دوشیزاؤں پر آیا جن اور پاگل آدمی


آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ فلاں لڑکی پر جن آ گیا، فلاں کی بہو پر سایہ ہو گیا ہے، وغیرہ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن نہایت حسن پرست اور دل پھینک ہوتے ہیں۔ جہاں کسی حسینہ کو اندھیرے اجالے دیکھ لیا وہیں اپنا سارا کام دھندا چھوڑ کر سیدھا اس پر آ گئے۔ دوشیزہ نے جن آتے ہی اپنی زلفیں بکھرائیں، آنکھیں سرخ کیں، دیدے نکالے اور بھاری آواز میں کوئی معلوم یا نامعلوم زبان بولنے لگی۔ اب اگر وہ نئی نئی دلہن ہے اور ساس نند نے اسے ڈسٹرب کرنے کی کوشش کی تو اس نے ان کا چونڈا کھینچ کر گنجا ہی کر ڈالا۔ شوہر نامدار نے صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی تو دلہن نے غیر معمولی جناتی طاقت سے اسے اٹھا کر ایک طرف پھینک دیا۔

دوشیزہ اگر کنواری ہے تو اس صورت میں جن کا نشانہ اس کے ماں باپ، بہن بھائیوں اور رشتے والی خالہ بنتے ہیں۔ اب محلے بھر میں شہرہ ہوا کہ مرجینا پر جن آتے ہیں۔ یہ جن خاص طور پر رشتے کی بات چلتے ہی آ جاتا ہے اور اس وقت تک نہیں جاتا جب تک لڑکے والوں کو لڑھکا نہ دے۔

دونوں صورتوں میں پہلے مقامی مسجد کے مولوی صاحب طلب کیے جاتے ہیں۔ جن ان کے قابو میں نہ آئے تو پھر علاقے کے مشہور پیر صاحب کی درگاہ پر لڑکی اور اس پر سوار جن کو لے جایا جاتا ہے۔ عموماً پیر صاحب کے دوشیزہ پر عمل کرنے اور اس کی ساس نندوں یا رشتے والی خالہ کو سمجھانے بجھانے کے نتیجے میں دوشیزہ کچھ شانت ہو جاتی ہے۔ اب پیر صاحب جن کو جلا ڈالنے کی دھمکی دیتے ہیں اور جن چلا جاتا ہے۔ مگر کئی جن نہایت ہی ڈاڈھے ہوتے ہیں وہ ان پیر صاحب کو بھی اٹھا کر پھینک دیتے ہیں۔ اس کے بعد دوشیزہ کے گھر میں شدید ٹینشن ہوتی ہے۔ متاثرہ خواتین کچھ بھاگ دوڑ کرتی ہیں۔ نیا پیر تلاش کیا جاتا ہے اور یہ پیر صاحب جن اور سسرالیوں میں سمجھوتہ کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

لیکن آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ پیر صاحب کے پاس ہمیشہ آسیب زدہ خواتین ہی لائی جاتی ہیں۔ بلکہ خواتین کیا دوشیزائیں کہیے کہ جن صرف نوجوان حسیناؤں پر ہی آیا کرتا ہے۔ کیا کبھی آپ نے دیکھا سنا کہ کسی بڑھیا یا کسی آدمی پر جن آیا ہو؟ اب سوال یہ ہے کہ صرف دوشیزاؤں پر ہی جن کا سایہ کیوں ہوتا ہے؟

جنات تو خیر شریر عاشق ہوتے ہیں، ان کی شاید مینوفیکچرنگ فالٹ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جننیوں کا دل نہیں ہوتا یا ان کا اپنے جذبات پر سیلف کنٹرول بہت زیادہ ہوتا ہے؟ وہ کسی سمارٹ سے گھبرو نوجوان کو دیکھ کر کیوں اپنا دل نہیں ہارتیں؟ حالانکہ کسی نازک اندام حسینہ کے مقابلے میں ایک پہلوان قسم کا نوجوان جناتی وزن بغیر کسی دقت کے اٹھا سکتا ہے۔ یہ جننیاں بندوں کو کیوں بخش دیتی ہیں؟ حسینہ جس حرکت پر آسیب زدہ قرار پاتی ہے بندہ ویسی ہی حرکتیں کرے تو وہ پاگل کیوں کہلاتا ہے؟

ایک حل طلب معاملہ یہ بھی ہے کہ یہ جن ہمیشہ غریب اور لوئر مڈل کلاس کی حسیناؤں پر ہی کیوں عاشق ہوتے ہیں؟ کسی ماڈ سکواڈ خوشحال حسینہ سے جنات کیوں گھبراتے ہیں؟ ان حسیناؤں کے آسیب کو نفسیات دان ہسٹیریا قرار دے کر انگریزی گولی سے کیسے اتار دیتے ہیں؟ کیا جنات انگریزی دوائیوں سے تعویذ سے بھی زیادہ خوف کھاتے ہے؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 937 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar