مذہبی سیاست کا المیہ


ansar rezaاللہ تعالیٰ نے قرآن میں ’’اولی الالباب‘‘ یعنی عقل رکھنے والے ایسے لوگوں کو قرار دیا ہے جو نہ صرف یہ کہ کھڑے ہوکر، بیٹھ کر اور لیٹ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں بلکہ رات دن کے ادلنے بدلنے اور زمین و آسمان کی پیدائش میں غور کرتے ہیں [سورۃ آل عمران۔3:190,191]۔ بالفاظ دیگر یہ عقلمند لوگ عبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ جسمانی یعنی سائنسی علوم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی شناخت اور قرب حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ انسان کو آفاق میں اور ان کے نفوس میں اللہ کی آیات دکھائی جائیں گی۔ [سورۃ حٰم السجدہ۔41:53] گویا محض اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی نہیں پایا جاسکتا بلکہ اس کے لئے آفاق کی وسعتوں میں سموجانا بھی لازمی ہے۔ قرآن میں ایسی بہت سی آیات ہیں جو انسان کو سائنسی علوم سیکھنے کی مہمیز لگاتی ہیں۔ نظام شمسی و دیگر سیاروں کی پیدائش، چاند اور سورج کے ذریعہ ماہ و سال کی پیمائش ،ستاروں زمین و آسمان اور ان دونوں کے بیچ جو کچھ بھی ہے کے علاوہ بارش، ہواؤں، جانوروں، پھلوں اور ان کے مختلف رنگ اور ذائقے، انسانوں کی مختلف زبانیں، مختلف رنگ، اقوام، تہذیب و تمدن، طرز تعمیر، طرز معاشرت، طرز سرمایہ کاری، کاروبار، آثارِ قدیمہ جیسی بہت سی چیزوں کو بطور مثال پیش کرکے کہا گیا کہ عقلمندوں کے لئے ان میں نشانیاں ہیں۔ قرآن نے استقراء (induction) کے ساتھ ساتھ استخراج (deduction) کو بھی متعارف کرایا۔

حضرت امام الشافعیؒ سے منسوب ایک قول ہے : ’’العلم علمان۔ علم الادیان و علم الابدان‘‘ یعنی علم تو دو ہی ہیں۔ دین کا علم اور اجسام کا علم یعنی علوم باطنی و ظاہری یا علوم روحانی و جسمانی۔ مسلمانوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قرونِ اولیٰ سے لے کر قرونِ وسطیٰ تک مسلمان علماء بیک وقت دینی و دنیاوی یا سائنسی علوم پر دسترس رکھتے تھے۔ نصیر الدین طوسی، قطب الدین شیرازی، نظام الدین نیشاپوری، ابن شاطر، ابن رشد، ابوبکر زکریا الرازی اور ابن الہیثم سینکڑوں علماء میں سے چنے گئے وہ چند نام ہیں جو علم الادیان اور علم الابدان دونوں کے ماہر تھے۔ ابن جبیر اور ابن بطوطہ کے سفرنامے، البیرونی اور یاقوت الحموی کے مختلف ممالک اور شہروں کے حالات پر کتب کا لکھا جانا قرآن کی آیت ’’سیروا فی الارض‘‘ [سورۃ الانعام۔6:11] کی مہمیز کا نتیجہ ہی تھا۔

معکوسی ارتقاء کے نتیجہ میں مسلمانوں کی علم سے دوری شروع ہوگئی۔ ان کی اشرافیہ اپنے اقتدار کے مزے لوٹنا شروع ہوگئی اور علماء بال کی کھال اتارتے ہوئے فقہی مباحث میں الجھ گئے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لئے وہ قومیں میدان میں آگئیں جو یوں تو مسلمان علماء کی خوشہ چین تھیں لیکن اب میدان خالی پاکر انہوں نے اس پر پورا قبضہ جمالیا اور ترقی کرتے کرتے اس طرح اس پر چھا گئے کہ نہ صرف ان ترقیات کا سہرا اپنے سر باندھنا شروع کردیا بلکہ ان تمام علوم کے بانی مبانی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ نوآبادیاتی نظام کے ذریعہ مسلمانوں کے ممالک پر قبضہ کرنے اور اپنے نظام تعلیم کے نفاذ نے مسلمانوں کے دلوں میں مغربی اقوام کے لیے نفرت پیدا کردی۔ علماء مزاحمتی جنگوں اور جھڑپوں میں مغرب سے شکست کھا کر اپنا سیاسی و حکومتی نظام گنوا چکے تھے۔ اب ان کے پاس یہی حربہ باقی رہ گیا تھا کہ مغربی تعلیم نظام کو حرام قرار دے کر اس سے اپنی نفرت کا اظہار کریں اور اس سے کسی بھی سطح پر تعلق رکھنے والے کو کافر قرار دیں۔ علیگڑھ اور دیوبند اس کشمکش کی دو انتہائیں قرار پائیں جنہوں نے مسلمانوں میں مسٹر اور مُلّا کی تفریق پیدا کردی۔ وقت و حالات کے جبر نےعام مسلمانوں کو تو بتدریج مغربی تعلیم کو اپنانے پر مجبور کردیا لیکن علماء نے اپنا خصوصی تشخّص برقرار رکھتے ہوئے اگرچہ مغربی تعلیم کو حرام کہنے اور اسے حاصل کرنے والوں کو کافر کہنے جیسے انتہائی اقدام سے پسپائی اختیار کرلی لیکن ابھی تک مدرسہ اور سکول کو ضم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان میں تفریق پر مُصِر ہیں۔

دین کو سیاست سے الگ کرنے کو چنگیزی قرار دیتے ہوئے علماء میدانِ سیاست کے شہسوار بنے رہنے پر مُصِر ہیں، اگرچہ انہیں اس میں مسلسل شکست کا سامنا ہے اور عوامی مزاج انہیں دینی رہنماء ماننے کو تو تیار ہے لیکن سیاست و حکومت کی زمامِ کار ان کے ہاتھ میں تھمانے کو ہرگز تیار نہیں۔ عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب مسلمانوں سے شکوہ کرتے رہے کہ ساری ساری رات تقریریں ہماری سنتے ہو اور صبح جا کر ووٹ مسلم لیگ کو دیتے ہو۔ محمد علی جناح اور ڈاکٹر اقبال نے مغربی تعلیم حاصل کر کے مغرب سے اپنی شرائط پر ملک حاصل کیا جبکہ علماء اپنی ڈگر پر چلتے رہے اور تب سے اب تک ناکام ہیں۔ اس کے باوجود علماء کا اصرار ہے کہ دین کو سیاست سے کسی بھی صورت الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر علماء ہی کی صفوں سے ایک معتبر نام کے مالک جناب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کہہ چکے ہیں کہ دین کو سیاست سے نہیں بلکہ سیاست کو دین سے الگ نہیں کرنا چاہئے اور علماء کو دس سالہ مدنی زندگی پر چھلانگ لگانے سے پہلے مکہ کی تیرہ سالہ زندگی کی مثال اپنانی چاہئے جس میں ایک ایسا تربیت یافتہ گروہ تیار ہوگیا جس نے بالآخر ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم ایک شعر اکثر پڑھا کرتے تھے

بانشّۂ درویشی در ساز دمادم زن

چوں پختہ شوی خود را بر سلطنت جم زن

یعنی درویشی کے نشہ میں ساز کی لے پر دمام دم پاؤں مارتے رہو اور جب پختہ ہوجاؤ تو جمشید کی سلطنت سے جا ٹکراؤ۔

لیکن علماء چاہتے ہیں کہ آزمائش کی بھٹی میں سے گزرنا نہ پڑے اور محض احتجاجی تحریکوں کے ذریعہ اقتدار حاصل ہوجائے۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ اصل موضوع یہ ہے کہ علماء ہمیں ایک طرف تو یہ بتاتے ہیں کہ دین اور سیاست کا ایک دوسرے کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے، یہ ایک دوسرے کے جزولاینفک ہیں لیکن دوسری طرف علم کو دینی اور دنیاوی خانوں میں تقسیم کر کے، مدرسہ اور سکول کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرکے اپنے اس اصول کی نفی کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ علماء مغربی تعلیم حاصل کرنے کو تو تیّار نہیں لیکن مغربی سیاست یعنی جمہوریت کو اپنے حرم کی لونڈی بنانے کے لئے بے چین کیوں ہیں؟ ایک جگہ تفریق اور دوسری جگہ اجتماع کیسے ممکن ہے؟ مدرسہ اور سکول الگ الگ ہوسکتے ہیں تو چرچ یا مسجد اور سٹیٹ الگ الگ کیوں نہیں ہوسکتے؟ ضم کرنا ہے تو دونوں کو کرو اور اگر الگ الگ کرنا ہے تو دونوں کو کرو۔ یہ دورنگی کیوں ہے؟


Comments

FB Login Required - comments