیر بھی تھے جن میں سے ٹھنڈا ٹھار پانی بھی نکل رہا تھا لیکن جیپ ٹریک بہت دشوار تھا۔ ہم سب جیپ میں کھڑے تھے۔ ٹریک پر اتنے پتھر تھے کہ ایک جھٹکے سے جسم مشرق کی سمت چلا جاتا اور دوسرے سے مغرب کی جانب۔ بیک وقت جیپ کا سفر بھی تھا اور مفت کے جھولے بھی۔

وقار پورا راستہ مکمل یک سوئی کے ساتھ موبائل سے وِڈیو بنانے میں مصروف رہا۔ ہر جھٹکے کے ساتھ وہ کسی کے ساتھ زور سے ٹکراتا۔ ہم سب نے مل کر اس سے کہا کہ خدا کے لیے اس موبائل کو بند کر دو اور وِڈیو کی جان چھوڑو۔ ایک بار اس نے موبائل فون بند بھی کر دیا جس پر ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا لیکن تھوڑی دیر بعد اس کا ہاتھ پھر جیپ کی طرف رینگتا اور موبائل بر آمد ہوتا۔ اس پر ساجد شاہ کی حسِ مزاح بیدار ہوتی اور وہ کہتا۔ ”قار آن فائر“۔

دو گھنٹے ہڈیوں کی آزمایش کے بعد بیس کیمپ آیا۔ میں اس منظر کا نقشہ کیسے کھینچوں۔ وسیع و عریض سر سبز و شاداب میدان، سرخ پہاڑ، بادل اور ان سب کے درمیان گلیشیئر سے نکلتا ہوا پانی۔ آنکھیں اس منظر سے خیرہ ہو رہی تھیں۔ تھکاوٹ کا احساس جاتا رہا۔ ذہن کو فرحت ملی۔ روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی۔ منظر لطف آور تھا اور نظر اس پر جمی ہوئی تھی لیکن یہ منزل نہیں تھی۔ سلطان نے بتایا کہ یہاں سے ایک گھنٹا پیدل ٹریک ہے جو جھیل تک جاتا ہے۔ اس دوران ایک چھوٹی سے جھیل بھی آتی ہے اور پھر ایک پہاڑی کے اوپر پہنچ کر رتی گلی جھیل کا نظارہ ہوتا ہے۔

یہ شام چار بجے کا وقت تھا۔ ہم پیدل جھیل کی طرف جانا شروع ہوئے۔ ابتدا میں اتنی چڑھائی تھی کہ سانس پھول گیا لیکن یہ تکلیف گوارا تھی اس لیے کہ ٹریک پر پھول ہی پھول نظر آ رہے تھے جو ہم پر خمار طاری کر رہے تھے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہم اس آس پر رکتے کہ شاید جھیل تک آ گئے ہوں لیکن ہر دفعہ یہی جواب ملتا کہ “چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی”۔

ساجد اور عمر سلطان صاحب کے ہم راہ کچھ آگے جا رہے تھے۔عمران ٹانگ کی سرجری کی وجہ سے اس وقت چلنے میں کچھ تکلیف محسوس کر رہا تھا اس لیے وہاں سے ایک گھوڑا کرایہ پر لیا گیا۔ گھوڑا تو اُس نے اپنے لیے لیا تھا لیکن سواری سے اور وقار بھی لطف اندوز ہوئے۔ سب سے آخر میں میری سواری کا نمبر آیا ۔ جھیل کے قریب گھوڑے سے اتر کرجب میں سبزہ پر کچھ نیچے اترا اور جھیل کا پہلا منظر دیکھا تو وہ اِس قدر ہوش ربا تھا، کہ زبان سے بے اختیار واہ وا اور سبحان اللہ کے الفاظ نکلے۔ یقین جانیے کہ میں نے ایسا خوب صورت منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں اتنا پر جوش تھا کہ الٹے قدموں واپس ہوا اور اونچی آواز سے عمران کو بلایا اور جب وہ قریب آیا تو اس کو کہا کہ اپنی آنکھیں بند کرواور میرے ساتھ چلو۔ جب میں کہوں گا تو تب آنکھیں کھولنا۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

حافظ ضیا الحق کی دیگر تحریریں
حافظ ضیا الحق کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں