ڈیم ، چندہ اور کپتان رفاہ بن فلاحی


ارض و سما کے فیصلے گاہے اتنے سہل ہوتے ہیں کہ درویش تو کیا عامی بھی ظاہری آنکھ سے ان کو دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی جائے اور قنوطیت پرستوں کو امیّد دلائے۔

ربع صدی کا قصّہ ہے۔ درویش کے آستانے پر حاضری کا وقت ابھی دورتھا۔ چیچو کی مَلیاں وہ دھرتی جس نے خالو خلیل جیسے بطلِ جلیل کو جنم دیا۔ جھلستی جولائی کی ایک سہ پہر طالبعلم وہاں پہنچا تو چیل، ماس اور کتا، ہڈّی چھوڑ چکا تھا۔ خالو کا دَر کھٹکھٹایا، چوخانے کا تہہ بند ڈاٹے، کندہ ناتراش جس کو تہوتی کہتے ہیں، خالو باہر آئے۔ طالبعلم کو سامنے پایا۔ فرطِ مسرّت سے گلے لگانے کو بڑھے تو تہہ بند ڈھیلا ہو کر کششِ ثقل کو سچ ثابت کرنے لگا تھا کہ ہوش غالب آیا۔ تہہ بند سنبھالا۔ اور طالبعلم کو وہ سبق دیا جو آج بھی اس کا ذہن روشن اور دل منوّر کرتا ہے۔ “چھیدے! گل کردے ہوئے زبان تے جوش اچ جسم قابو چ ناں رہوے تے بندہ ننگ پڑنگ ہو جاندا ای”۔ باقی تاریخ ہے۔

مردِ جری جنرل ایّوب کہ دشمن جس سے تھر تھر کانپتا تھا۔ امریکہ کے دورے پر گئے تو امریکہ کا صدر تاریخ میں پہلی دفعہ ہوائی مستقر پر ان کے استقبال کو پہنچا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ امریکہ کی خاتون اوّل، مردِ وجیہہ کو دیکھتے ہی دل ہار گئیں۔ ایسی خوبصورتی، ایسی وجاہت، ایسا دبدبہ۔ اقبال کا مثالی مردِ مومن، دو نیِم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا۔۔۔سمٹ کر حیا سے اپسرا یوں لجائی۔۔۔ اللہ اکبر۔ مغرب کے دریوزہ گر آج اس قلندر پہ زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔ فاطمہ جناح میں سوائے قائدِ اعظم کی ہمشیرہ ہونے کے کیا خوبی تھی؟ غفار خان، مجیب الرحمن جیسے وطن دشمنوں کے ساتھ ان کا اتحاد۔ قائد بھی بی ڈی ممبر ہوتے تو ہمشیرہ کی بجائے جنرل ایّوب کو ووٹ دیتے۔ وہ شخص کہ پچھلے دوسو سال میں مسلم دنیا اس کا ہمسَر پیدا نہ کرسکی، کیا وہ موروثی سیاست کا حامی ہوتا؟ الحذر۔۔ الحذر۔۔۔ بہتان ہے یہ صریح بہتان۔۔ کذب و ریا جن کا شیوہ ہے، ایسی دریدہ دہنی انہی کو مبارک۔

جنرل ایّوب کی فراست، مردِ مومن کی فراست تھی۔ صدیوں کا منظر نامہ ان کے سامنے کھلی کتاب کی طرح تھا۔ اس وقت ڈیم بنانے کا بِیڑا اٹھایا جب کوتاہ بین فاؤنڈریاں لگانے میں مشغول تھے۔ این جی اوز مافیا آج چلاّتی ہے کہ پنجاب کے تین دریا ہندوستان کو بیچ دئیے۔ جھوٹ حضورِ والا، سفید جھوٹ۔ تین بیچے نہیں بلکہ تین دریا ہندوستان سے حاصل کر لئے۔ بڑے اور زیادہ پانی والے دریا۔ راوی میں تو کبھی آج تک پانی دیکھا نہیں۔ یہی حال ستلج اور بیاس کا ہے۔ تو کیا یہ خشک دریا لے کر پانی والے ہندوستان کو دے دیتے؟ لوگ مگر غور نہیں کرتے۔ تعصّب و نفرت سے ذہن و دل کو آلودہ رکھتے ہیں۔ سامنے کی بات وہ سمجھ نہیں سکتے، دیکھ نہیں سکتے۔ جیسا باری تعالی فرماتے ہیں ، مفہوم کہ دلوں پر مہُریں لگ جاتی ہیں۔ کیا اس قوم کی مناجات کا کبھی جواب نہیں آئے گا؟ کیا خالق اپنی مخلوق سے بے نیاز ہوگیا ہے۔ ہرگز نہیں۔ خدائے لم یزل ہم پر مہربان ہے۔

جنرل ایوّب جیسے مردِ جری کے بعد اب اس نے ہمیں جسٹس صاحب جیسا مردِ ذکی عطا کیا ہے۔ کیا وہ وقت آن لگا ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟ کیا یہی وہ شہسوار ہے جو قرنوں بعد کسی قوم کو عطا ہوتا ہے؟ قرائن بتاتے ہیں کہ ہاں! یہی وہ شہسوار ہے جس کا درویشوں اور اللہ کے نیک لوگوں کو انتظار تھا۔ یہی ہے وہ مردِ شجیع جس کے آنے کی خبر اہلِ نظر صدیوں سے دیتے آئے ہیں۔ ادبار کے دن لَد چکے۔ ایک روشن صبح ہماری منتظر ہے۔

ایک ہفتہ ادھر کپتان سے ملاقات رہی۔ ہمیشہ کی طرح بشّاش۔ دیسی گھی میں پکی دیسی مرغی کی ٹانگ بھنبھوڑتے ہوئے، قرونِ وسطی کا کوئی جنگجو لگ رہا تھا۔ اس کا جدّ اعلی چنگیز خان، جو ایک صحرا سے اٹھا اور پوری دنیا پر بگولے کی طرح چھا گیا ، اس کی طبیعت بھی ایسی ہی سادہ تھی۔ اسی کی نسل سے رب کریم نے اسلام کو چار دانگِ عالم پھیلانے کا کام لیا۔ طعام سے فراغت کے بعد قہوے کا دَور چلا۔ موضوع وہی پانی کی کمیابی اور جسٹس صاحب کا ڈیم بنانے کا عزم تھا۔ طالبعلم متجسس تھا کہ کپتان نے اس عظیم کام میں کتنا حصہ ڈالا ہے، جسٹس صاحب کے ڈیم اکاؤنٹ میں کتنے پیسے عطیہ کئے۔ دریافت کیا تو کپتان مخصوص انداز میں دھیمے سے مسکرایا اور بولا، “چھیدے۔۔۔ منگتیاں کولوں منگنا شوہدیاں دا کَم اے۔” فئیر اینف حضورِ والا، فئیر اینف۔

ارض و سما کے فیصلے گاہے اتنے سہل ہوتے ہیں کہ درویش تو کیا عامی بھی ظاہری آنکھ سے ان کو دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی جائے اور قنوطیت پرستوں کو امیّد دلائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

جعفر حسین

جعفر حسین ایک معروف طنز نگار ہیں۔ وہ کالم نگاروں کی پیروڈی کرنے میں خاص ملکہ رکھتے ہیں۔

jafar-hussain has 64 posts and counting.See all posts by jafar-hussain